🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1444 ᴴ | 29-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1444 ᴴ | 29-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1444 ᴴ | 29-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1444 ᴴ | 29-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌷جھوٹا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے🌷
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
🔹حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ قَالَ لِي مَالِكٌ اعْلَمْ أَنَّهُ لَيْسَ يَسْلَمُ رَجُلٌ حَدَّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَلَا يَكُونُ إِمَامًا أَبَدًا وَهُوَ يُحَدِّثُ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
🔸حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا :
"ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دینے والا غلطی سے محفوظ نہیں رہ سکتا،
اور نہ ہی ایسا شخص کبھی فن حدیث میں امام ہو سکتا ہے"_
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.213 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 " جو حضرات فیسبوک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سے حدیث کے متعلق پوسٹ پوسٹر وغیرہ بغیر کسی تحقیق کے یہاں سے وہاں Share کرتے رہتے ہیں انہیں احتیاط کرنا چاہیے کہیں وہ اس وعید میں شامل نہ ہو جائیں "_
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➊
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
🔹حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
"کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے"_
أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ قَالَ لِي مَالِكٌ اعْلَمْ أَنَّهُ لَيْسَ يَسْلَمُ رَجُلٌ حَدَّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ وَلَا يَكُونُ إِمَامًا أَبَدًا وَهُوَ يُحَدِّثُ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
🔸حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا :
"ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دینے والا غلطی سے محفوظ نہیں رہ سکتا،
اور نہ ہی ایسا شخص کبھی فن حدیث میں امام ہو سکتا ہے"_
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.213 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 " جو حضرات فیسبوک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سے حدیث کے متعلق پوسٹ پوسٹر وغیرہ بغیر کسی تحقیق کے یہاں سے وہاں Share کرتے رہتے ہیں انہیں احتیاط کرنا چاہیے کہیں وہ اس وعید میں شامل نہ ہو جائیں "_
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➊
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
🌹سُنی سنائی باتیں ناقابلِ اعتبار 🌹
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ کافی ہے وہ ہر سُنی ہوئی بات بیان کر دے"_
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ لَا يَكُونُ الرَّجُلُ إِمَامًا يُقْتَدَى بِهِ حَتَّى يُمْسِكَ عَنْ بَعْضِ مَا سَمِعَ
🔹حضرت عبد الرحمن بن مہدی نے بیان فرمایا :
"جب انسان سنی سنائی باتوں سے اپنی زبان کو نہیں روکے گا وہ لائقِ اقتداء امام نہیں ہو گا"_
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنِّي أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ قَالَ فَفَعَلْتُ فَقَالَ لِيَ احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ
🔸سفیان بن حسن بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میرا خیال ہے تم علم قرآن کے ماہر ہو،
میرے سامنے قرآن کریم کی کسی صورت کی تفسیر بیان کرو تاکہ مجھے تمہارے علم کا اندازہ ہو۔
سفیان نے کہا میں نے ان کی حکم کی تعمیل کی،
ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ نا قابل اعتبار احادیث بیان نہ کرنا کیونکہ ایسا کرنے والا شخص خود بھی اپنی نظروں میں حقیر ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں "-
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.214 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 اللہ اکبر ان آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے ہمارے اسلاف روایات کو قبول کرنے میں کتنا احتیاط فرمایا کرتے تھے اور سند کی اہمیت پر کتنا زور دیتے تھے، اور ہر سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے ۔
اور آج کل خطبوں کا کاروبار ہی ناقابلِ اعتبار روایات بیان کرنے سے ہی چل رہا ہے ،
اور عوام بھی انہیں خطیبوں سے سن سن کر ناقابل اعتبار روایات بیان کرتے ہیں اور Share کرتے ہیں جب ان سے کہا جائے یہ روایت درست نہیں تو کہتے ہیں فلاں خطیب صاحب نے بیان کی ہے ۔
حالانکہ خطیب صاحب خود ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں تو ان کی بیان کردہ روایت کا کیا حال ہوگا ۔
احتیاط کرنا چاہیے علم قابل اعتماد علماء سے ہی حاصل کرنا چاہیے -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➋
شیخ المحدثین امام مسلم بن حجاج علیہ الرحمہ (204-261ھ) صحیح مسلم شریف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
باب النهي عن الحديث بكل ما سمع
(بلا تحقیق حدیث بیان کرنے کی ممانعت)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنْ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
▪️"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ کافی ہے وہ ہر سُنی ہوئی بات بیان کر دے"_
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ لَا يَكُونُ الرَّجُلُ إِمَامًا يُقْتَدَى بِهِ حَتَّى يُمْسِكَ عَنْ بَعْضِ مَا سَمِعَ
🔹حضرت عبد الرحمن بن مہدی نے بیان فرمایا :
"جب انسان سنی سنائی باتوں سے اپنی زبان کو نہیں روکے گا وہ لائقِ اقتداء امام نہیں ہو گا"_
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنِّي أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ قَالَ فَفَعَلْتُ فَقَالَ لِيَ احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ
🔸سفیان بن حسن بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میرا خیال ہے تم علم قرآن کے ماہر ہو،
میرے سامنے قرآن کریم کی کسی صورت کی تفسیر بیان کرو تاکہ مجھے تمہارے علم کا اندازہ ہو۔
سفیان نے کہا میں نے ان کی حکم کی تعمیل کی،
ایاس بن معاویہ نے کہا کہ میری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ نا قابل اعتبار احادیث بیان نہ کرنا کیونکہ ایسا کرنے والا شخص خود بھی اپنی نظروں میں حقیر ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں "-
•[شرح صحیح مسلم ج.1 ص.214 :علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ]
📌 اللہ اکبر ان آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے ہمارے اسلاف روایات کو قبول کرنے میں کتنا احتیاط فرمایا کرتے تھے اور سند کی اہمیت پر کتنا زور دیتے تھے، اور ہر سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے ۔
اور آج کل خطبوں کا کاروبار ہی ناقابلِ اعتبار روایات بیان کرنے سے ہی چل رہا ہے ،
اور عوام بھی انہیں خطیبوں سے سن سن کر ناقابل اعتبار روایات بیان کرتے ہیں اور Share کرتے ہیں جب ان سے کہا جائے یہ روایت درست نہیں تو کہتے ہیں فلاں خطیب صاحب نے بیان کی ہے ۔
حالانکہ خطیب صاحب خود ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں تو ان کی بیان کردہ روایت کا کیا حال ہوگا ۔
احتیاط کرنا چاہیے علم قابل اعتماد علماء سے ہی حاصل کرنا چاہیے -
#علم_حدیث
#علوم_الحدیث
➋