🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-05-1444 ᴴ | 19-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-05-1444 ᴴ | 19-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
فتنوں کا فروغ اور اصول جدیدہ کی ایجاد
عہد حاضر میں بیرونی فتنوں کے ساتھ داخلی فتنوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اور فتنوں کے فروغ کے واسطے اسلامی تعلیمات کے خلاف اصول وقوانین گڑھے جا رہے ہیں,تاکہ فتنے مستحکم ہو جائیں اور لوگ ضلالت وگمرہی اور انحراف وبے راہ روی میں مبتلا رہیں۔
ایک قانون جدید یہ گڑھا گیا ہے کہ جب باپ اور چچا میں اختلاف ہو تو بیٹے اور بھتیجے خاموش رہیں اور جب بیٹوں اور بھتیجوں میں تنازع ہو تو باپ اور چچا خاموش رہیں۔
لوگ یہ دل فریب اور جاذب نظر ضابطہ پیش کر کے یہ نظریہ قائم کرنا چاہتے ہیں کہ جب اکابر علما میں اختلاف ہو تو اصاغر بالکل خاموش رہیں اور جب اصاغر میں اختلاف ہو تو اکابر مہر سکوت نہ توڑیں۔
الغرض دین ومذہب تباہ وبرباد ہوتا رہے,فتنے پھیلتے رہیں۔بدعات وخرافات کے سبب مسلمانوں کا دین وایمان ملیامیٹ ہوتا رہے۔لوگ ضلالت وگمرہی پر مرتے رہیں,لیکن اکابر واصاغر مذکورہ اختراعی قانون کی پابندی کریں۔
مذہب اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ جب فتنے پھیلیں اور بدعتیں ظاہر ہوں تو عالم اپنا علم ظاہر کرے۔ایسے مشکل مرحلہ میں اگر علما خاموش بیٹھے رہیں تو ان پر اللہ کی لعنت,فرشتوں کی لعنت اور انسانوں کی لعنت ہے۔اللہ تعالی قیامت کے دن ایسے عالموں کا نہ فرض قبول فرمائے گا,نہ نفل قبول فرمائے گا۔
(1)قال أبو بكر بن الخلال رحمه الله في "كتاب السنة" (ص:787) :
أَخْبَرَنِي حَرْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكرْمَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَمَّادُ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَيْصَمٍ ، قَالَ: ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدَعُ، وَسُبَّ أَصْحَابِي، فَعَلَى الْعَالِمِ أَنْ يُظْهِرَ عِلْمَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ)
(2)محدث شہیر ملاعلی قاری حنفی نے رقم فرمایا:(قال صلی اللہ علیہ وسلم:اذا ظہرت الفتن او قال:البدع وسب اصحابی فلیظہر العالم علمہ فمن لم یفعل ذلک فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین-ولا یقبل اللہ منہ یوم القیامۃ صرفا ولا عدلا)(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح:باب مناقب الصحابہ:فصل اول)
منقولہ بالا روایتوں میں ارشاد فرمایا گیا کہ فتنوں اور بدعتوں کے ظہور کے وقت علمائے دین کو اپنا علم ظاہر کرنا ہے اور فتنوں کو دفع کرنا ہے۔خواہ بدعات وفتن کا ظہور کسی جانب سے ہو۔منقولہ بالا روایتوں میں علمائے کرام کو اپنا علم ظاہر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔خواہ وہ اکابر علما ہوں یا اصاغر علما۔جس کے پاس فتنوں اور بدعتوں کو دفع کرنے کی قوت ہے,اس پر یہ حکم نافذ ہو گا۔جس کے پاس قوت نہیں,اس پر حکم کا نفاذ بھی نہیں۔
ارشاد الہی ہے:(لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا)(سورہ بقرہ)
یہ بھی واضح رہے کہ جب اہل حق سے لغزش وخطا کا ظہور ہو تو اس کی تصحیح واصلاح کے طریقے جداگانہ ہیں اور جب اہل بدعت سے فتنوں کا ظہور ہو تو اس کے رد وابطال کا اسلوب جداگانہ ہے۔
ہاں,یہ ضرور ہے کہ دین کی حفاظت لازم ہے,خواہ کسی جانب سے بھی کوئی فساد پیدا ہو۔اپنوں کی ہر غلط بات کی بے جا تاویل کرنا اور غیروں کی صحیح بات کی بھی تردید کرنا باطل پرستوں کا شعار ہے۔اسلوب وطرز میں فرق مراتب کا لحاظ رہے,لیکن غلط کو غلط ہی کہنے کا حکم ہے۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے قوی العلم تلامذۂ کرام کی ایک جماعت تشکیل دی تھی جو مختلف علوم وفنون میں ماہر تھے۔آپ مسائل کا استنباط واستخراج فرما کر اپنے تلامذہ کو بحث وتحقیق کے واسطے پیش فرماتے۔جب رائے مستقر ہو جاتی,تب اس مسئلہ کو دفتر میں لکھنے کا حکم فرماتے۔بسا اوقات ان کے تلامذۂ کرام ان سے اختلاف بھی کرتے تھے,اور یہ تلامذہ کرام گرچہ اپنی جگہ علم وفضل کے کوہ ہمالہ تھے,لیکن حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے علم وفضل میں کم درجہ اور ان کے بالمقابل اصاغر میں سے تھے۔
فرقہ معتزلہ کا فرد اول واصل بن عطا(80-131ھ)امام التابعین حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد تھا۔حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا رد کیا اور فرمایا:(اعتزل عنا)وہ ہم سے جدا ہو گیا۔اسی جملہ(اعتزل عنا)کے سبب اس جماعت کا نام معتزلہ ہو گیا۔حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ واصل بن عطا کے استاذ اور اکابر تابعین میں سے تھے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20:دسمبر 2022
فتنوں کا فروغ اور اصول جدیدہ کی ایجاد
عہد حاضر میں بیرونی فتنوں کے ساتھ داخلی فتنوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اور فتنوں کے فروغ کے واسطے اسلامی تعلیمات کے خلاف اصول وقوانین گڑھے جا رہے ہیں,تاکہ فتنے مستحکم ہو جائیں اور لوگ ضلالت وگمرہی اور انحراف وبے راہ روی میں مبتلا رہیں۔
ایک قانون جدید یہ گڑھا گیا ہے کہ جب باپ اور چچا میں اختلاف ہو تو بیٹے اور بھتیجے خاموش رہیں اور جب بیٹوں اور بھتیجوں میں تنازع ہو تو باپ اور چچا خاموش رہیں۔
لوگ یہ دل فریب اور جاذب نظر ضابطہ پیش کر کے یہ نظریہ قائم کرنا چاہتے ہیں کہ جب اکابر علما میں اختلاف ہو تو اصاغر بالکل خاموش رہیں اور جب اصاغر میں اختلاف ہو تو اکابر مہر سکوت نہ توڑیں۔
الغرض دین ومذہب تباہ وبرباد ہوتا رہے,فتنے پھیلتے رہیں۔بدعات وخرافات کے سبب مسلمانوں کا دین وایمان ملیامیٹ ہوتا رہے۔لوگ ضلالت وگمرہی پر مرتے رہیں,لیکن اکابر واصاغر مذکورہ اختراعی قانون کی پابندی کریں۔
مذہب اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ جب فتنے پھیلیں اور بدعتیں ظاہر ہوں تو عالم اپنا علم ظاہر کرے۔ایسے مشکل مرحلہ میں اگر علما خاموش بیٹھے رہیں تو ان پر اللہ کی لعنت,فرشتوں کی لعنت اور انسانوں کی لعنت ہے۔اللہ تعالی قیامت کے دن ایسے عالموں کا نہ فرض قبول فرمائے گا,نہ نفل قبول فرمائے گا۔
(1)قال أبو بكر بن الخلال رحمه الله في "كتاب السنة" (ص:787) :
أَخْبَرَنِي حَرْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكرْمَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَمَّادُ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَيْصَمٍ ، قَالَ: ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدَعُ، وَسُبَّ أَصْحَابِي، فَعَلَى الْعَالِمِ أَنْ يُظْهِرَ عِلْمَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ)
(2)محدث شہیر ملاعلی قاری حنفی نے رقم فرمایا:(قال صلی اللہ علیہ وسلم:اذا ظہرت الفتن او قال:البدع وسب اصحابی فلیظہر العالم علمہ فمن لم یفعل ذلک فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین-ولا یقبل اللہ منہ یوم القیامۃ صرفا ولا عدلا)(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح:باب مناقب الصحابہ:فصل اول)
منقولہ بالا روایتوں میں ارشاد فرمایا گیا کہ فتنوں اور بدعتوں کے ظہور کے وقت علمائے دین کو اپنا علم ظاہر کرنا ہے اور فتنوں کو دفع کرنا ہے۔خواہ بدعات وفتن کا ظہور کسی جانب سے ہو۔منقولہ بالا روایتوں میں علمائے کرام کو اپنا علم ظاہر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔خواہ وہ اکابر علما ہوں یا اصاغر علما۔جس کے پاس فتنوں اور بدعتوں کو دفع کرنے کی قوت ہے,اس پر یہ حکم نافذ ہو گا۔جس کے پاس قوت نہیں,اس پر حکم کا نفاذ بھی نہیں۔
ارشاد الہی ہے:(لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا)(سورہ بقرہ)
یہ بھی واضح رہے کہ جب اہل حق سے لغزش وخطا کا ظہور ہو تو اس کی تصحیح واصلاح کے طریقے جداگانہ ہیں اور جب اہل بدعت سے فتنوں کا ظہور ہو تو اس کے رد وابطال کا اسلوب جداگانہ ہے۔
ہاں,یہ ضرور ہے کہ دین کی حفاظت لازم ہے,خواہ کسی جانب سے بھی کوئی فساد پیدا ہو۔اپنوں کی ہر غلط بات کی بے جا تاویل کرنا اور غیروں کی صحیح بات کی بھی تردید کرنا باطل پرستوں کا شعار ہے۔اسلوب وطرز میں فرق مراتب کا لحاظ رہے,لیکن غلط کو غلط ہی کہنے کا حکم ہے۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے قوی العلم تلامذۂ کرام کی ایک جماعت تشکیل دی تھی جو مختلف علوم وفنون میں ماہر تھے۔آپ مسائل کا استنباط واستخراج فرما کر اپنے تلامذہ کو بحث وتحقیق کے واسطے پیش فرماتے۔جب رائے مستقر ہو جاتی,تب اس مسئلہ کو دفتر میں لکھنے کا حکم فرماتے۔بسا اوقات ان کے تلامذۂ کرام ان سے اختلاف بھی کرتے تھے,اور یہ تلامذہ کرام گرچہ اپنی جگہ علم وفضل کے کوہ ہمالہ تھے,لیکن حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے علم وفضل میں کم درجہ اور ان کے بالمقابل اصاغر میں سے تھے۔
فرقہ معتزلہ کا فرد اول واصل بن عطا(80-131ھ)امام التابعین حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد تھا۔حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا رد کیا اور فرمایا:(اعتزل عنا)وہ ہم سے جدا ہو گیا۔اسی جملہ(اعتزل عنا)کے سبب اس جماعت کا نام معتزلہ ہو گیا۔حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ واصل بن عطا کے استاذ اور اکابر تابعین میں سے تھے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20:دسمبر 2022
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-05-1444 ᴴ | 19-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-05-1444 ᴴ | 20-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قبر کے اندر چٹائی وغیرہ بچھانا ...
کیا خنزیر کا نام لینے سے زبان ناپاک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قبر کے اندر چٹائی وغیرہ بچھانا ...
کیا خنزیر کا نام لینے سے زبان ناپاک
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-05-1444 ᴴ | 20-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ قبر کے اندر چٹائی وغیرہ بچھانا ... کیا خنزیر کا نام لینے سے زبان ناپاک
25-05-1444 ᴴ | 20-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عقیدۂ اہلسنت: مردے سنتے ہیں
سردی کے فوائد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عقیدۂ اہلسنت: مردے سنتے ہیں
سردی کے فوائد
❤1