🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-06-1444 ᴴ | 07-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1444 ᴴ | 07-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-06-1444 ᴴ | 07-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1444 ᴴ | 07-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بطور پیشہ بھیک مانگنا حرام
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین ۔ لقب: نبراس العلماء، سراج الفقہاء، قطب الارشاد وغیرہ ۔ رامپور کی نسبت سے "رامپوری" کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ارشاد حسین بن مولانا حکیم احمد حسین بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ زین العابدین عرف میاں فقیر اللہ بن حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی ۔علیہم الرحمۃ والرضوان ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 صفر المظفر 1248ھ / مطابق نومبر 1832ء کو محلہ پیلا تالاب شہر مصطفیٰ آباد عرف رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔

قبلِ ولادت بشارت:
عارف باللہ حضرت حاجی محمدی علیہ الرحمہ (جن کا مزار شریف پاک توپ خانہ روڈ رامپور میں مرجعِ خلائق ہے) نے حضرت مولانا حافظ عنایت اللہ خان رامپوری سے ان کے اصرارِ بیعت پر ایک دن فرمایا: "تم ابھی تعلیم حاصل کرو، ایک قطبِ وقت کا ظہور ہونے والا ہے، ان سے تمہیں نصیبِ کامل ملےگا" ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری: ص،14) ـ

تحصیلِ علم:
مولانا محمد ارشاد حسین رامپوری علیہ الرحمہ نے فارسی کی ابتدائی کتب اپنے والد ماجد اور برادر مولانا امداد حسین رامپوری، شیخ احمد علی اور شیخ واجد علی سے پڑھیں ۔ اس کے بعد دیگر فنون کی تعلیم مولانا حافظ غلام نبی، مولانا جلال الدین، اور مولانا نصیر الدین خان سے حاصل کی ۔ اس کے بعد علومِ نقلیہ کی تکمیل کی ۔ معقولات کا درس علامۂ زماں مولانا محمد نواب خان افغانی نقشبندی سے لیا ۔ آپ نے عارف باللہ مولانا عبد الکریم عرف ملا فقیر اخوند قادری چشتی کی خانقاہ کے حجرے میں دورانِ قیام نو ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کیا ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی سے مرید ہوئے، اور محبوبیت و مرادیت کا مقامِ بلند پایا، اجازت و خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
حافظِ آیاتِ قرآنی، واقفِ اسرارِ ربانی، مفسرِ کلامِ ربِ العلمین، محدثِ حدیثِ سیدالمرسلین، مدرسِ فقہ واصول، جامع المنقولِ والمعقول ، مجمع البحرین، تاج المحدثین، سراج الفقہاء والمتکلمین، جامع شریعت وطریقت، نبراس العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اکابرین علماء اہلسنت میں ہوتا ہے ۔ آپ خاندانی شرافت و نجابت کے ساتھ علم و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے ۔ رامپور ہمیشہ سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے ۔ خاص طور پر علماء و مشایخ، ادباء و شعراء، صوفیاء و حکماء کو اس شہر میں امتیاز حاصل رہاہے ۔انہیں نابغہ ٔ روزگار اور باکمال ہستیوں میں جو علمی بالا دستی اور عظمت حضرت مولانا ارشاد حسین کےحصےمیں آئی ہے، وہ آپ کا ہی خاصہ ہے ۔ آپ کا شمار ہندوستان کے ان برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں چمن زار اہل سنت کی آبیاری اپنے قلم، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، اور قول و فعل کی یکسانیت سے کی ہے ۔ انہوں نے مسلکِ حق کی ترویج و اشاعت میں امام احمد بن حنبل، امام اعظم ابو حنیفہ، اور حسینی کردار کو اپنے سامنے رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے لے کرآج تک علماء اہلسنت انہیں اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں ۔

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے بڑے مداح تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر بڑے ادب و احترام کے ساتھ آپ کا تذکرہ کیا ہے ۔ چنانچہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ِ لطیف "کفل الفقیہ الفاہم" میں آپ کا ذکران القاب و آداب سے کیا ہے ۔ "اقضیٰ علیہ ناس من کبار العلماء الہند کا الفاضل الکامل محمد ارشاد حسین الرامفوری رحمہ اللہ تعالی وغیرہ" ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت ص 25 / فتاویٰ رضویہ ج7 ص161) ـ

صدر الافاضل بدر المماثل حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے " سنی کی تعریف " ان الفاظ میں کی ہے: " سنی وہ ہے جو ما انا علیہ و اصحابی کا مصداق ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین، آئمہ دین، مُسلَّم مشایخِ طریقت، اور متأ خرین علماء کرام میں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ملک العلماء، حضرت بحر العلوم فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیرآبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری اور حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں ۔رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ " (الفقیہ امرتسر 21 اگست 1945ء، ص9) ـ
👍1
تاج الفقہاء حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ  خوش لباسی، خوش اخلاقی، اور خوش اوقاتی سے زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہر شخص سے اچھا برتاؤ کرتے، عہد کو پورا کرتے، محتاجوں کی دستگیری فرماتے، امیروں سے بے نیاز رہتے تھے ۔ ہم عقیدہ مسلمانوں پر شفقت و عنایت فرماتے اور باطل پرستوں بدمذہبوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ آپ کا ریاستِ رام پور میں خاص اثرتھا ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص25) ـ

آپ علیہ الرحمہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا ۔ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لوگ آپ کے پاس آکر علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ تمام علوم و فنون پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ تقریباً تیس برس تدریس فرمائی اسی حالت میں واصل باللہ ہوئے ۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سے وقت نکال کروقت کے تقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص 22) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ / مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1