قی، علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مدنی علیہم الرحمۃ) بھی حضور اشرفی میاں سے شرفِ خلافت رکھتے تھے، جس سے متعلّق عبارات چوتھے (بیعت اور اجازت و خلافت) اوردسویں باب (بہن بھائی) میں نقل کی جائیں گی۔
ایك قادر الکلام شاعر:
خطیب العلما حضرت علّامہ مولانا نذیر احمد خجندؔی علیہ الرحمۃ کی سرپرستی میں بمبئی سے ایك ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ كے نام سے بھی نكلتا تھا، اُس میں آپ كے والدِ ماجدحضرت علّامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کاحسبِ ذیل ایک نعتیہ قصیدہ شائع ہوا تھا، جو اُسی ماہ نامے كی سرخی (Heading)كے ساتھ ہدیۂ قارئین کیا جاتا ہے:
’’ذوق شوق
جذباتِ قبلۂ کونین و کعبۂ دارین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، عارف باللہ نجیب رسالت پناہ حضرت مولانا الحاج شاہ محمد عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَظِیْم
الٰہی! نعتِ احمد سے بیاں شیریں زباں تر ہو
سخن مقبول و تکرارِ سخن قندِ مقرر ہو
قریبِ روضۂ اقدس اگر مدفن میسّر ہو
دلِ مضطر کو آغوشِ لحد آغوشِ مادر ہو
اگر خاکِ مدینہ خوبیِ قسمت سے بستر ہو
وہ ہم سے خاکساروں کے لیے پھولوں کی چادر ہو
تِری بوئے محبّت سے دماغِ جاں معطّر ہو
تِری شمعِ تجلّی سے حریمِ دل منوّر ہو
الٰہی! لطف سے تیرے مقدّر یار و یاور ہو
حکیمِ جبہ فرسا ہو رسول اللہ کا در ہو
عیاں ہے شانِ حق، نامِ خدا کیا شان پائی ہے
تمھیں شایاں ہے رمزِ ’مَنْ رَّاٰنِیْ‘ گر زباں پر ہو
تمھارے نام کے صدقے تمھاری شان کے قرباں
نبی اللہ احمد ہو مقدّس ہو مطہر ہو
محمد مصطفیٰ خیر البریّہ رحمتِ عالم
امام الانبیا سیّد شفیعِ روزِ محشر ہو
تمھیں پایا خدا پایا تمھیں دیکھا خدا دیکھا
جمالِ حق نما اپنا دکھا دو تم کہ مظہر ہو
تمھارے دیکھنے والے لحد میں بھی نہ گھبرائیں
وہاں بھی جوشِ الفت سے خیالِ روئے انور ہو
مِری چشم تمنّا شکلِ آئینہ ہوئی حیراں
تمھاری خاکِ پا، یا مصطفیٰ![7] کحل الجواہر ہو
ہماری سجدہ ریزی بھی کبھی تو کام آ جائے
برنگِ نقشِ پا، یا رب! درِ حضرت پہ یہ سر ہو
تِرے کوچے کی مٹّی ہی مجھے اکسیرِ اعظم ہے
الٰہی! زرد رو وہ ہو جسے کچھ خواہشِ زر ہو
تمھارے طالبوں کو تشنہ کامی کا گلہ کیوں ہو
عنایت آپ سے جو ہو وہ جامِ حوضِ کوثر ہو
جہاں کے مال و دولت کو نہ دیکھے آنکھ اُٹھا کر وہ
تمھارے عشق کی دولت سے جس کا دل تونگر ہو
تم اپنے خاکساروں کو نگاہِ مہر سے دیکھو
کہ ذرّہ ذرّہ اُن کی خاک کا خورشیدِ خاور ہو
جمالِ حق نما اپنا دِکھا دو، یا حبیب اللہ!
ہمہ تن چشم ہوں، چشمِ تمنّا اب منوّر ہو
پھروں یوں در بہ در کیوں ہند میں، اے رحمتِ عالم!
مِرا ملجا و ماویٰ یا حرم یا آپ کا در ہو
نسیمِ شہر ِ احمد سے کِھلے[8] یہ غنچۂ خاطر
دلِ شیدا بہ رنگِ بوئے گُل جامہ سے باہر ہو
دِکھایا جلوۂ برقِ تجلّی ایک عالم کو
اگر مومن کے دل میں ہو منافق کی زباں پر ہو
کہاں ہم اور کہاں ’لَا تَقْنَطُوْا‘ یہ فیضِ حضرت ہے
نزولِ رحمتِ حق آپ پر، اے بندہ پرور! ہو
گنہگارانِ اُمّت میں سے مَیں بھی ایک عاصی ہوں
لوائے حمد روزِ حشر مجھ پر سایہ گستر ہو
رسول اللہ! اب مجھ کو مدینے میں بُلا لیجے
کہ ہر دم روضۂ اطہر کا نظّارہ میسّر ہو
حکیمِؔ شیفتہ دردِ جدائی سے تڑپتا ہے
کرم فرما، رسول اللہ! کرم فرما کہ جاں بر ہو
خداوندا! بہ حقِّ شاہِ بطحا احمدِ مُرسل
دمِ آخر زبانِ جؔوش پر اَللّٰہُ اَکْبَر ہو‘‘[9]
اَولادِ امجاد:
آپ کے سات بیٹے اور سات ہی بیٹیاں تھیں۔ سات بیٹوں میں سے مندرج:
ذیل چار فرزندانِ گرامی نے آفاقی شہرت پائی:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا مبلغِ اسلام حضرت علّامہ شاہ احمد مختار صدّیقی، الحاج علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مدنی۔ (علیہم الرحمۃ)
وصالِ مبارک:
آپ کا وصال 3؍ جمادی الاُخری کو ہُوا۔ آپ کے سالِ وصال میں تین روایات نظر سے گزری ہیں: 1322ھ، 1323ھ اور 1324ھ۔
مزارِ مبارك:
نجیبِ مصطفیٰ حضرت علامہ شاہ محمد عبدالحكیم جؔوش صدّیقی علیہ الرحمۃ كی قبرِ مبارك احاطۂ چشتی پہلوان شاہ، میرٹھ (ہندوستان) میں واقع ہے۔[10]
اللہ تبارك و تعالٰی آپ كی مرقدِ مبارك پر، تا صبحِ قیامت اپنی رحمتوں كی بركھا نازل فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ رَحْمَۃٍ لِّلْعَالَمِیْن ﷺ!
ماخوذ:
’’علامہ حاجی محمد بشیر صدّیقی کا سفرِ زندگی‘‘ (ملقب بہ لقبِ تاریخی ’’یک اجل تحریر در حیاتِ بشیر(۲۰۱۷ء)‘‘ از: ندیم احمد نؔدیم نورانی، تاریخ اشاعت: 1438ھ/ 2017ء، شائع کردۂ بزمِ چشتیہ صابریہ، دارالعلوم نعیمیہ، کراچی، باہتمام جمیلِ ملّت حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی ضیائی چشتی صابری۔
[1] ’’حیاتِ اسماعیل‘‘، ص۳۰؛ دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ ۔
[2
ایك قادر الکلام شاعر:
خطیب العلما حضرت علّامہ مولانا نذیر احمد خجندؔی علیہ الرحمۃ کی سرپرستی میں بمبئی سے ایك ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ كے نام سے بھی نكلتا تھا، اُس میں آپ كے والدِ ماجدحضرت علّامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کاحسبِ ذیل ایک نعتیہ قصیدہ شائع ہوا تھا، جو اُسی ماہ نامے كی سرخی (Heading)كے ساتھ ہدیۂ قارئین کیا جاتا ہے:
’’ذوق شوق
جذباتِ قبلۂ کونین و کعبۂ دارین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، عارف باللہ نجیب رسالت پناہ حضرت مولانا الحاج شاہ محمد عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَظِیْم
الٰہی! نعتِ احمد سے بیاں شیریں زباں تر ہو
سخن مقبول و تکرارِ سخن قندِ مقرر ہو
قریبِ روضۂ اقدس اگر مدفن میسّر ہو
دلِ مضطر کو آغوشِ لحد آغوشِ مادر ہو
اگر خاکِ مدینہ خوبیِ قسمت سے بستر ہو
وہ ہم سے خاکساروں کے لیے پھولوں کی چادر ہو
تِری بوئے محبّت سے دماغِ جاں معطّر ہو
تِری شمعِ تجلّی سے حریمِ دل منوّر ہو
الٰہی! لطف سے تیرے مقدّر یار و یاور ہو
حکیمِ جبہ فرسا ہو رسول اللہ کا در ہو
عیاں ہے شانِ حق، نامِ خدا کیا شان پائی ہے
تمھیں شایاں ہے رمزِ ’مَنْ رَّاٰنِیْ‘ گر زباں پر ہو
تمھارے نام کے صدقے تمھاری شان کے قرباں
نبی اللہ احمد ہو مقدّس ہو مطہر ہو
محمد مصطفیٰ خیر البریّہ رحمتِ عالم
امام الانبیا سیّد شفیعِ روزِ محشر ہو
تمھیں پایا خدا پایا تمھیں دیکھا خدا دیکھا
جمالِ حق نما اپنا دکھا دو تم کہ مظہر ہو
تمھارے دیکھنے والے لحد میں بھی نہ گھبرائیں
وہاں بھی جوشِ الفت سے خیالِ روئے انور ہو
مِری چشم تمنّا شکلِ آئینہ ہوئی حیراں
تمھاری خاکِ پا، یا مصطفیٰ![7] کحل الجواہر ہو
ہماری سجدہ ریزی بھی کبھی تو کام آ جائے
برنگِ نقشِ پا، یا رب! درِ حضرت پہ یہ سر ہو
تِرے کوچے کی مٹّی ہی مجھے اکسیرِ اعظم ہے
الٰہی! زرد رو وہ ہو جسے کچھ خواہشِ زر ہو
تمھارے طالبوں کو تشنہ کامی کا گلہ کیوں ہو
عنایت آپ سے جو ہو وہ جامِ حوضِ کوثر ہو
جہاں کے مال و دولت کو نہ دیکھے آنکھ اُٹھا کر وہ
تمھارے عشق کی دولت سے جس کا دل تونگر ہو
تم اپنے خاکساروں کو نگاہِ مہر سے دیکھو
کہ ذرّہ ذرّہ اُن کی خاک کا خورشیدِ خاور ہو
جمالِ حق نما اپنا دِکھا دو، یا حبیب اللہ!
ہمہ تن چشم ہوں، چشمِ تمنّا اب منوّر ہو
پھروں یوں در بہ در کیوں ہند میں، اے رحمتِ عالم!
مِرا ملجا و ماویٰ یا حرم یا آپ کا در ہو
نسیمِ شہر ِ احمد سے کِھلے[8] یہ غنچۂ خاطر
دلِ شیدا بہ رنگِ بوئے گُل جامہ سے باہر ہو
دِکھایا جلوۂ برقِ تجلّی ایک عالم کو
اگر مومن کے دل میں ہو منافق کی زباں پر ہو
کہاں ہم اور کہاں ’لَا تَقْنَطُوْا‘ یہ فیضِ حضرت ہے
نزولِ رحمتِ حق آپ پر، اے بندہ پرور! ہو
گنہگارانِ اُمّت میں سے مَیں بھی ایک عاصی ہوں
لوائے حمد روزِ حشر مجھ پر سایہ گستر ہو
رسول اللہ! اب مجھ کو مدینے میں بُلا لیجے
کہ ہر دم روضۂ اطہر کا نظّارہ میسّر ہو
حکیمِؔ شیفتہ دردِ جدائی سے تڑپتا ہے
کرم فرما، رسول اللہ! کرم فرما کہ جاں بر ہو
خداوندا! بہ حقِّ شاہِ بطحا احمدِ مُرسل
دمِ آخر زبانِ جؔوش پر اَللّٰہُ اَکْبَر ہو‘‘[9]
اَولادِ امجاد:
آپ کے سات بیٹے اور سات ہی بیٹیاں تھیں۔ سات بیٹوں میں سے مندرج:
ذیل چار فرزندانِ گرامی نے آفاقی شہرت پائی:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا مبلغِ اسلام حضرت علّامہ شاہ احمد مختار صدّیقی، الحاج علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مدنی۔ (علیہم الرحمۃ)
وصالِ مبارک:
آپ کا وصال 3؍ جمادی الاُخری کو ہُوا۔ آپ کے سالِ وصال میں تین روایات نظر سے گزری ہیں: 1322ھ، 1323ھ اور 1324ھ۔
مزارِ مبارك:
نجیبِ مصطفیٰ حضرت علامہ شاہ محمد عبدالحكیم جؔوش صدّیقی علیہ الرحمۃ كی قبرِ مبارك احاطۂ چشتی پہلوان شاہ، میرٹھ (ہندوستان) میں واقع ہے۔[10]
اللہ تبارك و تعالٰی آپ كی مرقدِ مبارك پر، تا صبحِ قیامت اپنی رحمتوں كی بركھا نازل فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ رَحْمَۃٍ لِّلْعَالَمِیْن ﷺ!
ماخوذ:
’’علامہ حاجی محمد بشیر صدّیقی کا سفرِ زندگی‘‘ (ملقب بہ لقبِ تاریخی ’’یک اجل تحریر در حیاتِ بشیر(۲۰۱۷ء)‘‘ از: ندیم احمد نؔدیم نورانی، تاریخ اشاعت: 1438ھ/ 2017ء، شائع کردۂ بزمِ چشتیہ صابریہ، دارالعلوم نعیمیہ، کراچی، باہتمام جمیلِ ملّت حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی ضیائی چشتی صابری۔
[1] ’’حیاتِ اسماعیل‘‘، ص۳۰؛ دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ ۔
[2
❤1
] دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ۔
[3] دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ۔
[4] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۳۶۔
[5] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۰۰۔
[6] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۱۰۔
[7] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ میں اِس مقام پر ’’خاکِ پا، یا مصطفیٰ‘‘ کی جگہ ’’خاکِ پایا۔ مصطفیٰ‘‘
تھا۔اگلے شمارے (یعنی ربیع الثانی ۱۳۵۶ھ) میں حضرت علامہ غلام بھیک نیرنگ
کا ایک خط شائع ہوا، جس میں ’’شاہ راہ‘‘ ربیع الاوّل کی چند اغلاط کی نشان دِہی کے ساتھ اُن کی تصحیح بھی کی گئی تھی۔ اُسی کے مطابق یہاں تصحیح کر لی گئی ہے۔ (ندیم نورانی)
[8] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ میں اِس مقام پر ’’کِھلے‘‘ کی جگہ ’’کُھلے‘‘ تھا۔ حسبِ سابق تصحیح کر لی
گئی۔ (ندیم نورانی)
[9] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘، بمبئی، ربیع الاوّل ۱۳۵۶ھ، ص ۳۔
نوٹ: مبلغِ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ نے اپنی تصنیفِ لطیف ’’ذکرِ حبیب ﷺ‘‘ (حصّۂ دوم) کے ابتدائی صفحات میں اِس نعت شریف کے صرف سات منتخب اشعار درج فرمائے ہیں؛ اِس انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ’’ذکرِ حبیب ﷺ‘‘ میں حضرت علامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کے جو کلام شامل فرمائے ہیں، شاید وہ منتخب اشعار پر مشتمل ہوں۔ (ندیم نورانی)
[10] ’’تذكرۂ خانوادۂ علیمیہ، ص۴۱؛ ماہ نامہ ’’پیامِ حرم‘‘ جمدا شاہی (انڈیا) كا مبلغ ِ اسلام نمبر،
مارچ ۲۰۱۵ء، ص 7 اور 89۔
https://scholars.pk/ur/scholar/abdul-hakeem-josh-siddeeqi-najeeb-e-mustafa-shah-muhammad
[3] دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ۔
[4] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۳۶۔
[5] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۰۰۔
[6] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۱۰۔
[7] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ میں اِس مقام پر ’’خاکِ پا، یا مصطفیٰ‘‘ کی جگہ ’’خاکِ پایا۔ مصطفیٰ‘‘
تھا۔اگلے شمارے (یعنی ربیع الثانی ۱۳۵۶ھ) میں حضرت علامہ غلام بھیک نیرنگ
کا ایک خط شائع ہوا، جس میں ’’شاہ راہ‘‘ ربیع الاوّل کی چند اغلاط کی نشان دِہی کے ساتھ اُن کی تصحیح بھی کی گئی تھی۔ اُسی کے مطابق یہاں تصحیح کر لی گئی ہے۔ (ندیم نورانی)
[8] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ میں اِس مقام پر ’’کِھلے‘‘ کی جگہ ’’کُھلے‘‘ تھا۔ حسبِ سابق تصحیح کر لی
گئی۔ (ندیم نورانی)
[9] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘، بمبئی، ربیع الاوّل ۱۳۵۶ھ، ص ۳۔
نوٹ: مبلغِ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ نے اپنی تصنیفِ لطیف ’’ذکرِ حبیب ﷺ‘‘ (حصّۂ دوم) کے ابتدائی صفحات میں اِس نعت شریف کے صرف سات منتخب اشعار درج فرمائے ہیں؛ اِس انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ’’ذکرِ حبیب ﷺ‘‘ میں حضرت علامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کے جو کلام شامل فرمائے ہیں، شاید وہ منتخب اشعار پر مشتمل ہوں۔ (ندیم نورانی)
[10] ’’تذكرۂ خانوادۂ علیمیہ، ص۴۱؛ ماہ نامہ ’’پیامِ حرم‘‘ جمدا شاہی (انڈیا) كا مبلغ ِ اسلام نمبر،
مارچ ۲۰۱۵ء، ص 7 اور 89۔
https://scholars.pk/ur/scholar/abdul-hakeem-josh-siddeeqi-najeeb-e-mustafa-shah-muhammad
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-06-1444 ᴴ | 26-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-06-1444 ᴴ | 27-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1