🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-06-1444 ᴴ | 15-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-06-1444 ᴴ | 15-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
قطب العالم حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
شیخ عبد القدوس بن شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین ۔ آپ کے دادا شیخ صفی الدین حضرت میر سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پر منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ ۸۶۱ھ مطابق ۱۴۵۶ء رودلی میں پیدا ہوئے ۔ آپکی ولادت کی بشارت شیخ عبد الحق رودلوی نے آپ کے والدِ گرامی کو بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی:"تمہاری پشت سے ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو نور ہی نور ہوگا اور ہماری نعمت اسکو ملے گی۔"
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ، اسی طرح خوشنویسی کی تربیت بھی والدِ گرامی سے ہی حاصل ہوئی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے مکاتیب و مخطوطات اپنی خوشنویسی کی وجہ سے بہت دل آویز ہیں ۔ آپکے فرزند ارجمند شیخ رکن الدین فرماتے ہیں : "چوں حضرت شیخ بہ تعلیم ِکتا بَہا مشغول شد نددر تمام روزمی خواند و تمام شب بشغل ذکر و عبادت حق مشغول بودند ۔ "یعنی حضرت شیخ سارا دن کتب کے مطالعہ اور تعلیم میں مشغول رہتے، اور ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت و ذکر میں مشغول رہتے تھے ۔ (لطائفِ قدوسیہ) آپ کی علم کی دوستی کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کئی کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ محمد بن حضرت شیخ عارف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور ان سے خرقہ خلافت بھی پایا ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت حاصل ہے ۔ لیکن اصل میں آپ حضرت شیخ احمد عبد الحق ردولوی کی روحانیت سے مستفید و مستفیض تھے ۔
سیرت و خصائص:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ بچپن میں ہی جو بات زبان سے نکل جاتی وہ پوری ہوکے رہتی ۔ ریاضات و مجاہدات میں آپ بایزیدد ہر اور فرید عصر تھے ۔ سرورِ عالم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پرسختی سےعمل پیرا تھے ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کی تعلیم وتربیت میں مشغول میں رہتے، اور آپکی تربیت و صحبت میں ایسا اثر تھا کہ تھوڑی سی توجہ سے اسکے باطن کو صاف کرکے واصل باللہ کردیتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن شیخ عبدالحق رودلوی علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضر ہو ا ،اورمیرے ہاتھ میں علم النحو کی مشہور کتاب"کافیہ" تھی ۔میں مزار شریف کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک مزار سے "حق حق"کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اس سے میں بیخود ہوکر گر پڑا، اور اس بیخودی کی حالت میں نعمت ازلی وابدی نصیب ہوئی۔پھر فرماتے ہیں کہ میں جب کسی دنیاوی کام میں مشغول ہونا چاہتا تھا تو وہی "حق حق " کی صدا کانوں میں آتی تھی تو میں دنیاوی مشاغل ترک کرکے حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا تھا ۔ حضرت شیخ احمد عبدالحق کی روحانیت میری طرف اس حد تک متوجہ تھی کہ ہمیشہ آخر شب مجھے بیدار کر کے نماز تہجد کا حکم دیا جاتا تھا۔آپ میں عاجزی و انکساری اس حد تک تھی کہ نماز ادا کرنے کے بعد نمازیوں کی جوتیاں سیدھی کرکے رکھتے تھے ۔ (یہ تھے قطب العالم)
وصال:
آپ کا وصال ۲۳ جمادی الثانی ۹۴۴ھ / مطابق ۱۵۳۷ء کو ہوا ۔ مزار شریف گنگوہ ضلع انبالہ (انڈیا) میں مرجع خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-quddus-gangohi
نام و نسب:
شیخ عبد القدوس بن شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین ۔ آپ کے دادا شیخ صفی الدین حضرت میر سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پر منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ ۸۶۱ھ مطابق ۱۴۵۶ء رودلی میں پیدا ہوئے ۔ آپکی ولادت کی بشارت شیخ عبد الحق رودلوی نے آپ کے والدِ گرامی کو بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی:"تمہاری پشت سے ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو نور ہی نور ہوگا اور ہماری نعمت اسکو ملے گی۔"
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ، اسی طرح خوشنویسی کی تربیت بھی والدِ گرامی سے ہی حاصل ہوئی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے مکاتیب و مخطوطات اپنی خوشنویسی کی وجہ سے بہت دل آویز ہیں ۔ آپکے فرزند ارجمند شیخ رکن الدین فرماتے ہیں : "چوں حضرت شیخ بہ تعلیم ِکتا بَہا مشغول شد نددر تمام روزمی خواند و تمام شب بشغل ذکر و عبادت حق مشغول بودند ۔ "یعنی حضرت شیخ سارا دن کتب کے مطالعہ اور تعلیم میں مشغول رہتے، اور ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت و ذکر میں مشغول رہتے تھے ۔ (لطائفِ قدوسیہ) آپ کی علم کی دوستی کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کئی کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ محمد بن حضرت شیخ عارف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور ان سے خرقہ خلافت بھی پایا ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت حاصل ہے ۔ لیکن اصل میں آپ حضرت شیخ احمد عبد الحق ردولوی کی روحانیت سے مستفید و مستفیض تھے ۔
سیرت و خصائص:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ بچپن میں ہی جو بات زبان سے نکل جاتی وہ پوری ہوکے رہتی ۔ ریاضات و مجاہدات میں آپ بایزیدد ہر اور فرید عصر تھے ۔ سرورِ عالم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پرسختی سےعمل پیرا تھے ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کی تعلیم وتربیت میں مشغول میں رہتے، اور آپکی تربیت و صحبت میں ایسا اثر تھا کہ تھوڑی سی توجہ سے اسکے باطن کو صاف کرکے واصل باللہ کردیتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن شیخ عبدالحق رودلوی علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضر ہو ا ،اورمیرے ہاتھ میں علم النحو کی مشہور کتاب"کافیہ" تھی ۔میں مزار شریف کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک مزار سے "حق حق"کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اس سے میں بیخود ہوکر گر پڑا، اور اس بیخودی کی حالت میں نعمت ازلی وابدی نصیب ہوئی۔پھر فرماتے ہیں کہ میں جب کسی دنیاوی کام میں مشغول ہونا چاہتا تھا تو وہی "حق حق " کی صدا کانوں میں آتی تھی تو میں دنیاوی مشاغل ترک کرکے حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا تھا ۔ حضرت شیخ احمد عبدالحق کی روحانیت میری طرف اس حد تک متوجہ تھی کہ ہمیشہ آخر شب مجھے بیدار کر کے نماز تہجد کا حکم دیا جاتا تھا۔آپ میں عاجزی و انکساری اس حد تک تھی کہ نماز ادا کرنے کے بعد نمازیوں کی جوتیاں سیدھی کرکے رکھتے تھے ۔ (یہ تھے قطب العالم)
وصال:
آپ کا وصال ۲۳ جمادی الثانی ۹۴۴ھ / مطابق ۱۵۳۷ء کو ہوا ۔ مزار شریف گنگوہ ضلع انبالہ (انڈیا) میں مرجع خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-quddus-gangohi
👍2❤1
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد رضوی بن صوفی منور حسین بن حفظ الرحمٰن بن الٰہی بخش صدیقی یکم مئی ۱۹۳۶ء کو اپنے وطن داتا گنج ضلع بدایوں شریف میں پیدا ہوئے ۔ حکیم مظفر احمد کے والد ماجد بڑے پارسا بزرگ تھے پنج وقتہ نمازی، جماعت سے نماز ادا فرماتے ۔
وصال:
صوفی منور حسین رحمہ اللہ علیہ داتا گنج میں ۹۰ سال کی عمر شریف میں بروز جمعہ دن کے سو ا نو بجے ۲۳ جمادی الاخری ۱۳۹۴ھ کو وصال فرما گئے ۔
تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم مظفر احمد نے قرآن، حدیث، تفسیر، منطق وغیرہ کی تعلیم مدرسہ محمدیہ، مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں، دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے حاصل کی، اور سندِ فراغت و فضیلت ۱۹۵۲ء میں منظرِ اسلام، مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں سے حاصل کی۔ حکیم مظفر احمد نے الٰہ آباد بورڈ سے مولوی، عالم وغیرہ کے امتحانات بھی پاس کیے اور علمِ طب بھی پڑھا، تجربہ کار حکیم ہیں ۔
بیعت وخلافت:
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد سلسلۂ طریقت میں تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں مارہروی علیہ الرحمۃ سے بیعت ہیں، اور خلافت واجازت سلسلۂ رضویہ میں حضور مفتئ اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ سے حاصل ہے ۔ سلسلۂ برکاتیہ میں احسن العلماء مولانا سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی، مارہروی مدظلہٗ (سجادہ ن شین آستانۂ قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف) سے اجازت حاصل ہے، نیز حملہ اور ادو وظائف کی دیگر سلاسل سے بھی اجازت حاصل ہے [1]
قلمی خدمات:
مولانا حکیم مظفر احمد نے قلمی خدمات خوب انجام دی ہیں، اور وقتاً فوقتاً ماہنامہ اعلیٰ حضرت (بریلی) ماہ نامہ سنی دنیا بریلی میں مضامین بھی چھپتے رہتے ہیں ۔
۱۔ تذکارِ نبوی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ)
۲۔ حلیۂ مصطفیٰ (سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپا پر)
۳۔ نورانی حکایات (کہانی وسلف کی حکایات پر)
۴۔ نوری تقریریں (اصلاحی تقریریں)
۵۔ جمالین ترجمہ جلالین (تفسیر میں)
۶۔ مفتاحِ راہِ مستقیم (حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے جنتی ہونے کے بیان میں) ـ
۷۔ سیفِ مظفری (وہابیوں کے اعتراضات کے جوابات)
۸۔ ہدایۃ الواہابین (وہابیوں کے گمراہ کن اعتراضات کے جوابات)
۹۔ ظفر الحق
۱۰۔ سیفِ ربانی
۱۱۔ اربعین حدیث (چالیس احادیث کی تشریح)
۱۲۔ مسئلۂ ضاد
۱۳۔ احوالِ کربلا (امامِ عالی مقام کا جامع تذکرہ)
۱۴۔ گلزار شریعت اول، دوم (مسائل وغیرہ کا بیان)
۱۵۔ جماعتِ اسلامی اپنے آئینے میں
۱۶۔ تبلیغی جماعت اپنے آئینے میں
۱۷۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
۱۸۔ محفلِ نور کے پروانے
شعر وسخن:
مولانا حکیم مظفر احمد کو شاعری سے لگاؤ ہے۔ ادبی ذوق بہت عمدہ ہے جب موڈ میں آتےہیں تو اچھے اشعار کہہ جاتے ہیں۔ علمی صلاحیت بھی قابلِ قدر ہے، مظفر تخلص فرماتے ہیں نمونے کے طور پر چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں:؎
ہے اللہ کو پیارا مدینہ نبی
ہے آنکھوں کا تارہ مدینہ نبی کا
ہے دل کا اجالا مدینہ نبی کا
ہے مکہ سے پیارا مدینہ نبی کا
شفا یاب ہوتے ہیں بیمار فوراً
شفا خانہ گویا مدینہ نبی کا
جہاں بے طلب بھیک ملتی ہے ہمدم
وہی شہر طیبہ مدینہ نبی کا
سکونِ دلِ مضطرب ہے مظفرؔ
مرے مصطفیٰ کا مدینہ نبی کا
حکیم مظفر احمد سید العلماء حضرت مولانا سید آلِ مصطفیٰ برکاتی مارہروی علیہ الرحمۃ کی شان میں کہتے ہیں:؎
نسلِ آلِ پاک سے دشمنی اچھی نہیں
راہِ آلِ مصطفیٰ سے کج روی اچھی نہیں
آیۂ تطہیہ سے جن کو طہارت ہی عیاں
ان کی نسلِ با صفا سے دشمنی اچھی نہیں
اے مظفرؔ قولِ آلِ مصطفیٰ کیا خوب ہے
ناک حُبِّ علی اور رافضی اچھی نہیں
[1] ۔ مظفر احمد قادری، حکیم: حیات صاحب البرکات ص: ⁶¹
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-muzaffar-ahmad-qadri-rizvi
ولادت:
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد رضوی بن صوفی منور حسین بن حفظ الرحمٰن بن الٰہی بخش صدیقی یکم مئی ۱۹۳۶ء کو اپنے وطن داتا گنج ضلع بدایوں شریف میں پیدا ہوئے ۔ حکیم مظفر احمد کے والد ماجد بڑے پارسا بزرگ تھے پنج وقتہ نمازی، جماعت سے نماز ادا فرماتے ۔
وصال:
صوفی منور حسین رحمہ اللہ علیہ داتا گنج میں ۹۰ سال کی عمر شریف میں بروز جمعہ دن کے سو ا نو بجے ۲۳ جمادی الاخری ۱۳۹۴ھ کو وصال فرما گئے ۔
تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم مظفر احمد نے قرآن، حدیث، تفسیر، منطق وغیرہ کی تعلیم مدرسہ محمدیہ، مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں، دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے حاصل کی، اور سندِ فراغت و فضیلت ۱۹۵۲ء میں منظرِ اسلام، مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں سے حاصل کی۔ حکیم مظفر احمد نے الٰہ آباد بورڈ سے مولوی، عالم وغیرہ کے امتحانات بھی پاس کیے اور علمِ طب بھی پڑھا، تجربہ کار حکیم ہیں ۔
بیعت وخلافت:
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد سلسلۂ طریقت میں تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں مارہروی علیہ الرحمۃ سے بیعت ہیں، اور خلافت واجازت سلسلۂ رضویہ میں حضور مفتئ اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ سے حاصل ہے ۔ سلسلۂ برکاتیہ میں احسن العلماء مولانا سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی، مارہروی مدظلہٗ (سجادہ ن شین آستانۂ قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف) سے اجازت حاصل ہے، نیز حملہ اور ادو وظائف کی دیگر سلاسل سے بھی اجازت حاصل ہے [1]
قلمی خدمات:
مولانا حکیم مظفر احمد نے قلمی خدمات خوب انجام دی ہیں، اور وقتاً فوقتاً ماہنامہ اعلیٰ حضرت (بریلی) ماہ نامہ سنی دنیا بریلی میں مضامین بھی چھپتے رہتے ہیں ۔
۱۔ تذکارِ نبوی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ)
۲۔ حلیۂ مصطفیٰ (سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپا پر)
۳۔ نورانی حکایات (کہانی وسلف کی حکایات پر)
۴۔ نوری تقریریں (اصلاحی تقریریں)
۵۔ جمالین ترجمہ جلالین (تفسیر میں)
۶۔ مفتاحِ راہِ مستقیم (حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے جنتی ہونے کے بیان میں) ـ
۷۔ سیفِ مظفری (وہابیوں کے اعتراضات کے جوابات)
۸۔ ہدایۃ الواہابین (وہابیوں کے گمراہ کن اعتراضات کے جوابات)
۹۔ ظفر الحق
۱۰۔ سیفِ ربانی
۱۱۔ اربعین حدیث (چالیس احادیث کی تشریح)
۱۲۔ مسئلۂ ضاد
۱۳۔ احوالِ کربلا (امامِ عالی مقام کا جامع تذکرہ)
۱۴۔ گلزار شریعت اول، دوم (مسائل وغیرہ کا بیان)
۱۵۔ جماعتِ اسلامی اپنے آئینے میں
۱۶۔ تبلیغی جماعت اپنے آئینے میں
۱۷۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
۱۸۔ محفلِ نور کے پروانے
شعر وسخن:
مولانا حکیم مظفر احمد کو شاعری سے لگاؤ ہے۔ ادبی ذوق بہت عمدہ ہے جب موڈ میں آتےہیں تو اچھے اشعار کہہ جاتے ہیں۔ علمی صلاحیت بھی قابلِ قدر ہے، مظفر تخلص فرماتے ہیں نمونے کے طور پر چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں:؎
ہے اللہ کو پیارا مدینہ نبی
ہے آنکھوں کا تارہ مدینہ نبی کا
ہے دل کا اجالا مدینہ نبی کا
ہے مکہ سے پیارا مدینہ نبی کا
شفا یاب ہوتے ہیں بیمار فوراً
شفا خانہ گویا مدینہ نبی کا
جہاں بے طلب بھیک ملتی ہے ہمدم
وہی شہر طیبہ مدینہ نبی کا
سکونِ دلِ مضطرب ہے مظفرؔ
مرے مصطفیٰ کا مدینہ نبی کا
حکیم مظفر احمد سید العلماء حضرت مولانا سید آلِ مصطفیٰ برکاتی مارہروی علیہ الرحمۃ کی شان میں کہتے ہیں:؎
نسلِ آلِ پاک سے دشمنی اچھی نہیں
راہِ آلِ مصطفیٰ سے کج روی اچھی نہیں
آیۂ تطہیہ سے جن کو طہارت ہی عیاں
ان کی نسلِ با صفا سے دشمنی اچھی نہیں
اے مظفرؔ قولِ آلِ مصطفیٰ کیا خوب ہے
ناک حُبِّ علی اور رافضی اچھی نہیں
[1] ۔ مظفر احمد قادری، حکیم: حیات صاحب البرکات ص: ⁶¹
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-muzaffar-ahmad-qadri-rizvi
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-06-1444 ᴴ | 15-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-06-1444 ᴴ | 16-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1