🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1444 ᴴ | 25-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-06-1444 ᴴ | 25-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1444 ᴴ | 25-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-06-1444 ᴴ | 25-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ غلام محی الدین المعروف بابوجی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:سید غلا م محی الدین.لقب:بابوجی۔اسی لقب سےمعروف ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت شاہ غلام محی الدین بن شیخ الاسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی بن سید نذر دین شاہ الی آخرہ ۔علیہم الرحمہ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چھبیس واسطوں سے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سینتیس واسطوں سے حضرت سید نا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخ ِ ولادت: ماہِ جمادی الاول/1309ھ،مطابق ماہِ دسمبر/1891ء " گولڑہ شریف"اسلام آبادپاکستان میں پیدا ہوئے۔حضرت پیر سید مہر علی شاہ آپ کی ولادت پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے فرمایا :"مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے گھر میں اللہ اللہ کرنے والی ایک روح آگئی ہے"۔
تحصیل ِعلم: آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے نادر ِزمانہ اساتذہ مقرر کیے گئے ،علم التجوید میں قاری عبد الرحمن جونپوری سے استفادہ کیا اور علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا علامہ محمد غازی علیہ الرحمہ اوروالد ماجد حضرت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ سے کی ۔والدِ گرامی کے فیض ِتوجہ اور روحانی تربیت نے آپ کو جلد ہی مہرِ طریقت وشریعت بنادیا ۔
بیعت وخلافت: علمی و روحانی تکمیل کے بعد حضرت گولڑوی نے آپ کو اجازت و خلافت سے نوازا لیکن آپ کسی کو بیعت کرنے پر تیار نہ ہوئے تا آنکہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:" جوشخص تمہارے ہاتھ پر بیعت کرےگا اس کامیں ذمہ دار ہوں"(مہرِ منیر،ص368)
سیرت وخصائص:خلف الصدق،سیادت پناہ،جان ِایقاں،وکانِ عرفاں،وارث علوم مشائخِ چشتیاں،صاحبِ اوصافِ حمیدہ،لختِ جگرغوث الاسلام والمسلمین حضرت سید شاہ غلام محی الدین گولڑوی المعروف بابوجی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت سیدنا پیرمہرعلی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کےدریکتاتھے۔حضرت بابوجی علیہ الرحمہ پر"الولدسرلابیہ"کی اصطلاح صحیح معنوں میں صادق آتی ہے۔نقاش ازل جل جلالہ نےاس نقش ثانی کی ذات بابرکات کوایک ایساوصف اورروشن آئینہ بنایاجس میں حضرت اعلی گولڑوی کےفضائل وخصائل کی ہوبہوتصویروتمثیل نظروں کےسامنےآگئی۔
حضرت شاہ غلام محی الدین عالم ہونے کے باوجود عارف کی حیثیت سے معروف تھے۔ وہ خاموش مزاج، نام و نمود سے دور، خودی تعلی سے بے گانہ، تسلیم و رضا اور صبر و استقلال کے پیکر تھے۔ 37 سال مسند ارشاد پر جلوہ افروز رہے۔ اس پورے عرصہ میں صدور ،وزراء اور دوسرے اربابِ اقتدار سے دور رہے۔ وہ مشائخ چشت کی راہ کا عملی نمونہ تھے۔ ان کی بارگاہ میں شاہ وگدا دونوں حاضر ہوتے اور وہ سب سے مشائخ چشت جیسا سلوک کرتے۔ ارباب اقتدار کی طرف جھکاؤ اور میلان ان کے ہاں بالکل نہ تھا۔
ہر وقت باوضو رہنا۔ہروقت یادالہی میں مشغول ہونا،اوراپنی خودی کو مٹاکر مخلوقِ خدا کی خدمت میں مشغول اور احد من الناس ہوکر رہنا۔یہ آپ کےاوصاف حمیدہ تھے۔ آپ کے کمالات کے خود اعلیٰ حضرت گولڑوی قدس سرہ معترف تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ اپنے بالاخانہ پر تشریف فرما تھے کہ دور سے راولپنڈی کی طرف سے حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ کو آتے دیکھا اور فرمایا :غلام محی الدین ہے، پھر تبسم کرتے ہوئے فرمایا دیکھو گھوڑا دوڑ رہا ہے مگر اپنے کام (یاد حق) میں برابر مشغول چلا آرہا ہے۔(ایضاً،ص361)
اپنے شب و روز یاد الٰہی اور ذکر وفکر میں گزارتے۔ ہر وقت باوضو رہتے۔ تمام نمازیں باجماعت صفِ اول میں اداکرتے ۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ذکر و تسبیح میں مصروف رہتے۔بڑے سخی اور جواد تھے۔ بیواؤں، یتیموں، فقراءومساکین اور دوستوں کی امداداد و اعانت آپ کا شیوہ تھا۔ دینی مدارس، مذہبی و دینی اداروں، انجمنوں، پریشان حال لوگوں کے کام آنا آپ کا دستورِ حیات تھا اور یہ تمام کام راز دارانہ اور خفیہ طریقوں سے کرتے۔تحریک ختمِ نبوت سے آپ کا موروثی تعلق تھا۔ ختمِ نبوت کا نام لینے اور کام کرنے والوں سے بڑی محبت تھی۔ ان پر خصوصی توجہ فرماتے اور مالی تعاون بھی کرتے تھے۔
آپ کو بچپن ہی سے (Train) کے انجن سےخاصی دلچسپی تھی۔ایک مرتبہ کسی دوست نے انجن سے دلچسپی کا سبب پوچھا تو آ پ نے فرمایا! مجھے اس کی چارادائیں پسند ہیں:1۔ حوصلہ :کہ جتنی زیادہ آگ ڈالو ،اتناہی تیز چلتا ہے۔ 2۔ وفا :جہاں خود جائیگا وہیں تمام ڈبوں کو بلا تمیز ساتھ لے جائے گا۔ 3۔ ایثار :خود جلتا ہے اور دوسروں کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ 4۔ استقامت : ہمیشہ معیّن راستہ (لائن) پر چلتا ہے۔ گویا آپ نے بڑے عام فہم انداز میں مرشد کی خصوصیات بیان فرمادیں۔(ایضا ً،ص366)
آپ کی طبیعت میں انکساری و تواضع کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی۔ بے پناہ شہرت ومقبولیت اور عزت و عظمت کے باوجود "احدمن الناس" ہوکر رہتے۔ آپ اولیاء مستورین میں سے تھے اور حتی الوسع خود کو مخلوق سے مخفی رکھتے۔ بظاہر ایسے لباس میں ہوتے کہ کوئی انہیں اھل اللہ کے گر وہ میں شامل نہ سمجھے۔ آپ کسی سے ایسی بات سننا گوارہ نہ کرتے جس سے اپنے متعلق کرامت یا مافو
نام ونسب: اسم گرامی:سید غلا م محی الدین.لقب:بابوجی۔اسی لقب سےمعروف ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت شاہ غلام محی الدین بن شیخ الاسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی بن سید نذر دین شاہ الی آخرہ ۔علیہم الرحمہ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چھبیس واسطوں سے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سینتیس واسطوں سے حضرت سید نا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخ ِ ولادت: ماہِ جمادی الاول/1309ھ،مطابق ماہِ دسمبر/1891ء " گولڑہ شریف"اسلام آبادپاکستان میں پیدا ہوئے۔حضرت پیر سید مہر علی شاہ آپ کی ولادت پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے فرمایا :"مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے گھر میں اللہ اللہ کرنے والی ایک روح آگئی ہے"۔
تحصیل ِعلم: آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے نادر ِزمانہ اساتذہ مقرر کیے گئے ،علم التجوید میں قاری عبد الرحمن جونپوری سے استفادہ کیا اور علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا علامہ محمد غازی علیہ الرحمہ اوروالد ماجد حضرت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ سے کی ۔والدِ گرامی کے فیض ِتوجہ اور روحانی تربیت نے آپ کو جلد ہی مہرِ طریقت وشریعت بنادیا ۔
بیعت وخلافت: علمی و روحانی تکمیل کے بعد حضرت گولڑوی نے آپ کو اجازت و خلافت سے نوازا لیکن آپ کسی کو بیعت کرنے پر تیار نہ ہوئے تا آنکہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:" جوشخص تمہارے ہاتھ پر بیعت کرےگا اس کامیں ذمہ دار ہوں"(مہرِ منیر،ص368)
سیرت وخصائص:خلف الصدق،سیادت پناہ،جان ِایقاں،وکانِ عرفاں،وارث علوم مشائخِ چشتیاں،صاحبِ اوصافِ حمیدہ،لختِ جگرغوث الاسلام والمسلمین حضرت سید شاہ غلام محی الدین گولڑوی المعروف بابوجی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت سیدنا پیرمہرعلی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کےدریکتاتھے۔حضرت بابوجی علیہ الرحمہ پر"الولدسرلابیہ"کی اصطلاح صحیح معنوں میں صادق آتی ہے۔نقاش ازل جل جلالہ نےاس نقش ثانی کی ذات بابرکات کوایک ایساوصف اورروشن آئینہ بنایاجس میں حضرت اعلی گولڑوی کےفضائل وخصائل کی ہوبہوتصویروتمثیل نظروں کےسامنےآگئی۔
حضرت شاہ غلام محی الدین عالم ہونے کے باوجود عارف کی حیثیت سے معروف تھے۔ وہ خاموش مزاج، نام و نمود سے دور، خودی تعلی سے بے گانہ، تسلیم و رضا اور صبر و استقلال کے پیکر تھے۔ 37 سال مسند ارشاد پر جلوہ افروز رہے۔ اس پورے عرصہ میں صدور ،وزراء اور دوسرے اربابِ اقتدار سے دور رہے۔ وہ مشائخ چشت کی راہ کا عملی نمونہ تھے۔ ان کی بارگاہ میں شاہ وگدا دونوں حاضر ہوتے اور وہ سب سے مشائخ چشت جیسا سلوک کرتے۔ ارباب اقتدار کی طرف جھکاؤ اور میلان ان کے ہاں بالکل نہ تھا۔
ہر وقت باوضو رہنا۔ہروقت یادالہی میں مشغول ہونا،اوراپنی خودی کو مٹاکر مخلوقِ خدا کی خدمت میں مشغول اور احد من الناس ہوکر رہنا۔یہ آپ کےاوصاف حمیدہ تھے۔ آپ کے کمالات کے خود اعلیٰ حضرت گولڑوی قدس سرہ معترف تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ اپنے بالاخانہ پر تشریف فرما تھے کہ دور سے راولپنڈی کی طرف سے حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ کو آتے دیکھا اور فرمایا :غلام محی الدین ہے، پھر تبسم کرتے ہوئے فرمایا دیکھو گھوڑا دوڑ رہا ہے مگر اپنے کام (یاد حق) میں برابر مشغول چلا آرہا ہے۔(ایضاً،ص361)
اپنے شب و روز یاد الٰہی اور ذکر وفکر میں گزارتے۔ ہر وقت باوضو رہتے۔ تمام نمازیں باجماعت صفِ اول میں اداکرتے ۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ذکر و تسبیح میں مصروف رہتے۔بڑے سخی اور جواد تھے۔ بیواؤں، یتیموں، فقراءومساکین اور دوستوں کی امداداد و اعانت آپ کا شیوہ تھا۔ دینی مدارس، مذہبی و دینی اداروں، انجمنوں، پریشان حال لوگوں کے کام آنا آپ کا دستورِ حیات تھا اور یہ تمام کام راز دارانہ اور خفیہ طریقوں سے کرتے۔تحریک ختمِ نبوت سے آپ کا موروثی تعلق تھا۔ ختمِ نبوت کا نام لینے اور کام کرنے والوں سے بڑی محبت تھی۔ ان پر خصوصی توجہ فرماتے اور مالی تعاون بھی کرتے تھے۔
آپ کو بچپن ہی سے (Train) کے انجن سےخاصی دلچسپی تھی۔ایک مرتبہ کسی دوست نے انجن سے دلچسپی کا سبب پوچھا تو آ پ نے فرمایا! مجھے اس کی چارادائیں پسند ہیں:1۔ حوصلہ :کہ جتنی زیادہ آگ ڈالو ،اتناہی تیز چلتا ہے۔ 2۔ وفا :جہاں خود جائیگا وہیں تمام ڈبوں کو بلا تمیز ساتھ لے جائے گا۔ 3۔ ایثار :خود جلتا ہے اور دوسروں کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ 4۔ استقامت : ہمیشہ معیّن راستہ (لائن) پر چلتا ہے۔ گویا آپ نے بڑے عام فہم انداز میں مرشد کی خصوصیات بیان فرمادیں۔(ایضا ً،ص366)
آپ کی طبیعت میں انکساری و تواضع کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی۔ بے پناہ شہرت ومقبولیت اور عزت و عظمت کے باوجود "احدمن الناس" ہوکر رہتے۔ آپ اولیاء مستورین میں سے تھے اور حتی الوسع خود کو مخلوق سے مخفی رکھتے۔ بظاہر ایسے لباس میں ہوتے کہ کوئی انہیں اھل اللہ کے گر وہ میں شامل نہ سمجھے۔ آپ کسی سے ایسی بات سننا گوارہ نہ کرتے جس سے اپنے متعلق کرامت یا مافو
❤1
ق الفطرت چیز کا ترشح ہورہا ہو۔ جب کبھی کوئی مزاج نا آشنا ایسی بات کہتا تو سخت غصّے میں آجاتے، اور پھر آئندہ کوئی بھی ایسی چیز کے ذکر اور بیان کی ہمّت و جرات نہیں کرتاتھا۔
(فی زمانہ علم وعمل سےخالی،اورتسبیح وعمامہ سےمسلح پیروں کی بہتات ہے،ہرکوئی اپنےفضائل وکرامات بیان کرنےمیں لگاہواہے،اورجعلی القابات وکرامات کانہ تھمنےوالاسلسلہ ہے۔جاہل مولوی وواعظ چندسکوں کےبدلےمیں انہیں عوام کےاندر خوب بڑھاچڑھاکرپیش کرتےہیں۔"تومرا حامی بگومن ترا حاجی بگویم"کےمصداق ایک دوسرے کی خوب تعریف و توصیف کی جاتی ہے۔میں ملتان شریف میں ایک عرس میں شریک تھا،اس خانقاہ کاسجادہ صورت سے بھی مسلمان نہیں نظرآتا۔وہاں کےایک مشہورواعظ انہیں ایسےالقابات سےنوازرہےتھے،کہ محسوس یہی ہوتاتھا کہ اس وقت غوث الاعظم ،ظل الہٰی حضرت ہی ہیں۔لاحول ولاقوۃ الاباللہ ۔اکابرین اولیاء کرام تو اپنے آپ کوچھپاتے تھے۔تونسوی غفرلہ۔)
علامہ محمداقبال قلندرلاہوری فرماتے ہیں:
؏:خداوندا!یہ تیرےسادہ دل بندےکدھرجائیں۔۔کہ درویشی بھی عیاری ہےسلطانی بھی عیاری۔
وصال:
2/ جمادی الثانی 1394ھ،مطابق 22/جون 1947ء کو رات گیارہ بجے دارالبقاء میں منتقل ہوگئے،اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے جوار میں آخری آرامگاہ بنی۔
ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر۔تذکرہ اکابر اہلسنت۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-syed-ghulam-mohiuddin-golra-sharif
(فی زمانہ علم وعمل سےخالی،اورتسبیح وعمامہ سےمسلح پیروں کی بہتات ہے،ہرکوئی اپنےفضائل وکرامات بیان کرنےمیں لگاہواہے،اورجعلی القابات وکرامات کانہ تھمنےوالاسلسلہ ہے۔جاہل مولوی وواعظ چندسکوں کےبدلےمیں انہیں عوام کےاندر خوب بڑھاچڑھاکرپیش کرتےہیں۔"تومرا حامی بگومن ترا حاجی بگویم"کےمصداق ایک دوسرے کی خوب تعریف و توصیف کی جاتی ہے۔میں ملتان شریف میں ایک عرس میں شریک تھا،اس خانقاہ کاسجادہ صورت سے بھی مسلمان نہیں نظرآتا۔وہاں کےایک مشہورواعظ انہیں ایسےالقابات سےنوازرہےتھے،کہ محسوس یہی ہوتاتھا کہ اس وقت غوث الاعظم ،ظل الہٰی حضرت ہی ہیں۔لاحول ولاقوۃ الاباللہ ۔اکابرین اولیاء کرام تو اپنے آپ کوچھپاتے تھے۔تونسوی غفرلہ۔)
علامہ محمداقبال قلندرلاہوری فرماتے ہیں:
؏:خداوندا!یہ تیرےسادہ دل بندےکدھرجائیں۔۔کہ درویشی بھی عیاری ہےسلطانی بھی عیاری۔
وصال:
2/ جمادی الثانی 1394ھ،مطابق 22/جون 1947ء کو رات گیارہ بجے دارالبقاء میں منتقل ہوگئے،اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے جوار میں آخری آرامگاہ بنی۔
ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر۔تذکرہ اکابر اہلسنت۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-syed-ghulam-mohiuddin-golra-sharif
scholars.pk
Peer Syed Ghulam Mohiuddin Golra Sharif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی:مفتی عبدالجلیل ۔لقب: فقیہ العصر،رضوی،بہاری۔والدکااسم گرامی:مولاناسخاوت علی۔آپ کےوالدماجدمولاناسخاوت علی علیہ الرحمہ بہترین فارسی داں اور اپنے زمانے کےمشہور میلاد خواں تھے۔
تاریخ ِولادت:حضرت مولانا عبدالجلیل رضوی15/شوال المکرم 1352ھ،مطابق/ یکم فروری 1934ء کو ایک اعلیٰ گھرانے میں پیداہوٖئے۔
تحصیل علم:مولانا مفتی عبدالجلیل جب سخن آموزی کی منزل عبور کرچکے تو اپنے والد گرامی سے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کر کے ابتدائی تعلیم تا قرآن شریف کی تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے متعدد مدارس اسلامیہ کا سفر کیا۔ پھر جامعہ نعیمیہ مراد آباد تشریف لے گئے، خصوصیت کے ساتھ مولانا الحاج محمد یونس اشرفی مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری اور مولانا طریق اللہ قادری کے سامنے زانوئے ادب تہہ کر کے فراغت حاصل کی۔مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری کی دور بین نگاہوں نے مولانا عبدالجلیل کی ذہانت و فطانت کا جائزہ لیا اور دور طالب علمی میں دارالافتاء کی ذمہ داری آپ کے دوش ناتواں پر ڈال دی جسے مولانا عبدالجلیل بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ اور زمانۂ طالب علمی کی تربیت آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز اور پوری زندگی مسائل کی جانکاری کے لیے مرجع خلائق بنے رہے۔
بیعت وخلافت : حضور مفتیِ اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضاخان نوری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور15/ربیع الاول 1392ھ میں تمام سلاسل کی خلافت اورعملیات کی اجازت سےنوازا۔آپ کاحلقہ ارادت بہت وسیع ہے۔
سیرت وخصائص: عالمِ جلیل،فاضل ِنبیل،فقیہ العصر،خلیفۂ مفتی اعظم ہند،جامع شریعت وطریقت حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک متحرک شخصیت کےمالک تھے،ہروقت دین کی اشاعت میں کوشاں نظرآتے۔آپ نےدینی مدارس کےذریعے اہل سنت وجماعت کےفروغ میں بڑاکرداراداکیا۔آپ نے1956ءمیں "جامعہ اسلامیہ نوریہ"کی بنیادرکھی تھی،آج الحمدللہ ایک تناوردرخت کی شکل میں موجودہے،اورآپ کاعلمی ورحانی فیضان تقسیم ہورہاہے۔
مولانا عبدالجلیل علیہ الرحمہ میانہ قد، انتہائی حسین تھے اور چہرۂ بارعب کہ بڑے سے بڑے لوگوں پر ان کا ایک دبدبہ طاری رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود چہرے پر ایک مسکراہٹ قائم رہتی، اور اتنی سنجیدگی طاری رہتی کہ لوگ ادب کے دائرے سے باہر جانے کی جرأت نہیں کرتے۔آپ کا اخلاق بڑاوسیع تھا جو بھی ان سے ملاقات کےلیے آیا متاثر ہوئے بغیر نہیں گیا اور ہر کوئی یہی کہتا خواہ بڑا ہو یاچھوٹا اپنا ہو یا پرایا۔فقیہ العصر مفتی عبدلجلیل علیہ الرحمہ ہم سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اہم سے زیادہ کسی دوسرے سے اتنی محبت نہیں کرتے۔اس قدر ہر ایک کے دلوں میں ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور خیالات اتنے بلند کہ مولانا عبدالجلیل جو فرماتے سننے والے یہ سمجھتے کہ گویا یہ میرے دل کی بات ہے۔
مولانا مفتی عبدالجلیل علیہ الرحمہ کو کتابوں کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور نظر بڑی محققانہ تھی کتابوں کی کثیر تعداد ان کی ذاتی ملکیت میں تھی۔ مطالعہ کتب کا حال ایسا کہ کوئی مسئلہ در پیش ہوا ، تو تحقیق کا دروازہ کھلاہوتا کتابوں کا انبار سامنے ہوتا اور مسائل حل ہوتے ہر مسئلہ پر باریک نظر تھی۔ دلائل سامنے لاتے اور تشنگان علم وفن کی خوب خوب سیر یابی ہوتی، عربی وفارسی کی بہترین صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ریاضی میں کافی ادراک عطا فرمایا تھا۔ ریاضی کا وہ مسئلہ جس کاحل ہونا ہر ایک سے مشکل ہوتا آپ اسے منٹوں میں حل کردیتےتھے۔
ہرجگہ شریعت مطہرہ کا خیال مقدم ہوتا،اورکوئی بات جو شریعت کے خلاف ہو برداشت نہیں کرتے تھے اور ہم عصر علماء میں اپنے زہد وتقویٰ کےلحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔اپنےپرائے آپ کےزہدوتقویٰ سےمتأثرتھے۔آپ جہاں بھی تشریف لےجاتےنمازکی امامت آپ کرتےتھے۔آپ کی موجودگی میں کوئی بھی آگےنہیں بڑھتاتھا۔حضورمفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ کی دینی خدمات کوقدرکی نگاہ سےدیکھتےتھے۔تقریباً آپ چوبیس دینی مدارس کی سرپرستی فرماتےتھے۔اسی طرح اہل سنت کی کئی تنظیموں کی سرپرستی،ومعاونت ،درس وتدریس،افتاء ،وعظ ونصیحت،مریدین کاتزکیہ وغیرہ آپ کےاہم مشاغل تھے۔الغرض آپ نےایک عملی زندگی گزاری،اپنےوقت کوصحیح مصرف لاکراللہ جل شانہ اور اس کےحبیبﷺ کی بارگامیں سرخروہوئے۔آپ کی زندگی آج کےنوجوان علماء کےلئے مشعل ِراہ ہے۔
تاریخِ وصال: اس تاریخ ساز شخصیت کا وصال 2/جمادی الثانی 1409ھ،مطابق 11/جنوری 1989ء بروز جمعرات شب 9بج کر 40 منٹ پر ہوا۔
ماخذومراجع: مفتیِ اعظم ہند اور ان کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-jaleel-rizvi-bihari
نام ونسب: اسمِ گرامی:مفتی عبدالجلیل ۔لقب: فقیہ العصر،رضوی،بہاری۔والدکااسم گرامی:مولاناسخاوت علی۔آپ کےوالدماجدمولاناسخاوت علی علیہ الرحمہ بہترین فارسی داں اور اپنے زمانے کےمشہور میلاد خواں تھے۔
تاریخ ِولادت:حضرت مولانا عبدالجلیل رضوی15/شوال المکرم 1352ھ،مطابق/ یکم فروری 1934ء کو ایک اعلیٰ گھرانے میں پیداہوٖئے۔
تحصیل علم:مولانا مفتی عبدالجلیل جب سخن آموزی کی منزل عبور کرچکے تو اپنے والد گرامی سے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کر کے ابتدائی تعلیم تا قرآن شریف کی تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے متعدد مدارس اسلامیہ کا سفر کیا۔ پھر جامعہ نعیمیہ مراد آباد تشریف لے گئے، خصوصیت کے ساتھ مولانا الحاج محمد یونس اشرفی مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری اور مولانا طریق اللہ قادری کے سامنے زانوئے ادب تہہ کر کے فراغت حاصل کی۔مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری کی دور بین نگاہوں نے مولانا عبدالجلیل کی ذہانت و فطانت کا جائزہ لیا اور دور طالب علمی میں دارالافتاء کی ذمہ داری آپ کے دوش ناتواں پر ڈال دی جسے مولانا عبدالجلیل بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ اور زمانۂ طالب علمی کی تربیت آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز اور پوری زندگی مسائل کی جانکاری کے لیے مرجع خلائق بنے رہے۔
بیعت وخلافت : حضور مفتیِ اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضاخان نوری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور15/ربیع الاول 1392ھ میں تمام سلاسل کی خلافت اورعملیات کی اجازت سےنوازا۔آپ کاحلقہ ارادت بہت وسیع ہے۔
سیرت وخصائص: عالمِ جلیل،فاضل ِنبیل،فقیہ العصر،خلیفۂ مفتی اعظم ہند،جامع شریعت وطریقت حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک متحرک شخصیت کےمالک تھے،ہروقت دین کی اشاعت میں کوشاں نظرآتے۔آپ نےدینی مدارس کےذریعے اہل سنت وجماعت کےفروغ میں بڑاکرداراداکیا۔آپ نے1956ءمیں "جامعہ اسلامیہ نوریہ"کی بنیادرکھی تھی،آج الحمدللہ ایک تناوردرخت کی شکل میں موجودہے،اورآپ کاعلمی ورحانی فیضان تقسیم ہورہاہے۔
مولانا عبدالجلیل علیہ الرحمہ میانہ قد، انتہائی حسین تھے اور چہرۂ بارعب کہ بڑے سے بڑے لوگوں پر ان کا ایک دبدبہ طاری رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود چہرے پر ایک مسکراہٹ قائم رہتی، اور اتنی سنجیدگی طاری رہتی کہ لوگ ادب کے دائرے سے باہر جانے کی جرأت نہیں کرتے۔آپ کا اخلاق بڑاوسیع تھا جو بھی ان سے ملاقات کےلیے آیا متاثر ہوئے بغیر نہیں گیا اور ہر کوئی یہی کہتا خواہ بڑا ہو یاچھوٹا اپنا ہو یا پرایا۔فقیہ العصر مفتی عبدلجلیل علیہ الرحمہ ہم سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اہم سے زیادہ کسی دوسرے سے اتنی محبت نہیں کرتے۔اس قدر ہر ایک کے دلوں میں ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور خیالات اتنے بلند کہ مولانا عبدالجلیل جو فرماتے سننے والے یہ سمجھتے کہ گویا یہ میرے دل کی بات ہے۔
مولانا مفتی عبدالجلیل علیہ الرحمہ کو کتابوں کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور نظر بڑی محققانہ تھی کتابوں کی کثیر تعداد ان کی ذاتی ملکیت میں تھی۔ مطالعہ کتب کا حال ایسا کہ کوئی مسئلہ در پیش ہوا ، تو تحقیق کا دروازہ کھلاہوتا کتابوں کا انبار سامنے ہوتا اور مسائل حل ہوتے ہر مسئلہ پر باریک نظر تھی۔ دلائل سامنے لاتے اور تشنگان علم وفن کی خوب خوب سیر یابی ہوتی، عربی وفارسی کی بہترین صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ریاضی میں کافی ادراک عطا فرمایا تھا۔ ریاضی کا وہ مسئلہ جس کاحل ہونا ہر ایک سے مشکل ہوتا آپ اسے منٹوں میں حل کردیتےتھے۔
ہرجگہ شریعت مطہرہ کا خیال مقدم ہوتا،اورکوئی بات جو شریعت کے خلاف ہو برداشت نہیں کرتے تھے اور ہم عصر علماء میں اپنے زہد وتقویٰ کےلحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔اپنےپرائے آپ کےزہدوتقویٰ سےمتأثرتھے۔آپ جہاں بھی تشریف لےجاتےنمازکی امامت آپ کرتےتھے۔آپ کی موجودگی میں کوئی بھی آگےنہیں بڑھتاتھا۔حضورمفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ کی دینی خدمات کوقدرکی نگاہ سےدیکھتےتھے۔تقریباً آپ چوبیس دینی مدارس کی سرپرستی فرماتےتھے۔اسی طرح اہل سنت کی کئی تنظیموں کی سرپرستی،ومعاونت ،درس وتدریس،افتاء ،وعظ ونصیحت،مریدین کاتزکیہ وغیرہ آپ کےاہم مشاغل تھے۔الغرض آپ نےایک عملی زندگی گزاری،اپنےوقت کوصحیح مصرف لاکراللہ جل شانہ اور اس کےحبیبﷺ کی بارگامیں سرخروہوئے۔آپ کی زندگی آج کےنوجوان علماء کےلئے مشعل ِراہ ہے۔
تاریخِ وصال: اس تاریخ ساز شخصیت کا وصال 2/جمادی الثانی 1409ھ،مطابق 11/جنوری 1989ء بروز جمعرات شب 9بج کر 40 منٹ پر ہوا۔
ماخذومراجع: مفتیِ اعظم ہند اور ان کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-jaleel-rizvi-bihari
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Abdul Jaleel Rizvi Bihari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ قاری محبوب رضا رحمہ اللہ علیہ
ہماری نئی نسل سے اکثر نے حضرت قاری محبوب رضا خان علیہ الرحمہ کا نام اور چند ایک واقعات سنے ہونگے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک باوقار اور خود دار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ سے کبھی کسی صاحب ثروت کی تعریف نہیں سنی ۔ ٓپ حضرت صدر الشریعہ رضی الہد عنہ کے ان تلامذہ میں سے ہیں جنہوں نے حضرت کی وصیت کے مطابق بہار شریعت کے باقی حصوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔
آپ قاری ، عالم ، مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ ابتدا میں بہت جلالی رہے لیکن آخر عمر شریف میں کچھ جمال کا بھی ظہور رہا۔
سن 1989 میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب علیہ الرحمۃ کے ساتھ بغداد شریف کی حاضری کی سعادت حاصل فرما کر مدینہ شریف تشریف لائے اور سن ۱۹۹۱ مطابق 1411 ھجری میں آپ کا اس ماہ مبارک کی ۲ تاریخ کو کراچی میں وصال ہوا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-qari-mehboob-raza-khan-barelvi
ہماری نئی نسل سے اکثر نے حضرت قاری محبوب رضا خان علیہ الرحمہ کا نام اور چند ایک واقعات سنے ہونگے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک باوقار اور خود دار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ سے کبھی کسی صاحب ثروت کی تعریف نہیں سنی ۔ ٓپ حضرت صدر الشریعہ رضی الہد عنہ کے ان تلامذہ میں سے ہیں جنہوں نے حضرت کی وصیت کے مطابق بہار شریعت کے باقی حصوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔
آپ قاری ، عالم ، مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ ابتدا میں بہت جلالی رہے لیکن آخر عمر شریف میں کچھ جمال کا بھی ظہور رہا۔
سن 1989 میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب علیہ الرحمۃ کے ساتھ بغداد شریف کی حاضری کی سعادت حاصل فرما کر مدینہ شریف تشریف لائے اور سن ۱۹۹۱ مطابق 1411 ھجری میں آپ کا اس ماہ مبارک کی ۲ تاریخ کو کراچی میں وصال ہوا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-qari-mehboob-raza-khan-barelvi
❤1