23-05-1444 ᴴ | 18-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰عدیل احمد قادری مصباحی✰)
دیوبندی کی لڑکی سے سنی لڑکے کا نکاح پڑھانا کیسا؟ وضاحت وحکم؟ نکاح خواں کا حکم؟
➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک سنی مدرسے کا سرپرست ہے زید نے ایک سنی لڑکے کا نکاح وہابی کی لڑکی کے ساتھ پڑھایا پھر بکر نے زید سے پوچھا کہ کیا آپنے سنی لڑکے کا نکاح وہابی کی لڑکی کے ساتھ پڑھایا ہے تو زید نے کہا ہم وہابی کی لڑکی لے کر آئے ہیں ناکہ سنی کی لڑکی دیکر آئے ہیں زید کا نکاح پڑھانا اور ایسا جواب دینا جائز ہے یا نہیں پھر زید کی اقتدا میں نماز پڑھنا اور زید کو دوسرے نکاح پڑھانے کی دعوت دینا کیسا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنائت فرمائیں مہربانی ہوگی
العارض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد توفیق رضا
شاہ پور کلاں بہرائچ شریف یوپی انڈیا
➖➖➖➖➖➖
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بسم اللہ الرحمن الرحیم 📝الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩*● *لڑکی اگر وہابی کی ہے تو ضروری نہیں کہ وہابی ہی ہو ، ممکن ہے کہ بباطن سنی ہو، ایسا دیکھنے میں آتاہے، البتہ اگر لڑکی بھی واقعی وہابی/دیوبندی ہے یعنی دیوبندی مذہب کی جن عبارتوں کے کفریہ ہونے پر علمائے عرب وعجم متفق ہیں اگر ان پر مطلع ہوکر بھی ان کتابوں کے مصنفین کو مسلمان اور اپنا پیشوا مانتی ہے، تو وہ وہابی مرتد ہے،لہذا اس کا نکاح کسی سے بھی نہیں ہوسکتا.
●اب اگر کوئی سنی عالم اس کی بدعقیدگی کو جانے اور اسےکے باوجودبھی لوگوں کے ڈر سے،یا نذرانہ کی لالچ میں، یاملامت کے خوف سے نکاح پڑھادے، مگر دل میں اس کی نفرت موجود ہو، تو وہ عالم مرتد نہیں، نہ اس کے نکاح سے اس کی بیوی نکلی مگر اس پر ضروری ہوگا کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے، نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان کرے، نکاحانہ پیسہ بھی واپس کر ےاوروکیل وگواہان بھی توبہ کریں۔
اور اگر عالم اس کے کفری عقائد کو درست وصحیح جانتے ہوئے نکاح پڑھائےگا، تو اب اسلام سے نکل جائے گا اور تجديد ایمان اور بیوی والاہے تو تجديد نکاح دونوں ضروری ہوگا.ھذہ خلاصة ممافي فتاوی فیض الرسول، ج:1،ص:609، 610،کتاب النکاح، فصل فی المحرمات. اور ان دونوں صورتوں میں اس کے ہیچھے نماز نہ ہڑھی جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے.
__
فتاوی رضویہ میں ہے:*"جوعورت ایسے عقیدہ کی ہو مرتدہ ہے کہ نکاح نہ کسی مسلم سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ اس کے ہم مذہب سے۔ جس سے نکاح ہوگازنائے محض ہوگا اور اولاد ولدالزنا۔"📚(11/47)*
توواضح ہوگیاکہ مرتدہ کانکاح اگر سنی لڑکے سے پڑھاجائےتونکاح ہوگاہی نہیں،پھر بعد نکاح جوبھی قربت ہو زنائےبدنام وبدانجام ہوگااوراس گناہ عظیم وسروروفرحت باعث شیطان لعین میں نکاح خواں بھی شریک وسہیم ہوگاکہ اب وہ ان دونوں کا دلال ٹھہرا.
چناں چہ حدیث شریف ہے:*"الدالُّ على الشرِّ كفاعلِهِ"*
*السبكي (الابن) (٧٧١ هـ)، طبقات الشافعية الكبرى ٦/٣٧٧ •*
اورلڑکے کاباپ دیوث ہوگا،چناں چہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:*"ایسی صورت میں جس شخص نےاپنی لڑکی کا نکاح ان باطل فرقےوالوں سےکسی سےکیاتووہ دیوث ہوااوربحکم حدیث جہنم کا مستحق"(ج:3ص:288)*
لہذا لڑکے کے باپ پرلازم ہے کہ وہابی سے ہرگز ہرگز اپنی بیٹے کا رشتہ نہ کرےاوراللہ ورسول جل وعلاوصلی اللہ تعالی علیہ
وسلم سے رشتہ مضبوط کرے.واللہ تعالی اعلم۔
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی،بلرام پور ،یوپی،انڈیا*
*26/نومبر، 2021ع،بروز جمعہ*
*📲+263780498811*
➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک سنی مدرسے کا سرپرست ہے زید نے ایک سنی لڑکے کا نکاح وہابی کی لڑکی کے ساتھ پڑھایا پھر بکر نے زید سے پوچھا کہ کیا آپنے سنی لڑکے کا نکاح وہابی کی لڑکی کے ساتھ پڑھایا ہے تو زید نے کہا ہم وہابی کی لڑکی لے کر آئے ہیں ناکہ سنی کی لڑکی دیکر آئے ہیں زید کا نکاح پڑھانا اور ایسا جواب دینا جائز ہے یا نہیں پھر زید کی اقتدا میں نماز پڑھنا اور زید کو دوسرے نکاح پڑھانے کی دعوت دینا کیسا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنائت فرمائیں مہربانی ہوگی
العارض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد توفیق رضا
شاہ پور کلاں بہرائچ شریف یوپی انڈیا
➖➖➖➖➖➖
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بسم اللہ الرحمن الرحیم 📝الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩*● *لڑکی اگر وہابی کی ہے تو ضروری نہیں کہ وہابی ہی ہو ، ممکن ہے کہ بباطن سنی ہو، ایسا دیکھنے میں آتاہے، البتہ اگر لڑکی بھی واقعی وہابی/دیوبندی ہے یعنی دیوبندی مذہب کی جن عبارتوں کے کفریہ ہونے پر علمائے عرب وعجم متفق ہیں اگر ان پر مطلع ہوکر بھی ان کتابوں کے مصنفین کو مسلمان اور اپنا پیشوا مانتی ہے، تو وہ وہابی مرتد ہے،لہذا اس کا نکاح کسی سے بھی نہیں ہوسکتا.
●اب اگر کوئی سنی عالم اس کی بدعقیدگی کو جانے اور اسےکے باوجودبھی لوگوں کے ڈر سے،یا نذرانہ کی لالچ میں، یاملامت کے خوف سے نکاح پڑھادے، مگر دل میں اس کی نفرت موجود ہو، تو وہ عالم مرتد نہیں، نہ اس کے نکاح سے اس کی بیوی نکلی مگر اس پر ضروری ہوگا کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے، نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان کرے، نکاحانہ پیسہ بھی واپس کر ےاوروکیل وگواہان بھی توبہ کریں۔
اور اگر عالم اس کے کفری عقائد کو درست وصحیح جانتے ہوئے نکاح پڑھائےگا، تو اب اسلام سے نکل جائے گا اور تجديد ایمان اور بیوی والاہے تو تجديد نکاح دونوں ضروری ہوگا.ھذہ خلاصة ممافي فتاوی فیض الرسول، ج:1،ص:609، 610،کتاب النکاح، فصل فی المحرمات. اور ان دونوں صورتوں میں اس کے ہیچھے نماز نہ ہڑھی جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے.
__
فتاوی رضویہ میں ہے:*"جوعورت ایسے عقیدہ کی ہو مرتدہ ہے کہ نکاح نہ کسی مسلم سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ اس کے ہم مذہب سے۔ جس سے نکاح ہوگازنائے محض ہوگا اور اولاد ولدالزنا۔"📚(11/47)*
توواضح ہوگیاکہ مرتدہ کانکاح اگر سنی لڑکے سے پڑھاجائےتونکاح ہوگاہی نہیں،پھر بعد نکاح جوبھی قربت ہو زنائےبدنام وبدانجام ہوگااوراس گناہ عظیم وسروروفرحت باعث شیطان لعین میں نکاح خواں بھی شریک وسہیم ہوگاکہ اب وہ ان دونوں کا دلال ٹھہرا.
چناں چہ حدیث شریف ہے:*"الدالُّ على الشرِّ كفاعلِهِ"*
*السبكي (الابن) (٧٧١ هـ)، طبقات الشافعية الكبرى ٦/٣٧٧ •*
اورلڑکے کاباپ دیوث ہوگا،چناں چہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:*"ایسی صورت میں جس شخص نےاپنی لڑکی کا نکاح ان باطل فرقےوالوں سےکسی سےکیاتووہ دیوث ہوااوربحکم حدیث جہنم کا مستحق"(ج:3ص:288)*
لہذا لڑکے کے باپ پرلازم ہے کہ وہابی سے ہرگز ہرگز اپنی بیٹے کا رشتہ نہ کرےاوراللہ ورسول جل وعلاوصلی اللہ تعالی علیہ
وسلم سے رشتہ مضبوط کرے.واللہ تعالی اعلم۔
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی،بلرام پور ،یوپی،انڈیا*
*26/نومبر، 2021ع،بروز جمعہ*
*📲+263780498811*
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
سنی کی ایسی شادی میں شرکت جس میں بدمذہب مدعو ہو
السلام عليكم و رحمۃاللہ و برکاتہ
امام صاحب ایسی شادی میں شرکت کرتے ہیں جو سنی کی ہوتی ہے جس میں دیوبندی وہابی کی بھی شرکت ہوتی ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے نماز میں کچھ کراہت ہے؟؟
زید بھی ایسی شادیوں میں شرکت کرتا ہے جس میں دیوبندی وہابی کی شرکت ہوتی ہے لیکن وہ اسے جائز نہیں سمجھتا نہ ہی امامت کرتا ہے پر وہ اس امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا پوچھنے پر کہتا ہے کہ امام صاحب کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ ایسی شادی میں شرکت کرتے ہیں جس میں دیوبندی وہابی کی بھی شرکت ہوتی ہے کیا زید کا کہنا صحیح ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: فاروق نظامی مہاراشٹر
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔جس سنی کی شادی ہوئی وہ دیوبندی وھابی منکر ضروریات دین سے میل جول رکھتا ہے جیساکہ دعوت دینے سے ظاہر ہے تو وہ مرتکب حرام، فاسق و گناہ گار ہے جبکہ ان کی دیوبندیت و وھابیت سے بیزار ہو پس اگر امام بر بناے مصلحت شرعیہ (کہ امید ہو کہ اس کی نصیحت مانے اور بد مذہبوں سے میل جول چھوڑ دے) اس سنی سے میل جول رکھتا ہے اور دعوت میں شرکت کی تو حرج نہیں ورنہ بے ضرورت اختلاط مکروہ ہے مگر امامت ناجائز نہیں اور نہ ہی اس کی اقتدا میں نماز مکروہ لیکن اگر وہ سنی، دیوبندی وھابی منکر ضروریات دین کو مسلمان جانتا ہے یا ان سے بیزار نہیں اور ان کے کفریات پر راضی ہے تو خود ہی کافر لان الرضا بالکفر کفر پس اگر امام جانتے ہوے شریک ہوا تو توبہ کرے اور اگر توبہ نہیں کرتا ہے یا بارہا اس قسم کے لوگوں کی دعوت میں شرکت اور ان سے میل جول رکھتا ہے تو اب اسے امام بنانا ناجائز و گناہ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اسے امامت سے معزول کرنا واجب۔
فتاوی رضویہ میں ہے "فقط اتنی بات کہ جس برات یاولیمہ میں یہ شریک ہوا اس میں قادیانی مرتد اپنی تین طلاق کی مطلقہ سے بے حلالہ نکاح کرنے والا فاسق بھی تھا ایسا نہیں کہ اس نے اس کی امامت ناجائز کر دی، ہاں اگر صاحب خانہ مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہو تو وہ خود ہی مرتد ہے اور اس کے یہاں تقریب میں جانا حرام اگر امام جانتا تھا اور پھر اس کا مرتکب ہوا تو یہ اگر اس بنا پر ہوا کہ امام خود بھی مرزائی کو کافر نہیں جانتا تو وہ آپ ہی کافر ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل اور اگر اس کو کافر جان کر ہی شریک ہوا تو گنہ گار ہوا اور اس سے توبہ لی جائے اگر توبہ سے انکار کرے یا بارہا ایسی شرکت کرچکا ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے امامت سے معزول کیا جائے"(ج٦، ص٥٩١)-
نیز زید دیوبندی سے عمرو سنی کافر و مرتد جانتے ہوے میل جول رکھتا ہے اور عمرو سے بکر راہ و رسم رکھتا ہے اس بکر کے بارے میں حکم شرع بیان فرماتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں "اور بکر کا عمرو سے ملنا اگر بربنائے مصلحت شرعیہ ہوکہ اس سے امید ہے کہ اس کی نصیحت مانے اور زید سے ملنا چھوڑ دے تو حرج نہیں ورنہ نا مناسب ہے خصوصا اس حالت کہ بکر کوئی اعزاز علمی ودینی رکھتا ہو کہ ایسے کو فاسق سے بے ضرورت اختلاط مکروہ ہے عالمگیری میں ہے: یکرہ للمشہور المقتدٰی بہ الاختلاط الی رجل من اہل الباطل والشر الا یقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین ایدی الناس ولو کان رجلا لایعرف یدار بہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیر اثم فلا باس بہ کذا فی الملتقط وﷲ تعالٰی اعلم۔ جو شخص مشہور ہو اور لوگوں کا پیشوا ہو اسے اہل باطل اور صاحب شر لوگوں سے میل ملاپ رکھنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر قدرے ضرورت کی اجازت ہے کیونکہ لوگوں میں اس کی شان معظم ہے لیکن اگر کوئی شخص غیر معروف ہو تو اس سے مصالحت رکھنا تاکہ اپنی ذات سے بغیر گناہ ظلم کا دفاع ہوجائے اور اس میں کوئی حرج نہیں فتاوٰی ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے"(فتاوی رضویہ، ج٢١، ص٢٦٠)-
اور زید بلا مصلحت شرعیہ ایسی شادی اور ایسے لوگوں سے میل جول رکھتا ہے تو نا مناسب ہے مگر زید بے علم حکم شرع بیان کرنے کے سبب سخت گناہ گار ہوا فورا توبہ کرے اور آئندہ بے علم مسئلہ بیان نہ کرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں "من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والأرض" -
واللہ تعالٰی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم
گرسہاےگنج قنوج یوپی
١ اگست ٢٠١٨
الجواب صحیح و المجیب نجیح
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد فیصل رضا صالح مرکزی غفر لہ القوی
خادم التدریس والافتاء جامعۃ الرضا بریلی شریف
السلام عليكم و رحمۃاللہ و برکاتہ
امام صاحب ایسی شادی میں شرکت کرتے ہیں جو سنی کی ہوتی ہے جس میں دیوبندی وہابی کی بھی شرکت ہوتی ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے نماز میں کچھ کراہت ہے؟؟
زید بھی ایسی شادیوں میں شرکت کرتا ہے جس میں دیوبندی وہابی کی شرکت ہوتی ہے لیکن وہ اسے جائز نہیں سمجھتا نہ ہی امامت کرتا ہے پر وہ اس امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا پوچھنے پر کہتا ہے کہ امام صاحب کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ ایسی شادی میں شرکت کرتے ہیں جس میں دیوبندی وہابی کی بھی شرکت ہوتی ہے کیا زید کا کہنا صحیح ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: فاروق نظامی مہاراشٹر
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔جس سنی کی شادی ہوئی وہ دیوبندی وھابی منکر ضروریات دین سے میل جول رکھتا ہے جیساکہ دعوت دینے سے ظاہر ہے تو وہ مرتکب حرام، فاسق و گناہ گار ہے جبکہ ان کی دیوبندیت و وھابیت سے بیزار ہو پس اگر امام بر بناے مصلحت شرعیہ (کہ امید ہو کہ اس کی نصیحت مانے اور بد مذہبوں سے میل جول چھوڑ دے) اس سنی سے میل جول رکھتا ہے اور دعوت میں شرکت کی تو حرج نہیں ورنہ بے ضرورت اختلاط مکروہ ہے مگر امامت ناجائز نہیں اور نہ ہی اس کی اقتدا میں نماز مکروہ لیکن اگر وہ سنی، دیوبندی وھابی منکر ضروریات دین کو مسلمان جانتا ہے یا ان سے بیزار نہیں اور ان کے کفریات پر راضی ہے تو خود ہی کافر لان الرضا بالکفر کفر پس اگر امام جانتے ہوے شریک ہوا تو توبہ کرے اور اگر توبہ نہیں کرتا ہے یا بارہا اس قسم کے لوگوں کی دعوت میں شرکت اور ان سے میل جول رکھتا ہے تو اب اسے امام بنانا ناجائز و گناہ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اسے امامت سے معزول کرنا واجب۔
فتاوی رضویہ میں ہے "فقط اتنی بات کہ جس برات یاولیمہ میں یہ شریک ہوا اس میں قادیانی مرتد اپنی تین طلاق کی مطلقہ سے بے حلالہ نکاح کرنے والا فاسق بھی تھا ایسا نہیں کہ اس نے اس کی امامت ناجائز کر دی، ہاں اگر صاحب خانہ مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہو تو وہ خود ہی مرتد ہے اور اس کے یہاں تقریب میں جانا حرام اگر امام جانتا تھا اور پھر اس کا مرتکب ہوا تو یہ اگر اس بنا پر ہوا کہ امام خود بھی مرزائی کو کافر نہیں جانتا تو وہ آپ ہی کافر ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل اور اگر اس کو کافر جان کر ہی شریک ہوا تو گنہ گار ہوا اور اس سے توبہ لی جائے اگر توبہ سے انکار کرے یا بارہا ایسی شرکت کرچکا ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے امامت سے معزول کیا جائے"(ج٦، ص٥٩١)-
نیز زید دیوبندی سے عمرو سنی کافر و مرتد جانتے ہوے میل جول رکھتا ہے اور عمرو سے بکر راہ و رسم رکھتا ہے اس بکر کے بارے میں حکم شرع بیان فرماتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں "اور بکر کا عمرو سے ملنا اگر بربنائے مصلحت شرعیہ ہوکہ اس سے امید ہے کہ اس کی نصیحت مانے اور زید سے ملنا چھوڑ دے تو حرج نہیں ورنہ نا مناسب ہے خصوصا اس حالت کہ بکر کوئی اعزاز علمی ودینی رکھتا ہو کہ ایسے کو فاسق سے بے ضرورت اختلاط مکروہ ہے عالمگیری میں ہے: یکرہ للمشہور المقتدٰی بہ الاختلاط الی رجل من اہل الباطل والشر الا یقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین ایدی الناس ولو کان رجلا لایعرف یدار بہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیر اثم فلا باس بہ کذا فی الملتقط وﷲ تعالٰی اعلم۔ جو شخص مشہور ہو اور لوگوں کا پیشوا ہو اسے اہل باطل اور صاحب شر لوگوں سے میل ملاپ رکھنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر قدرے ضرورت کی اجازت ہے کیونکہ لوگوں میں اس کی شان معظم ہے لیکن اگر کوئی شخص غیر معروف ہو تو اس سے مصالحت رکھنا تاکہ اپنی ذات سے بغیر گناہ ظلم کا دفاع ہوجائے اور اس میں کوئی حرج نہیں فتاوٰی ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے"(فتاوی رضویہ، ج٢١، ص٢٦٠)-
اور زید بلا مصلحت شرعیہ ایسی شادی اور ایسے لوگوں سے میل جول رکھتا ہے تو نا مناسب ہے مگر زید بے علم حکم شرع بیان کرنے کے سبب سخت گناہ گار ہوا فورا توبہ کرے اور آئندہ بے علم مسئلہ بیان نہ کرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں "من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والأرض" -
واللہ تعالٰی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم
گرسہاےگنج قنوج یوپی
١ اگست ٢٠١٨
الجواب صحیح و المجیب نجیح
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد فیصل رضا صالح مرکزی غفر لہ القوی
خادم التدریس والافتاء جامعۃ الرضا بریلی شریف
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-05-1444 ᴴ | 18-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-05-1444 ᴴ | 19-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1