🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-06-1444 ᴴ | 04-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-06-1444 ᴴ | 04-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم ِگرامی:
مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ۔ لقب: نعیمی ۔ والد کا اسم گرامی: سید صابر اللہ شاہ چشتی صابری اشرفی نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا خاندانی تعلق خاندانِ اہل بیت سے ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 10 ربیع الثانی / 1342ھ، مطابق 19 نومبر 1923ء کو مرادآباد (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
مراد آباد کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ میں تاج العلماء حضرت مولانا مفتی محمد عمر نعیمی اور صدر الافاضل مولانا مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ سے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ۔ دینی تعلیم کے حصول کے زمانہ ہی میں فن طب حاصل کیا اور 1943ء میں وہاجیہ طبیہ کالج لکھنؤ سے " الحکیم الفاضل " کی سند حاصل کی ۔ 1945ء میں آپ تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے ۔ صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے لئے سرگرمی سے کام کیا ایک عرصہ تک آل انڈیا سنی کانفرنس کے منتظم رہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل سید مفتی محمد نعیم الدین مرادبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا مفتی سید غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

آپ علیہ الرحمہ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید تھے ۔ تحریکِ پاکستان میں حضرت صدر الافاضل کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ بالآخر تخلیقِ پاکستان کی صورت میں اکابر کی محنت رنگ لائی ۔ دینِ متین کی خدمت اور مسلکِ حق کا درد حضرت صدر الافاضل کی تربیتِ فیض اثر سے ملا تھا ۔ یہی وجہ ہےکہ ساری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاردی ۔

حضرت شرفِ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "آپ 1950ء میں پاکستان تشریف لائے ، غازیِ کشمیر حضرت مولانا ابو الحسنات قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو جمیعت علماء پاکستان کا نائب ناظم مقرر کیا ۔ ایک مدت تک جمیعت کا ترجمان " جمعیت " نکالتے رہے، اور پوری تند ہی سے کام کیا ، بعد ازاں حضرت صدر الافاضل کی یاد میں " ہفت روزہ سواد اعظم " نکالا اور بڑی محنت اور ہمت سے تاحیات جاری رکھا ۔ اس جریدے کی خصوصیت یہ تھی کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے حتی الامکان کوشِش کرتے رہے اور اسی کے ذریعے مسلک کے مخالفین کی فتنہ سامانیوں کا سختی سے نوٹس لیا جاتا رہا، انکی حق گوئی بے باکی ہمارے لئے قابل فخر اور مشعل راہ ہے ۔

مفتی صاحب نے نا قدری کے اس دور میں تقریباً پچاس کے قریب کتابوں کے ترجمے کئے جن میں سے شفاء شریف، مدارج النبوت، خصائص الکبریٰ اور کشف المحجوب وغیرہ کے ترجمے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بے سرو سامانی کے عالم میں مسلک اہل سنت کی بہت سی کتابوں کی اشاعت کی ۔ " (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:361) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الاخریٰ 1391ھ، مطابق 4 اگست 1971ء بروز بدھ کو ہوا ۔ میانی صاحب قبرستان (لاہور) میں مولانا غلام محمد ترنم کے مزار کے قریب آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-moinuddin-naeemi-lahori
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسم ِگرامی: مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ۔ لقب: نعیمی ۔ والد کا اسم گرامی: سید صابر اللہ شاہ چشتی صابری اشرفی نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ کا خاندانی تعلق خاندانِ اہل بیت سے ہے ۔ تاریخِ ولادت:…
تصانیف و تراجم:
خلیفۂ حضور صدر الافاضل حضرت علامہ مفتی سید معین الدین نعیمی مرادآبادی ثم لاہوری علیہ الرحمہ نے انتہائی مشکل حالات میں گھریلو امور کو بھی مکمل طور پر نبھاتے ہوئے تنظیمی و تحریکی اُمور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ہفتہ وار اخبار بھی نکالتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً پچاس کے قریب کتب کے تراجم کیے اور متعدد مقالات بھی تحریر کیے جو کہ اہل علم کے تمام حلقوں میں بے حد مقبول ہوئے اور آج بھی متعدد اہل سنت کے ادارے آپ کے تراجم کو شائع کر رہے ہیں ۔ [ مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ـ حیات و خدمات صفحہ⁸⁶ تحقیق و تالیف ثاقب رضا قادری ]
https://t.me/islaamic_Knowledge/43088
تصنیفات:
مفتی صاحب نے نا قدری کے اس دور میں تقریباً پچاس کے قریب کتابوں کے ترجمے کئے جن میں سے شفاء شریف، مدارج النبوت، خصائص الکبریٰ اور کشف المحجوب وغیرہ کے ترجمے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بے سرو سامانی کے عالم میں مسلک اہل سنت کی بہت سی کتابوں کی اشاعت کی ۔ " (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:361) [ ضیاء طیبہ ]
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا کا تاریخی نام: محمد فضل الرحمٰن ـ عرفی نام: محمد یعقوب حسین ـ قلمی نام: ضیاء القادری ـ تخلص: ضیاء ـ اور خطابات: لسان الحسان، شاعر اہل سنت، حسانِ پاکستان اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔

ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایوں (بھارت) میں تولد ہوئے ۔

آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اُٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا ۔

تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑھانا شروع کیا ۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریباً چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔

سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار (بغداد شریف) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔

عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔

۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیرِ اہتمام بدایوں میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریباً ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔

تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلاً شکیل بدایونی، اختر الحامدی، مضطر صابری، ماہر القادری، طالب انصاری، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی، تابش قصوری، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔

شاعری:
دہلی میں حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آپ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں ’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔

خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دِلوں کو بھی گرما دےگی جو مذہبی تاثرات کے معاملہ میں بِالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔

ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبد السلام قادری باندوی علیہ الرحمہ (سنِ وصال ۱۹۶۸ء) آپ کی شاعری و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔

’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوقِ شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں ودیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ علیہ الرحمہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت، قطب ربانی محب یزدانی، تاج العلماء، سراج الاولیاء، تاج الفحول، محب الرسول، مظہر حق، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطبِ وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔

حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضرت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبولیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعر و ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جو اکابر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دِیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمۃ للعالمین ﷺ ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آ چُکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہو رہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
1
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔

اس کو دربار رسالت ﷺ کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتناب ہی نہیں بلکہ قطعاً بے تعلقی رہی، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے ۔

( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )

علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’ فن تاریخ ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)

تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:

٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمہ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں ۱۹۱۵ء

٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء

٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی ۔ جوار غوث الوریٰ ـ

٭ ہفت احمد ۔ قصائد صبح نورانی ۔ مجموعہ سلام ۔ کلام ضیائی ۔ خزینۂ بہشت ۔ نغمہ ربانی ۔ بہار چشت ۔ چراغ صبح جمال

٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایوں ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء

٭ قصائد نورانی ـ

٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔

حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی حسین آباد (سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ) کی کتاب ’’ مصباح الآخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں:

غیر منقسم ہندوستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اِسلامیانِ ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصموا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقوا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے ۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الاعظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کرا کے ان کو پروان چڑھایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔

دورِ آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔

( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء )

بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دستِ بیعت تھے اور حضرت علامہ عبد المقتدد بدایونی قادری کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگانِ قادریہ ص ۲۲۹) ـ

شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔

وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔

( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
👍31
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
بانیِ سلسلۂ سہروردیہ شیخ عبد القاہر ابو نجیب سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شیخ عبد القاہر ۔ کنیت: ابو نجیب ۔ لقب: بانیِ سلسلہ عالیہ سہروردیہ ۔ ضیاء الدین سہروردی ۔ پورا نام اس طرح ہے: عبد القاہر ابو نجیب ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو نجیب عبد القاہر بن عبد اللہ بن محمد بن محمد عمویہ عبد اللہ بن سعد بن حسین بن قاسم بن نضربن قاسم بن سعد بن نضربن عبد الرحمٰن بن قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔

شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ آپ کے بھتیجے اور خلیفۂ اعظم ہیں ۔ (یادگارِ سہروردیہ، ص:110) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 17 محرم الحرام 487ھ / مطابق 5 فروری 1094ء کو بمقام " سہرورد " عراق عجم میں ہوئی ۔ (ایضاً)

تحصیلِ علم:
عفوانِ شباب میں ہی سہرورد سے تشریف لا کر بغداد میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔ علوم ظاہری جامعہ نظامیہ بغداد شریف میں تحصیل فرمائے ۔ امام اسعد یمنی رحمۃ اللہ علیہ سے فقہ و اصول فقہ و علم کلام پڑھا ۔ علامہ ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ سے نحو و ادب کی تعلیم حاصل کی ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث شریف سنی ۔ صاحب " نفحات الانس" کے مطابق افریقہ کا سفر کیا ۔ اسکندریہ میں شیخُ الحدیث سے بخاری شریف سنی امام واحد ی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر آپ کو زبانی یاد تھی ۔ مزید بر آں جامع بغداد میں محدث عراق شیخ ابو علی محمد بن سعید بن سیقان، اور ابو محمد عبد الخالق بن طاہر الشافعی المتوفیٰ 541 ہجری سے بھی علم حدیث حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
حضرت امام احمد غزالی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت ملی ۔ اپنے چچا حضرت شیخ وجیہ الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت سے سرفراز فرمایا ۔

علامہ جامی علیہ الرحمہ کے بقول حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ سے بھی آپ کو خرقۂ خلافت حاصل تھا ۔ (نفحات الانس:367) بانیِ سلسلہ عالیہ قادریہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادرجیلانی رضی اللہ عنہ کی صحبت بھی حاصل ہوئی ۔ (یاگارِ سہروردیہ ص:108) ـ

سیرت و خصائص:
بانیِ سلسلۂ عالیہ سہروردیہ، عارفِ حقائق صمدانیہ، صاحبِ فیوضاتِ کثیرہ، حضرت شیخ عبد القاہر ابو نجیب ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ سلسلۂ عالیہ سہروردیہ کے بانی ہیں جسے آپ کے بھتیجے اور خلیفۂ اعظم حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے آسمانِ شہرت تک پہنچایا ۔ حضرت شیخ الاسلام شیخ الشیوخ نے اس سلسلہ کی ترویج و ترقی اور نشاہِ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس لئے وہی بانیِ سلسلۂ سہروردیہ معروف ہیں ۔

ابتداً درس و تدریس میں مصروف رہتے تھے ۔ پھر علومِ باطنی کی طرف متوجہ ہو گئے، اور درس و تدریس کا سلسلہ ترک کر کے فقراء کی صحبت اختیار کی ۔ سخت چِلِّے اور مجاہدے کئے سخت ریاضتیں کیں ۔

آپ کا شمار اپنے وقت کے جید مشائخ اور کاملین میں ہوتا تھا ۔ علم و عمل میں بے مثال تھے ۔ جب سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: "میرا قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے " تو اس وقت آپ حضرت غوث الاعظم کی مجلس وعظ میں موجود تھے ۔ آپ کے علاوہ اس وقت اس مجلس میں پچاس نامور مشائخ بھی موجود تھے ۔ سب نے اپنی گردنیں جُھکا لیں، اور حضرت محبوب سبحانی کے قدم مبارک کو بوسہ دیا، اور اپنے سروں پر رکھ دیا ۔ جن حضرات نے ایسا کیا ان کا نام آج تک روشن ہے ۔ (ایضاً)

جامعہ نظامیہ بغداد:
یہ جامعہ اُس وقت پوری دنیا کی عظیم اور شہرہ آفاق اور دنیا کی واحد یونیورسٹی تھی ۔ اس یونیورسٹی سے بڑے بڑے فضلاء پیدا ہوئے ۔

حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ، اور ان کے بعد حضرت غوث الاعظم اس کے استاد و منتظم اعلیٰ تھے ۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفۂ بغداد نے حضرت ابو نجیب سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کو اس یونیورسٹی کا پرنسپل مقرر کیا ۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ ہمارے مشائخ تمام علوم کے جامع ہوتے تھے ۔ (اخبار الصالحین:166) ـ
1👍1
ایک دن آپ حرم شریف میں مراقبہ کئے بیٹھے تھے آپ کے بھتیجے اور خلیفہٗ اعظم شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے پاس حاضر تھے تو اسی اثنا میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے مگر شیخ نےکچھ توجہ نہ فرمائی اور مراقب رہے ۔

حضرت خضر علیہ السلام کچھ دیر کھڑے رہے اور پھر چلے گئے ۔ جب آپ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: "اے بیٹا تجھے کیا معلوم اس وقت میں اپنے خالق سے مشغول تھا اگر وہ وقت فوت ہو جاتا تو پھر مجھے کہاں ملتا ۔ خواجہ تو پھر مل جائیں‌گے ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت خضر علیہ السلام پھر تشریف لے آئے ۔ شیخ نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور اپنے پاس بِٹھایا ۔ اسی طرح کئی بار آپ حضرت خضر علیہ السلام کا شرف نیاز حاصل کر کے رموز باطن اور علوم طریقت سے بہرہ مند ہوئے ۔ ( تذکرہ غوث العالمین ) ـ

کرامت:
حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ایک دن تین یہودی اور تین عیسائی حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ شیخ نے ان کو اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے اِنکار کر دیا آپ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک لقمہ دیا ۔ ابھی لقمہ ان کے پیٹ میں نہیں پہنچا تھا کہ وہ سب ایمان لے آئے اور کہنے لگے کہ جونہی لقمہ ہمارے حلق کے اندر گیا سوائے اسلام کے ہر دین کی محبت ہمارے دل سے جاتی رہی ۔ (یادگار سہروردیہ ص:112) ـ

حضرت شیخ اپنے مریدین کو بد عقیدہ، بد عمل دوستوں کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے ۔ اسی طرح سالکین کو شیطان کے مکائد و فسادات سے پہلے ہی مطلع فرما دیتے تھے ۔ آپ کا اثر علماء ظاہر اور درویشوں تک ہی محدود نہ تھا ۔ بلکہ خلیفۂ وقت اور سلاطین بھی احترام کرتے اور بات مانتے ۔

جب الراشد باللہ ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا تو آپ نے اسے وعظ و نصیحت فرمائی اور عدل و انصاف اور خدا ترسی کی ترغیب دلائی ۔ آپ کی کتاب " آداب المریدین " مسائلِ طریقت پر ایک جامع و نافع کتاب ہے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الثانی 563ھ / مطابق مارچ 1163ء کو بغداد میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ یادگار سہروردیہ ۔ اخبار الصالحین ۔ تذکرۂ غوث العالمین ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-najeeb-abdul-qahir-soharwardi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-06-1444 ᴴ | 04-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-06-1444 ᴴ | 05-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1