🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-06-1444 ᴴ | 09-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-06-1444 ᴴ | 09-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-06-1444 ᴴ | 09-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-06-1444 ᴴ | 09-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
* گانا گانے کا شرعی حکم *

از :*نبیرۂ صدرالشریعہ*
*مفتی فیضان المصطفیٰ قادری*
*صاحب قبلہ*
*جناب مفتی صاحب !*
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ
*سوال:*
*کیا گانا گانا کسی صورت میں جائز ہوسکتا ہے؟* کچھ لوگ جدید تحقیق کے نام پر جواز کی صورت نکال رہے ہیں؟ ایسے شخص پر از روئے شرع کیا حکم ہوگا؟
*سائل: سید شجاعت علی حیدر آباد*
*جواب: ❇️*
جناب سید شجاعت علی صاحب،
وعليكم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
اس دور میں لفظ *"گانا"* جب بھی بولا جاتا ہے تو اس سے تبادرِ ذہنی فحش گانوں کی طرف اور فلمی دنیا کے منظوم کلام کی طرف ہوتا ہے، جسے گویے گایا کرتے ہیں اور سڑک چھاپ لوگ اس کی نقل کرتے ہیں، اسے گاتے پھرتے ہیں۔ اس کے جواز کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ منظوم کلام جو ہوتا ہے، ماہرین نے اس کی قسمیں بیان کی ہیں، اگر اللہ تبارک و تعالٰی کی ثنا و توصیف میں ہو تو اسے *حمد* کہتے ہیں، سرکار اقدس صلى اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہو تو اسے *نعت* کہتے ہیں، بزرگوں کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہو تو اسے *منقبت* کہتے ہیں، بادشاہوں کی تعریف میں یا مزید کسی کی تعریف میں طویل منظوم کلام ہو اس کو *قصیدہ* کہتے ہیں اور اسی طرح سے کسی وفات پاجانے والے کے اوصاف بیان کئے جائیں اور تاسف کا اظہار کیا جائے تو اسے *مرثیہ* کہا جاتا ہے۔ تو اسی طرح سے *غزل* ہے، *ہزل* ہے، نہ جانے کیا کیا ہے، تو انہی میں لفظ *"گانا"* ہے۔

ظاہر ہے کہ لفظ *گانا* جب بولا جائے گا تو کوئی نعت کی طرف تو ذہن جاتا نہیں ہے، قصیدے کی طرف یا پھر کسی منقبت کی طرف بھی ذہن نہیں جاتا تو *یہ لفظ ایسا ہے کہ (اس دور میں) عرف عام میں جب بھی بولا جاتا ہے تو فلمی گانوں کی طرف ہی ذہن جاتا ہے،* یہاں تک کہ غزلیہ مشاعروں میں دنیادار شاعر جو غزلیں پڑھتے ہیں انھیں بھی *کوئی نہیں کہتا کہ فلاں شاعر نے ایسا گانا گایا۔* تو گانے سے اس دور میں تبادر ذہنی *فلمی گانوں* کی طرف ہی ہوتا ہے۔

*اب فلمی گانوں کے اعتبار سے دیکھا جائے کہ اس کے جواز کی بھلا کیا صورت ہو سکتی ہے؟* فلمی دنیا میں ہوتا کیا ہے؟ اسی کے اعتبار سے حکم ہوگا۔ تو جتنی بھی فلمیں تیار کی جاتی ہیں *ان کا مقصدِ اصلی ہی اشاعت فاحشہ ہے،* فحشا، بے حیائیاں، منکرات، ان کو پھیلانا، ان کو عام کرنا، یہی ان کا مقصدِ اصلی ہوتا ہے تو اس سے لی ہوئی کوئی چیز، *وہ جائز ہو، مباح ہو،* یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔

اب دیکھئے کہ اگر کسی بھی کلام میں کوئی کفریہ جملہ شامل ہو تو وہ تو کفر ہوگیا، وہ اس وجہ سے کفر نہیں ہے کہ وہ گانا ہے بلکہ اپنے مضمون کے اعتبار سے کفر ہے اور گانے کی جہت سے قباحت، یہ الگ چیز ہے۔ اسی طرح سے اگر کسی کلام میں کوئی حرام مفہوم شامل ہوگیا تو وہ کلام حرام مانا جائے گا۔ یہ صرف گانے اور منظوم کلام کی بات نہیں ہے بلکہ نثر میں بھی کوئی حرام مفہوم بیان کرے گا تو وہ حرام ہی ہوگا۔ اب اسی طرح سے کوئی جائز مفہوم ہو یعنی اس میں کوئی حرام مضمون نہ ہو، کفری مفہوم نہ ہو، تو اسے جائز کہہ سکتے ہیں لیکن یہ تو اصل کے اعتبار سے جائز کہیں گے یعنی اگر نثر ہو یا عام سا شعر ہو۔ لیکن بات یہاں پر *گانے* کی ہے تو گانے میں کوئی ایسا مضمون نہ ہو جو کفری یا حرام معنی پر مشتمل ہو تو صرف اس وجہ سے کہ کوئی حرام یا کفری معنی نہیں ہے، *اسے جائز کہہ دینا، اس کی دوسری جہت کو نظر انداز کرنا ہے* کیونکہ دوسری جہت یہ بھی ہے کہ وہ فلمی دنیا سے آنے والا گانا ہے، *اپنے مصدر اور منبع کے اعتبار سے، جہاں سے وہ آرہا ہے، جہاں اس کا چال چلن ہے، جہاں پہ وہ گایا جاتا ہے، جہاں سے وہ لیا جاتا ہے،* یہ سب چیزیں بے حیائیوں کا مخزن ہیں، فواحش کا مرکز ہیں، *برائیوں کی تعلیم و تعلم اور ان کو پھیلانا ان کا مقصود اصلی ہوتا ہے،* اس لئے اگر کوئی ایسا گانا جس میں کوئی کفری یا حرام مفہوم و معنیٰ نہ ہو پھر بھی اس کے گانے کی یا اس کو سننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ اشاعت فاحشہ پر تعاون ہوگا اور کوئی اگر اس کو جائز قرار دے تو *یہ مصلحت شرعیہ کے خلاف ہے* کیونکہ اگر کوئی خلاف شرع مفہوم اس کے مضمون میں نہ بھی پایا جائے تب بھی اس کی قباحت کے لئے یہی کیا کم ہے کہ ایسے ماحول میں وہ گایا گیا، ایسے لوگوں نے گایا جن کا باقاعدہ مقصد ہی فواحش کی تجارت ہے، بےحیائیوں کو فروغ دینا ہی ان کا مقصود ہے، تو اب *ایسی چیز کو اگر گانے کی اجازت دے دی جائے تو عوام الناس تو اس ہلکی اجازت کو دور والی اجازت تک لے جا سکتے ہیں۔* اسلئے اس کے جواز کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی بلکہ *اس کو جائز قرار دینا "مُنجر اِلی الحرام"* (حرام کی طرف لے جانے والا) اور *اشاعتِ فاحشہ* کا سبب ہو سکتا ہے، اس پر تعاون بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اس سے بچنے کی ضرورت ہے اور *اگر کسی نے اس کے جواز کا حکم دیا تو لازم ہے کہ وہ اس سے رجوع کرے اور اصل حکم شرع ظاہر کرے۔*
واللہ تعالىٰ اعلم بالصواب
👍2
*فقیر فیضان المصطفی قادری غفرلہ*
جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ و
تاج الشریعہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ لکھنو۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0Dv9paGMjhGU6BWhzpzKZDwEsxQtEt48kh5D3TDnUuqk4FX6Yy5dtSPuTD9nhNURQl&id=100004014792559&mibextid=Nif5oz
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-06-1444 ᴴ | 09-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-06-1444 ᴴ | 10-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1