🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ
انبیاء علیہم الصلوٰۃ واسلام معصوم ہیں مگر زید کا قول فلسفیانہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی خطاکار ہیں اور ثبوت کیلئے حضرت آدم علیہ السلام وغیرہ کا ذکر لاتا ہے۔ لہٰذا کیا درست ہے اگر خطا اور گناہ میں فرق ہے تو جواب دیں ۔ آیا اگر گناہ گار نہیں تو خطاکار ہیں اور دونوں نہیں ہیں ۔ تونص قطعی سے ثابت کیجئے۔
المستفتی:محمد مظہرالحق رضویؔ، خادم جامع مسجد، مسلم محلہ چاس، بوکارو، اسٹیل سیٹی
https://t.me/masilsriya
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملـک الوہابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زید انتہائی بے قید بلکہ کیدِ شیطانی کا صید ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ عظمت سے غافل و بے خبر ہے۔ خالق کے علاوہ کسی مخلوق کو سزاوار نہیں ہے کہ وہ کسی نبی کو عاصی و گنہ گار کہے۔ خالق عز و جل مالک و معبود ہے اور انبیاء علیہم السلام اس کے محبوب بندے ہیں ۔ مالک کو اختیار کلی ہے کہ جس بندے کو جس طرح چاہے خطاب فرمائے اور بندے کو اختیار ہے کہ عجز و بندگی کے جس انداز سے چاہے اپنے آپ کو مالک کی بارگاہ جلالت میں پیش کرے۔ کسی دوسرے کو اختیار نہیں ہے کہ ان کے درمیان موشگافی کرے۔ امت مسلمہ کا عقیدہ مسلم ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مطلقاً معصوم ہیں ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: انہم معصومون من الکفر قبل الوحی و بعدہ بالاجماع وکذا عن تعمد الکبائرعندالجمہور الخ۔ ’’بالاجماع انبیاء کرام قبل وحی اور بعد وحی کفر سے پاک ہوتے ہیں جمہور کے نزدیک عمداً کبائر سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔‘‘ اور فقہ اکبر میں ہے، الانبیاء کلھم معصومون الخ ’’ تمام انبیاء گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔‘‘ گنہگار و خطا کار اسے کہا جاتا ہے جو کسی کبائر کا مرتکب ہو یا صغائر پر اصرار کرتا ہو اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ من قال ان کل معصیۃ کفر وقال مع ذلک ان الانبیاء علیہم السلام عصو ا فکافر لانہ شاتم الخ ۔ ’’جس نے کہاکہ ہر معصیت گناہ ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ کہاکہ انبیاء کرام نے ارتکاب معصیت کی ہے تو کہنے والا کافر ہوجائے گا اس لئے کہ وہ شاتم ہے۔‘‘ (عالمگیری جلد:۲، ص:۸۸۴)
لہٰذا زید اپنے قول بدتر از بول سے توبہ استغفار کرے اور تجدید ایمان و نکاح بھی کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
الفقیر عبدالواجدقادری غفرلہ خادم دارالافتاء ادارۂ شرعیہ بہار، پٹنہ
فتویٰ ادارہ شرعیہ جلد دوم
واٹش ایپ گروپ لنک 👇🏻
https://chat.whatsapp.com/DfkFufhsmhpDRiWXgZZJPO
انبیاء علیہم الصلوٰۃ واسلام معصوم ہیں مگر زید کا قول فلسفیانہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی خطاکار ہیں اور ثبوت کیلئے حضرت آدم علیہ السلام وغیرہ کا ذکر لاتا ہے۔ لہٰذا کیا درست ہے اگر خطا اور گناہ میں فرق ہے تو جواب دیں ۔ آیا اگر گناہ گار نہیں تو خطاکار ہیں اور دونوں نہیں ہیں ۔ تونص قطعی سے ثابت کیجئے۔
المستفتی:محمد مظہرالحق رضویؔ، خادم جامع مسجد، مسلم محلہ چاس، بوکارو، اسٹیل سیٹی
https://t.me/masilsriya
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملـک الوہابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زید انتہائی بے قید بلکہ کیدِ شیطانی کا صید ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ عظمت سے غافل و بے خبر ہے۔ خالق کے علاوہ کسی مخلوق کو سزاوار نہیں ہے کہ وہ کسی نبی کو عاصی و گنہ گار کہے۔ خالق عز و جل مالک و معبود ہے اور انبیاء علیہم السلام اس کے محبوب بندے ہیں ۔ مالک کو اختیار کلی ہے کہ جس بندے کو جس طرح چاہے خطاب فرمائے اور بندے کو اختیار ہے کہ عجز و بندگی کے جس انداز سے چاہے اپنے آپ کو مالک کی بارگاہ جلالت میں پیش کرے۔ کسی دوسرے کو اختیار نہیں ہے کہ ان کے درمیان موشگافی کرے۔ امت مسلمہ کا عقیدہ مسلم ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مطلقاً معصوم ہیں ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: انہم معصومون من الکفر قبل الوحی و بعدہ بالاجماع وکذا عن تعمد الکبائرعندالجمہور الخ۔ ’’بالاجماع انبیاء کرام قبل وحی اور بعد وحی کفر سے پاک ہوتے ہیں جمہور کے نزدیک عمداً کبائر سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔‘‘ اور فقہ اکبر میں ہے، الانبیاء کلھم معصومون الخ ’’ تمام انبیاء گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔‘‘ گنہگار و خطا کار اسے کہا جاتا ہے جو کسی کبائر کا مرتکب ہو یا صغائر پر اصرار کرتا ہو اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ من قال ان کل معصیۃ کفر وقال مع ذلک ان الانبیاء علیہم السلام عصو ا فکافر لانہ شاتم الخ ۔ ’’جس نے کہاکہ ہر معصیت گناہ ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ کہاکہ انبیاء کرام نے ارتکاب معصیت کی ہے تو کہنے والا کافر ہوجائے گا اس لئے کہ وہ شاتم ہے۔‘‘ (عالمگیری جلد:۲، ص:۸۸۴)
لہٰذا زید اپنے قول بدتر از بول سے توبہ استغفار کرے اور تجدید ایمان و نکاح بھی کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
الفقیر عبدالواجدقادری غفرلہ خادم دارالافتاء ادارۂ شرعیہ بہار، پٹنہ
فتویٰ ادارہ شرعیہ جلد دوم
واٹش ایپ گروپ لنک 👇🏻
https://chat.whatsapp.com/DfkFufhsmhpDRiWXgZZJPO
❤1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
سوال اذان قبر کس طرف رخ کر کے پڑھی جائے؟
ایک پیر کا کہنا ہے کہ اذان قبر کعبہ کی طرف منہ کر کے نہ پڑھی جائے بلکہ کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے پڑھی جائے ورنہ صاحب قبر کو سر اٹھا کر دیکھنا ہوگا تو صاحب قبر کو تکلیف ہوگی۔ فقیر نے جواب دیا کہ اذان کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے پڑھنا ضروری ہے لیکن پھر بھی اصرار ہے لہذا کیا حکم ہے؟
کیا اذان کے بعد جو صلاۃ پڑھی جاتی ہے وہ بھی خارج مسجد ہی پڑھی جائے، براے کرم فقیر کا خلجان دور کیجیے، کرم ہوگا۔
جمیل اختر، مقام رضا نگر، نئی مسجد بارہ، ضلع ،کانپور، یوپی
https://t.me/masilsriya
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مطلق اذان کی سنتوں میں یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر پڑھی جائے۔ اس لیے اذان قبر بھی قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھی جائے۔ جو احکام مطلق کے ہوتے ہیں وہ اس کے ہر ہر فرد کے لیے ہوتے ہیں۔
صلاۃ بھی اعلام غائبین کے لیے ہے اس لیے اسے بھی مسجد کے اندر پڑھنا ممنوع ہے اور مسجد کے باہر پڑھنا ضروری۔ واللہ تعالی اعلم
(فتویٰ حافظ ملت و فتویٰ اشرفیہ جلد پنجم)
ایک پیر کا کہنا ہے کہ اذان قبر کعبہ کی طرف منہ کر کے نہ پڑھی جائے بلکہ کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے پڑھی جائے ورنہ صاحب قبر کو سر اٹھا کر دیکھنا ہوگا تو صاحب قبر کو تکلیف ہوگی۔ فقیر نے جواب دیا کہ اذان کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے پڑھنا ضروری ہے لیکن پھر بھی اصرار ہے لہذا کیا حکم ہے؟
کیا اذان کے بعد جو صلاۃ پڑھی جاتی ہے وہ بھی خارج مسجد ہی پڑھی جائے، براے کرم فقیر کا خلجان دور کیجیے، کرم ہوگا۔
جمیل اختر، مقام رضا نگر، نئی مسجد بارہ، ضلع ،کانپور، یوپی
https://t.me/masilsriya
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مطلق اذان کی سنتوں میں یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر پڑھی جائے۔ اس لیے اذان قبر بھی قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھی جائے۔ جو احکام مطلق کے ہوتے ہیں وہ اس کے ہر ہر فرد کے لیے ہوتے ہیں۔
صلاۃ بھی اعلام غائبین کے لیے ہے اس لیے اسے بھی مسجد کے اندر پڑھنا ممنوع ہے اور مسجد کے باہر پڑھنا ضروری۔ واللہ تعالی اعلم
(فتویٰ حافظ ملت و فتویٰ اشرفیہ جلد پنجم)
❤1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
بے علم مسئلہ بتانا جائز نہیں!جھوٹے کو امام بنانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ:
(۱) جو شخص ان پڑھ ہو کر لوگوں کو مسائل بتائے اور کسی حق اور جائز مسئلہ کو اپنی ذلت و رسوائی ہونے کی وجہ سے تسلیم نہ کرے وہ شخص کیسا ہے؟
(۲) جو شخص کثرت سے جھوٹ بولے‘ اس کے پیچھے نماز پڑھنا‘ اس کو امام بنانا کیسا ہے؟جواب بالتفصیل عنایت فرمائیں۔فقط۔ والسلام
المستفتی: محمد زاہد الرحمن‘ محلہ گڑھیہ‘ متصل پنجابیان اسکول‘ بریلی
https://t.me/masilsriya
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) اَن پڑھ بے علم کو بغیر جانے مسئلہ شرعیہ بتانا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے: ایسے پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ ہاں‘ جو مسئلہ شرعیہ صحیح صحیح بتا سکتا ہے‘ اس کے بتانے میں کوئی حرج نہیں اور مسئلہ شرعیہ پر ضد کرنا حرام ہے‘ توبہ لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) گناہ ہے‘ اور نماز کا اعادہ واجب۔ ’’غنیہ‘‘ میں ہے:
’’لو قدموا فاسقا یاثمون‘‘[غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی‘ کتاب الصلوٰۃ‘ فصل فی الامامۃ‘ ص۵۱۳‘ سہیل اکیڈمی]
’’دُرِّمختار‘‘ میں ہے:’’کل صلٰوۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب اعادتہا‘‘۔
[الدرالمختار‘ ج۲‘ کتاب الصلوٰۃ‘ باب صفۃ الصلوٰۃ‘ ص۱۴۷‘ ۱۴۸‘ دارالکتب العلمیۃ‘ بیروت]
واللہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہ علیہ الرحمہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ:
(۱) جو شخص ان پڑھ ہو کر لوگوں کو مسائل بتائے اور کسی حق اور جائز مسئلہ کو اپنی ذلت و رسوائی ہونے کی وجہ سے تسلیم نہ کرے وہ شخص کیسا ہے؟
(۲) جو شخص کثرت سے جھوٹ بولے‘ اس کے پیچھے نماز پڑھنا‘ اس کو امام بنانا کیسا ہے؟جواب بالتفصیل عنایت فرمائیں۔فقط۔ والسلام
المستفتی: محمد زاہد الرحمن‘ محلہ گڑھیہ‘ متصل پنجابیان اسکول‘ بریلی
https://t.me/masilsriya
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) اَن پڑھ بے علم کو بغیر جانے مسئلہ شرعیہ بتانا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے: ایسے پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ ہاں‘ جو مسئلہ شرعیہ صحیح صحیح بتا سکتا ہے‘ اس کے بتانے میں کوئی حرج نہیں اور مسئلہ شرعیہ پر ضد کرنا حرام ہے‘ توبہ لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) گناہ ہے‘ اور نماز کا اعادہ واجب۔ ’’غنیہ‘‘ میں ہے:
’’لو قدموا فاسقا یاثمون‘‘[غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی‘ کتاب الصلوٰۃ‘ فصل فی الامامۃ‘ ص۵۱۳‘ سہیل اکیڈمی]
’’دُرِّمختار‘‘ میں ہے:’’کل صلٰوۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب اعادتہا‘‘۔
[الدرالمختار‘ ج۲‘ کتاب الصلوٰۃ‘ باب صفۃ الصلوٰۃ‘ ص۱۴۷‘ ۱۴۸‘ دارالکتب العلمیۃ‘ بیروت]
واللہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہ علیہ الرحمہ
❤1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:
مسلمان مرد وعورت ہندو کے ساتھ مل کر ہولی کھیلتے ہیں اگر وہ ہولی کھیلنے والی عورت شادی شدہ ہے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث سے جواب عنایت فرمائیں۔
مستفتی: متولی عبد الغنی
محلہ بہاری پور معماران مسجد سادھ والی بریلی شریف یوپی ۷؍مارچ ۱۹۷۷ء
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہولی ہندوؤ ں کا مذہبی تہوار ہے اور ان کا شعار خاص ہے جس سے ان کی پہچان ہوتی ہے تو ان کے ساتھ یہ بیہودہ رسم اور شعارِ شرک انجام دینا خود کو ہندو کہلانے پر رضا مندی ہوئی اور یہ عین کفر ہے۔ علماء فرماتے ہیں:
’’الرضا بالکفر کفر‘‘[البحرالرائق شرح کنزالدقائق،فصل فی الجزیۃ،مطبع دارالمعرفۃ بیروت،رد المحتار، ج۶، ص۳۳۶، کتاب الجہادمطلب فی تمیز اھل الذمۃ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت]
اور حدیث میں ہے:’’من تشبہ بقوم فھو منہم‘‘ یعنی ’’جو کسی قوم سے مشابہت کرے وہ ا نہیں میں سے ہے‘‘۔
[کنز العمال، کتاب الصحبۃ الباب الاول فی الترغیب فیھا،ج۹،ص۶ حدیث نمبر ۲۴۶۷۵، مطبع دارالکتب العلمیۃ بیروت؍ابودائود شریف، کتاب اللباس، باب لبس الشہرۃ، ص۵۵۹، مطبع اصح المطابع؍مصنف عبد الرزاق باب حلق القفا والزھد المکتبۃ الاسلامیہ بیروت]
مَردوں کو توبہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے اور عورتوں پر بھی توبہ لازم اوراحتیاطاًتجدیدنکاح کر لیں۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہ علیہ الرحمہ
فتویٰ تاج الشریعہ جلد دوم
https://t.me/masilsriya
مسلمان مرد وعورت ہندو کے ساتھ مل کر ہولی کھیلتے ہیں اگر وہ ہولی کھیلنے والی عورت شادی شدہ ہے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث سے جواب عنایت فرمائیں۔
مستفتی: متولی عبد الغنی
محلہ بہاری پور معماران مسجد سادھ والی بریلی شریف یوپی ۷؍مارچ ۱۹۷۷ء
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہولی ہندوؤ ں کا مذہبی تہوار ہے اور ان کا شعار خاص ہے جس سے ان کی پہچان ہوتی ہے تو ان کے ساتھ یہ بیہودہ رسم اور شعارِ شرک انجام دینا خود کو ہندو کہلانے پر رضا مندی ہوئی اور یہ عین کفر ہے۔ علماء فرماتے ہیں:
’’الرضا بالکفر کفر‘‘[البحرالرائق شرح کنزالدقائق،فصل فی الجزیۃ،مطبع دارالمعرفۃ بیروت،رد المحتار، ج۶، ص۳۳۶، کتاب الجہادمطلب فی تمیز اھل الذمۃ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت]
اور حدیث میں ہے:’’من تشبہ بقوم فھو منہم‘‘ یعنی ’’جو کسی قوم سے مشابہت کرے وہ ا نہیں میں سے ہے‘‘۔
[کنز العمال، کتاب الصحبۃ الباب الاول فی الترغیب فیھا،ج۹،ص۶ حدیث نمبر ۲۴۶۷۵، مطبع دارالکتب العلمیۃ بیروت؍ابودائود شریف، کتاب اللباس، باب لبس الشہرۃ، ص۵۵۹، مطبع اصح المطابع؍مصنف عبد الرزاق باب حلق القفا والزھد المکتبۃ الاسلامیہ بیروت]
مَردوں کو توبہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے اور عورتوں پر بھی توبہ لازم اوراحتیاطاًتجدیدنکاح کر لیں۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہ علیہ الرحمہ
فتویٰ تاج الشریعہ جلد دوم
https://t.me/masilsriya
👍2❤1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
دیوبندیوں کے عقائدِ کفریہ پر مطلع ہو کر جوانہیں کافر نہ سمجھے وہ خود کافر ہے
مـسـئلـہ: ۳۳۲
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
جو دیوبندی کو کافر نہ سمجھے، اس کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کو کافر کہنا کیسا ہے؟جو لوگ نہ مانیں اس بات کو کہ دیوبندی کافر ہے،ان کے بارے میں کیاحکم ہے ان سے میل ملاپ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ لوگ کہتے ہیں نرمی سے اس کے ساتھ برتائو کرو۔ (برائے کرم جواب ماہنامہ اعلیٰ حضرت میںشائع کردیں)۔
خاکپائے مفتی اعظم ہند سیّد بدر عالم نازاںؔ رضوی
https://t.me/masilsriya
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبندیوں کے عقائدِ کفریہ پر مطلع ہو کر جو انہیں کافر نہ سمجھے، خود کافر ہے۔ علمائے حرمین شریفین نے ان کے لئے فرمایا:
’’من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر‘‘
(حُسَامُ الْحَرمَیْن عَلٰی مَنْحر الْکُفْر وَالْمَیْن،عربی مع اردوترجمہ،صفحہ۱۹۸، مطبوعہ رضااکیڈمی،۵۲ڈونٹاڈاسٹریٹ،ممبئی۔ ایضاًصفحہ۱۹۸، مطبوعہ النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی،کچارشیدروڈ،بلال گنج،لاہور)
کٹّر پکے دیوبندیوں کے ساتھ سختی ہی لازم ہے،
قال تعالیٰ:{اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ} [سورۂ فتح۔ آیت-۲۹]
’’کافروں پر سخت ہیں‘‘۔(کنزالایمان)
جو بہک گیا ہو اوروہ فہمائش سے باز آجائے اس کے ساتھ فہمائش میں نرمی چاہیے۔کٹر دیوبندیوںسے نرمی کے جو قائل ہیں توبہ کریں۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضاخاں ازہری قادری
۱۴؍شوال المکرم۱۳۹۵ھ
فتویٰ تاج الشریعہ جلد دوم
مـسـئلـہ: ۳۳۲
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
جو دیوبندی کو کافر نہ سمجھے، اس کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کو کافر کہنا کیسا ہے؟جو لوگ نہ مانیں اس بات کو کہ دیوبندی کافر ہے،ان کے بارے میں کیاحکم ہے ان سے میل ملاپ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ لوگ کہتے ہیں نرمی سے اس کے ساتھ برتائو کرو۔ (برائے کرم جواب ماہنامہ اعلیٰ حضرت میںشائع کردیں)۔
خاکپائے مفتی اعظم ہند سیّد بدر عالم نازاںؔ رضوی
https://t.me/masilsriya
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبندیوں کے عقائدِ کفریہ پر مطلع ہو کر جو انہیں کافر نہ سمجھے، خود کافر ہے۔ علمائے حرمین شریفین نے ان کے لئے فرمایا:
’’من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر‘‘
(حُسَامُ الْحَرمَیْن عَلٰی مَنْحر الْکُفْر وَالْمَیْن،عربی مع اردوترجمہ،صفحہ۱۹۸، مطبوعہ رضااکیڈمی،۵۲ڈونٹاڈاسٹریٹ،ممبئی۔ ایضاًصفحہ۱۹۸، مطبوعہ النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی،کچارشیدروڈ،بلال گنج،لاہور)
کٹّر پکے دیوبندیوں کے ساتھ سختی ہی لازم ہے،
قال تعالیٰ:{اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ} [سورۂ فتح۔ آیت-۲۹]
’’کافروں پر سخت ہیں‘‘۔(کنزالایمان)
جو بہک گیا ہو اوروہ فہمائش سے باز آجائے اس کے ساتھ فہمائش میں نرمی چاہیے۔کٹر دیوبندیوںسے نرمی کے جو قائل ہیں توبہ کریں۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضاخاں ازہری قادری
۱۴؍شوال المکرم۱۳۹۵ھ
فتویٰ تاج الشریعہ جلد دوم
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-05-1444 ᴴ | 22-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1