🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سردی Sardi ٹھنڈی
3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضور فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مفتی جلال الدین احمد ۔لقب: فقیہِ ملت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی جلال الدین احمد بن جان محمد بن عبدالرحیم بن غلام رسول بن ضیاء الدین بن محمد سالک بن محمد صادق بن عبد القادر بن مراد علی ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ (غَفَرَ اللهُ لَھُمۡ وَ لِسَائِرِ الۡمُسۡلِمِیۡنَ (اللہ عزوجل ان کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے ـ آمینۡ)

آپ کا تعلق ایک علمی و دیندار گھرانے سے تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1352ھ، مطابق 1933ء کو ضلع "بستی" کی مشہور آبادی اوجھا گنج میں ہوئی، جو شہر بستی سے بیس کلو میٹر مغرب (پچھم) فیض آباد روڈ سے دو میل جنوب میں واقع ہے ۔

تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں مولانا حافظ زکریا سے ناظرہ قرآنِ مجید مکمل کیا اور پھر حفظ کا شوق ہوا تو تین سال میں قرآن مجید ساڑھے دس سال کی چھوٹی سی عمر میں حفظ مکمل کر لیا۔پیر زادہ مولانا عبد الباری صاحب اور مولانا عبد الرؤف صاحب سے فارسی کی چھوٹی بڑی بارہ کتب پڑھیں اور عربی کی ابتدائی تعلیم بھی انہیں سے حاصل کی ۔

مزید حصولِ علم کے لیۓ "مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم" میں رئیس المتکلمین ملک التحریر حضرت علامہ ارشد القادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اٹھارہ سال کی عمر میں 24 شعبان المعظم 1317ھ مطابق 19 مئی 1952ء کو سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔

آپ علیہ‌الرحمہ فرماتے ہیں:
وقت کی قدر کی، اسے ضائع نہ کیا۔ درسی کتابوں کی شروح و حواشی سے گہرا مطالعہ کرنے کے بعد پڑھایا، اساتذہ اور والدین کو خوش رکھا، ان کی خدمتیں کیں، ان سے دعائیں لیں اور یقین ہو گیا کہ حقیقت میں علم حاصل کرنے کا وقت فراغت کے بعد ہے اور زمانۂ طالبِ علمی میں صرف علم حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے تو خدائے تعالیٰ نے مجھے اس منزل پر پہنچا دیا جس کا کبھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ فلله الحمد ۔

شرفِ بیعت:
آپ کو زمانۂ طالب علمی سے ہی حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی صاحب اعظمی قدس سرہ العزیز سے گہری عقیدت تھی، اور جب یہ معلوم ہوا کہ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان کے خلیفہ ہیں تو آپ کی عقیدت اور زیادہ ہو گئی، چنانچہ 29 جمادی الاولی 1378ھ مطابق 1948ء کو حضور صدر الشریعہ سے مرید ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو گئے ۔

سیرت و خصائص:
محسن اہل سنت، فقیہ ملت، فقیہ العصر، مناظرِ اعظم، مدرس اکمل، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ اپنے وقت کی ایک عظیم اور جامع شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی تصنیفی، تدریسی، دینی، ملی، علمی اور تقریری خدمات اور بِالخصوص دینی مدارس کا قیام جو مسلک حق اور دینِ اسلام کے لئے روح کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی زندگی کے ایسے شاندار کارنامے ہیں جن پر اہلسنت آپ کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے ۔

مدارس یقیناً ایک قلعے کی حیثیت رکھتے ہیں، مدارس کا اثر مستقل اور دیر پا ہوتا ہے ۔ جس علاقے میں مدرسہ ہوگا وہاں کے لوگوں کا اور ان کی نسلوں کا ایمان محفوظ رہےگا ۔ بہت سے علاقے ہمارے مشاہدے میں ہیں کہ وہاں بدمذہبوں نے مدرسے کھولے اور پوری سنی آبادی کو بدمذہب بنا دیا ۔ حضرت فقیہ ملت فرماتے ہیں: "مذہب اہل سنت کی تبلیغ، مسلک اعلیٰ حضرت کی ترویج اور ضلع بستی و گونڈہ کی بڑھتی ہوئی بد مذہبی کی روک تھام کے لیے حضرت شاہ محمد یار علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت شیر بیشۂ اہل سنت قدس سرہ جیسے ساحر البیان مقرر اور مناظر کو ہمراہ لے کر بہت سے دیہاتوں کا دورہ فرمایا جن کی تقریر و مناظرے نے پورے علاقہ میں دھوم مچا دی اور اہل سنت میں نئی روح ڈال دی لیکن چونکہ تعلیم کے مقابلہ میں تقریر و مناظرہ کا اثر زیادہ دیر پا نہیں ہوتا اس لیے حضرت شعیب الاولیاء کی عین تمنا تھی کہ اس علاقے میں اہل سنت کے مدارس بنائے جائیں اور ان کے تعلیمی معیار کو اعلیٰ کیا جائے تاکہ تعلیم خوب عام ہو جائے ۔آپ اپنے تمام مریدین و معتقدین کو مدارس کی مدد کی تلقین فرماتے تھے ۔"
(مقدمہ انوار الحدیث، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) ـ
1