🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ
انبیاء علیہم الصلوٰۃ واسلام معصوم ہیں مگر زید کا قول فلسفیانہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی خطاکار ہیں اور ثبوت کیلئے حضرت آدم علیہ السلام وغیرہ کا ذکر لاتا ہے۔ لہٰذا کیا درست ہے اگر خطا اور گناہ میں فرق ہے تو جواب دیں ۔ آیا اگر گناہ گار نہیں تو خطاکار ہیں اور دونوں نہیں ہیں ۔ تونص قطعی سے ثابت کیجئے۔
المستفتی:محمد مظہرالحق رضویؔ، خادم جامع مسجد، مسلم محلہ چاس، بوکارو، اسٹیل سیٹی
https://t.me/masilsriya
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملـک الوہابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زید انتہائی بے قید بلکہ کیدِ شیطانی کا صید ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ عظمت سے غافل و بے خبر ہے۔ خالق کے علاوہ کسی مخلوق کو سزاوار نہیں ہے کہ وہ کسی نبی کو عاصی و گنہ گار کہے۔ خالق عز و جل مالک و معبود ہے اور انبیاء علیہم السلام اس کے محبوب بندے ہیں ۔ مالک کو اختیار کلی ہے کہ جس بندے کو جس طرح چاہے خطاب فرمائے اور بندے کو اختیار ہے کہ عجز و بندگی کے جس انداز سے چاہے اپنے آپ کو مالک کی بارگاہ جلالت میں پیش کرے۔ کسی دوسرے کو اختیار نہیں ہے کہ ان کے درمیان موشگافی کرے۔ امت مسلمہ کا عقیدہ مسلم ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مطلقاً معصوم ہیں ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: انہم معصومون من الکفر قبل الوحی و بعدہ بالاجماع وکذا عن تعمد الکبائرعندالجمہور الخ۔ ’’بالاجماع انبیاء کرام قبل وحی اور بعد وحی کفر سے پاک ہوتے ہیں جمہور کے نزدیک عمداً کبائر سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔‘‘ اور فقہ اکبر میں ہے، الانبیاء کلھم معصومون الخ ’’ تمام انبیاء گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔‘‘ گنہگار و خطا کار اسے کہا جاتا ہے جو کسی کبائر کا مرتکب ہو یا صغائر پر اصرار کرتا ہو اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ من قال ان کل معصیۃ کفر وقال مع ذلک ان الانبیاء علیہم السلام عصو ا فکافر لانہ شاتم الخ ۔ ’’جس نے کہاکہ ہر معصیت گناہ ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ کہاکہ انبیاء کرام نے ارتکاب معصیت کی ہے تو کہنے والا کافر ہوجائے گا اس لئے کہ وہ شاتم ہے۔‘‘ (عالمگیری جلد:۲، ص:۸۸۴)
لہٰذا زید اپنے قول بدتر از بول سے توبہ استغفار کرے اور تجدید ایمان و نکاح بھی کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
الفقیر عبدالواجدقادری غفرلہ خادم دارالافتاء ادارۂ شرعیہ بہار، پٹنہ

فتویٰ ادارہ شرعیہ جلد دوم
واٹش ایپ گروپ لنک 👇🏻
https://chat.whatsapp.com/DfkFufhsmhpDRiWXgZZJPO
1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
سوال اذان قبر کس طرف رخ کر کے پڑھی جائے؟
ایک پیر کا کہنا ہے کہ اذان قبر کعبہ کی طرف منہ کر کے نہ پڑھی جائے بلکہ کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے پڑھی جائے ورنہ صاحب قبر کو سر اٹھا کر دیکھنا ہوگا تو صاحب قبر کو تکلیف ہوگی۔ فقیر نے جواب دیا کہ اذان کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے پڑھنا ضروری ہے لیکن پھر بھی اصرار ہے لہذا کیا حکم ہے؟
کیا اذان کے بعد جو صلاۃ پڑھی جاتی ہے وہ بھی خارج مسجد ہی پڑھی جائے، براے کرم فقیر کا خلجان دور کیجیے، کرم ہوگا۔
جمیل اختر، مقام رضا نگر، نئی مسجد بارہ، ضلع ،کانپور، یوپی
https://t.me/masilsriya
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مطلق اذان کی سنتوں میں یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر پڑھی جائے۔ اس لیے اذان قبر بھی قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھی جائے۔ جو احکام مطلق کے ہوتے ہیں وہ اس کے ہر ہر فرد کے لیے ہوتے ہیں۔
صلاۃ بھی اعلام غائبین کے لیے ہے اس لیے اسے بھی مسجد کے اندر پڑھنا ممنوع ہے اور مسجد کے باہر پڑھنا ضروری۔ واللہ تعالی اعلم

(فتویٰ حافظ ملت و فتویٰ اشرفیہ جلد پنجم)
1
Forwarded from 🌹مسائل شرعیه🌹 (N)
بے علم مسئلہ بتانا جائز نہیں!جھوٹے کو امام بنانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ:
(۱) جو شخص ان پڑھ ہو کر لوگوں کو مسائل بتائے اور کسی حق اور جائز مسئلہ کو اپنی ذلت و رسوائی ہونے کی وجہ سے تسلیم نہ کرے وہ شخص کیسا ہے؟
(۲) جو شخص کثرت سے جھوٹ بولے‘ اس کے پیچھے نماز پڑھنا‘ اس کو امام بنانا کیسا ہے؟جواب بالتفصیل عنایت فرمائیں۔فقط۔ والسلام
المستفتی: محمد زاہد الرحمن‘ محلہ گڑھیہ‘ متصل پنجابیان اسکول‘ بریلی
https://t.me/masilsriya
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) اَن پڑھ بے علم کو بغیر جانے مسئلہ شرعیہ بتانا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے: ایسے پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ ہاں‘ جو مسئلہ شرعیہ صحیح صحیح بتا سکتا ہے‘ اس کے بتانے میں کوئی حرج نہیں اور مسئلہ شرعیہ پر ضد کرنا حرام ہے‘ توبہ لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) گناہ ہے‘ اور نماز کا اعادہ واجب۔ ’’غنیہ‘‘ میں ہے:
’’لو قدموا فاسقا یاثمون‘‘[غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی‘ کتاب الصلوٰۃ‘ فصل فی الامامۃ‘ ص۵۱۳‘ سہیل اکیڈمی]
’’دُرِّمختار‘‘ میں ہے:’’کل صلٰوۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب اعادتہا‘‘۔
[الدرالمختار‘ ج۲‘ کتاب الصلوٰۃ‘ باب صفۃ الصلوٰۃ‘ ص۱۴۷‘ ۱۴۸‘ دارالکتب العلمیۃ‘ بیروت]
واللہ تعالٰی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہ علیہ الرحمہ
1