حضرت مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی:مفتی عبدالجلیل ۔لقب: فقیہ العصر،رضوی،بہاری۔والدکااسم گرامی:مولاناسخاوت علی۔آپ کےوالدماجدمولاناسخاوت علی علیہ الرحمہ بہترین فارسی داں اور اپنے زمانے کےمشہور میلاد خواں تھے۔
تاریخ ِولادت:حضرت مولانا عبدالجلیل رضوی15/شوال المکرم 1352ھ،مطابق/ یکم فروری 1934ء کو ایک اعلیٰ گھرانے میں پیداہوٖئے۔
تحصیل علم:مولانا مفتی عبدالجلیل جب سخن آموزی کی منزل عبور کرچکے تو اپنے والد گرامی سے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کر کے ابتدائی تعلیم تا قرآن شریف کی تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے متعدد مدارس اسلامیہ کا سفر کیا۔ پھر جامعہ نعیمیہ مراد آباد تشریف لے گئے، خصوصیت کے ساتھ مولانا الحاج محمد یونس اشرفی مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری اور مولانا طریق اللہ قادری کے سامنے زانوئے ادب تہہ کر کے فراغت حاصل کی۔مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری کی دور بین نگاہوں نے مولانا عبدالجلیل کی ذہانت و فطانت کا جائزہ لیا اور دور طالب علمی میں دارالافتاء کی ذمہ داری آپ کے دوش ناتواں پر ڈال دی جسے مولانا عبدالجلیل بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ اور زمانۂ طالب علمی کی تربیت آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز اور پوری زندگی مسائل کی جانکاری کے لیے مرجع خلائق بنے رہے۔
بیعت وخلافت : حضور مفتیِ اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضاخان نوری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور15/ربیع الاول 1392ھ میں تمام سلاسل کی خلافت اورعملیات کی اجازت سےنوازا۔آپ کاحلقہ ارادت بہت وسیع ہے۔
سیرت وخصائص: عالمِ جلیل،فاضل ِنبیل،فقیہ العصر،خلیفۂ مفتی اعظم ہند،جامع شریعت وطریقت حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک متحرک شخصیت کےمالک تھے،ہروقت دین کی اشاعت میں کوشاں نظرآتے۔آپ نےدینی مدارس کےذریعے اہل سنت وجماعت کےفروغ میں بڑاکرداراداکیا۔آپ نے1956ءمیں "جامعہ اسلامیہ نوریہ"کی بنیادرکھی تھی،آج الحمدللہ ایک تناوردرخت کی شکل میں موجودہے،اورآپ کاعلمی ورحانی فیضان تقسیم ہورہاہے۔
مولانا عبدالجلیل علیہ الرحمہ میانہ قد، انتہائی حسین تھے اور چہرۂ بارعب کہ بڑے سے بڑے لوگوں پر ان کا ایک دبدبہ طاری رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود چہرے پر ایک مسکراہٹ قائم رہتی، اور اتنی سنجیدگی طاری رہتی کہ لوگ ادب کے دائرے سے باہر جانے کی جرأت نہیں کرتے۔آپ کا اخلاق بڑاوسیع تھا جو بھی ان سے ملاقات کےلیے آیا متاثر ہوئے بغیر نہیں گیا اور ہر کوئی یہی کہتا خواہ بڑا ہو یاچھوٹا اپنا ہو یا پرایا۔فقیہ العصر مفتی عبدلجلیل علیہ الرحمہ ہم سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اہم سے زیادہ کسی دوسرے سے اتنی محبت نہیں کرتے۔اس قدر ہر ایک کے دلوں میں ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور خیالات اتنے بلند کہ مولانا عبدالجلیل جو فرماتے سننے والے یہ سمجھتے کہ گویا یہ میرے دل کی بات ہے۔
مولانا مفتی عبدالجلیل علیہ الرحمہ کو کتابوں کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور نظر بڑی محققانہ تھی کتابوں کی کثیر تعداد ان کی ذاتی ملکیت میں تھی۔ مطالعہ کتب کا حال ایسا کہ کوئی مسئلہ در پیش ہوا ، تو تحقیق کا دروازہ کھلاہوتا کتابوں کا انبار سامنے ہوتا اور مسائل حل ہوتے ہر مسئلہ پر باریک نظر تھی۔ دلائل سامنے لاتے اور تشنگان علم وفن کی خوب خوب سیر یابی ہوتی، عربی وفارسی کی بہترین صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ریاضی میں کافی ادراک عطا فرمایا تھا۔ ریاضی کا وہ مسئلہ جس کاحل ہونا ہر ایک سے مشکل ہوتا آپ اسے منٹوں میں حل کردیتےتھے۔
ہرجگہ شریعت مطہرہ کا خیال مقدم ہوتا،اورکوئی بات جو شریعت کے خلاف ہو برداشت نہیں کرتے تھے اور ہم عصر علماء میں اپنے زہد وتقویٰ کےلحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔اپنےپرائے آپ کےزہدوتقویٰ سےمتأثرتھے۔آپ جہاں بھی تشریف لےجاتےنمازکی امامت آپ کرتےتھے۔آپ کی موجودگی میں کوئی بھی آگےنہیں بڑھتاتھا۔حضورمفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ کی دینی خدمات کوقدرکی نگاہ سےدیکھتےتھے۔تقریباً آپ چوبیس دینی مدارس کی سرپرستی فرماتےتھے۔اسی طرح اہل سنت کی کئی تنظیموں کی سرپرستی،ومعاونت ،درس وتدریس،افتاء ،وعظ ونصیحت،مریدین کاتزکیہ وغیرہ آپ کےاہم مشاغل تھے۔الغرض آپ نےایک عملی زندگی گزاری،اپنےوقت کوصحیح مصرف لاکراللہ جل شانہ اور اس کےحبیبﷺ کی بارگامیں سرخروہوئے۔آپ کی زندگی آج کےنوجوان علماء کےلئے مشعل ِراہ ہے۔
تاریخِ وصال: اس تاریخ ساز شخصیت کا وصال 2/جمادی الثانی 1409ھ،مطابق 11/جنوری 1989ء بروز جمعرات شب 9بج کر 40 منٹ پر ہوا۔
ماخذومراجع: مفتیِ اعظم ہند اور ان کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-jaleel-rizvi-bihari
نام ونسب: اسمِ گرامی:مفتی عبدالجلیل ۔لقب: فقیہ العصر،رضوی،بہاری۔والدکااسم گرامی:مولاناسخاوت علی۔آپ کےوالدماجدمولاناسخاوت علی علیہ الرحمہ بہترین فارسی داں اور اپنے زمانے کےمشہور میلاد خواں تھے۔
تاریخ ِولادت:حضرت مولانا عبدالجلیل رضوی15/شوال المکرم 1352ھ،مطابق/ یکم فروری 1934ء کو ایک اعلیٰ گھرانے میں پیداہوٖئے۔
تحصیل علم:مولانا مفتی عبدالجلیل جب سخن آموزی کی منزل عبور کرچکے تو اپنے والد گرامی سے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کر کے ابتدائی تعلیم تا قرآن شریف کی تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے متعدد مدارس اسلامیہ کا سفر کیا۔ پھر جامعہ نعیمیہ مراد آباد تشریف لے گئے، خصوصیت کے ساتھ مولانا الحاج محمد یونس اشرفی مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری اور مولانا طریق اللہ قادری کے سامنے زانوئے ادب تہہ کر کے فراغت حاصل کی۔مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری کی دور بین نگاہوں نے مولانا عبدالجلیل کی ذہانت و فطانت کا جائزہ لیا اور دور طالب علمی میں دارالافتاء کی ذمہ داری آپ کے دوش ناتواں پر ڈال دی جسے مولانا عبدالجلیل بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ اور زمانۂ طالب علمی کی تربیت آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز اور پوری زندگی مسائل کی جانکاری کے لیے مرجع خلائق بنے رہے۔
بیعت وخلافت : حضور مفتیِ اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضاخان نوری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور15/ربیع الاول 1392ھ میں تمام سلاسل کی خلافت اورعملیات کی اجازت سےنوازا۔آپ کاحلقہ ارادت بہت وسیع ہے۔
سیرت وخصائص: عالمِ جلیل،فاضل ِنبیل،فقیہ العصر،خلیفۂ مفتی اعظم ہند،جامع شریعت وطریقت حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک متحرک شخصیت کےمالک تھے،ہروقت دین کی اشاعت میں کوشاں نظرآتے۔آپ نےدینی مدارس کےذریعے اہل سنت وجماعت کےفروغ میں بڑاکرداراداکیا۔آپ نے1956ءمیں "جامعہ اسلامیہ نوریہ"کی بنیادرکھی تھی،آج الحمدللہ ایک تناوردرخت کی شکل میں موجودہے،اورآپ کاعلمی ورحانی فیضان تقسیم ہورہاہے۔
مولانا عبدالجلیل علیہ الرحمہ میانہ قد، انتہائی حسین تھے اور چہرۂ بارعب کہ بڑے سے بڑے لوگوں پر ان کا ایک دبدبہ طاری رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود چہرے پر ایک مسکراہٹ قائم رہتی، اور اتنی سنجیدگی طاری رہتی کہ لوگ ادب کے دائرے سے باہر جانے کی جرأت نہیں کرتے۔آپ کا اخلاق بڑاوسیع تھا جو بھی ان سے ملاقات کےلیے آیا متاثر ہوئے بغیر نہیں گیا اور ہر کوئی یہی کہتا خواہ بڑا ہو یاچھوٹا اپنا ہو یا پرایا۔فقیہ العصر مفتی عبدلجلیل علیہ الرحمہ ہم سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اہم سے زیادہ کسی دوسرے سے اتنی محبت نہیں کرتے۔اس قدر ہر ایک کے دلوں میں ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور خیالات اتنے بلند کہ مولانا عبدالجلیل جو فرماتے سننے والے یہ سمجھتے کہ گویا یہ میرے دل کی بات ہے۔
مولانا مفتی عبدالجلیل علیہ الرحمہ کو کتابوں کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور نظر بڑی محققانہ تھی کتابوں کی کثیر تعداد ان کی ذاتی ملکیت میں تھی۔ مطالعہ کتب کا حال ایسا کہ کوئی مسئلہ در پیش ہوا ، تو تحقیق کا دروازہ کھلاہوتا کتابوں کا انبار سامنے ہوتا اور مسائل حل ہوتے ہر مسئلہ پر باریک نظر تھی۔ دلائل سامنے لاتے اور تشنگان علم وفن کی خوب خوب سیر یابی ہوتی، عربی وفارسی کی بہترین صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ریاضی میں کافی ادراک عطا فرمایا تھا۔ ریاضی کا وہ مسئلہ جس کاحل ہونا ہر ایک سے مشکل ہوتا آپ اسے منٹوں میں حل کردیتےتھے۔
ہرجگہ شریعت مطہرہ کا خیال مقدم ہوتا،اورکوئی بات جو شریعت کے خلاف ہو برداشت نہیں کرتے تھے اور ہم عصر علماء میں اپنے زہد وتقویٰ کےلحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔اپنےپرائے آپ کےزہدوتقویٰ سےمتأثرتھے۔آپ جہاں بھی تشریف لےجاتےنمازکی امامت آپ کرتےتھے۔آپ کی موجودگی میں کوئی بھی آگےنہیں بڑھتاتھا۔حضورمفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ کی دینی خدمات کوقدرکی نگاہ سےدیکھتےتھے۔تقریباً آپ چوبیس دینی مدارس کی سرپرستی فرماتےتھے۔اسی طرح اہل سنت کی کئی تنظیموں کی سرپرستی،ومعاونت ،درس وتدریس،افتاء ،وعظ ونصیحت،مریدین کاتزکیہ وغیرہ آپ کےاہم مشاغل تھے۔الغرض آپ نےایک عملی زندگی گزاری،اپنےوقت کوصحیح مصرف لاکراللہ جل شانہ اور اس کےحبیبﷺ کی بارگامیں سرخروہوئے۔آپ کی زندگی آج کےنوجوان علماء کےلئے مشعل ِراہ ہے۔
تاریخِ وصال: اس تاریخ ساز شخصیت کا وصال 2/جمادی الثانی 1409ھ،مطابق 11/جنوری 1989ء بروز جمعرات شب 9بج کر 40 منٹ پر ہوا۔
ماخذومراجع: مفتیِ اعظم ہند اور ان کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-jaleel-rizvi-bihari
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Abdul Jaleel Rizvi Bihari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ قاری محبوب رضا رحمہ اللہ علیہ
ہماری نئی نسل سے اکثر نے حضرت قاری محبوب رضا خان علیہ الرحمہ کا نام اور چند ایک واقعات سنے ہونگے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک باوقار اور خود دار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ سے کبھی کسی صاحب ثروت کی تعریف نہیں سنی ۔ ٓپ حضرت صدر الشریعہ رضی الہد عنہ کے ان تلامذہ میں سے ہیں جنہوں نے حضرت کی وصیت کے مطابق بہار شریعت کے باقی حصوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔
آپ قاری ، عالم ، مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ ابتدا میں بہت جلالی رہے لیکن آخر عمر شریف میں کچھ جمال کا بھی ظہور رہا۔
سن 1989 میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب علیہ الرحمۃ کے ساتھ بغداد شریف کی حاضری کی سعادت حاصل فرما کر مدینہ شریف تشریف لائے اور سن ۱۹۹۱ مطابق 1411 ھجری میں آپ کا اس ماہ مبارک کی ۲ تاریخ کو کراچی میں وصال ہوا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-qari-mehboob-raza-khan-barelvi
ہماری نئی نسل سے اکثر نے حضرت قاری محبوب رضا خان علیہ الرحمہ کا نام اور چند ایک واقعات سنے ہونگے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک باوقار اور خود دار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ سے کبھی کسی صاحب ثروت کی تعریف نہیں سنی ۔ ٓپ حضرت صدر الشریعہ رضی الہد عنہ کے ان تلامذہ میں سے ہیں جنہوں نے حضرت کی وصیت کے مطابق بہار شریعت کے باقی حصوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔
آپ قاری ، عالم ، مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ ابتدا میں بہت جلالی رہے لیکن آخر عمر شریف میں کچھ جمال کا بھی ظہور رہا۔
سن 1989 میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب علیہ الرحمۃ کے ساتھ بغداد شریف کی حاضری کی سعادت حاصل فرما کر مدینہ شریف تشریف لائے اور سن ۱۹۹۱ مطابق 1411 ھجری میں آپ کا اس ماہ مبارک کی ۲ تاریخ کو کراچی میں وصال ہوا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-qari-mehboob-raza-khan-barelvi
❤1
سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:اسمِ گرامی:حضرت شاہ فضلِ رسول۔لقب:سیف اللہ المسلول،معین الحق ۔حضرت شاہ آلِ احمداچھےمیاں رحمہ اللہ تعالٰی کے ارشاد کے مطابق آپ کا نام فضلِ رسول رکھا گیا ۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے:حضرت شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق حضرت شاہ عبد المجید بد ایونی،بن شاہ عبد الحمید بدایونی۔علیہم الرحمہ۔آپ کاسلسلہ نسب والدِ ماجد کی طرف سے جامع القرآن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ تک اور والدہ ماجدہ کی طرف سے رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تک پہنچتا ہے۔
تاریخ ِولادت: آپ کی ولادت باسعادت ماہِ صفر المظفر 1213ھ،مطابق1798ءکوبدایوں(انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:صرف و نحوکی ابتدائی تعلیم جدا مجد اور والد ماجد سے حاصل کی۔ بارہ برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاپیادہ لکھنؤ کا سفر کیا اور فرنگی محل لکھنؤ میں بحر العلوم قدس سرہ کے جلیل القدر شاگرد مولانا نور الحق قدس سرہ (متوفی 1338ھ)کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کرلی ۔حکیم ببر علی موہانی رحمہ اللہ تعالٰی سے فنِ طب کی تکمیل کی۔
بیعت وخلافت:آپ والدِ گرامی عین الحق شاہ عبد المجید بد ایونی کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے۔انہوں نےتمام سلاسل میں اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی۔درگاہِ غوثیہ کےنقیب الاشراف حضرت سید علی نےآپ کواجازت وخلافت مرحمت فرمائی۔
سیرت وخصائص:جامع المنقولات والمعقولات،جامع الشریعت والطریقت،امام اہلسنت،حامیِ سنت،ماحیِ بدعت،غیظ المنافقین،مہلک الوہابیین،معین الحق والدین،محسن الاسلام والمسلمین،سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضل رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ معقول و منقول کے امام اور شریعت و طریقت کے شیخِ کامل تھے۔ بےحساب افرادآپ سے فیض یاب ہوئے۔آپ نے اپنے دورمیں نمایاں طور پر احقاقِ حق کا فریضہ ادا کیا ۔ بے شمار سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ فرمایا اور لاتعداد افراد کو راہِ راست دکھائی۔مولانا کی ذات والاصفات مرجع انام تھی، ان کے پاس کوئی علاج معالجے کے لیے آتا اور کوئی مسائلِ شریعت دریافت کرنے حاضر ہوتا۔ کوئی ظاہری علوم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے شرفِ باریابی حاصل کرتا، توکوئی باطنی علوم کے عقدے حل کرانے کی غرض سے دامِن عقیدت و اکرتا۔
غرض و ہ علم و فضل کے نیر اعظم اور شریعت و طریقت کے سنگم تھےجہاں سے علم و عرفان کے چشمے پھوٹتے تھے۔ وہ ایک شمع انجمن تھے، جن سےہرشخص اپنے ظرف اور ضرورت کے مطابق کسبِ ضیاء کرتا تھا۔ حرمین شریفین کی زیارت سےمستفیض ہوئے،اورخوب ریاضتیں کیں:مولوی محمد رضی الدین بدایونی لکھتے ہیں:"جو کچھ ریاضتیں آپ نے ان اماکنِ متبرکہ میں ادا فرمائیں۔ بجز قدمءاولیاء کرام کے دوسرے سے مسموع نہ ہوئیں۔ حرمین شریفین کی راہ میں پیادہ سفر اور یتیموں مسکینوں کے آرام پہنچانے میں آپ نے ہرقسم کی تکلیف گوارا کی"۔(نورنورچہرے،ص،299)
ردوہابیہ: حضرت شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزری۔اس وقت "فتنۂ وہابیہ "نیانیاظاہرہواتھا،اورمولوی اسمعیل دہلوی کی "تفویۃ الایمان"کےذریعے ہندوستان میں اس فرقہ ضالہ کابیج بویاجارہاتھا۔وہابی خذلھم اللہ تعالی سرعام انبیاءِ کرام اوراولیاءعظام کی توہین کرتےتھے۔اس وقت ہندوستان میں آپ ہی کی ذات گرامی تھی جس نےاس فتنےکاسدباب کیا۔ہرجگہ ان کاتعاقب کیا۔
آپ فرماتے ہیں:"میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کررہاتھا۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدنظرتک کتاب پرکتاب نظرآتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہواکہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر شیاطینِ وہابیہ کا قلع قمع کردو۔آپنے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتاب مستطاب "بوارقِ محمدیہ" تالیف فرمائی۔"(ایضاً،203)
حضرت شاہ فضل رسول قادری علیہ الرحمہ نےمولوی اسمٰعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کوقریب سےدیکھا۔ ان کےعقائداورعزائم کابنظرِ غائرجائزہ لیا۔ ان کےطورو طریق کوبخوبی جانچا اور پھر ضمیر کی آواز کو بلاکم و کاست تحریر کردیا۔ فرماتے ہیں:"فاحشہ رنڈیوں کی بھی پیش کش (نذر)لینے میں تامل نہ تھا، یہاں تک کہ جو فرنگیوں کے گھروں میں تھیں۔ چناں چہ بنارس کا ریذیڈنٹ اگنسن بروک نام، اس کے گھر میں ایک فاحشہ تھی، بڑی اختیار والی اور صاحبِ مقدور مرید ہوئی اور دس ہزار روپے نذرپیش کیے اور اس کے مرید ہونے سے ریذیڈنٹ نے بہت خاطرداری کی کہ سید صاحب نے اس کو اپنی بیٹی فرمایا تھا، راقم (حضرت شاہ فضل رسول)بھی وہاں موجود تھا"۔(سیف الجبار،ص،73)
مولوی اسمٰعیل دہلوی کےبارےمیں امام المحدثین کی رائے: امام المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ
نام ونسب:اسمِ گرامی:حضرت شاہ فضلِ رسول۔لقب:سیف اللہ المسلول،معین الحق ۔حضرت شاہ آلِ احمداچھےمیاں رحمہ اللہ تعالٰی کے ارشاد کے مطابق آپ کا نام فضلِ رسول رکھا گیا ۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے:حضرت شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق حضرت شاہ عبد المجید بد ایونی،بن شاہ عبد الحمید بدایونی۔علیہم الرحمہ۔آپ کاسلسلہ نسب والدِ ماجد کی طرف سے جامع القرآن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ تک اور والدہ ماجدہ کی طرف سے رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تک پہنچتا ہے۔
تاریخ ِولادت: آپ کی ولادت باسعادت ماہِ صفر المظفر 1213ھ،مطابق1798ءکوبدایوں(انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:صرف و نحوکی ابتدائی تعلیم جدا مجد اور والد ماجد سے حاصل کی۔ بارہ برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاپیادہ لکھنؤ کا سفر کیا اور فرنگی محل لکھنؤ میں بحر العلوم قدس سرہ کے جلیل القدر شاگرد مولانا نور الحق قدس سرہ (متوفی 1338ھ)کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کرلی ۔حکیم ببر علی موہانی رحمہ اللہ تعالٰی سے فنِ طب کی تکمیل کی۔
بیعت وخلافت:آپ والدِ گرامی عین الحق شاہ عبد المجید بد ایونی کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے۔انہوں نےتمام سلاسل میں اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی۔درگاہِ غوثیہ کےنقیب الاشراف حضرت سید علی نےآپ کواجازت وخلافت مرحمت فرمائی۔
سیرت وخصائص:جامع المنقولات والمعقولات،جامع الشریعت والطریقت،امام اہلسنت،حامیِ سنت،ماحیِ بدعت،غیظ المنافقین،مہلک الوہابیین،معین الحق والدین،محسن الاسلام والمسلمین،سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضل رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ معقول و منقول کے امام اور شریعت و طریقت کے شیخِ کامل تھے۔ بےحساب افرادآپ سے فیض یاب ہوئے۔آپ نے اپنے دورمیں نمایاں طور پر احقاقِ حق کا فریضہ ادا کیا ۔ بے شمار سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ فرمایا اور لاتعداد افراد کو راہِ راست دکھائی۔مولانا کی ذات والاصفات مرجع انام تھی، ان کے پاس کوئی علاج معالجے کے لیے آتا اور کوئی مسائلِ شریعت دریافت کرنے حاضر ہوتا۔ کوئی ظاہری علوم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے شرفِ باریابی حاصل کرتا، توکوئی باطنی علوم کے عقدے حل کرانے کی غرض سے دامِن عقیدت و اکرتا۔
غرض و ہ علم و فضل کے نیر اعظم اور شریعت و طریقت کے سنگم تھےجہاں سے علم و عرفان کے چشمے پھوٹتے تھے۔ وہ ایک شمع انجمن تھے، جن سےہرشخص اپنے ظرف اور ضرورت کے مطابق کسبِ ضیاء کرتا تھا۔ حرمین شریفین کی زیارت سےمستفیض ہوئے،اورخوب ریاضتیں کیں:مولوی محمد رضی الدین بدایونی لکھتے ہیں:"جو کچھ ریاضتیں آپ نے ان اماکنِ متبرکہ میں ادا فرمائیں۔ بجز قدمءاولیاء کرام کے دوسرے سے مسموع نہ ہوئیں۔ حرمین شریفین کی راہ میں پیادہ سفر اور یتیموں مسکینوں کے آرام پہنچانے میں آپ نے ہرقسم کی تکلیف گوارا کی"۔(نورنورچہرے،ص،299)
ردوہابیہ: حضرت شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزری۔اس وقت "فتنۂ وہابیہ "نیانیاظاہرہواتھا،اورمولوی اسمعیل دہلوی کی "تفویۃ الایمان"کےذریعے ہندوستان میں اس فرقہ ضالہ کابیج بویاجارہاتھا۔وہابی خذلھم اللہ تعالی سرعام انبیاءِ کرام اوراولیاءعظام کی توہین کرتےتھے۔اس وقت ہندوستان میں آپ ہی کی ذات گرامی تھی جس نےاس فتنےکاسدباب کیا۔ہرجگہ ان کاتعاقب کیا۔
آپ فرماتے ہیں:"میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کررہاتھا۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدنظرتک کتاب پرکتاب نظرآتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہواکہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر شیاطینِ وہابیہ کا قلع قمع کردو۔آپنے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتاب مستطاب "بوارقِ محمدیہ" تالیف فرمائی۔"(ایضاً،203)
حضرت شاہ فضل رسول قادری علیہ الرحمہ نےمولوی اسمٰعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کوقریب سےدیکھا۔ ان کےعقائداورعزائم کابنظرِ غائرجائزہ لیا۔ ان کےطورو طریق کوبخوبی جانچا اور پھر ضمیر کی آواز کو بلاکم و کاست تحریر کردیا۔ فرماتے ہیں:"فاحشہ رنڈیوں کی بھی پیش کش (نذر)لینے میں تامل نہ تھا، یہاں تک کہ جو فرنگیوں کے گھروں میں تھیں۔ چناں چہ بنارس کا ریذیڈنٹ اگنسن بروک نام، اس کے گھر میں ایک فاحشہ تھی، بڑی اختیار والی اور صاحبِ مقدور مرید ہوئی اور دس ہزار روپے نذرپیش کیے اور اس کے مرید ہونے سے ریذیڈنٹ نے بہت خاطرداری کی کہ سید صاحب نے اس کو اپنی بیٹی فرمایا تھا، راقم (حضرت شاہ فضل رسول)بھی وہاں موجود تھا"۔(سیف الجبار،ص،73)
مولوی اسمٰعیل دہلوی کےبارےمیں امام المحدثین کی رائے: امام المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ
❤1
نےتقویۃ الایمان پراظہارِ ناراضگی فرمایا۔حضرت مولانا شاہ محمد فاخر الہ آبادی قدس سرہٗ فرماتے تھے: کہ جب اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اور سارے جہان کو مشرک و کافر بنانا شروع کیا تو اس وقت حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب آنکھوں سےمعذوراور بہت ضعیف ہوچکے تھے۔ افسوس کے ساتھ فرمایا: کہ میں تو بالکل ضعیف ہوگیا ہوں، آنکھوں سے بھی معذور ہوں، ورنہ اس کتاب اور اس عقیدہ فاسد کا رد بھی تحفہ اثنا عشریہ کی طرح لکھتا کہ لوگ دیکھتے ۔(نورنورچہرے،ص،311)
ابنِ عبدالوہاب اپنوں کی نظرمیں:محمدبن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں ان کےشیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے۔لکھتے ہیں:صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال او رحلال سمجھاکیا۔ان کےقتل کوباعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔ اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا۔ (الشہاب الثاقب،ص،50)
دربار رسالتﷺ میں آپ کی قبولیت:جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا:"قاضی صاحب! بمقتضائے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا۔ الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ واسحاقیہ کا رد پورے طور ہوچکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہوچکی ، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں۔ (ایضاً،ص،313)
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات ،طب،تصوف او ر فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائیں ہیں۔علماء اہلسنت کوان کتب کالازمی مطالعہ کرناچاہئے۔
تاریخِ وصال: 2/جمادی الاخریٰ 1289ھ،مطابق8/اگست1872ء،بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔درگاہِ قادری(بدایوں) میں آرامگاہ ہے۔
نوٹ!سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہل ِباطل کےمقابلہ میں اہل ِحق (اہل ِسنت وجماعت)ماضی قریب میں "بد ایونی"اور "خیر آبادی"کےلقب سے پکارے جاتے تھےاور فی زمانہ امام اہل ِسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے(پاک وہندمیں)اہلِ حق(اہل ِسنت وجماعت)"بریلوی"کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔جیساکہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ،مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپکو"اشعری"ماتریدی"کہتے تھے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت۔نورنورچہرے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-fazal-rasool-badayuni
ابنِ عبدالوہاب اپنوں کی نظرمیں:محمدبن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں ان کےشیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے۔لکھتے ہیں:صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال او رحلال سمجھاکیا۔ان کےقتل کوباعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔ اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا۔ (الشہاب الثاقب،ص،50)
دربار رسالتﷺ میں آپ کی قبولیت:جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا:"قاضی صاحب! بمقتضائے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا۔ الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ واسحاقیہ کا رد پورے طور ہوچکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہوچکی ، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں۔ (ایضاً،ص،313)
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات ،طب،تصوف او ر فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائیں ہیں۔علماء اہلسنت کوان کتب کالازمی مطالعہ کرناچاہئے۔
تاریخِ وصال: 2/جمادی الاخریٰ 1289ھ،مطابق8/اگست1872ء،بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔درگاہِ قادری(بدایوں) میں آرامگاہ ہے۔
نوٹ!سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہل ِباطل کےمقابلہ میں اہل ِحق (اہل ِسنت وجماعت)ماضی قریب میں "بد ایونی"اور "خیر آبادی"کےلقب سے پکارے جاتے تھےاور فی زمانہ امام اہل ِسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے(پاک وہندمیں)اہلِ حق(اہل ِسنت وجماعت)"بریلوی"کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔جیساکہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ،مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپکو"اشعری"ماتریدی"کہتے تھے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت۔نورنورچہرے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-fazal-rasool-badayuni
scholars.pk
Shah Fazal Rasool Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1444 ᴴ | 25-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1444 ᴴ | 26-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1