Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-05-1444 ᴴ | 24-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کرسمس ڈے کی مبارک باد دینا کیسا
29-05-1444 ᴴ | 24-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور حافظ ملت علیہالرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور حافظ ملت علیہالرحمہ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
بیہقی وقت، حضرت علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی:
محمد منظور احمد فیضی ۔ اَلقاب: بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے وقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظرخلیفہ تھے ۔
جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عالم و عارف، اورصاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بست۔۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
اسم گرامی:
محمد منظور احمد فیضی ۔ اَلقاب: بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے وقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظرخلیفہ تھے ۔
جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عالم و عارف، اورصاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بست۔۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ سید ہدایت رسول قادری رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سیدوجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ / جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ بمطابق ۱۶/ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالت:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشین ِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید ، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے۔
تعلیم وتربیت :
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ سے شرف بیعت رکھتی تھیں۔ کچھ عرصہ دارالعلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی ، مشترقی پاکستان چلے گئے توآپ بھی ان کے ساتھ تھے ، میٹرک وہیں پر کیا۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا۔ ۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائق ِ تقلیدمثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا۔
علم و عمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷/اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔ آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دودرجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں: اصلاح ِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت کنزالایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی اسوۂ حسنہ کے چراغ اہل تصوف کا تصورِ جہاد سفر نامہ قاہرہ سفر نامہ بنگلہ دیش فروغِ صبح تاباں ماہنامہ ’’معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے(دوجلد)۔
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ / جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سیدوجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ / جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ بمطابق ۱۶/ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالت:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشین ِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید ، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے۔
تعلیم وتربیت :
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ سے شرف بیعت رکھتی تھیں۔ کچھ عرصہ دارالعلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی ، مشترقی پاکستان چلے گئے توآپ بھی ان کے ساتھ تھے ، میٹرک وہیں پر کیا۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا۔ ۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائق ِ تقلیدمثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا۔
علم و عمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷/اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔ آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دودرجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں: اصلاح ِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت کنزالایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی اسوۂ حسنہ کے چراغ اہل تصوف کا تصورِ جہاد سفر نامہ قاہرہ سفر نامہ بنگلہ دیش فروغِ صبح تاباں ماہنامہ ’’معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے(دوجلد)۔
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ / جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
scholars.pk
Allama Syed Wajahat Rasool Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و لقب:
آپ کا نام " باہو " اور لقب " سلطان العارفین " اور " حق باہو " ہے ۔ آپ فرماتےہیں! ؎ نام باہومادرِ باہو نہاد،زانکہ باہو دائمی باہونہاد۔یعنی باھو کی ماں نے نام باھو رکھا کیونکہ باھو ہمیشہھوکے ساتھ رہا ۔
تاریخِ ولادت:
سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17 جنوری 1630ء) بروز جمعرات بوقتِ فجر قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کی والدہ کی نگرانی میں ہوئی ۔ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے کسی قسم کا کتابی اور ظاہری علم حاصل نہیں کیا ۔ آپ اپنی تصنیف " عین الفقر " میں فرماتے ہیں ! " محمد مصطفٰی عربی ﷺ و مرا علمِ ظاہر ہیچ نہ بود ۔ از علم حضور است و ظاہر و باطن علم چندیں واردات فتوحاتِ کشادہ است کہ دفتر ہا باید " ۔
یعنی حضرت محمد ﷺ اور مجھے علمِ ظاہر کسی نے نہیں سکھایا کیونکہ ہمیں علمِ حضوری عطا کیا گیا ہے جس کی واردات و فتوحات سے ظاہر و باطن میں اتنا وسیع علم منکشف ہوا ہے کہ جس کے اظہار کے لیے بے شمار دفاتر (کتب) کی ضرورت ہے ۔ اُمی ہونے کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد (۱۴۰) اور ۳۹ کتب کی فہرست تذکروں میں موجود ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ فرماتے ہیں میری باطنی بیعت سرور عالم ﷺ اور مولائے کائنات شیر ِخدا رضی اللہ عنہ سے ہے۔ پھرحضور ﷺ نےغوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا ۔ والدہ کے حکم پر شاہ حبیب اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئےاور شاہ صاحب نے آپکی طلب اور جذبہ کو دیکھکر مزید فیض کیلئے اپنے پیر و مرشد شیخ عبد الرحمٰن قادری دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے آنِ واحد میں باطنی توجہ فرما کر نعمتِ عظمیٰ سے مالا مال کر دیا ۔
سیرت و تعلیمات:
حضرت سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ ساری زندگی سنتِ نبوی اور شریعت محمدی ﷺ پر اس طرح کاربند رہے کہ ساری زندگی آپ سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا ۔ آپ عین الفقر میں فرماتے ہیں!ہر مراتب ازشریعت یافتم ۔ پیشوائے خود شریعت ساختم ۔ یعنی میں نے شریعت پر عمل پیرا ہو کر ہر مرتبہ حاصل کیا ہے اور اپنا پیشوا اور راہبر شریعت کو بنایا ہے ۔
شاہراہ شریعت پر چل کر میں عرش و کرسی سے بالا مقامات پر جا پہنچا اور اﷲ تعالیٰ کے سرِّ وحدت کے ہر مقام کو میں نے اچھی طرح دیکھا ۔ فقر (ولایت) کی ابتدا بھی شریعت اور انتہا بھی شریعت ہے ۔ اور تارکِ شریعت فقر (ولایت) کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (عین الفقر) ـ
وصال:
یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات، بوقتِ عصر تریسٹھ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔آپ کا مزار شریف شور کوٹ ضلع جھنگ میں مرجعِ عام وخاص ہے ۔
؎ نام فقیر تنہاں دا باھوُ
قبر جنھاں دی جیوے ہو ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-sultan-bahoo-jhang
نام و لقب:
آپ کا نام " باہو " اور لقب " سلطان العارفین " اور " حق باہو " ہے ۔ آپ فرماتےہیں! ؎ نام باہومادرِ باہو نہاد،زانکہ باہو دائمی باہونہاد۔یعنی باھو کی ماں نے نام باھو رکھا کیونکہ باھو ہمیشہھوکے ساتھ رہا ۔
تاریخِ ولادت:
سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17 جنوری 1630ء) بروز جمعرات بوقتِ فجر قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کی والدہ کی نگرانی میں ہوئی ۔ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے کسی قسم کا کتابی اور ظاہری علم حاصل نہیں کیا ۔ آپ اپنی تصنیف " عین الفقر " میں فرماتے ہیں ! " محمد مصطفٰی عربی ﷺ و مرا علمِ ظاہر ہیچ نہ بود ۔ از علم حضور است و ظاہر و باطن علم چندیں واردات فتوحاتِ کشادہ است کہ دفتر ہا باید " ۔
یعنی حضرت محمد ﷺ اور مجھے علمِ ظاہر کسی نے نہیں سکھایا کیونکہ ہمیں علمِ حضوری عطا کیا گیا ہے جس کی واردات و فتوحات سے ظاہر و باطن میں اتنا وسیع علم منکشف ہوا ہے کہ جس کے اظہار کے لیے بے شمار دفاتر (کتب) کی ضرورت ہے ۔ اُمی ہونے کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد (۱۴۰) اور ۳۹ کتب کی فہرست تذکروں میں موجود ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ فرماتے ہیں میری باطنی بیعت سرور عالم ﷺ اور مولائے کائنات شیر ِخدا رضی اللہ عنہ سے ہے۔ پھرحضور ﷺ نےغوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا ۔ والدہ کے حکم پر شاہ حبیب اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئےاور شاہ صاحب نے آپکی طلب اور جذبہ کو دیکھکر مزید فیض کیلئے اپنے پیر و مرشد شیخ عبد الرحمٰن قادری دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے آنِ واحد میں باطنی توجہ فرما کر نعمتِ عظمیٰ سے مالا مال کر دیا ۔
سیرت و تعلیمات:
حضرت سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ ساری زندگی سنتِ نبوی اور شریعت محمدی ﷺ پر اس طرح کاربند رہے کہ ساری زندگی آپ سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا ۔ آپ عین الفقر میں فرماتے ہیں!ہر مراتب ازشریعت یافتم ۔ پیشوائے خود شریعت ساختم ۔ یعنی میں نے شریعت پر عمل پیرا ہو کر ہر مرتبہ حاصل کیا ہے اور اپنا پیشوا اور راہبر شریعت کو بنایا ہے ۔
شاہراہ شریعت پر چل کر میں عرش و کرسی سے بالا مقامات پر جا پہنچا اور اﷲ تعالیٰ کے سرِّ وحدت کے ہر مقام کو میں نے اچھی طرح دیکھا ۔ فقر (ولایت) کی ابتدا بھی شریعت اور انتہا بھی شریعت ہے ۔ اور تارکِ شریعت فقر (ولایت) کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (عین الفقر) ـ
وصال:
یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات، بوقتِ عصر تریسٹھ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔آپ کا مزار شریف شور کوٹ ضلع جھنگ میں مرجعِ عام وخاص ہے ۔
؎ نام فقیر تنہاں دا باھوُ
قبر جنھاں دی جیوے ہو ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-sultan-bahoo-jhang
scholars.pk
Hazrat Sakhi Sultan Bahoo Jhang
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1