🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-05-1444 ᴴ | 22-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-05-1444 ᴴ | 22-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
شیخ سراواں پر مڑگاؤں(گوا)میں پابندی
فرقہ سراویہ بجنوریہ نے سال 2017 کے اخیر سے حسام الحرمین کے خلاف ماحول سازی کا اعلانیہ آغاز کیا ہے,لیکن شیخ سراواں کی یہ پرانی تحریک ہے۔
فرقہ سراویہ بجنوریہ کا بھی اعتراف ہے کہ شیخ سراواں کی جانب سے تصدیق حسام الحرمین صلح حدیبیہ کی مثل ہے۔
راقم الحروف سال 2013 میں ریاست گوا(GOA)کے مشہور شہر مڑگاؤں گیا تھا۔وہاں احباب اہل سنت نے بتایا کہ قریبا سال بھر قبل مڑگاؤں شہر کے عوام اہل سنت نے شیخ سراواں(ابو میاں)کے جلسہ جلوس پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس کا جلسہ,تقریری پروگرام یا کوئی عوامی پروگرام شہر مڑگاؤں میں نہیں ہو سکتا ہے۔یہ پابندی شہر مڑگاؤں میں آج تک برقرار ہے۔پابندی کے متعدد اسباب بتائے گئے۔ان میں سے چند اسباب وعلل درج ذیل ہیں۔
(1)شیخ سراواں اور ان کے مریدین اقامت کے وقت کھڑے رہتے تھے,جب کہ یہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا طریقہ ہے۔
(2)شیخ سراواں کا کہنا تھا کہ نماز میں سنی,وہابی,دیوبندی ہر ایک کی اقتدا صحیح وجائز ہے۔
(3)ہندو پنڈت اور سادھو وجوگی وغیرہ شیخ سراواں سے ملنے آتے تھے۔
شہر مڑگاؤں میں یہ پابندی غالبا 2011 میں لگائی گئی ہے جو آج تک برقرار ہے۔
اہل مڑگاؤں کے بیان کردہ احوال سے ظاہر ہے کہ آج وابستگان سراواں جن افکار ونظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔وہ شیخ سراواں کے قدیم نظریات ہیں۔
جس عہد میں شیخ سراواں پر پابندی عائد ہوئی تھی,اس وقت محررین سراواں دہلی میں رہتے تھے۔ایسا نہیں کہ ان محررین نے ان نظریات کو اپنایا ہے,بلکہ ان لوگوں نے شیخ سراواں کے نظریات کی پیروی کی ہے۔
بدر الفقہا حضرت علامہ مفتی بدر عالم صاحب قبلہ مصباحی رئیس الاساتذہ جامعہ اشرفیہ(مبارک پور)نے مجھے بتایا کہ ایک بار میں سراواں گیا تھا تو تکبیر کے وقت لوگوں کے کھڑے ہونے کی شکایت شیخ سراواں سے کی تھی۔شیخ نے جواب دیا تھا کہ یہ سب اساتذہ آپ کے یہاں کے تعلیم یافتہ ہیں۔آپ ان کو سمجھائیں۔
حقیقت یہ کہ اساتذۂ سراواں گرچہ جامعہ اشرفیہ کے تعلیم یافتہ ہیں,لیکن وہ لوگ شیخ سراواں کے تربیت یافتہ ہیں اور تربیت تعلیم پر غالب آ چکی ہے۔اب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ:
ع /
جو کچھ پڑھا تھا جناب نے
اسے صاف دل سے بھلا دیا
وابستگان سراواں عرس حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایک دیڑھ ماہ قبل سے فتنے شروع کرتے ہیں۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور پر طنز کرتے ہیں۔حسام الحرمین کے خلاف ماحول سازی کرتے ہیں۔ابتدائی مرحلہ میں ان لوگوں کو یہ وہم ہو چکا تھا کہ جامعہ اشرفیہ ان اوباشوں کے گمراہ کن افکار وخیالات کو قبول کر لے گا,لیکن انہیں بہت مایوسی ہاتھ آئی۔اب رفتہ رفتہ ان کے چہرے بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی بد صورتی سے گھبرا کر ان کے عشاق وجاں نثاران بھی ان سے دامن چھڑا کر بھاگتے نظر آ رہے ہیں۔
ارشاد خداوندی ہے:(جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا)(قرآن مقدس)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:22:دسمبر 2022
شیخ سراواں پر مڑگاؤں(گوا)میں پابندی
فرقہ سراویہ بجنوریہ نے سال 2017 کے اخیر سے حسام الحرمین کے خلاف ماحول سازی کا اعلانیہ آغاز کیا ہے,لیکن شیخ سراواں کی یہ پرانی تحریک ہے۔
فرقہ سراویہ بجنوریہ کا بھی اعتراف ہے کہ شیخ سراواں کی جانب سے تصدیق حسام الحرمین صلح حدیبیہ کی مثل ہے۔
راقم الحروف سال 2013 میں ریاست گوا(GOA)کے مشہور شہر مڑگاؤں گیا تھا۔وہاں احباب اہل سنت نے بتایا کہ قریبا سال بھر قبل مڑگاؤں شہر کے عوام اہل سنت نے شیخ سراواں(ابو میاں)کے جلسہ جلوس پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس کا جلسہ,تقریری پروگرام یا کوئی عوامی پروگرام شہر مڑگاؤں میں نہیں ہو سکتا ہے۔یہ پابندی شہر مڑگاؤں میں آج تک برقرار ہے۔پابندی کے متعدد اسباب بتائے گئے۔ان میں سے چند اسباب وعلل درج ذیل ہیں۔
(1)شیخ سراواں اور ان کے مریدین اقامت کے وقت کھڑے رہتے تھے,جب کہ یہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا طریقہ ہے۔
(2)شیخ سراواں کا کہنا تھا کہ نماز میں سنی,وہابی,دیوبندی ہر ایک کی اقتدا صحیح وجائز ہے۔
(3)ہندو پنڈت اور سادھو وجوگی وغیرہ شیخ سراواں سے ملنے آتے تھے۔
شہر مڑگاؤں میں یہ پابندی غالبا 2011 میں لگائی گئی ہے جو آج تک برقرار ہے۔
اہل مڑگاؤں کے بیان کردہ احوال سے ظاہر ہے کہ آج وابستگان سراواں جن افکار ونظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔وہ شیخ سراواں کے قدیم نظریات ہیں۔
جس عہد میں شیخ سراواں پر پابندی عائد ہوئی تھی,اس وقت محررین سراواں دہلی میں رہتے تھے۔ایسا نہیں کہ ان محررین نے ان نظریات کو اپنایا ہے,بلکہ ان لوگوں نے شیخ سراواں کے نظریات کی پیروی کی ہے۔
بدر الفقہا حضرت علامہ مفتی بدر عالم صاحب قبلہ مصباحی رئیس الاساتذہ جامعہ اشرفیہ(مبارک پور)نے مجھے بتایا کہ ایک بار میں سراواں گیا تھا تو تکبیر کے وقت لوگوں کے کھڑے ہونے کی شکایت شیخ سراواں سے کی تھی۔شیخ نے جواب دیا تھا کہ یہ سب اساتذہ آپ کے یہاں کے تعلیم یافتہ ہیں۔آپ ان کو سمجھائیں۔
حقیقت یہ کہ اساتذۂ سراواں گرچہ جامعہ اشرفیہ کے تعلیم یافتہ ہیں,لیکن وہ لوگ شیخ سراواں کے تربیت یافتہ ہیں اور تربیت تعلیم پر غالب آ چکی ہے۔اب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ:
ع /
جو کچھ پڑھا تھا جناب نے
اسے صاف دل سے بھلا دیا
وابستگان سراواں عرس حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایک دیڑھ ماہ قبل سے فتنے شروع کرتے ہیں۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور پر طنز کرتے ہیں۔حسام الحرمین کے خلاف ماحول سازی کرتے ہیں۔ابتدائی مرحلہ میں ان لوگوں کو یہ وہم ہو چکا تھا کہ جامعہ اشرفیہ ان اوباشوں کے گمراہ کن افکار وخیالات کو قبول کر لے گا,لیکن انہیں بہت مایوسی ہاتھ آئی۔اب رفتہ رفتہ ان کے چہرے بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی بد صورتی سے گھبرا کر ان کے عشاق وجاں نثاران بھی ان سے دامن چھڑا کر بھاگتے نظر آ رہے ہیں۔
ارشاد خداوندی ہے:(جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا)(قرآن مقدس)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:22:دسمبر 2022
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-05-1444 ᴴ | 22-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-05-1444 ᴴ | 23-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-05-1444 ᴴ | 23-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-05-1444 ᴴ | 23-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1