🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-06-1444 ᴴ | 03-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-06-1444 ᴴ | 03-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-06-1444 ᴴ | 03-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-06-1444 ᴴ | 03-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: نصر بن محمد ۔ کنیت: ابو اللیث ۔ لقب: الفقیہ الحنفی، اور امام الھدیٰ ہے ۔ فقیہ ابو اللیث سمرقندی سے ہی معروف عام و خاص ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہ ابواللیث نصر بن محمد بن احمد بن ابراہیم ۔ علیہم الرحمہ ۔
والد محترم:
آپ علیہ الرحمہ کے والد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم فقیہ تھے ۔
تاریخِ ولادت:
امام ابواللیث سمرقندی علیہ الرحمہ ازبکستان کے مشہور شہر "سمرقند" میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے کئی جید اساتذہ و مشائخ سے علمی استفادہ کیا ۔ جن سے سب سے زیادہ علمی استفادہ کیا ۔ ان کے نام یہ ہیں: محمد بن ابراہیم التوزی، والدِ گرامی ۔ فقیہ ابو جعفر الہندوانی ۔ مفسر و محقق محمد بن الفضل بلخی ۔ خلیل بن احمد قاضی ۔ علیہم الرحمہ ۔
سیرت و خصائص:
فخر الاحناف، فقیہ الاحناف، امام الہدیٰ، فقیہِ اعظم، محدث جلیل، مفسرِ کبیر، فاضلِ عظیم، حضرت ابواللیث نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
۔
آپ کا شمار فقہِ حنفی کے عظیم فقہاء میں ہوتا ہے ۔ آپ کی کتب اور اقوال کی اہمیت ہر زمانے میں مسلم رہی ہے ۔ آپ کی شہرت و عظمت کا اہم سبب آپ کا تصوف و علم الاخلاق کی طرف رجحان تھا ۔ اسی طرح علم و فقاہت کے ساتھ زہد و تقویٰ اور طہارت نے آپ کی عظمت کو چار چاند لگا دِئے ۔
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں:
علمائے بلخ میں سے امام کبیر فاضل بے نظیر فقیہ جلیل القدر محدث وحید العصر زاہد متورع ۔ ایک لاکھ حدیثیں یاد تھیں ۔ کتبِ امام محمد و امام وکیع و عبد اللہ بن مبارک اور امالی امام ابو یوسف وغیرہ آپ کو حفظ تھیں ۔
تصنیفات:
آپ علیہ الرحمہ نے قرآن شریف کی تفسیر چار جلدوں میں اور کتاب نوادر الفقہ و خزانۃ الفقہ و تنبیہ الغافلین و بستان الغافلین و بستان العارفین و شرح جامع صغیر و تاسیس النظائر و مختلف الروایۃ و نوازل و عیون اور مختلف فتاویٰ وغیرہ تصنیف کِیے ۔
آپ علیہ الرحمہ کا مبارک قول:
آپ کا قول تھا کہ قیامت کے دن میرے نامۂ اعمال میں سے فضول کوئی چیز نہیں نکلے گی، اور میں نے جب سے دائیں ہاتھ کو بائیں سے پہچانا ہے، (یعنی جب سے ہوش سنبھالا ہے) جھوٹ نہیں بولا اور نہ کسی کے ساتھ برائی کا اس قدر بھی ارادہ کیا ہے کہ جس قدر جانور اپنے سر کو پانی میں مارتا ہے اور پھر اٹھا لیتا ہے ۔
آپ کہتے تھے کہ جو شخص علم کلام کے ساتھ مشغول ہُوا اُس کا نام زمرۂ علماء سے محو کر دینا چاہئے، (جس کا مطلب شہرت و دنیاوی منفعت ہو) آپ کے زہد و ورع کا اندازہ اس واقعہ سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے ۔
منقول ہے:
کہ ایک دفعہ آپ تجارت کی غرض سے روانہ ہوئے، راستے میں رہزنوں نے آپ کے قافلے کو لوٹ لیا ۔ جب انہوں نے سامان کے بورے کھولے تو کئی بورے ایسے پائے جن میں صرف ڈھیلے بھرے ہوئے تھے ۔ رہزن اس بات پر بڑے حیران ہوئے اور اہل قافلہ سے اس امر کو دریافت کیاکہ یہ کیا معاملہ ہے؟
انہوں نے کہا:
شیخ ابو اللیث سے پوچھو ۔ کیونکہ یہ مٹی کے ڈھیلے انھوں نے ہی ڈالے تھے ۔ جب چوروں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: یہ ڈھیلے ہم نے استنجاء کے لئے اپنی مملوکہ زمین سے لادے ہیں تاکہ غیر کی زمین سے استنجاء کے لیے ڈھیلا نہ اٹھانا پڑے ۔ رہزنوں کو یہ بات سن کر بڑا خوف پیدا ہوا اور سب نے تائب ہو کر قافلہ کا مال واپس کر دیا، اور متقی و پرہیز گار بن گئے ۔
شیخ ابو اللیث سمرقندی علیہ الرحمہ نے کئی مفید اور یادگار کتب بطورِ صدقۂ جاریہ چھوڑی ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11 جمادی الاخریٰ 373ھ / مطابق 18 نومبر 983ء بروز منگل ہوا ۔ قبر سمرقند میں مرجعِ خلائق ہے ۔
سمرقند کے لوگوں نے آپ کی وفات کے افسوس میں ایک ماہ تک دُکانیں نہ کھولیں اور ان کا ارادہ تھا کہ اورا یک ماہ نہ کھولیں گے مگر حاکم نے ان کو سمجھا کر کھلوا دیں ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-faqih-abu-lais-samarqandi-balkhi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: نصر بن محمد ۔ کنیت: ابو اللیث ۔ لقب: الفقیہ الحنفی، اور امام الھدیٰ ہے ۔ فقیہ ابو اللیث سمرقندی سے ہی معروف عام و خاص ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہ ابواللیث نصر بن محمد بن احمد بن ابراہیم ۔ علیہم الرحمہ ۔
والد محترم:
آپ علیہ الرحمہ کے والد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم فقیہ تھے ۔
تاریخِ ولادت:
امام ابواللیث سمرقندی علیہ الرحمہ ازبکستان کے مشہور شہر "سمرقند" میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے کئی جید اساتذہ و مشائخ سے علمی استفادہ کیا ۔ جن سے سب سے زیادہ علمی استفادہ کیا ۔ ان کے نام یہ ہیں: محمد بن ابراہیم التوزی، والدِ گرامی ۔ فقیہ ابو جعفر الہندوانی ۔ مفسر و محقق محمد بن الفضل بلخی ۔ خلیل بن احمد قاضی ۔ علیہم الرحمہ ۔
سیرت و خصائص:
فخر الاحناف، فقیہ الاحناف، امام الہدیٰ، فقیہِ اعظم، محدث جلیل، مفسرِ کبیر، فاضلِ عظیم، حضرت ابواللیث نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
۔
آپ کا شمار فقہِ حنفی کے عظیم فقہاء میں ہوتا ہے ۔ آپ کی کتب اور اقوال کی اہمیت ہر زمانے میں مسلم رہی ہے ۔ آپ کی شہرت و عظمت کا اہم سبب آپ کا تصوف و علم الاخلاق کی طرف رجحان تھا ۔ اسی طرح علم و فقاہت کے ساتھ زہد و تقویٰ اور طہارت نے آپ کی عظمت کو چار چاند لگا دِئے ۔
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں:
علمائے بلخ میں سے امام کبیر فاضل بے نظیر فقیہ جلیل القدر محدث وحید العصر زاہد متورع ۔ ایک لاکھ حدیثیں یاد تھیں ۔ کتبِ امام محمد و امام وکیع و عبد اللہ بن مبارک اور امالی امام ابو یوسف وغیرہ آپ کو حفظ تھیں ۔
تصنیفات:
آپ علیہ الرحمہ نے قرآن شریف کی تفسیر چار جلدوں میں اور کتاب نوادر الفقہ و خزانۃ الفقہ و تنبیہ الغافلین و بستان الغافلین و بستان العارفین و شرح جامع صغیر و تاسیس النظائر و مختلف الروایۃ و نوازل و عیون اور مختلف فتاویٰ وغیرہ تصنیف کِیے ۔
آپ علیہ الرحمہ کا مبارک قول:
آپ کا قول تھا کہ قیامت کے دن میرے نامۂ اعمال میں سے فضول کوئی چیز نہیں نکلے گی، اور میں نے جب سے دائیں ہاتھ کو بائیں سے پہچانا ہے، (یعنی جب سے ہوش سنبھالا ہے) جھوٹ نہیں بولا اور نہ کسی کے ساتھ برائی کا اس قدر بھی ارادہ کیا ہے کہ جس قدر جانور اپنے سر کو پانی میں مارتا ہے اور پھر اٹھا لیتا ہے ۔
آپ کہتے تھے کہ جو شخص علم کلام کے ساتھ مشغول ہُوا اُس کا نام زمرۂ علماء سے محو کر دینا چاہئے، (جس کا مطلب شہرت و دنیاوی منفعت ہو) آپ کے زہد و ورع کا اندازہ اس واقعہ سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے ۔
منقول ہے:
کہ ایک دفعہ آپ تجارت کی غرض سے روانہ ہوئے، راستے میں رہزنوں نے آپ کے قافلے کو لوٹ لیا ۔ جب انہوں نے سامان کے بورے کھولے تو کئی بورے ایسے پائے جن میں صرف ڈھیلے بھرے ہوئے تھے ۔ رہزن اس بات پر بڑے حیران ہوئے اور اہل قافلہ سے اس امر کو دریافت کیاکہ یہ کیا معاملہ ہے؟
انہوں نے کہا:
شیخ ابو اللیث سے پوچھو ۔ کیونکہ یہ مٹی کے ڈھیلے انھوں نے ہی ڈالے تھے ۔ جب چوروں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: یہ ڈھیلے ہم نے استنجاء کے لئے اپنی مملوکہ زمین سے لادے ہیں تاکہ غیر کی زمین سے استنجاء کے لیے ڈھیلا نہ اٹھانا پڑے ۔ رہزنوں کو یہ بات سن کر بڑا خوف پیدا ہوا اور سب نے تائب ہو کر قافلہ کا مال واپس کر دیا، اور متقی و پرہیز گار بن گئے ۔
شیخ ابو اللیث سمرقندی علیہ الرحمہ نے کئی مفید اور یادگار کتب بطورِ صدقۂ جاریہ چھوڑی ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11 جمادی الاخریٰ 373ھ / مطابق 18 نومبر 983ء بروز منگل ہوا ۔ قبر سمرقند میں مرجعِ خلائق ہے ۔
سمرقند کے لوگوں نے آپ کی وفات کے افسوس میں ایک ماہ تک دُکانیں نہ کھولیں اور ان کا ارادہ تھا کہ اورا یک ماہ نہ کھولیں گے مگر حاکم نے ان کو سمجھا کر کھلوا دیں ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-faqih-abu-lais-samarqandi-balkhi
scholars.pk
Hazrat Faqih Abu Lais Samarqandi Balkhi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سید العلماء حضرت علامہ مفتی شاہ آل مصطفی سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
سید العلماء ، سید آلِ مصطفیٰ بن سید آل عباء ، بن سید شاہ حسین ، بن سید شاہ محمد حیدر ۔ الیٰ آخرہ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
25 رجب المرجب 1333ھ / مطابق 9 جون 1915ء بروز بدھ، مارہرہ مطہرہ، (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ جب چار سال چار ماہ چار دن کےہوئے تو سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستِ مبارک کی تحریر کی ہوئی بسم اللہ شریف سے تسمیہ خوانی کا آغاز کیا جو کہ مارہرہ خاندان میں موجود ہے ۔ حفظ قرآن سات آٹھ برس کی چھوٹی سی عمر میں والدہ ماجدہ اور حافظ عاشق علی صاحب برکاتی اور حافظ سلیم الدین صاحب علیہ الرحمۃ سے مکمل کیا ۔ فارسی کی پہلی کتاب اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی ۔ نانا جان اور خالو محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب علیہ الرحمہ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا ۔ بقیہ جمیع علوم کی تکمیل اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے کی ۔
آپ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی بہرہ ور ہوئے ۔ طبیہ کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندی و یونانی وغیرہ اور عمل جراحی میں ڈی آئی ایم ایس میں ڈپلومہ حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
نانا جان حضور سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہ
سیرت و خصائص:
جلیل القدر، دوربین، دور اندیش، نکتہ داں، حق گو، حق آگاہ، حق بیں، حق شناس، حقیقت بیان، صداقت شعار، سراپا ایثار، پرتوِ حیدر کرار ،حق بیانی، شیریں مقالی یہ تمام صفات جن کی ذات کا جزو لاینفک تھیں وہ ہیں حضرت سید العلماء شاہ آلِ مصطفیٰ (علیہ الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ بیک وقت عظیم محدث، مفسر، مفتی، نعت گو شاعر، حاذق حکیم، مدبر، اسلامی سیاست داں اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کے مالک ،عابد شب زندہ دار ولیِ کامل تھے ۔
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! دقیق سے دقیق علمی مباحث میں وہ نکتہ سنجیاں فرماتے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اس وقت اعتراف کرنا پڑتا کہ " سید العلماء " کا خطاب ان کے قامت زیباہی کے لیے وضع ہوا ہے ۔ آپ کے مبارک سینے میں علوم و فنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر و تقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی ۔ (حضور سید العلماء، ص:۱۲) ـ
وصال:
11 جمادی الاخریٰ 1394ھ
ماخذ و مراجع:
حضور سید العلماء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-aale-mustafa-syed-mian-maharvi
نام و نسب:
سید العلماء ، سید آلِ مصطفیٰ بن سید آل عباء ، بن سید شاہ حسین ، بن سید شاہ محمد حیدر ۔ الیٰ آخرہ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
25 رجب المرجب 1333ھ / مطابق 9 جون 1915ء بروز بدھ، مارہرہ مطہرہ، (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ جب چار سال چار ماہ چار دن کےہوئے تو سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستِ مبارک کی تحریر کی ہوئی بسم اللہ شریف سے تسمیہ خوانی کا آغاز کیا جو کہ مارہرہ خاندان میں موجود ہے ۔ حفظ قرآن سات آٹھ برس کی چھوٹی سی عمر میں والدہ ماجدہ اور حافظ عاشق علی صاحب برکاتی اور حافظ سلیم الدین صاحب علیہ الرحمۃ سے مکمل کیا ۔ فارسی کی پہلی کتاب اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی ۔ نانا جان اور خالو محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب علیہ الرحمہ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا ۔ بقیہ جمیع علوم کی تکمیل اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے کی ۔
آپ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی بہرہ ور ہوئے ۔ طبیہ کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندی و یونانی وغیرہ اور عمل جراحی میں ڈی آئی ایم ایس میں ڈپلومہ حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
نانا جان حضور سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہ
سیرت و خصائص:
جلیل القدر، دوربین، دور اندیش، نکتہ داں، حق گو، حق آگاہ، حق بیں، حق شناس، حقیقت بیان، صداقت شعار، سراپا ایثار، پرتوِ حیدر کرار ،حق بیانی، شیریں مقالی یہ تمام صفات جن کی ذات کا جزو لاینفک تھیں وہ ہیں حضرت سید العلماء شاہ آلِ مصطفیٰ (علیہ الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ بیک وقت عظیم محدث، مفسر، مفتی، نعت گو شاعر، حاذق حکیم، مدبر، اسلامی سیاست داں اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کے مالک ،عابد شب زندہ دار ولیِ کامل تھے ۔
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! دقیق سے دقیق علمی مباحث میں وہ نکتہ سنجیاں فرماتے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اس وقت اعتراف کرنا پڑتا کہ " سید العلماء " کا خطاب ان کے قامت زیباہی کے لیے وضع ہوا ہے ۔ آپ کے مبارک سینے میں علوم و فنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر و تقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی ۔ (حضور سید العلماء، ص:۱۲) ـ
وصال:
11 جمادی الاخریٰ 1394ھ
ماخذ و مراجع:
حضور سید العلماء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-aale-mustafa-syed-mian-maharvi
scholars.pk
Hazrat Mufti Aale Mustafa Syed Mian Maharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1