امام النحو ، صدر العلماء ، حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مرید و خلیفۂ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ و استاذِ محترم امام شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
وحید العصر حضرت مولانا غلام جیلانی، بن مولانا حاجی غلام فخر الدین ،بن مولانا حکیم سخاوت حسین فخری سلیمانی ۔ آپ کے دادا بزرگوار نے آپ کا نام غلام محی الدین جیلانی رکھا ۔
تاریخِ ولادت:
۱۱ رمضان المبارک ۱۳۱۷ ھ / بمطابق ۱۹۰۰ ء ریاست دادوں ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی، بعد ازاں جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا ۔ آپ علیہ الرحمہ نے وقت کے مایہ ناز مندرجہ ذیل علماء کرام سے اکتسابِ فیض کیا:
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی ، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان ، صدر الشریعہ حکیم محمد امجد علی اعظمی ، حضرت مولانا عبد العزیز صاحب فتح پوری ، مولانا امتیاز احمد امبیٹھوی ، مولانا سید عبد المجید ، مولانا عبد الحی افغانی ، حضرت مولانا عبد اللہ افغانی ، مولانا سید امیر احمد پنجابی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت کا شرف شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی سے حاصل ہے ۔
سیرت و خصائص:
آپ تا حیات درس و تدریس سے منسلک رہے، اپنے علمی خزانہ کے گوہر ہائے آبدار کی چمک سے رشد و ہدایات کے مینار تعمیر کئے، علوم و فنون کے دریا بہائے، مسندِ تدریس کو عروج و کمال تک پہنچایا، ترقی کی بلند ترین منازل سے مزین کیا، آپ کی ذات ملجائے خواص و عام اور مرجعِ اصاغر و اکابر تھی، وقت کے ممتاز علماء و فقہاء نے آپ کے سامنے زانوئے علم و ادب تہہ کئے، آپ کی کوششوں سے علوم و فنون کی ترویج ہوئی، آپ کی علمی بصیرت اور دینی خدمات کا زمانہ معترف ہے، آپ کی مثالی اور عبقری شخصیت نے تحقیقی اور تجدیدی خدمات سے علم میں ایک نئی جان ڈال دی ۔ آپ کے تبحّرِ علمی کے پیشِ نظر اسوقت کے کاملین نے آپ کو " صدر العلماء " اور " صدر المدرسین " کے خطاب سے نوازا ۔
وصال:
آپ نے ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۹۸ ھ بمطابق ۸ مئی ۱۹۷۸ ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک مدرسہ اسلامیہ عربیہ اندر کوٹ میرٹھ (ہند) میں زیارت گاہِ خواص و عوام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-jilani-merthi
مرید و خلیفۂ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ و استاذِ محترم امام شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
وحید العصر حضرت مولانا غلام جیلانی، بن مولانا حاجی غلام فخر الدین ،بن مولانا حکیم سخاوت حسین فخری سلیمانی ۔ آپ کے دادا بزرگوار نے آپ کا نام غلام محی الدین جیلانی رکھا ۔
تاریخِ ولادت:
۱۱ رمضان المبارک ۱۳۱۷ ھ / بمطابق ۱۹۰۰ ء ریاست دادوں ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی، بعد ازاں جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا ۔ آپ علیہ الرحمہ نے وقت کے مایہ ناز مندرجہ ذیل علماء کرام سے اکتسابِ فیض کیا:
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی ، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان ، صدر الشریعہ حکیم محمد امجد علی اعظمی ، حضرت مولانا عبد العزیز صاحب فتح پوری ، مولانا امتیاز احمد امبیٹھوی ، مولانا سید عبد المجید ، مولانا عبد الحی افغانی ، حضرت مولانا عبد اللہ افغانی ، مولانا سید امیر احمد پنجابی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت کا شرف شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی سے حاصل ہے ۔
سیرت و خصائص:
آپ تا حیات درس و تدریس سے منسلک رہے، اپنے علمی خزانہ کے گوہر ہائے آبدار کی چمک سے رشد و ہدایات کے مینار تعمیر کئے، علوم و فنون کے دریا بہائے، مسندِ تدریس کو عروج و کمال تک پہنچایا، ترقی کی بلند ترین منازل سے مزین کیا، آپ کی ذات ملجائے خواص و عام اور مرجعِ اصاغر و اکابر تھی، وقت کے ممتاز علماء و فقہاء نے آپ کے سامنے زانوئے علم و ادب تہہ کئے، آپ کی کوششوں سے علوم و فنون کی ترویج ہوئی، آپ کی علمی بصیرت اور دینی خدمات کا زمانہ معترف ہے، آپ کی مثالی اور عبقری شخصیت نے تحقیقی اور تجدیدی خدمات سے علم میں ایک نئی جان ڈال دی ۔ آپ کے تبحّرِ علمی کے پیشِ نظر اسوقت کے کاملین نے آپ کو " صدر العلماء " اور " صدر المدرسین " کے خطاب سے نوازا ۔
وصال:
آپ نے ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۹۸ ھ بمطابق ۸ مئی ۱۹۷۸ ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک مدرسہ اسلامیہ عربیہ اندر کوٹ میرٹھ (ہند) میں زیارت گاہِ خواص و عوام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-jilani-merthi
❤1
صدر العلماء، فخر الاساتذہ، وحید العصر، حضرت علامہ سید غلام جیلانی محدث میرٹھی اشرفی رضی الله عنہ کی ولادت 11 رمضان 1318ھ کو دادوں، ریاست علی گڑھ، اترپردیش، ہندستان میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفہ شاہ علی حسین اشرفی میاں، فاضل دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، امام النحو، ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ، استاذ الاساتذہ، شارح بخاری، باوقار وجیہ شخصیت کے مالک اور اکابرین اہل سنت سے ہیں۔ آپ کی بشیری شروحات (بشیر القاری، بشیر الناجیہ، بشیر الکامل، البشیر شرح نحو میر) علماء میں معروف ہیں۔ 29 جمادی الاولی 1398ھ کو میرٹھ میں وصال فرمایا اور وہیں قبرستان رؤسائے لال کرتی میں مزار مصنف انوار ساطعہ حضرت مولانا عبد السمیع رام پوری رضی الله عنہ کے قرب میں آرام فرما ہوئے۔ (صدر العلما محدث میرٹھی حیات و خدمات، تذکرہ علمائے اہلسنت)
Leader of Scholars, Pride of Educators, Unique Personality of his Era, Allamah Sayyid Ghulam Jilani Muhaddith Meerthi Ashrafi (RadiyAllahu Anhu) was born on 11 Ramadan 1318 AH in Dadun, Aligarh, Uttar Pradesh, India. He was a murid and khalifah of Shah Ali Husayn Ashrafi Miyan, a graduate of Dar al-Uloom Manzar-e Islam Bareilly Sharif, an Imam of Arabic grammar, an expert in rational and traditional sciences, an educator of teachers, a commentator of al-Bukhari, possessor of an awe-inspiring and dignified personality, and one of the great luminaries of Ahl as-Sunnah. His series of commentaries, namely, Bashir al-Qari, Bashir al-Najiyah, Bashir al-Kamil, and al-Bashir Sharh Nahw Mir, are well-known among scholars. He passed away on the 29th of Jumada al-Awwal, 1398 AH, in Meerut, and was laid to rest there in the cemetery of Ru'asa-e Lal Kurti, besides the tomb of Mawlana Abdul Sami Rampuri, the author of Anwar-e Sati’ah. [Sadr al-Ulama Muhaddith Meerthi Hayat wa Khidmat, Tazkirah Ulama-e-AhleSunnat]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ekQYs7NQQB6su1rGxexRx1LX6yAePvjjfEVqL1X1xx61emu1ro687zLFnEq9fFmYl&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
Leader of Scholars, Pride of Educators, Unique Personality of his Era, Allamah Sayyid Ghulam Jilani Muhaddith Meerthi Ashrafi (RadiyAllahu Anhu) was born on 11 Ramadan 1318 AH in Dadun, Aligarh, Uttar Pradesh, India. He was a murid and khalifah of Shah Ali Husayn Ashrafi Miyan, a graduate of Dar al-Uloom Manzar-e Islam Bareilly Sharif, an Imam of Arabic grammar, an expert in rational and traditional sciences, an educator of teachers, a commentator of al-Bukhari, possessor of an awe-inspiring and dignified personality, and one of the great luminaries of Ahl as-Sunnah. His series of commentaries, namely, Bashir al-Qari, Bashir al-Najiyah, Bashir al-Kamil, and al-Bashir Sharh Nahw Mir, are well-known among scholars. He passed away on the 29th of Jumada al-Awwal, 1398 AH, in Meerut, and was laid to rest there in the cemetery of Ru'asa-e Lal Kurti, besides the tomb of Mawlana Abdul Sami Rampuri, the author of Anwar-e Sati’ah. [Sadr al-Ulama Muhaddith Meerthi Hayat wa Khidmat, Tazkirah Ulama-e-AhleSunnat]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ekQYs7NQQB6su1rGxexRx1LX6yAePvjjfEVqL1X1xx61emu1ro687zLFnEq9fFmYl&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-05-1444 ᴴ | 23-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-05-1444 ᴴ | 24-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کرسمس ڈے کی مبارک باد دینا کیسا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کرسمس ڈے کی مبارک باد دینا کیسا
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-05-1444 ᴴ | 24-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کرسمس ڈے کی مبارک باد دینا کیسا
29-05-1444 ᴴ | 24-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1