Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
25-05-1444 ᴴ | 20-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from چینل صدائے حق
دیوبندیت کی مٹی پلید کرنے والا شیطان
ندوی پاخانی ابلیسی خناسی کے لئے آئینہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
تختِ ابلیس شب وروز لگانے والے
سن اوشیطان! او پاخانہ کو کھانےوالے
تیری اوقات تجھے ہم ہیں بتانے والے
سن اوشیطان! او پاخانہ کو کھانےوالے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
میرے اشعار سے ایسے نہ تو جل بُھن ندوی
جو حقیقت ہے بتاتا ہوں وہی سن ندوی
تونے جانا نہیں تہذیب و تمدن ندوی
تیری باتوں میں تبھی تو ہے تعفن ندوی
شاعری آتی نہیں تجھ کو تو کرتا ہے کیوں؟
ربِّ قہّار سے ندوی نہیں ڈرتا ہے کیوں؟
رب سے ڈر ہم پہ او الزام لگانے والے
سن او شیطان ! اوپاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر نوشتہ ترا، خود تیری ہی تذلیل کرے
جانے کن جہلا نے "علامہ" بنایا ہے تجھے
تیری اوقات کہاں،ٹھیک سے اشعار لکھے
بحرو اوزان سے آزاد ہیں اشعار ترے
بدشعوری تیری،ظاہر ہےعیاں ہے اس سے
سب کہیں گے یہی، اشعار دکھالو جس سے
خود کو ذلت کے گڑھے میں او گرانے والے
سن او شیطان! او پاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
عقل تجھ میں نہ رہی کھا کے غراب اے شیطاں
اس سے تم " دیو" کو ملتا ہے ثواب اے شیطاں
ترے اشعار ہیں تجھ پہ ہی عتاب اے شیطاں
میری کس بات کا اس میں ہے جواب اے شیطاں
شعر گندم ہے اگر پھر ہے جواب چنا
خود کو اے نجدی وہابی نہ یوں بدفہم بنا
ورنہ تھوکیں گے تجھے تیرے گھرانے والے
سن او شیطان! او پاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئینہ میں نے دکھایا تو تڑپتا ہے کیوں
دیو کا بندہ تو رفعتؔ سے الجھتا ہے کیوں
میرے اشعار میں تغییر تو کرتا ہے کیوں
شاعری آتی نہیں ، پھر تو ٹپکتا ہے کیوں
سچ ہے، مردہ تیرا احساس ہے شیطاں ندوی
تو ہی ابلیس ہے خناس ہے شیطاں ندوی
جانتے ہیں یہ حقیقت بھی زمانے والے
سن او شیطان! او پاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
از قلم ✍ ............................... رفعتؔ برکاتی
ندوی پاخانی ابلیسی خناسی کے لئے آئینہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
تختِ ابلیس شب وروز لگانے والے
سن اوشیطان! او پاخانہ کو کھانےوالے
تیری اوقات تجھے ہم ہیں بتانے والے
سن اوشیطان! او پاخانہ کو کھانےوالے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
میرے اشعار سے ایسے نہ تو جل بُھن ندوی
جو حقیقت ہے بتاتا ہوں وہی سن ندوی
تونے جانا نہیں تہذیب و تمدن ندوی
تیری باتوں میں تبھی تو ہے تعفن ندوی
شاعری آتی نہیں تجھ کو تو کرتا ہے کیوں؟
ربِّ قہّار سے ندوی نہیں ڈرتا ہے کیوں؟
رب سے ڈر ہم پہ او الزام لگانے والے
سن او شیطان ! اوپاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر نوشتہ ترا، خود تیری ہی تذلیل کرے
جانے کن جہلا نے "علامہ" بنایا ہے تجھے
تیری اوقات کہاں،ٹھیک سے اشعار لکھے
بحرو اوزان سے آزاد ہیں اشعار ترے
بدشعوری تیری،ظاہر ہےعیاں ہے اس سے
سب کہیں گے یہی، اشعار دکھالو جس سے
خود کو ذلت کے گڑھے میں او گرانے والے
سن او شیطان! او پاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
عقل تجھ میں نہ رہی کھا کے غراب اے شیطاں
اس سے تم " دیو" کو ملتا ہے ثواب اے شیطاں
ترے اشعار ہیں تجھ پہ ہی عتاب اے شیطاں
میری کس بات کا اس میں ہے جواب اے شیطاں
شعر گندم ہے اگر پھر ہے جواب چنا
خود کو اے نجدی وہابی نہ یوں بدفہم بنا
ورنہ تھوکیں گے تجھے تیرے گھرانے والے
سن او شیطان! او پاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئینہ میں نے دکھایا تو تڑپتا ہے کیوں
دیو کا بندہ تو رفعتؔ سے الجھتا ہے کیوں
میرے اشعار میں تغییر تو کرتا ہے کیوں
شاعری آتی نہیں ، پھر تو ٹپکتا ہے کیوں
سچ ہے، مردہ تیرا احساس ہے شیطاں ندوی
تو ہی ابلیس ہے خناس ہے شیطاں ندوی
جانتے ہیں یہ حقیقت بھی زمانے والے
سن او شیطان! او پاخانہ کو کھانے والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
از قلم ✍ ............................... رفعتؔ برکاتی
❤1
Forwarded from چینل صدائے حق
*وہابی! صحابی کے راستے پر نہیں ہیں*
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ شفا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے ملتی ہے چنانچہ ایک صحابی رسول آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں خارش کی شکایت لے کر حاضر ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک پھیر دیا ہمیشہ سے ٹھیک ہوگیے اور جسم مبارک سے خوشبو آنے لگی
❌وہابی کا عقیدہ ہے کہ جو یہ مانے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم شفا دے سکتے ہیں وہ مشرک ہے
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ خیبر کے موقع پر آقا نے فرمایا *"کل جھنڈا اسے دوں گا جو اللہ اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا"*
❌ وہابی کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبی کو غیب کی کیا خبر وہ تو پیٹھ پیچھے کی خبر نہیں رکھتے معاذ اللہ
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم دور و نزدیک کی آواز سنتے ہیں چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اچانک ایک آہٹ سنی آپ نے فرمایا یہ وہ پتھر ہے جسے جہنم میں پھینکا گیا تھا آج وہ تہہ میں پہنچا ہے
❌ وہابی کا عقیدہ ہے معاذ اللہ وہ دور کی آواز نہیں سنتے
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کون کب اور کہاں مرے گا جانتے ہیں چنانچہ جنگ بدر میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے لکیر کھینچ کر فرمایا یہاں فلاں مرے گا اور یہاں فلاں
❌ وہابی کا عقیدہ ہے معاذ اللہ حضور کو اپنی عاقبت کی بھی خبر نہیں.
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عطا سے روز اول سے روز آخر تک سب جانتے ہیں چنانچہ ایک بار آپ کے دائیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور بائیں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا ہم یوں ہی قیامت کے دن اٹھیں گے
❌ وہابی کا عقیدہ ہے کہ حضور ہماری طرح بشر ہیں انہیں غیب کا علم نہیں
مسلمانوں اب آپ کو اختیار ہے صحابی والا عقیدہ اپناو یا وہابی والا ہم اہلسنت و جماعت صحابہ والے عقیدے پر ہیں الحمدللہ
سلسلہ نمبر2
📝حسن نوری گونڈوی
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ شفا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے ملتی ہے چنانچہ ایک صحابی رسول آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں خارش کی شکایت لے کر حاضر ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک پھیر دیا ہمیشہ سے ٹھیک ہوگیے اور جسم مبارک سے خوشبو آنے لگی
❌وہابی کا عقیدہ ہے کہ جو یہ مانے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم شفا دے سکتے ہیں وہ مشرک ہے
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ خیبر کے موقع پر آقا نے فرمایا *"کل جھنڈا اسے دوں گا جو اللہ اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا"*
❌ وہابی کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبی کو غیب کی کیا خبر وہ تو پیٹھ پیچھے کی خبر نہیں رکھتے معاذ اللہ
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم دور و نزدیک کی آواز سنتے ہیں چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اچانک ایک آہٹ سنی آپ نے فرمایا یہ وہ پتھر ہے جسے جہنم میں پھینکا گیا تھا آج وہ تہہ میں پہنچا ہے
❌ وہابی کا عقیدہ ہے معاذ اللہ وہ دور کی آواز نہیں سنتے
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کون کب اور کہاں مرے گا جانتے ہیں چنانچہ جنگ بدر میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے لکیر کھینچ کر فرمایا یہاں فلاں مرے گا اور یہاں فلاں
❌ وہابی کا عقیدہ ہے معاذ اللہ حضور کو اپنی عاقبت کی بھی خبر نہیں.
✅ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عطا سے روز اول سے روز آخر تک سب جانتے ہیں چنانچہ ایک بار آپ کے دائیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور بائیں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا ہم یوں ہی قیامت کے دن اٹھیں گے
❌ وہابی کا عقیدہ ہے کہ حضور ہماری طرح بشر ہیں انہیں غیب کا علم نہیں
مسلمانوں اب آپ کو اختیار ہے صحابی والا عقیدہ اپناو یا وہابی والا ہم اہلسنت و جماعت صحابہ والے عقیدے پر ہیں الحمدللہ
سلسلہ نمبر2
📝حسن نوری گونڈوی
❤2
*عورتوں کے متعلق اہم مسائل*
بہار شریعت کی روشنی میں
گھر میں چند عورتیں ہوں تو بھائی یا والد،شوہر وغیرہ امامت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ 👇🏻
جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں، اس میں مرد کو ان کی امامت ناجائز ہے، *ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں*
تکبیر تشریق عورتوں پر کب واجب ہے اور کب نہیں؟؟ 👇🏻👇🏻
"تکبیر تشریق عورتوں پر واجب نہیں اگرچہ جماعت سے نماز پڑھی، ہاں اگر مرد کے پیچھے عورت نے پڑھی اور امام نے اس کے امام ہونے کی نیت کی تو عورت پر بھی واجب ہے مگر آہستہ کہے۔
یہ کیسے معلوم ہو کہ لڑکا یا لڑکی حد شہوت کو پہنچ گیے ہیں؟؟ 👇🏻
"حد شہوت لڑکوں میں یہ کہ اس کا دل عورتوں کی طرف رغبت کرے اور لڑکی میں یہ کہ اسے دیکھ کر مرد کو اس کی طرف میلان پیدا ہو اور اس کااندازہ لڑکوں میں بارہ سال اور لڑکیوں میں نو برس ہے
خواتین طواف کعبہ کس وقت کریں تو زیادہ بہتر ہے؟؟ 👇🏻👇🏻
" زیادہ احتیاط یہ ہے کہ عورتوں کو طواف کے لیے شب کے دس گیارہ بجے جب ہجوم کم ہولے جائیں۔ یوہیں صفا و مروہ کے درمیان سعی کے لیے بھی۔
کسی نکاح میں گواہ ایک ہی مرد ہو تو کیا عورت گواہ بن سکتی ہے یا نہیں؟؟ 👇🏻👇🏻
" صرف عورتوں یا خنثے کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا، جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو۔
اگر گھر میں موجود خواتین جماعت کریں تو امام کہاں کھڑی ہو؟؟ 👇🏻👇🏻
عورتوں کے امام کے ليے مرد ہونا شرط نہیں، عورت بھی امام ہو سکتی ہے، اگرچہ مکروہ ہے۔
جاری ہے.......
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
بہار شریعت کی روشنی میں
گھر میں چند عورتیں ہوں تو بھائی یا والد،شوہر وغیرہ امامت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ 👇🏻
جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں، اس میں مرد کو ان کی امامت ناجائز ہے، *ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں*
تکبیر تشریق عورتوں پر کب واجب ہے اور کب نہیں؟؟ 👇🏻👇🏻
"تکبیر تشریق عورتوں پر واجب نہیں اگرچہ جماعت سے نماز پڑھی، ہاں اگر مرد کے پیچھے عورت نے پڑھی اور امام نے اس کے امام ہونے کی نیت کی تو عورت پر بھی واجب ہے مگر آہستہ کہے۔
یہ کیسے معلوم ہو کہ لڑکا یا لڑکی حد شہوت کو پہنچ گیے ہیں؟؟ 👇🏻
"حد شہوت لڑکوں میں یہ کہ اس کا دل عورتوں کی طرف رغبت کرے اور لڑکی میں یہ کہ اسے دیکھ کر مرد کو اس کی طرف میلان پیدا ہو اور اس کااندازہ لڑکوں میں بارہ سال اور لڑکیوں میں نو برس ہے
خواتین طواف کعبہ کس وقت کریں تو زیادہ بہتر ہے؟؟ 👇🏻👇🏻
" زیادہ احتیاط یہ ہے کہ عورتوں کو طواف کے لیے شب کے دس گیارہ بجے جب ہجوم کم ہولے جائیں۔ یوہیں صفا و مروہ کے درمیان سعی کے لیے بھی۔
کسی نکاح میں گواہ ایک ہی مرد ہو تو کیا عورت گواہ بن سکتی ہے یا نہیں؟؟ 👇🏻👇🏻
" صرف عورتوں یا خنثے کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا، جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو۔
اگر گھر میں موجود خواتین جماعت کریں تو امام کہاں کھڑی ہو؟؟ 👇🏻👇🏻
عورتوں کے امام کے ليے مرد ہونا شرط نہیں، عورت بھی امام ہو سکتی ہے، اگرچہ مکروہ ہے۔
جاری ہے.......
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
❤1👍1
*حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسماء مبارکہ میں سے ایک اسم شریف '' اول ہے*
قرآن شریف میں ہے
*ھو الاول والاخر*
تمامی مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں اول سے مراد جان کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں
لیکن یہاں اول سے مراد کیا ہے؟
اس سلسلے میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں
1) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تخلیق میں اول ہیں اور اس پر احادیث شاہد
2) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرتبہ نبوت میں بھی اول ہیں حدیث شریف میں ہے '' کنت نبیا و آدم بین الماء والطین اس پر بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمودات شاہد ہیں
3) روز میثاق جو سوال ہوا تھا '' الست بربکم '' تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہی جواب دیا تھا یہاں بھی آپ اول ہیں
4) ایمان لانے والوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی اول ہیں آپ نے ہی ارشاد فرمایا '' و اول من آمن باللہ وبذلک و امرت وانا اول المومنین '' یہاں بھی آپ ہی اول
5) جب زمین شق ہوگی اور لوگ قبروں سے نکلیں گے ان میں سب سے اول آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی نکلیں گے
6) روز قیامت بارگاہ رب العزت میں سجدہ کرنے کی اجازت سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہی ملے گی اس پر بھی احادیث شاہد ہیں
7) باب شفاعت سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کے لیے کھلے گا
8) سب سے اول آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی جنت میں داخل ہوں گے
صاحب مدارج النبوۃ نے یہ آٹھ وجہ بیان فرمائی
فقیر راقم الحروف کے ذہن مدارج النبوۃ کے مطالعے سے چند باتیں اور سمجھ آئیں
9) سب سے پہلے حلیہ بہشتی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی پہنیں گے
10) سب سے پہلے اپنے رب کے عبد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں
11) سب سے پہلے جلوہ رب العزت کا دیدار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہی کیا
مدارج النبوۃ مترجم جلد اول ص 7/8
حسن نوری گونڈوی
برائے مہربانی پوسٹ میں حذف و اضافہ نہ کریں یوں ہی آگے شئیر کریں
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
قرآن شریف میں ہے
*ھو الاول والاخر*
تمامی مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں اول سے مراد جان کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں
لیکن یہاں اول سے مراد کیا ہے؟
اس سلسلے میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں
1) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تخلیق میں اول ہیں اور اس پر احادیث شاہد
2) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرتبہ نبوت میں بھی اول ہیں حدیث شریف میں ہے '' کنت نبیا و آدم بین الماء والطین اس پر بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمودات شاہد ہیں
3) روز میثاق جو سوال ہوا تھا '' الست بربکم '' تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہی جواب دیا تھا یہاں بھی آپ اول ہیں
4) ایمان لانے والوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی اول ہیں آپ نے ہی ارشاد فرمایا '' و اول من آمن باللہ وبذلک و امرت وانا اول المومنین '' یہاں بھی آپ ہی اول
5) جب زمین شق ہوگی اور لوگ قبروں سے نکلیں گے ان میں سب سے اول آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی نکلیں گے
6) روز قیامت بارگاہ رب العزت میں سجدہ کرنے کی اجازت سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہی ملے گی اس پر بھی احادیث شاہد ہیں
7) باب شفاعت سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کے لیے کھلے گا
8) سب سے اول آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی جنت میں داخل ہوں گے
صاحب مدارج النبوۃ نے یہ آٹھ وجہ بیان فرمائی
فقیر راقم الحروف کے ذہن مدارج النبوۃ کے مطالعے سے چند باتیں اور سمجھ آئیں
9) سب سے پہلے حلیہ بہشتی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی پہنیں گے
10) سب سے پہلے اپنے رب کے عبد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں
11) سب سے پہلے جلوہ رب العزت کا دیدار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہی کیا
مدارج النبوۃ مترجم جلد اول ص 7/8
حسن نوری گونڈوی
برائے مہربانی پوسٹ میں حذف و اضافہ نہ کریں یوں ہی آگے شئیر کریں
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
❤1
*کیا یہی آپ کی محبت ھے*
سیدنا شبلی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک جماعت حاضر ہوئی اس نے کہا میں آپ سے محبت کرتا ہوں'' آپ نے ان کو پتھر پھینک کر مارے سارے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے پھر آپ نے فرمایا اگر تم واقعی مجھ سے محبت کرتے تھے تو میری طرف سے دی گئی اتنی سی تکلیف پر کیوں بھاگ کھڑے ہوئے؟-
کیا ہمیں اللہ عزوجل و سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت ہے؟ اگر ہاں'' تو پھر معمولی سی بات پر نا شکری کیوں؟
📚 مکاشفۃ القلوب اردو ص 82
حسن نوری گونڈوی
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
سیدنا شبلی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک جماعت حاضر ہوئی اس نے کہا میں آپ سے محبت کرتا ہوں'' آپ نے ان کو پتھر پھینک کر مارے سارے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے پھر آپ نے فرمایا اگر تم واقعی مجھ سے محبت کرتے تھے تو میری طرف سے دی گئی اتنی سی تکلیف پر کیوں بھاگ کھڑے ہوئے؟-
کیا ہمیں اللہ عزوجل و سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت ہے؟ اگر ہاں'' تو پھر معمولی سی بات پر نا شکری کیوں؟
📚 مکاشفۃ القلوب اردو ص 82
حسن نوری گونڈوی
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
❤1
حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: ابراہیم ۔ کنیت: ابو اسحق ۔القاب: مفتاح العلوم، سلطان التارکین، سید المتوکلین، امام الاولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سلطان ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بن یزید بن جابر ۔ (علیہم الرحمہ)
ولادت با سعادت:
آپ کی ولادت باسعادت بلخ (افغانستان) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
شاہی خاندان سے تعلق تھا، شہزادے تھے، ابتدائی تعلیم شاہی محل میں ہوئی، جب خدا طلبی میں بادشاہت کو ترک کرکے مکۃ المکرمہ پہنچے، وہاں کے مشائخ سے تحصیلِ علم کیا ۔ وہاں سے بغداد، بصرہ، کوفہ، بلادِ شام کا سفر کیا ۔ آپ نے جلیل القدر مشائخ خواجہ فضیل بن عیاض، امام باقر، سفیان ثوری، خواجہ عمران بن موسیٰ، شیخ منصور سلمی، خواجہ اویس قرنی، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت جنید بغدادی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) سے علم حاصل کیا اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ جنید بغدادی آپ کو " مفاتیح العلوم " فرماتے ۔ حضرت امام اعظم آپ کو "سیدنا و سندنا " کہہ کر پُکارتے تھے ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے بڑے محدثین، مفسرین، اور فقہاء میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور انہی سے خرقہ خلافت پایا ۔ ان کے ساتھ ساتھ حضرت امام باقر، حضرت خواجہ عمران بن موسٰی، شیخ منصور سلمی، اور خواجہ اویس قرنی سے بھی خرقہ خلافت پایا ۔
سیرت و خصائص:
سید الاصفیاء، سلطان التارکین، سلطان السالکین، مقرب حضرت رب العالمین ، مملکت دنیا کے تارک ، سلطنت عقبیٰ کے صاحب، ظل الٰہی، آں جالسِ سیر اولیائی، آں متلبس بہ لباس پارسائی، مصدق و متوکل علی اللہ، واصل بہ نہایات فنا فی اللہ حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم قدس سرہ کا شمار حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے اکابر خلفاء میں ہوتا ہے ۔
آپ پیرانِ کبار، اولیاء نامدار، مشائخ عظام اور مقتدایان ذو الاحترام میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ دولتِ علم سے مالا مال، معرفت و طریقت میں باکمال، آسمانِ ولایت کے گوہرِ تابدار تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ بلخ کے بادشاہ تھے مگر انھوں نے تمام عیش و عشرت کو چھوڑ کر خدا طلبی کی راہ اپنا لی اور تارک الدنیا ہو گئے اور صحرا نوردی کرتے ہوئے مکۃ المکرمہ پہنچ گئے ۔ آپ کیا سفر اور کیا حضر ہر وقت روزے سے رہتے اور راتوں کو قیام و نماز میں بسر کیا کرتے تھے۔ ہمیشہ فکر و غم میں مستغرق نظر آتے تھے ۔
ترکِ سلطنت:
ایک رات آپ اپنے شاہی محل میں سوئے ہوئے تھے کہ چھت پر کسی کے دوڑنے کی آواز سنائی دی، بیدار ہوئے تو آواز دی تم کون ہو؟ جواب آیا کہ میں ایک مسافر ہوں میرا اونٹ گم ہوگیا تھا ۔ اسے تلاش کر رہا ہوں ۔ آپ نے کہا ارے بیوقوف گھروں کی چھتوں پر اونٹ بھی ملتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اونٹ گھر کی چھت پر آ جائے اُس شخص نے جواب دیا تم تو مجھ سے بھی زیادہ بیوقوف ہو کبھی خدا بھی شاہی محلات میں ملتا ہے ۔ تم ریشمی بستر پر آرام کر رہے ہو اور یہ بھی چاہتے ہو کہ تمہیں خدا مل جائے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
؏:ہم خدا خواہی دہم دنیائے دوں
این خیال ست و محال است و جنون
اس بات سے سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کی دل کی دنیا بدل گئی صبح اُٹھے اپنے بیٹے کو تخت نشین کر دیا ۔ امورِ سلطنت اُس کے حوالے کیے، شہر چھوڑ کر جنگل کی راہ لی، جنگل میں پہنچے تو شاہی لباس اُتار کر ایک گدڑیے کو بخش دیا۔ اور اس کے پھٹے پرانے کپڑے خود پہن لیے ۔ بلخ کو چھوڑ کر نیشاپور آئے اور پہاڑ کی ایک غار میں عبادت کرنے لگے ۔ جمعرات کی رات غار کی چھت پر آتے، لکڑیوں کا گٹھا جمع کرتے سر پر اُٹھا کر شہر میں پہنچتے اور لکڑیاں بیچ کر جو کچھ حاصل ہوتا اس کا نصف اللہ کی راہ میں دے دیتے اور نصف سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کرلے آتے ۔ ایک عرصہ تک یہی کام رہا ۔ پھر غیبی اشارہ سے مکہ معظمہ پہنچے اور خواجہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ظاہری و باطنی کمالات حاصل کیے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: ابراہیم ۔ کنیت: ابو اسحق ۔القاب: مفتاح العلوم، سلطان التارکین، سید المتوکلین، امام الاولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سلطان ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بن یزید بن جابر ۔ (علیہم الرحمہ)
ولادت با سعادت:
آپ کی ولادت باسعادت بلخ (افغانستان) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
شاہی خاندان سے تعلق تھا، شہزادے تھے، ابتدائی تعلیم شاہی محل میں ہوئی، جب خدا طلبی میں بادشاہت کو ترک کرکے مکۃ المکرمہ پہنچے، وہاں کے مشائخ سے تحصیلِ علم کیا ۔ وہاں سے بغداد، بصرہ، کوفہ، بلادِ شام کا سفر کیا ۔ آپ نے جلیل القدر مشائخ خواجہ فضیل بن عیاض، امام باقر، سفیان ثوری، خواجہ عمران بن موسیٰ، شیخ منصور سلمی، خواجہ اویس قرنی، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت جنید بغدادی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) سے علم حاصل کیا اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ جنید بغدادی آپ کو " مفاتیح العلوم " فرماتے ۔ حضرت امام اعظم آپ کو "سیدنا و سندنا " کہہ کر پُکارتے تھے ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے بڑے محدثین، مفسرین، اور فقہاء میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور انہی سے خرقہ خلافت پایا ۔ ان کے ساتھ ساتھ حضرت امام باقر، حضرت خواجہ عمران بن موسٰی، شیخ منصور سلمی، اور خواجہ اویس قرنی سے بھی خرقہ خلافت پایا ۔
سیرت و خصائص:
سید الاصفیاء، سلطان التارکین، سلطان السالکین، مقرب حضرت رب العالمین ، مملکت دنیا کے تارک ، سلطنت عقبیٰ کے صاحب، ظل الٰہی، آں جالسِ سیر اولیائی، آں متلبس بہ لباس پارسائی، مصدق و متوکل علی اللہ، واصل بہ نہایات فنا فی اللہ حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم قدس سرہ کا شمار حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے اکابر خلفاء میں ہوتا ہے ۔
آپ پیرانِ کبار، اولیاء نامدار، مشائخ عظام اور مقتدایان ذو الاحترام میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ دولتِ علم سے مالا مال، معرفت و طریقت میں باکمال، آسمانِ ولایت کے گوہرِ تابدار تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ بلخ کے بادشاہ تھے مگر انھوں نے تمام عیش و عشرت کو چھوڑ کر خدا طلبی کی راہ اپنا لی اور تارک الدنیا ہو گئے اور صحرا نوردی کرتے ہوئے مکۃ المکرمہ پہنچ گئے ۔ آپ کیا سفر اور کیا حضر ہر وقت روزے سے رہتے اور راتوں کو قیام و نماز میں بسر کیا کرتے تھے۔ ہمیشہ فکر و غم میں مستغرق نظر آتے تھے ۔
ترکِ سلطنت:
ایک رات آپ اپنے شاہی محل میں سوئے ہوئے تھے کہ چھت پر کسی کے دوڑنے کی آواز سنائی دی، بیدار ہوئے تو آواز دی تم کون ہو؟ جواب آیا کہ میں ایک مسافر ہوں میرا اونٹ گم ہوگیا تھا ۔ اسے تلاش کر رہا ہوں ۔ آپ نے کہا ارے بیوقوف گھروں کی چھتوں پر اونٹ بھی ملتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اونٹ گھر کی چھت پر آ جائے اُس شخص نے جواب دیا تم تو مجھ سے بھی زیادہ بیوقوف ہو کبھی خدا بھی شاہی محلات میں ملتا ہے ۔ تم ریشمی بستر پر آرام کر رہے ہو اور یہ بھی چاہتے ہو کہ تمہیں خدا مل جائے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
؏:ہم خدا خواہی دہم دنیائے دوں
این خیال ست و محال است و جنون
اس بات سے سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کی دل کی دنیا بدل گئی صبح اُٹھے اپنے بیٹے کو تخت نشین کر دیا ۔ امورِ سلطنت اُس کے حوالے کیے، شہر چھوڑ کر جنگل کی راہ لی، جنگل میں پہنچے تو شاہی لباس اُتار کر ایک گدڑیے کو بخش دیا۔ اور اس کے پھٹے پرانے کپڑے خود پہن لیے ۔ بلخ کو چھوڑ کر نیشاپور آئے اور پہاڑ کی ایک غار میں عبادت کرنے لگے ۔ جمعرات کی رات غار کی چھت پر آتے، لکڑیوں کا گٹھا جمع کرتے سر پر اُٹھا کر شہر میں پہنچتے اور لکڑیاں بیچ کر جو کچھ حاصل ہوتا اس کا نصف اللہ کی راہ میں دے دیتے اور نصف سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کرلے آتے ۔ ایک عرصہ تک یہی کام رہا ۔ پھر غیبی اشارہ سے مکہ معظمہ پہنچے اور خواجہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ظاہری و باطنی کمالات حاصل کیے ۔
❤1👍1
خدائی سلطنت:
جن دنوں سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار میں آیا کرتے تھے تو بلخ کا ایک امیر آدمی بھی وہیں رہتا تھا ۔ اُس نے سلطان ابراہیم کو پہچان لیا اور بادشاہی چھوڑ کر لکڑیاں بیچنے پر بڑی ملامت شروع کر دی ۔ حضرت سلطان ابراہیم کو اُس کی باتوں پر بڑا غصہ آیا۔ بیٹھے بیٹھے لکڑیوں کے گٹھے پر ہاتھ مارا تو وہ ساری سونے کی بن گئیں۔ سلطان ابراہیم نے یہ سارا سونا اُس کو بخش دیا، اور کہا کہ آج بلخ کی سلطنت کی یاد کی نحوست کی وجہ سے میری حلال کی روزی ضائع ہو گئی ۔
اسی طرح جن دنوں سلطان ابراہیم بلخ کی بادشاہت چھوڑ کر بیابان میں چلے گئے تو چند دن دریا کے کنارے پر قیام کیا وہاں امراء اور وزراء حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں سلطان ابراہیم اس وقت اپنی گدڑی سی رہے تھے آپ نے سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا کہ تم بڑے طاقتور حاکم ہو ۔ دنیا کے سارے اسباب تمہارے پاس موجود ہیں دریا سے میری سوئی نکال دو کوئی بھی سوئی نہ نکال سکا۔ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ اے دریا کی مچھلیو میری سوئی نکال کر لاؤ ۔ اُسی وقت ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے اورچاندی کی سوئیاں اٹھائے پانی کی سطح پر تیرنے لگیں ۔
ایک مچھلی کے منہ میں حضرت خواجہ کی سوئی بھی تھی، آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے سوئی لی اور تمام مچھلیوں کو رخصت کر دیا ۔ امراء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہماری سلطنت تمام جہاں پر ہے اب ہمیں بلخ کی سلطنت کی ضرورت نہیں ہے ۔
منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم بن ادھم قدس سرہ جعفر بن منصور کے پاس آئے جو عباسیوں میں دوسرا خلیفہ اور وارث ِتخت و تاج تھا ۔ خلیفہ نے بڑے جوش کے ساتھ استقبال کیا اور سلام کے بعد کہا ۔ اے ابو اسحٰق تمہارا کیا حال ہے خواجہ ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے امیر المومنین: " نرفع دنیانا بتمزیق دیننا ۔ فلا دیننا بقی ولا ما نرفع " ۔ یعنی ہم نے اپنا دین پست کر کے دنیا کو بلند کیا لیکن اب نہ تو دین باقی رہا اور نہ ہی وہ چیز ہی رہی جسے ہم نے بلند کیا تھا ۔ (بعینہ آج مسلمانوں کے وہی حالات ہیں دین سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف بھاگے تھے، دین کو تو پہلے ہی خیر آباد کہ دیا تھا، لیکن دنیا بھی ہاتھ میں نہ رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان کے خون سے سستی کوئی چیز نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگوگے، تو دنیا تم سے بھاگےگی، اور جب تم دنیا سے نفرت کروگے تو دنیا تمھارے پیچھے بھاگےگی ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کے واقعات ہمارے لئے درس عبرت ہیں، بڑے بڑے دنیا داروں کے نام و نشاں مٹ گئے اور آپ کا نام ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہےگا) ـ
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ ۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ وفات اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اصح قول کے مطابق 26 جمادی الاول 161ھ (بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد:1، ص:354 جامعہ پنجاب لاہور) کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزار پُر انوار کے قریب زیارت گاہِ خاص عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ سیر الاولیاء ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-bin-adham
جن دنوں سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار میں آیا کرتے تھے تو بلخ کا ایک امیر آدمی بھی وہیں رہتا تھا ۔ اُس نے سلطان ابراہیم کو پہچان لیا اور بادشاہی چھوڑ کر لکڑیاں بیچنے پر بڑی ملامت شروع کر دی ۔ حضرت سلطان ابراہیم کو اُس کی باتوں پر بڑا غصہ آیا۔ بیٹھے بیٹھے لکڑیوں کے گٹھے پر ہاتھ مارا تو وہ ساری سونے کی بن گئیں۔ سلطان ابراہیم نے یہ سارا سونا اُس کو بخش دیا، اور کہا کہ آج بلخ کی سلطنت کی یاد کی نحوست کی وجہ سے میری حلال کی روزی ضائع ہو گئی ۔
اسی طرح جن دنوں سلطان ابراہیم بلخ کی بادشاہت چھوڑ کر بیابان میں چلے گئے تو چند دن دریا کے کنارے پر قیام کیا وہاں امراء اور وزراء حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں سلطان ابراہیم اس وقت اپنی گدڑی سی رہے تھے آپ نے سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا کہ تم بڑے طاقتور حاکم ہو ۔ دنیا کے سارے اسباب تمہارے پاس موجود ہیں دریا سے میری سوئی نکال دو کوئی بھی سوئی نہ نکال سکا۔ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ اے دریا کی مچھلیو میری سوئی نکال کر لاؤ ۔ اُسی وقت ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے اورچاندی کی سوئیاں اٹھائے پانی کی سطح پر تیرنے لگیں ۔
ایک مچھلی کے منہ میں حضرت خواجہ کی سوئی بھی تھی، آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے سوئی لی اور تمام مچھلیوں کو رخصت کر دیا ۔ امراء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہماری سلطنت تمام جہاں پر ہے اب ہمیں بلخ کی سلطنت کی ضرورت نہیں ہے ۔
منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم بن ادھم قدس سرہ جعفر بن منصور کے پاس آئے جو عباسیوں میں دوسرا خلیفہ اور وارث ِتخت و تاج تھا ۔ خلیفہ نے بڑے جوش کے ساتھ استقبال کیا اور سلام کے بعد کہا ۔ اے ابو اسحٰق تمہارا کیا حال ہے خواجہ ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے امیر المومنین: " نرفع دنیانا بتمزیق دیننا ۔ فلا دیننا بقی ولا ما نرفع " ۔ یعنی ہم نے اپنا دین پست کر کے دنیا کو بلند کیا لیکن اب نہ تو دین باقی رہا اور نہ ہی وہ چیز ہی رہی جسے ہم نے بلند کیا تھا ۔ (بعینہ آج مسلمانوں کے وہی حالات ہیں دین سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف بھاگے تھے، دین کو تو پہلے ہی خیر آباد کہ دیا تھا، لیکن دنیا بھی ہاتھ میں نہ رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان کے خون سے سستی کوئی چیز نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگوگے، تو دنیا تم سے بھاگےگی، اور جب تم دنیا سے نفرت کروگے تو دنیا تمھارے پیچھے بھاگےگی ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کے واقعات ہمارے لئے درس عبرت ہیں، بڑے بڑے دنیا داروں کے نام و نشاں مٹ گئے اور آپ کا نام ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہےگا) ـ
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ ۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ وفات اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اصح قول کے مطابق 26 جمادی الاول 161ھ (بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد:1، ص:354 جامعہ پنجاب لاہور) کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزار پُر انوار کے قریب زیارت گاہِ خاص عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ سیر الاولیاء ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-bin-adham
❤1