Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1444 ᴴ | 29-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1444 ᴴ | 29-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌷جھوٹا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے🌷
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
🔹حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ قَالَ لِي مَالِكٌ اعْلَمْ أَنَّهُ لَيْسَ يَسْلَمُ رَجُلٌ حَدَّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَلَا يَكُونُ إِمَامًا أَبَدًا وَهُوَ يُحَدِّثُ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
🔸حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا :
"ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دینے والا غلطی سے محفوظ نہیں رہ سکتا،
اور نہ ہی ایسا شخص کبھی فن حدیث میں امام ہو سکتا ہے"_
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.213 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 " جو حضرات فیسبوک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سے حدیث کے متعلق پوسٹ پوسٹر وغیرہ بغیر کسی تحقیق کے یہاں سے وہاں Share کرتے رہتے ہیں انہیں احتیاط کرنا چاہیے کہیں وہ اس وعید میں شامل نہ ہو جائیں "_
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➊
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
🔹حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ قَالَ لِي مَالِكٌ اعْلَمْ أَنَّهُ لَيْسَ يَسْلَمُ رَجُلٌ حَدَّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَلَا يَكُونُ إِمَامًا أَبَدًا وَهُوَ يُحَدِّثُ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
🔸حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا :
"ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دینے والا غلطی سے محفوظ نہیں رہ سکتا،
اور نہ ہی ایسا شخص کبھی فن حدیث میں امام ہو سکتا ہے"_
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.213 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 " جو حضرات فیسبوک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سے حدیث کے متعلق پوسٹ پوسٹر وغیرہ بغیر کسی تحقیق کے یہاں سے وہاں Share کرتے رہتے ہیں انہیں احتیاط کرنا چاہیے کہیں وہ اس وعید میں شامل نہ ہو جائیں "_
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➊
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌹سُنی سنائی باتیں ناقابلِ اعتبار 🌹
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ کافی ہے وہ ہر سُنی ہوئی بات بیان کر دے"_
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ لَا يَكُونُ الرَّجُلُ إِمَامًا يُقْتَدَى بِهِ حَتَّى يُمْسِكَ عَنْ بَعْضِ مَا سَمِعَ
🔹حضرت عبد الرحمن بن مہدی نے بیان فرمایا :
"جب انسان سنی سنائی باتوں سے اپنی زبان کو نہیں روکے گا وہ لائقِ اقتداء امام نہیں ہو گا"_
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنِّي أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ قَالَ فَفَعَلْتُ فَقَالَ لِيَ احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ
🔸سفیان بن حسن بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میرا خیال ہے تم علم قرآن کے ماہر ہو،
میرے سامنے قرآن کریم کی کسی صورت کی تفسیر بیان کرو تاکہ مجھے تمہارے علم کا اندازہ ہو۔
سفیان نے کہا میں نے ان کی حکم کی تعمیل کی،
ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ نا قابل اعتبار احادیث بیان نہ کرنا کیونکہ ایسا کرنے والا شخص خود بھی اپنی نظروں میں حقیر ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں "-
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.214 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 اللہ اکبر ان آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے ہمارے اسلاف روایات کو قبول کرنے میں کتنا احتیاط فرمایا کرتے تھے اور سند کی اہمیت پر کتنا زور دیتے تھے، اور ہر سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے ۔
اور آج کل خطبوں کا کاروبار ہی ناقابلِ اعتبار روایات بیان کرنے سے ہی چل رہا ہے ،
اور عوام بھی انہیں خطیبوں سے سن سن کر ناقابل اعتبار روایات بیان کرتے ہیں اور Share کرتے ہیں جب ان سے کہا جائے یہ روایت درست نہیں تو کہتے ہیں فلاں خطیب صاحب نے بیان کی ہے ۔
حالانکہ خطیب صاحب خود ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں تو ان کی بیان کردہ روایت کا کیا حال ہوگا ۔
احتیاط کرنا چاہیے علم قابل اعتماد علماء سے ہی حاصل کرنا چاہیے -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➋
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ کافی ہے وہ ہر سُنی ہوئی بات بیان کر دے"_
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ لَا يَكُونُ الرَّجُلُ إِمَامًا يُقْتَدَى بِهِ حَتَّى يُمْسِكَ عَنْ بَعْضِ مَا سَمِعَ
🔹حضرت عبد الرحمن بن مہدی نے بیان فرمایا :
"جب انسان سنی سنائی باتوں سے اپنی زبان کو نہیں روکے گا وہ لائقِ اقتداء امام نہیں ہو گا"_
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنِّي أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ قَالَ فَفَعَلْتُ فَقَالَ لِيَ احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ
🔸سفیان بن حسن بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میرا خیال ہے تم علم قرآن کے ماہر ہو،
میرے سامنے قرآن کریم کی کسی صورت کی تفسیر بیان کرو تاکہ مجھے تمہارے علم کا اندازہ ہو۔
سفیان نے کہا میں نے ان کی حکم کی تعمیل کی،
ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ نا قابل اعتبار احادیث بیان نہ کرنا کیونکہ ایسا کرنے والا شخص خود بھی اپنی نظروں میں حقیر ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں "-
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.214 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 اللہ اکبر ان آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے ہمارے اسلاف روایات کو قبول کرنے میں کتنا احتیاط فرمایا کرتے تھے اور سند کی اہمیت پر کتنا زور دیتے تھے، اور ہر سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے ۔
اور آج کل خطبوں کا کاروبار ہی ناقابلِ اعتبار روایات بیان کرنے سے ہی چل رہا ہے ،
اور عوام بھی انہیں خطیبوں سے سن سن کر ناقابل اعتبار روایات بیان کرتے ہیں اور Share کرتے ہیں جب ان سے کہا جائے یہ روایت درست نہیں تو کہتے ہیں فلاں خطیب صاحب نے بیان کی ہے ۔
حالانکہ خطیب صاحب خود ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں تو ان کی بیان کردہ روایت کا کیا حال ہوگا ۔
احتیاط کرنا چاہیے علم قابل اعتماد علماء سے ہی حاصل کرنا چاہیے -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➋
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌷ہم قصہ گو کو حدیث نہیں سناتے🌷
ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزی القرشی البغدادی (المتوفی :597ھ) علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
١٦٨ - أخبرنَا الْمُبَارَكِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي عُمَرَ الْحَسَنُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَاعِظُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّقَّاشِ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ قَالَ: كنت مَعَ شُعْبَة، فَدَنَا مِنْهُ شَابٌّ. فَسَأَلَ عَنْ حَدِيثٍ فَقَالَ لَهُ: أَقَاصٌّ أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اذْهَبْ؛ فَإِنَّا لَا نُحَدِّثُ الْقُصَّاصَ. فَقُلْتُ / لَهُ: لِمَ يَا أَبَا بِسْطَامٍ؟ قَالَ: يَأْخُذُونَ الْحَدِيثَ مِنَّا شِبْرًا فَيَجْعَلُونَهُ ذِرَاعًا
🔹حضرت ابو ولید طیالسی علیہ الرحمہ کہتے ہیں :
"میں حضرت شعبۃ بن الحجاج(160ھ) علیہ الرحمہ کے ساتھ تھا ، آپ کے پاس ایک جوان آیا اور حدیث کے متعلق آپ سے سوال کرنے لگا،
آپ(شعبہ) نے اس(جوان) سے کہا : کیا آپ قصہ گو ہیں؟
جوان نے کہا : ہاں !
آپ(شعبہ) نے فرمایا : یہاں سے جاؤ کہ ہم قصہ گوئی کرنے والوں کو حدیث نہیں سُناتے -
میں نے (ابو الولید طیالسی) نے (حضرت شعبہ آپ کی کنیت ابو بسطام) سے کہا کیوں یہ ابی بسطام ؟
حضرت شعبہ نے فرمایا : یہ لوگ ہم سے بالشت بھر حدیث لیتے ہیں اور اس کو(بڑھا چڑھا کر) ایک گز بنا دیتے ہیں"_
•[كتاب القصاص والمذكرين لابن جوزي ص.308 المكتب الإسلامي - بيروت]
📌اج کل حال تو اس سے کہیں زیادہ برا ہے، آج کل کے خطیب قصہ خوانی میں ایسے ماہر ہیں ایک روایت کی ایسی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ کیا ہی کہا جائے،
اور ساتھ خطابات کی کتابیں لکھنے والے حضرات جو اصل میں ان قصہ گوئی کرنے والے حضرات کے والد ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کی کتابوں سے یہ حضرات ماہر خطیب(قصہ گو) بنتے ہیں یہ ایسی ایسی روایات اپنی کتب میں لکھتے ہیں جن کی اصل صرف ان کی خود کی قلم ہوتی ہے اور کسی دوسرے معتبر ماخذ میں ان کا ثبوت نہیں ملتا ۔
ایسی کتابوں کو پڑھنے پڑھانے، بیچنے خریدنے، سے بچنا چاہیے -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
#قصہ_گو
➌
ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزی القرشی البغدادی (المتوفی :597ھ) علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
١٦٨ - أخبرنَا الْمُبَارَكِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي عُمَرَ الْحَسَنُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَاعِظُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّقَّاشِ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ قَالَ: كنت مَعَ شُعْبَة، فَدَنَا مِنْهُ شَابٌّ. فَسَأَلَ عَنْ حَدِيثٍ فَقَالَ لَهُ: أَقَاصٌّ أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اذْهَبْ؛ فَإِنَّا لَا نُحَدِّثُ الْقُصَّاصَ. فَقُلْتُ / لَهُ: لِمَ يَا أَبَا بِسْطَامٍ؟ قَالَ: يَأْخُذُونَ الْحَدِيثَ مِنَّا شِبْرًا فَيَجْعَلُونَهُ ذِرَاعًا
🔹حضرت ابو ولید طیالسی علیہ الرحمہ کہتے ہیں :
"میں حضرت شعبۃ بن الحجاج(160ھ) علیہ الرحمہ کے ساتھ تھا ، آپ کے پاس ایک جوان آیا اور حدیث کے متعلق آپ سے سوال کرنے لگا،
آپ(شعبہ) نے اس(جوان) سے کہا : کیا آپ قصہ گو ہیں؟
جوان نے کہا : ہاں !
آپ(شعبہ) نے فرمایا : یہاں سے جاؤ کہ ہم قصہ گوئی کرنے والوں کو حدیث نہیں سُناتے -
میں نے (ابو الولید طیالسی) نے (حضرت شعبہ آپ کی کنیت ابو بسطام) سے کہا کیوں یہ ابی بسطام ؟
حضرت شعبہ نے فرمایا : یہ لوگ ہم سے بالشت بھر حدیث لیتے ہیں اور اس کو(بڑھا چڑھا کر) ایک گز بنا دیتے ہیں"_
•[كتاب القصاص والمذكرين لابن جوزي ص.308 المكتب الإسلامي - بيروت]
📌اج کل حال تو اس سے کہیں زیادہ برا ہے، آج کل کے خطیب قصہ خوانی میں ایسے ماہر ہیں ایک روایت کی ایسی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ کیا ہی کہا جائے،
اور ساتھ خطابات کی کتابیں لکھنے والے حضرات جو اصل میں ان قصہ گوئی کرنے والے حضرات کے والد ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کی کتابوں سے یہ حضرات ماہر خطیب(قصہ گو) بنتے ہیں یہ ایسی ایسی روایات اپنی کتب میں لکھتے ہیں جن کی اصل صرف ان کی خود کی قلم ہوتی ہے اور کسی دوسرے معتبر ماخذ میں ان کا ثبوت نہیں ملتا ۔
ایسی کتابوں کو پڑھنے پڑھانے، بیچنے خریدنے، سے بچنا چاہیے -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
#قصہ_گو
➌
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌹امام اعظم(علیہ الرحمہ) پر قصہ گھڑنا🌹
ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزی القرشی البغدادی (المتوفی :597ھ) علیہ الرحمہ اپنی سند سے لکھتے ہیں :
١٧١ - أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْقَزَّازُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بكر أَحْمد بن عَليّ بن ثَابت قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَّالُ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَرِيرِيُّ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ كَاسٍ النَّخَعِيَّ حَدَّثَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْبَخْتَرِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: كَانَ فِي مَسْجِدٍ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ زُرْعَةُ / فَأَرَادَتْ أُمُّ أَبِي حَنِيفَةَ أَنْ تَسْتَفْتِي فِي شَيْءٍ فَأَفْتَاهَا أَبُو حَنِيفَةَ، فَلَمْ تقبل. وَقَالَت: لَا أقبل إِلَّا مَا يَقُول زُرْعَةُ الْقَاصُّ {فَجَاءَ بِهَا أَبُو حَنِيفَةَ إِلَى زُرْعَةَ فَقَالَ: هَذِهِ أُمِّي، تَسْتَفْتِيكَ فِي كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ مِنِّي وَأَفْقَهُ. فَأَفْتِهَا أَنْتَ} فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: قَدْ أَفْتَيْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا. فَقَالَ زُرْعَةُ: الْقَوْلُ كَمَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ، فَرَضِيَتْ وَانْصَرَفَتْ
🔹 حجر بن عبدالجبار حضرمی کہتے ہیں :
کوفہ کی مسجد میں ایک قصہ گو شخص رہتا تھا۔ جس کو "زرعہ" کہتے تھے، امامِ اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کی والده ایک فتوی دریافت کرنا چاہتی تھیں جو امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے بتا دیا ۔
مگر والدہ نے اصرار کیا کہ میں 'زرعہ' سے ہی پوچھوں گی چنانچہ امام ابو حنیفہ ان کو زرعہ کے پاس لے گئے، اور کہا یہ میری والدہ ہیں اور آپ سے فلاں مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہیں۔
زرعہ کہنے لگا : آپ مجھ سے بڑھ کر عالم اور فقیہ ہیں ان کو مسئلہ بتا دیجئے۔
امام اعظم نے کہا : میں نے یہ مسئلہ ان کو بتا دیا ہے ۔
یہ سن کر زرعہ نے کہا : امام ابو حنیفہ ٹھیک کہتے ہیں تب ان کی والدہ خوش ہو کر چلی
گئیں" -
•[كتاب القصاص والمذكرين لابن جوزي ص.319 المكتب الإسلامي - بيروت]
📌قصہ گو کس حد تک جری ہوتے ہیں کہ اپنی انا اور واہ واہی کے لئے مبارک و مسعود ہستیوں ہر بھی افتراء باندھ دیتے ہیں ۔
آپ اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امامِ اعظم علیہ الرحمہ کی والدہ امام صاحب کے فتوے پر راضی نہیں تھی بلکہ وہ اس "زرعہ" سے فتوی پوچھنا چاہتی تھی (معاذاللہ) -
اسی طرح آج کل کچھ خطیب حضرات بھی اولیاء کرام کے متعلق عجیب و غریب قصص گھڑ ڈالتے ہیں میں نے خود کئی حضرات سے ایسے ایسے واقعات سنے ہیں جن کا ان اولیاء کرام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا -
جنہیں سُن کر ایک ادنی فہم و عقل رکھنے والے پر بھی یہ عیاں ہو جائے گا کہ مقرر صاحب زرعہ کی طرح " دھول میں لٹ مار رہیں ہیں " -
(کبھی موقعہ ہوا تو ان حضرات کی وہ کلپس کاٹ کر پیش کر رد لکھوں گا)
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
#قصہ_گو
#خطیبوں_کا_رد
➍
ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزی القرشی البغدادی (المتوفی :597ھ) علیہ الرحمہ اپنی سند سے لکھتے ہیں :
١٧١ - أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْقَزَّازُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بكر أَحْمد بن عَليّ بن ثَابت قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَّالُ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَرِيرِيُّ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ كَاسٍ النَّخَعِيَّ حَدَّثَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْبَخْتَرِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: كَانَ فِي مَسْجِدٍ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ زُرْعَةُ / فَأَرَادَتْ أُمُّ أَبِي حَنِيفَةَ أَنْ تَسْتَفْتِي فِي شَيْءٍ فَأَفْتَاهَا أَبُو حَنِيفَةَ، فَلَمْ تقبل. وَقَالَت: لَا أقبل إِلَّا مَا يَقُول زُرْعَةُ الْقَاصُّ {فَجَاءَ بِهَا أَبُو حَنِيفَةَ إِلَى زُرْعَةَ فَقَالَ: هَذِهِ أُمِّي، تَسْتَفْتِيكَ فِي كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ مِنِّي وَأَفْقَهُ. فَأَفْتِهَا أَنْتَ} فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: قَدْ أَفْتَيْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا. فَقَالَ زُرْعَةُ: الْقَوْلُ كَمَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ، فَرَضِيَتْ وَانْصَرَفَتْ
🔹 حجر بن عبدالجبار حضرمی کہتے ہیں :
کوفہ کی مسجد میں ایک قصہ گو شخص رہتا تھا۔ جس کو "زرعہ" کہتے تھے، امامِ اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کی والده ایک فتوی دریافت کرنا چاہتی تھیں جو امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے بتا دیا ۔
مگر والدہ نے اصرار کیا کہ میں 'زرعہ' سے ہی پوچھوں گی چنانچہ امام ابو حنیفہ ان کو زرعہ کے پاس لے گئے، اور کہا یہ میری والدہ ہیں اور آپ سے فلاں مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہیں۔
زرعہ کہنے لگا : آپ مجھ سے بڑھ کر عالم اور فقیہ ہیں ان کو مسئلہ بتا دیجئے۔
امام اعظم نے کہا : میں نے یہ مسئلہ ان کو بتا دیا ہے ۔
یہ سن کر زرعہ نے کہا : امام ابو حنیفہ ٹھیک کہتے ہیں تب ان کی والدہ خوش ہو کر چلی
گئیں" -
•[كتاب القصاص والمذكرين لابن جوزي ص.319 المكتب الإسلامي - بيروت]
📌قصہ گو کس حد تک جری ہوتے ہیں کہ اپنی انا اور واہ واہی کے لئے مبارک و مسعود ہستیوں ہر بھی افتراء باندھ دیتے ہیں ۔
آپ اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امامِ اعظم علیہ الرحمہ کی والدہ امام صاحب کے فتوے پر راضی نہیں تھی بلکہ وہ اس "زرعہ" سے فتوی پوچھنا چاہتی تھی (معاذاللہ) -
اسی طرح آج کل کچھ خطیب حضرات بھی اولیاء کرام کے متعلق عجیب و غریب قصص گھڑ ڈالتے ہیں میں نے خود کئی حضرات سے ایسے ایسے واقعات سنے ہیں جن کا ان اولیاء کرام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا -
جنہیں سُن کر ایک ادنی فہم و عقل رکھنے والے پر بھی یہ عیاں ہو جائے گا کہ مقرر صاحب زرعہ کی طرح " دھول میں لٹ مار رہیں ہیں " -
(کبھی موقعہ ہوا تو ان حضرات کی وہ کلپس کاٹ کر پیش کر رد لکھوں گا)
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
#قصہ_گو
#خطیبوں_کا_رد
➍
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌿ابو مرحوم الحجام قصہ گو🌿
قَالَ الْكَرْخِيُّ: وَسَمِعْتُ / الْحُسَيْنَ الْكَرَابِيسِيَّ يَقُولُ: كَانَ هَاهُنَا بِبَغْدَادَ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَرْحُومٍ الْحَجَّامُ. كَانَ يَكُونُ فِي مَسْجِدٍ وَيَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ. فَقَالَ يَوْمًا: سَلُونِي عَنِ التَّفْسِيرِ وَتَفْسِيرِ التَّفْسِيرِ {فَقَامَ رَجُلٌ وَرَاءَ الدَّرَابِزِينِ فَقَالَ: يَا أَبَا مَرْحُومٍ} فَقَالَ: طَعْنَةٌ يَا ابْنَ الْفَاعِلَةِ {فَقَالَ لَهُ: رَجُلٌ دَعَا لَكَ ثُمَّ تَقُولُ لَهُ مِثْلَ هَذِهِ الْمَقَالَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى (إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاء الحجرات أَكْثَرهم لَا يعْقلُونَ) قَالَ: مَاذَا تَقُولُ فِي الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ؟ قَالَ: الْمُحَاقَلَةِ حَلْقُ الثِّيَابِ عِنْدَ السِّمْسَارِ، وَالْمُزَابَنَةِ أَنْ تُسَمِيَ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ زُبُونًا
الحسین الکرابیسی کہتے ہیں :
’’بغداد میں ایک قصہ گو تھا جس کا نام ابو مرحوم (حجام) تھا،
لوگ اس کے پاس آ کر جمع ہوتے ایک روز کہنے لگا تم مجھ سے قرآن مجید کی تفسیر بھی پوچھ سکتے ہو اور تفسیر کی تفسیر بھی،
کواڑ کے پیچھےسے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : ابو مرحوم ! اللہ تیری اصلاح کرے ۔
اس(ابو مرحوم) نے اس(کواڑ کے پیچھے کھڑے شخص) کو معترض جان کر تہمت لگائی اور کہنے لگا : اے زانیہ کے بیٹے !
ایک شخص نے اس سے کہا وہ تو تجھے دعا دے رہا ہے اور تو اسے اس قسم کی باتیں کہہ رہا ہے ۔
اس(ابو مرحوم) نے جواب دیا ہاں لیکن کیا تم نے اللہ کا قول نہیں سنا کہ :
'جو لوگ تم کو پردوں کے پیچھے سے آواز دیتے ہیں وہ اکثر بے عقل ہیں' ۔
اس شخص نے دریافت کیا مزابنہ اور محاقلہ کا کیا مطلب ہے؟
تو اس(ابو مرحوم) نے جواب دیا :
مُحاقلہ¹ یہ ہے کہ خرید وفروخت کے وقت کپڑے پھاڑ دیے جائیں جب کہ مزابنہ² اپنے مسلمان بھائی کا برا نام رکھنا ہے" _
¹.مُحاقلة : یہ ہے کے خوشے میں گندم کی بیع صاف گندم کے عوض کی جائے
².مُزابنه : یہ ہے خشک کھجور کو تازہ کھجور اور انگور کو کشمش کے بدلے میں بھرتی کرکے فروخت کیا جائے -
•[الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص.40 دار الکتب العلمیہ اردو ص.145]
➎
📌یہ حال تھا اس دور میں تو سوچیے اب کیا حال ہوگا -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
#قصہ_گو
#خطیبوں_کا_رد
قَالَ الْكَرْخِيُّ: وَسَمِعْتُ / الْحُسَيْنَ الْكَرَابِيسِيَّ يَقُولُ: كَانَ هَاهُنَا بِبَغْدَادَ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَرْحُومٍ الْحَجَّامُ. كَانَ يَكُونُ فِي مَسْجِدٍ وَيَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ. فَقَالَ يَوْمًا: سَلُونِي عَنِ التَّفْسِيرِ وَتَفْسِيرِ التَّفْسِيرِ {فَقَامَ رَجُلٌ وَرَاءَ الدَّرَابِزِينِ فَقَالَ: يَا أَبَا مَرْحُومٍ} فَقَالَ: طَعْنَةٌ يَا ابْنَ الْفَاعِلَةِ {فَقَالَ لَهُ: رَجُلٌ دَعَا لَكَ ثُمَّ تَقُولُ لَهُ مِثْلَ هَذِهِ الْمَقَالَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى (إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاء الحجرات أَكْثَرهم لَا يعْقلُونَ) قَالَ: مَاذَا تَقُولُ فِي الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ؟ قَالَ: الْمُحَاقَلَةِ حَلْقُ الثِّيَابِ عِنْدَ السِّمْسَارِ، وَالْمُزَابَنَةِ أَنْ تُسَمِيَ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ زُبُونًا
الحسین الکرابیسی کہتے ہیں :
’’بغداد میں ایک قصہ گو تھا جس کا نام ابو مرحوم (حجام) تھا،
لوگ اس کے پاس آ کر جمع ہوتے ایک روز کہنے لگا تم مجھ سے قرآن مجید کی تفسیر بھی پوچھ سکتے ہو اور تفسیر کی تفسیر بھی،
کواڑ کے پیچھےسے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : ابو مرحوم ! اللہ تیری اصلاح کرے ۔
اس(ابو مرحوم) نے اس(کواڑ کے پیچھے کھڑے شخص) کو معترض جان کر تہمت لگائی اور کہنے لگا : اے زانیہ کے بیٹے !
ایک شخص نے اس سے کہا وہ تو تجھے دعا دے رہا ہے اور تو اسے اس قسم کی باتیں کہہ رہا ہے ۔
اس(ابو مرحوم) نے جواب دیا ہاں لیکن کیا تم نے اللہ کا قول نہیں سنا کہ :
'جو لوگ تم کو پردوں کے پیچھے سے آواز دیتے ہیں وہ اکثر بے عقل ہیں' ۔
اس شخص نے دریافت کیا مزابنہ اور محاقلہ کا کیا مطلب ہے؟
تو اس(ابو مرحوم) نے جواب دیا :
مُحاقلہ¹ یہ ہے کہ خرید وفروخت کے وقت کپڑے پھاڑ دیے جائیں جب کہ مزابنہ² اپنے مسلمان بھائی کا برا نام رکھنا ہے" _
¹.مُحاقلة : یہ ہے کے خوشے میں گندم کی بیع صاف گندم کے عوض کی جائے
².مُزابنه : یہ ہے خشک کھجور کو تازہ کھجور اور انگور کو کشمش کے بدلے میں بھرتی کرکے فروخت کیا جائے -
•[الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص.40 دار الکتب العلمیہ اردو ص.145]
➎
📌یہ حال تھا اس دور میں تو سوچیے اب کیا حال ہوگا -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
#قصہ_گو
#خطیبوں_کا_رد
❤1👍1