خدائی سلطنت:
جن دنوں سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار میں آیا کرتے تھے تو بلخ کا ایک امیر آدمی بھی وہیں رہتا تھا ۔ اُس نے سلطان ابراہیم کو پہچان لیا اور بادشاہی چھوڑ کر لکڑیاں بیچنے پر بڑی ملامت شروع کر دی ۔ حضرت سلطان ابراہیم کو اُس کی باتوں پر بڑا غصہ آیا۔ بیٹھے بیٹھے لکڑیوں کے گٹھے پر ہاتھ مارا تو وہ ساری سونے کی بن گئیں۔ سلطان ابراہیم نے یہ سارا سونا اُس کو بخش دیا، اور کہا کہ آج بلخ کی سلطنت کی یاد کی نحوست کی وجہ سے میری حلال کی روزی ضائع ہو گئی ۔
اسی طرح جن دنوں سلطان ابراہیم بلخ کی بادشاہت چھوڑ کر بیابان میں چلے گئے تو چند دن دریا کے کنارے پر قیام کیا وہاں امراء اور وزراء حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں سلطان ابراہیم اس وقت اپنی گدڑی سی رہے تھے آپ نے سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا کہ تم بڑے طاقتور حاکم ہو ۔ دنیا کے سارے اسباب تمہارے پاس موجود ہیں دریا سے میری سوئی نکال دو کوئی بھی سوئی نہ نکال سکا۔ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ اے دریا کی مچھلیو میری سوئی نکال کر لاؤ ۔ اُسی وقت ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے اورچاندی کی سوئیاں اٹھائے پانی کی سطح پر تیرنے لگیں ۔
ایک مچھلی کے منہ میں حضرت خواجہ کی سوئی بھی تھی، آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے سوئی لی اور تمام مچھلیوں کو رخصت کر دیا ۔ امراء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہماری سلطنت تمام جہاں پر ہے اب ہمیں بلخ کی سلطنت کی ضرورت نہیں ہے ۔
منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم بن ادھم قدس سرہ جعفر بن منصور کے پاس آئے جو عباسیوں میں دوسرا خلیفہ اور وارث ِتخت و تاج تھا ۔ خلیفہ نے بڑے جوش کے ساتھ استقبال کیا اور سلام کے بعد کہا ۔ اے ابو اسحٰق تمہارا کیا حال ہے خواجہ ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے امیر المومنین: " نرفع دنیانا بتمزیق دیننا ۔ فلا دیننا بقی ولا ما نرفع " ۔ یعنی ہم نے اپنا دین پست کر کے دنیا کو بلند کیا لیکن اب نہ تو دین باقی رہا اور نہ ہی وہ چیز ہی رہی جسے ہم نے بلند کیا تھا ۔ (بعینہ آج مسلمانوں کے وہی حالات ہیں دین سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف بھاگے تھے، دین کو تو پہلے ہی خیر آباد کہ دیا تھا، لیکن دنیا بھی ہاتھ میں نہ رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان کے خون سے سستی کوئی چیز نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگوگے، تو دنیا تم سے بھاگےگی، اور جب تم دنیا سے نفرت کروگے تو دنیا تمھارے پیچھے بھاگےگی ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کے واقعات ہمارے لئے درس عبرت ہیں، بڑے بڑے دنیا داروں کے نام و نشاں مٹ گئے اور آپ کا نام ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہےگا) ـ
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ ۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ وفات اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اصح قول کے مطابق 26 جمادی الاول 161ھ (بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد:1، ص:354 جامعہ پنجاب لاہور) کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزار پُر انوار کے قریب زیارت گاہِ خاص عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ سیر الاولیاء ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-bin-adham
جن دنوں سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار میں آیا کرتے تھے تو بلخ کا ایک امیر آدمی بھی وہیں رہتا تھا ۔ اُس نے سلطان ابراہیم کو پہچان لیا اور بادشاہی چھوڑ کر لکڑیاں بیچنے پر بڑی ملامت شروع کر دی ۔ حضرت سلطان ابراہیم کو اُس کی باتوں پر بڑا غصہ آیا۔ بیٹھے بیٹھے لکڑیوں کے گٹھے پر ہاتھ مارا تو وہ ساری سونے کی بن گئیں۔ سلطان ابراہیم نے یہ سارا سونا اُس کو بخش دیا، اور کہا کہ آج بلخ کی سلطنت کی یاد کی نحوست کی وجہ سے میری حلال کی روزی ضائع ہو گئی ۔
اسی طرح جن دنوں سلطان ابراہیم بلخ کی بادشاہت چھوڑ کر بیابان میں چلے گئے تو چند دن دریا کے کنارے پر قیام کیا وہاں امراء اور وزراء حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں سلطان ابراہیم اس وقت اپنی گدڑی سی رہے تھے آپ نے سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا کہ تم بڑے طاقتور حاکم ہو ۔ دنیا کے سارے اسباب تمہارے پاس موجود ہیں دریا سے میری سوئی نکال دو کوئی بھی سوئی نہ نکال سکا۔ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ اے دریا کی مچھلیو میری سوئی نکال کر لاؤ ۔ اُسی وقت ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے اورچاندی کی سوئیاں اٹھائے پانی کی سطح پر تیرنے لگیں ۔
ایک مچھلی کے منہ میں حضرت خواجہ کی سوئی بھی تھی، آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے سوئی لی اور تمام مچھلیوں کو رخصت کر دیا ۔ امراء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہماری سلطنت تمام جہاں پر ہے اب ہمیں بلخ کی سلطنت کی ضرورت نہیں ہے ۔
منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم بن ادھم قدس سرہ جعفر بن منصور کے پاس آئے جو عباسیوں میں دوسرا خلیفہ اور وارث ِتخت و تاج تھا ۔ خلیفہ نے بڑے جوش کے ساتھ استقبال کیا اور سلام کے بعد کہا ۔ اے ابو اسحٰق تمہارا کیا حال ہے خواجہ ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے امیر المومنین: " نرفع دنیانا بتمزیق دیننا ۔ فلا دیننا بقی ولا ما نرفع " ۔ یعنی ہم نے اپنا دین پست کر کے دنیا کو بلند کیا لیکن اب نہ تو دین باقی رہا اور نہ ہی وہ چیز ہی رہی جسے ہم نے بلند کیا تھا ۔ (بعینہ آج مسلمانوں کے وہی حالات ہیں دین سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف بھاگے تھے، دین کو تو پہلے ہی خیر آباد کہ دیا تھا، لیکن دنیا بھی ہاتھ میں نہ رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان کے خون سے سستی کوئی چیز نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگوگے، تو دنیا تم سے بھاگےگی، اور جب تم دنیا سے نفرت کروگے تو دنیا تمھارے پیچھے بھاگےگی ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کے واقعات ہمارے لئے درس عبرت ہیں، بڑے بڑے دنیا داروں کے نام و نشاں مٹ گئے اور آپ کا نام ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہےگا) ـ
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ ۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ وفات اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اصح قول کے مطابق 26 جمادی الاول 161ھ (بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد:1، ص:354 جامعہ پنجاب لاہور) کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزار پُر انوار کے قریب زیارت گاہِ خاص عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ سیر الاولیاء ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-bin-adham
❤1
صوفی باصفا مولانا محمد حبیب رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:مولانامحمدحبیب رضاقادری۔لقب:نوردیدہ مفتی اعظم ہند،صوفی باصفا۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: نور دیدۂ مفتی اعظم عالم باعمل مولانا صوفی محمد حبیب رضا قادری رضوی بن مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بریلوی ،برادراعلی ٰحضرت(علیہم الرحمہ )
تاریخ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت ماہ ِربیع الثانی1352ھ،مطابق اگست 1933ء کو محلہ "کانکر ٹولہ "پرانا شہر بریلی شریف میں ہوئی۔
تحصیل علم: حضرت مولانا حبیب رضا نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدہ ماجدہ اور والد ِبزرگوار سے حاصل کی ۔فارسی تعلیم کے لیے دارالعلوم منظر اسلام بریلی میں داخلہ لیا اور عربی فارسی کی اعلیٰ کتابیں پڑھیں۔ سلوک اور تصوف میں والد ماجد سے اکتساب فیض کیا۔ وقتاً وقتاً مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری کی خدمت میں حاضر ہوکر فیض ظاہری وباطنی سے مالا مال ہوئے۔ حضور مفتی اعظم کے وصال تک انہیں کی خدمت میں رہ کر نوری علم، نوری زہد، نوری تقویٰ سےسر شار ہوتے رہے۔ دارالعلوم منظر اسلام سے فراغت ہوئی۔
اساتذہ کرام:۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی۔۲۔ حکیم العلماء مولانا حسنین رضا خاں رضوی بریلوی۔۳۔ صدر العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی۔۴۔ سید الاتقیاء مولانا تحسین رضا قادری بریلوی۵۔ حافظ انعام اللہ رضوی سابق مدرس شعبۂ فارسی منظر اسلام ۔۶۔ حضرت مولانا سید احمد علی رام پوری۔۷۔ حضرت مولانا غلام یٰسین پور نوی۔(علیہم الرحمہ)
بیعت وخلافت:مولانا صوفی حبیب رضا نے 25صفر المظفر 1365ھ کو عرس رضوی بریلی میں حضور مفتی اعظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور 15صفر 1396ھ کو مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔
سیرت وخصائص:عالم باعمل،صوفی باصفا،پیکرصدق وصفا،پروردۂ نگاہ ِ شاہ مصطفیٰ رضاخان حضرت علامہ مولانا محمدحبیب رضا قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ۔قدرت نے آپ علیہ الرحمہ کوحسن معنوی کےساتھ حسن ظاہری سےبھی خوب نوازتھا۔پکارنگ،گھنی داڑھی قدرے سفید،میانہ قد،آنکھوں پرکبھی کبھی عینک،مسکراتاچہرہ پرمروت وشرافت کاغازہ نمایاں،کلی دارکرتا،بڑی مہری کا علی گڑھی پاجامہ،دو پلی ٹوپی،کبھی کبھی شیروانی بھی زیب تن فرماتے تھے۔ آپ کی شخصیت میں مکمل طور پر بزرگانہ کشش پائی جاتی تھی۔
حضور مفتی اعظم اورآپ کےوالدگرامی مولانا حسنین رضا علیہما الرحمہ ہم عمرتھے۔دونوں کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوئی اور دونوں میں برادرانہ ودوستانہ تعلقات تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے نہایت محبت کے ساتھ ملتے۔ ایسی محبت کہ جس کی نظیر اس زمانے میں حقیقی بھائیوں میں بھی نہیں ملتی۔ ہم عمر ہونے کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا بہت احترام کرتےجس کو دیکھنے والے حیرت کرتے تھے۔ مولانا حبیب رضا بریلوی کے نانا جناب عبدالغنی خاں سب انسکپٹر پولیس بدایوں تھے۔ جو محکمہ پولیس کی ملازمت کے باوجود پابند شرع تھے۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ جس کسی کے یہاں تفتیش کے لیے جاتے اُس کے یہاں کا پانی بھی پینا گوارہ نہ فرماتے۔
خدمات دینیہ اور فتویٰ نویسی:مولانا صوفی حبیب رضا قادری نہایت سادگی پسند،خوش اخلاق،کم گو،اور فقیہ العصر تھے۔باضابطہ طور پر کسی مدرسہ میں درس و تدریس کا موقع نہیں ملا۔ بعد فراغت آپ حضور اعظم قدس سرہٗ کے دولت کدہ پر رہتے اور آئے ہوئے ملک اور بیرون ملک کے فتاویٰ اور خطوط کے جواب عنایت فرماتے۔نیز حضور مفتی اعظم کے اکثر فتاویٰ کی نقل بھی آپ کے ذمہ تھی۔ اس نقل افتاء نے مولانا صوفی حبیب رضا کو ایک ماہر جزئیات فقہ اور متبحر عالم دین بنادیا۔ حضور مفتی اعظم کی صحبت کیمیا اثر نے وہ گل کھلائے جو کسی شیخ کامل کی بارگاہ میں برسہا بس رہنے سے بھی نہیں مل سکتا تھا ۔مولانا حبیب رضا قادری نے 1978ء میں فتویٰ نویسی کا آغاز کیا اور اصلاح حضور مفتی اعظم سے لیتے تھے۔مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال کے بعد جانشین مفتی اعظم ،تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری القادری دامت برکاتہم القدسیہ نے مرکزی دارلافتاء کی بنیاد رکھی، اس میں خود بھی جانشین مفتی اعظم فتوی ٰ تحریر فرماتے، اور مولانا حبیب رضا بھی فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیتےتھے، اور ساتھ ہی ساتھ "ادارہ سنی دنیا "کے اہتمام وانتظام کے فرائض بھی انجام دیے۔ آپ کی صلاحیتوں نے اس ادارہ میں چار چاند لگادیئے۔
حضور مفتی اعظم کی محبت: حضرت مولانا حبیب رضا بریلوی کے گھر سے مفتی اعظم کو جو تعلق تھا۔ اس کو دیکھنے والے آج بھی بکثرت موجود ہیں۔ پُرانا شہر بریلی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی بستی ہے۔ جو کئی محلوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مفتی اعظم قدس سرہٗ اس پوری بستی میں کہیں بھی تشریف لاتے تو مولانا حبیب رضا کے گھر ضرور تشریف لاتے، آپ کی شادی حضور مفتی اعظم کی نواسی سے ہوئی اور یہ بھی خوش نصیبی کہ حضرت کےدولت کدہ سے ہوئی۔اسی طرح حضورمفتی اعظم آپ کواپنابیٹاسمجھتے،اوربیٹوں والاہی پیاردیتےتھے۔ایک مرتبہ
نام ونسب: اسم گرامی:مولانامحمدحبیب رضاقادری۔لقب:نوردیدہ مفتی اعظم ہند،صوفی باصفا۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: نور دیدۂ مفتی اعظم عالم باعمل مولانا صوفی محمد حبیب رضا قادری رضوی بن مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بریلوی ،برادراعلی ٰحضرت(علیہم الرحمہ )
تاریخ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت ماہ ِربیع الثانی1352ھ،مطابق اگست 1933ء کو محلہ "کانکر ٹولہ "پرانا شہر بریلی شریف میں ہوئی۔
تحصیل علم: حضرت مولانا حبیب رضا نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدہ ماجدہ اور والد ِبزرگوار سے حاصل کی ۔فارسی تعلیم کے لیے دارالعلوم منظر اسلام بریلی میں داخلہ لیا اور عربی فارسی کی اعلیٰ کتابیں پڑھیں۔ سلوک اور تصوف میں والد ماجد سے اکتساب فیض کیا۔ وقتاً وقتاً مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری کی خدمت میں حاضر ہوکر فیض ظاہری وباطنی سے مالا مال ہوئے۔ حضور مفتی اعظم کے وصال تک انہیں کی خدمت میں رہ کر نوری علم، نوری زہد، نوری تقویٰ سےسر شار ہوتے رہے۔ دارالعلوم منظر اسلام سے فراغت ہوئی۔
اساتذہ کرام:۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی۔۲۔ حکیم العلماء مولانا حسنین رضا خاں رضوی بریلوی۔۳۔ صدر العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی۔۴۔ سید الاتقیاء مولانا تحسین رضا قادری بریلوی۵۔ حافظ انعام اللہ رضوی سابق مدرس شعبۂ فارسی منظر اسلام ۔۶۔ حضرت مولانا سید احمد علی رام پوری۔۷۔ حضرت مولانا غلام یٰسین پور نوی۔(علیہم الرحمہ)
بیعت وخلافت:مولانا صوفی حبیب رضا نے 25صفر المظفر 1365ھ کو عرس رضوی بریلی میں حضور مفتی اعظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور 15صفر 1396ھ کو مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔
سیرت وخصائص:عالم باعمل،صوفی باصفا،پیکرصدق وصفا،پروردۂ نگاہ ِ شاہ مصطفیٰ رضاخان حضرت علامہ مولانا محمدحبیب رضا قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ۔قدرت نے آپ علیہ الرحمہ کوحسن معنوی کےساتھ حسن ظاہری سےبھی خوب نوازتھا۔پکارنگ،گھنی داڑھی قدرے سفید،میانہ قد،آنکھوں پرکبھی کبھی عینک،مسکراتاچہرہ پرمروت وشرافت کاغازہ نمایاں،کلی دارکرتا،بڑی مہری کا علی گڑھی پاجامہ،دو پلی ٹوپی،کبھی کبھی شیروانی بھی زیب تن فرماتے تھے۔ آپ کی شخصیت میں مکمل طور پر بزرگانہ کشش پائی جاتی تھی۔
حضور مفتی اعظم اورآپ کےوالدگرامی مولانا حسنین رضا علیہما الرحمہ ہم عمرتھے۔دونوں کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوئی اور دونوں میں برادرانہ ودوستانہ تعلقات تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے نہایت محبت کے ساتھ ملتے۔ ایسی محبت کہ جس کی نظیر اس زمانے میں حقیقی بھائیوں میں بھی نہیں ملتی۔ ہم عمر ہونے کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا بہت احترام کرتےجس کو دیکھنے والے حیرت کرتے تھے۔ مولانا حبیب رضا بریلوی کے نانا جناب عبدالغنی خاں سب انسکپٹر پولیس بدایوں تھے۔ جو محکمہ پولیس کی ملازمت کے باوجود پابند شرع تھے۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ جس کسی کے یہاں تفتیش کے لیے جاتے اُس کے یہاں کا پانی بھی پینا گوارہ نہ فرماتے۔
خدمات دینیہ اور فتویٰ نویسی:مولانا صوفی حبیب رضا قادری نہایت سادگی پسند،خوش اخلاق،کم گو،اور فقیہ العصر تھے۔باضابطہ طور پر کسی مدرسہ میں درس و تدریس کا موقع نہیں ملا۔ بعد فراغت آپ حضور اعظم قدس سرہٗ کے دولت کدہ پر رہتے اور آئے ہوئے ملک اور بیرون ملک کے فتاویٰ اور خطوط کے جواب عنایت فرماتے۔نیز حضور مفتی اعظم کے اکثر فتاویٰ کی نقل بھی آپ کے ذمہ تھی۔ اس نقل افتاء نے مولانا صوفی حبیب رضا کو ایک ماہر جزئیات فقہ اور متبحر عالم دین بنادیا۔ حضور مفتی اعظم کی صحبت کیمیا اثر نے وہ گل کھلائے جو کسی شیخ کامل کی بارگاہ میں برسہا بس رہنے سے بھی نہیں مل سکتا تھا ۔مولانا حبیب رضا قادری نے 1978ء میں فتویٰ نویسی کا آغاز کیا اور اصلاح حضور مفتی اعظم سے لیتے تھے۔مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال کے بعد جانشین مفتی اعظم ،تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری القادری دامت برکاتہم القدسیہ نے مرکزی دارلافتاء کی بنیاد رکھی، اس میں خود بھی جانشین مفتی اعظم فتوی ٰ تحریر فرماتے، اور مولانا حبیب رضا بھی فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیتےتھے، اور ساتھ ہی ساتھ "ادارہ سنی دنیا "کے اہتمام وانتظام کے فرائض بھی انجام دیے۔ آپ کی صلاحیتوں نے اس ادارہ میں چار چاند لگادیئے۔
حضور مفتی اعظم کی محبت: حضرت مولانا حبیب رضا بریلوی کے گھر سے مفتی اعظم کو جو تعلق تھا۔ اس کو دیکھنے والے آج بھی بکثرت موجود ہیں۔ پُرانا شہر بریلی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی بستی ہے۔ جو کئی محلوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مفتی اعظم قدس سرہٗ اس پوری بستی میں کہیں بھی تشریف لاتے تو مولانا حبیب رضا کے گھر ضرور تشریف لاتے، آپ کی شادی حضور مفتی اعظم کی نواسی سے ہوئی اور یہ بھی خوش نصیبی کہ حضرت کےدولت کدہ سے ہوئی۔اسی طرح حضورمفتی اعظم آپ کواپنابیٹاسمجھتے،اوربیٹوں والاہی پیاردیتےتھے۔ایک مرتبہ
❤1
فرمایا:اللہ جل شانہ نے مجھےایک بیٹاعطافرمایاتھا مگروہ بچپن میں ہی چلاگیا۔اگرخداکسی کوبیٹادےتوحبیب میاں جیسادے۔نیز خطوط جو حضور مفتی اعظم نے مولانا حبیب رضا کے نام مختلف سفروں میں لکھے ان سے بھی آپ سے محبت وشفقت کا اظہار ہوتا ہے۔
ایک خط میں حضور مفتی اعظم تحریر فرماتےہیں:
بر خوردارنور الابصار حبیب میاں سلمہٗ الرحمٰن
وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
طالب خیر بحمدہٖ تعالیٰ مع الخیر و العافیہ ہے۔ مولیٰ تعالیٰ وہاں بھی تم سب کو بخیر و عافیت رکھے، تمہارے والدین کا سایہ رحمت تمہارے سروں پر باامن و عافیت رکھے، تمہاری والدہ کو صحت وطاقت و قوت عطا فرمائے۔ آمین ۔(فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہٗ)
حضور مفتی اعظم کی وصیتیں:
مولانا حبیب رضا علیہ الرحمہ نےحضور مفتی اعظم کے روزو شب دیکھے، خلوت و جلوت میں ساتھ رہے۔ اس لیے ان کا یہ عینی مشاہدہ ہے، جسے غور سے پڑھیے لکھتےہیں:"حضور مفتی اعظم احکام شریعت پر عمل کی تاکید فرماتے تھے۔ نماز،روزہ، ، حج، زکوٰۃ کے علاوہ داڑھی کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے۔ مسلمانوں کو اسلامی لباس میں دیکھنا پسند کرتے جس سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہو ۔قہقہہ لگاکر ہنسنا، گلے کے بٹن کھُلے رکھنا، آستین چڑھی ہونا، مغرورانہ انداز میں بیٹھنا ،مغرورانہ انداز سے چلنا ناپسند فرماتے، ٹائی باندھنا سخت نا پسند تھا۔ انگریزوں کے سخت مخالف تھے۔ قریب بیٹھے ہوئے مسلمان کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا اور پاؤں پھیلانا نا پسند تھا۔ جلسۂ وعظ یا محفل میلاد وغیرہ کے علاوہ اگر کوئی دنیاوی پروگرام کرتا تو فوراً ٹوکتے۔ عورتوں کا بے پردہ گھومنا، بلکہ بلا کسی خاص حاجت کے گھر سے نکلنا سخت نا پسند تھا۔ کچہری کو عدالت،سکھ کو سردار،گورنمنٹ کو سرکار کہنے سے منع فرماتے۔(مفتیِ اعظم اور ان کےخلفاء،ص،318)
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 26/جمادی الاولی 1335ھ،مطابق مارچ/2014ءکوہوا۔مزارشریف بریلی (انڈیا)میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم اوران کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-habib-raza-qadri-rizvi
ایک خط میں حضور مفتی اعظم تحریر فرماتےہیں:
بر خوردارنور الابصار حبیب میاں سلمہٗ الرحمٰن
وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
طالب خیر بحمدہٖ تعالیٰ مع الخیر و العافیہ ہے۔ مولیٰ تعالیٰ وہاں بھی تم سب کو بخیر و عافیت رکھے، تمہارے والدین کا سایہ رحمت تمہارے سروں پر باامن و عافیت رکھے، تمہاری والدہ کو صحت وطاقت و قوت عطا فرمائے۔ آمین ۔(فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہٗ)
حضور مفتی اعظم کی وصیتیں:
مولانا حبیب رضا علیہ الرحمہ نےحضور مفتی اعظم کے روزو شب دیکھے، خلوت و جلوت میں ساتھ رہے۔ اس لیے ان کا یہ عینی مشاہدہ ہے، جسے غور سے پڑھیے لکھتےہیں:"حضور مفتی اعظم احکام شریعت پر عمل کی تاکید فرماتے تھے۔ نماز،روزہ، ، حج، زکوٰۃ کے علاوہ داڑھی کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے۔ مسلمانوں کو اسلامی لباس میں دیکھنا پسند کرتے جس سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہو ۔قہقہہ لگاکر ہنسنا، گلے کے بٹن کھُلے رکھنا، آستین چڑھی ہونا، مغرورانہ انداز میں بیٹھنا ،مغرورانہ انداز سے چلنا ناپسند فرماتے، ٹائی باندھنا سخت نا پسند تھا۔ انگریزوں کے سخت مخالف تھے۔ قریب بیٹھے ہوئے مسلمان کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا اور پاؤں پھیلانا نا پسند تھا۔ جلسۂ وعظ یا محفل میلاد وغیرہ کے علاوہ اگر کوئی دنیاوی پروگرام کرتا تو فوراً ٹوکتے۔ عورتوں کا بے پردہ گھومنا، بلکہ بلا کسی خاص حاجت کے گھر سے نکلنا سخت نا پسند تھا۔ کچہری کو عدالت،سکھ کو سردار،گورنمنٹ کو سرکار کہنے سے منع فرماتے۔(مفتیِ اعظم اور ان کےخلفاء،ص،318)
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 26/جمادی الاولی 1335ھ،مطابق مارچ/2014ءکوہوا۔مزارشریف بریلی (انڈیا)میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم اوران کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-habib-raza-qadri-rizvi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-05-1444 ᴴ | 20-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ قبر کے اندر چٹائی وغیرہ بچھانا ... کیا خنزیر کا نام لینے سے زبان ناپاک
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1444 ᴴ | 21-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1