نےتقویۃ الایمان پراظہارِ ناراضگی فرمایا۔حضرت مولانا شاہ محمد فاخر الہ آبادی قدس سرہٗ فرماتے تھے: کہ جب اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اور سارے جہان کو مشرک و کافر بنانا شروع کیا تو اس وقت حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب آنکھوں سےمعذوراور بہت ضعیف ہوچکے تھے۔ افسوس کے ساتھ فرمایا: کہ میں تو بالکل ضعیف ہوگیا ہوں، آنکھوں سے بھی معذور ہوں، ورنہ اس کتاب اور اس عقیدہ فاسد کا رد بھی تحفہ اثنا عشریہ کی طرح لکھتا کہ لوگ دیکھتے ۔(نورنورچہرے،ص،311)
ابنِ عبدالوہاب اپنوں کی نظرمیں:محمدبن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں ان کےشیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے۔لکھتے ہیں:صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال او رحلال سمجھاکیا۔ان کےقتل کوباعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔ اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا۔ (الشہاب الثاقب،ص،50)
دربار رسالتﷺ میں آپ کی قبولیت:جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا:"قاضی صاحب! بمقتضائے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا۔ الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ واسحاقیہ کا رد پورے طور ہوچکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہوچکی ، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں۔ (ایضاً،ص،313)
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات ،طب،تصوف او ر فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائیں ہیں۔علماء اہلسنت کوان کتب کالازمی مطالعہ کرناچاہئے۔
تاریخِ وصال: 2/جمادی الاخریٰ 1289ھ،مطابق8/اگست1872ء،بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔درگاہِ قادری(بدایوں) میں آرامگاہ ہے۔
نوٹ!سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہل ِباطل کےمقابلہ میں اہل ِحق (اہل ِسنت وجماعت)ماضی قریب میں "بد ایونی"اور "خیر آبادی"کےلقب سے پکارے جاتے تھےاور فی زمانہ امام اہل ِسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے(پاک وہندمیں)اہلِ حق(اہل ِسنت وجماعت)"بریلوی"کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔جیساکہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ،مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپکو"اشعری"ماتریدی"کہتے تھے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت۔نورنورچہرے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-fazal-rasool-badayuni
ابنِ عبدالوہاب اپنوں کی نظرمیں:محمدبن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں ان کےشیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے۔لکھتے ہیں:صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال او رحلال سمجھاکیا۔ان کےقتل کوباعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔ اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا۔ (الشہاب الثاقب،ص،50)
دربار رسالتﷺ میں آپ کی قبولیت:جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا:"قاضی صاحب! بمقتضائے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا۔ الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ واسحاقیہ کا رد پورے طور ہوچکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہوچکی ، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں۔ (ایضاً،ص،313)
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات ،طب،تصوف او ر فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائیں ہیں۔علماء اہلسنت کوان کتب کالازمی مطالعہ کرناچاہئے۔
تاریخِ وصال: 2/جمادی الاخریٰ 1289ھ،مطابق8/اگست1872ء،بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔درگاہِ قادری(بدایوں) میں آرامگاہ ہے۔
نوٹ!سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہل ِباطل کےمقابلہ میں اہل ِحق (اہل ِسنت وجماعت)ماضی قریب میں "بد ایونی"اور "خیر آبادی"کےلقب سے پکارے جاتے تھےاور فی زمانہ امام اہل ِسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے(پاک وہندمیں)اہلِ حق(اہل ِسنت وجماعت)"بریلوی"کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔جیساکہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ،مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپکو"اشعری"ماتریدی"کہتے تھے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت۔نورنورچہرے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-fazal-rasool-badayuni
scholars.pk
Shah Fazal Rasool Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1444 ᴴ | 25-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1444 ᴴ | 26-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-06-1444 ᴴ | 26-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1444 ᴴ | 26-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1