🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اسے بھی ہضم کیجیے (2) - میدان کربلا میں شادی
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)

ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ملا حسین واعظ کاشفی سنی نہیں ہے اور اس کی کتاب روضۃ الشھداء جھوٹے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے۔ امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا واقعہ، حضرت عبداللہ بن مبارک اور امام زین العابدین کا قصہ وغیرہ سب جھوٹ ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ ان واقعات کو ہضم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ ساتھ ہی ساتھ اس قصے کو بھی ہضم کریں جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔

ملا حسین واعظ کاشفی لکھتا ہے کہ حضرت قاسم نے امام حسن کا وصیت نامہ امام حسین کو دیا۔ امام حسین دیکھ کر رونے لگے پھر فرمایا کہ اے قاسم یہ تیرے لیے تیرے ابا جان کی وصیت ہے اور میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں۔ امام حسین خیمے کے اندر گئے اور اپنے بھائیوں حضرت عباس اور حضرت عون کو بلا کر جناب قاسم کی والدہ سے فرمایا کہ وہ قاسم کو نئے کپڑے پہنائیں اور اپنی بہن حضرت زینب کو فرمایا کہ میرے بھائی حسن کے کپڑوں کا صندوق لاؤ۔ صندوق پیش کیا گیا تو آپ نے اسے کھولا اور اس میں سے امام حسن کی زرہ نکالی اور اپنا ایک قیمتی لباس نکال کر امام قاسم کو پہنایا اور خوب صورت دستار نکال کر اپنے ہاتھ سے ان کے سر پر باندھی اور اپنی صاحب زادی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے قاسم! یہ تیرے باپ کی امانت ہے جس نے تیرے لیے وصیت کی ہے۔ امام حسین نے اپنی صاحب زادی کا نکاح حضرت قاسم سے کر دیا۔

اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے صائم چشتی نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر یہ نکاح ہوا تھا تو امام حسین نے اپنے بھائی کی وصیت پر عمل کیا ہوگا ورنہ ان حالات میں نکاح وغیرہ کا معاملہ انتہائی نامناسب اور غیر موزوں ہے۔

(روضۃ الشھداء، اردو، ج2، ص297)

اسی قصے کے بارے میں امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ حضرت قاسم کی شادی کا میدان کربلا میں ہونا جس بنا پر مہندی نکالی جاتی ہے، اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں؟
امام اہل سنت نے فرمایا کہ نہ یہ شادی ثابت ہے نہ یہ مہندی سوا اختراع اختراعی کے کوئی چیز (یعنی یہ بنائی ہوئی باتیں ہیں)

(انظر: فتاوی رضویہ، ج24، ص502)

حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ تمام باتیں من گھڑت اور اہل بیت پر بہتان عظیم ہے۔ امام حسین کی دو صاحب زادیاں تھیں اور واقعۂ کربلا سے پہلے دونوں کی شادی ہو چکی تھی۔

(میزان الکتب، ص246)

اس کتاب میں ایسے کئی جھوٹے قصے موجود ہیں جنھیں ہضم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر اب بھی کسی کو یقین نہیں ہے تو وہ اپنے ہاضمے کو آزما سکتا ہے۔

عبد مصطفی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ پانی بند ہونے کے بارے میں
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)

میدان کربلا میں اہل بیت پر پانی بند کیا گیا یا نہیں؟ اس پر دونوں طرح کی روایات موجود ہیں لیکن بیان صرف انھی کو کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو رلایا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ تین دن تک اہل بیت کے خیمے میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا اور مسلسل تین دن تک بچوں سے لے کر بڑوں تک سب پیاسے رہے اور کچھ مقررین تو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور پانچ محرم سے ہی پانی بند کر دیتے ہیں تاکہ واقعہ مزید دردناک ہو جائے۔

تاریخ ابن کثیر میں ایک روایت کچھ یوں ہے کہ دسویں محرم کو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے غسل فرمایا اور خوشبو لگائی اور بعض دوسرے ساتھیوں نے بھی غسل فرمایا۔
(البداية والنهاية، ج8، ص185)

اس روایت کو مقررین ہاتھ بھی نہیں لگاتے کیوں کہ اگر اسے بیان کر دیا گیا تو پھر لوگوں کو رلانے کا دھندا چوپٹ ہو جائے گا، پھر کس منھ سے کہا جائے گا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا۔

خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ شریف الحق امجدی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا امام حسین نے عاشورہ کی صبح کو غسل فرمایا تھا؟ کیا یہ روایت صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو پھر خود علماے اہل سنت جو بیان کرتے ہیں کہ تین دن تک حضرت امام حسین اور ان کے رفقا پر پانی بند کیا گیا، یہاں تک کہ بچے پیاس سے بلکتے رہے۔

آپ رحمہ اللہ جواباً لکھتے ہیں کہ یہ روایت تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے، مثلاً بدایہ نہایہ میں ہے:

فعدل الحسین الی خیمة قد نصبت فاغتسل فیھا وانطلی بانورۃ... الخ
"اس کے بعد امام حسین خیمے میں گئے اور اس میں جا کر غسل فرمایا اور ہڑتال استعمال فرمائی اور بہت زیادہ مشک جسم پر ملی۔ ان کے بعد بعض رفقا بھی اس خیمے میں گئے اور انھوں نے بھی ایسا ہی کیا"

(البداية والنهاية، جلد ثامن، ص178)

اور اسی میں ایک صفحہ پہلے یہ بھی ہے:

وخرت مغشیا علیھا فقام الیھا وصب علی وجھھا الماء
"حضرت زینب بے ہوش ہو کر گر پڑیں، حضرت امام حسین ان کے قریب گئے اور ان کے چہرے پر پانی چھڑکا"

(ایضاً، ص177)

شارح بخاری رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ یہ دوسری روایت طبری میں بھی ہے حتی کہ رافضیوں کی بھی بعض کتابوں میں (موجود) ہے۔ ہمارے یہاں شیعوں نے ایک دفعہ نقن میاں کو بلایا تھا جو مجتہد بھی تھے اور بہت پائے کے خطیب بھی، انھوں نے یہ روایت اپنی تقریر میں بیان کی جس پر جاہلوں نے بہت شور مچایا، ان کو گالیاں دیں، ایک جاہل نے تو یہاں تک کَہ دیا کہ اگر ایسے دو ایک واعظ (مقرر) آ گئے تو ہمارا مذہب ............. میں مل جائے گا۔ (خالی جگہ میں غالباً کوئی گالی ہوگی)

(پھر دونوں طرح کی روایات کے متعلق لکھتے ہیں کہ) یہ صحیح ہے کہ 7 محرم سے ابن زیاد کے حکم سے نہر فرات پر پہرہ بیٹھا دیا گیا تھا کہ حضرت امام عالی مقام کے لوگ پانی نہ لے پائیں مگر یہ بھی روایت ہے کہ اس پہرے کے باوجود حضرت عباس کچھ لوگوں کو لے کر کسی نہ کسی طرح سے پانی لایا کرتے تھے لیکن شہادت کے ذاکرین (ہمارے مقررین) آب بندی (یعنی پانی بند ہونے) کی روایت کو جس طرح بیان کرتے ہیں اگر نہ بیان کریں تو محفل کا رنگ نہیں جمے گا۔

اس روایت میں اور وقت شہادت حضرت علی اکبر و حضرت علی اصغر کا پیاس سے جو حال مذکور ہے منافات (تضاد) نہیں؛ ہو سکتا ہے کہ صبح کو پانی اس مقدار میں رہا ہو کہ سب نے غسل کر لیا پھر پانی ختم ہو گیا، اور جنگ شروع ہو جانے کی وجہ سے فرات کے پہرے داروں نے زیادہ سختی کر دی ہو۔ اس کی تائید اس سے بھی ہو رہی ہے کہ حضرت عباس فرات سے مَشک بھر کر پانی لا رہے تھے کہ شہید ہوئے۔ ہمیں اس پر اصرار نہیں کہ یہ روایت صحیح ہے مگر میں قطعی حکم بھی نہیں دے سکتا کہ یہ روایت غلط ہے۔ تاریخی واقعات جذبات سے نہیں جانچے جاتے، حقائق اور روایات کی بنیاد پر جانچے جاتے ہیں۔

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص68، 69)

پانی بند ہونے والی صرف ایک طرف کی روایت کو بیان کرنا اور یہ کہنا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند پانی نہیں تھا، اس سے واضح ہے کہ مقصد صرف لوگوں کو رلانا اور محفل میں رنگ جمانا ہے۔ اپنے مطلب کی روایات میں نمک مرچ لگا کر بیان کرنا اور دوسری روایات کو ہڑپ جانا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟
اب رہا یہ سوال کہ ہمیں کیا سمجھنا چاہیے تو اس کا جواب آپ پڑھ چکے ہیں۔

عبد مصطفی
تعزیہ

مروجہ تعزیہ داری ناجائز و حرام ہے، حوالے ملاحظہ فرمائیں:

(1) فتاوی عزیزی، ص184 (2) ایضاً، ص186 (3) ایضاً، ص188 (4) ایضاً، ص189 (5) فتاوی رضویہ، ج29، ص238 (6) ایضاً، ج24، ص142 (7) ایضاً، ص145 (8) ایضاً، ص490 (9) ایضاً، ص493 (10) ایضاً، ص498 (11) ایضاً، ص499 (12) ایضاً، ص500 (13) ایضاً، ص501 (14) ایضاً، ص502 (15) ایضاً، ص503 (16) ایضاً، ص504 (17) ایضاً، ص505 (18) ایضاً، ص507 (19) ایضاً، ص508 (20) ایضاً، ص513 (21) ایضاً، ص525 (22) ایضاً، ص558 (23) ایضاً، ج21، ص168 (24) ایضاً، ص221 (25) ایضاً، ص246 (26) ایضاً، ص247 (27) ایضاً، ص423 (28) ایضاً، ج16، ص121 (29) ایضاً، ص155 (30) ایضاً، ج15، ص263 (31) ایضاً، ج8، ص455 (32) ایضاً، ج6، ص442 (33) ایضاً، ص608 (34) فتاوی شرعیہ، ج2، ص612 (35) ایضاً، ج2، ص442 (36) فتاوی بحر العلوم، ج1، ص188 (37) ایضاً، ص320 (38) ایضاً، ج4، ص293 (39) ایضاً، ج5، ص238 (40) ایضاً، ص247 (41) ایضاً، ص268 (42) ایضاً، ص301 (43) ایضاً، ص442 (44) ایضاً، ص443 (45) ایضاً، ص452 (46) ایضاً، ص453 (47) ایضاً، ص456 (48) ایضاً، ج6، ص173 (49) فتاوی دیداریہ، ص120 (50) ایضاً، ص132 (51) فتاوی مفتی اعظم راجستھان، ص135 (52) فتاوی خلیلیہ، ج1، ص79 (53) فتاوی اجملیہ، ج4، ص15 (54) ایضاً، ص42 (55) ایضاً، ص68 (56) ایضاً، ص83 (57) ایضاً، ص105 (58) ایضاً، ص128 (59) ایضاً، ص88 (60) فتاوی شارح بخاری، ج2، ص454 (61) فتاوی ضیاء العلوم، ص39 (62) فتاوی ملک العلماء، ص463 (63) فتاوی اجملیہ، ج4، ص15 (64) فتاوی فقیہ ملت، ج1، ص54 (65) ایضاً، ج2، ص155 (66) کیا آپ کو معلوم ہے، ح1، ص215 (67) فتاوی مسعودی، ص83 (68) فتاوی نعیمیہ، ص55 (69) فتاوی اویسیہ، ص464 (70) فتاوی تاج الشریعہ، ج1، ص293 (71) ایضاً، ص427 (72) ایضاً، ج2، ص103 (73) ایضاً، ص341 (74) ایضاً، ص511 (75) ایضاً، ص561 (76) ایضاً، ص597 (77) ایضاً، ص619 (78) تعزیہ بازی (79) ملفوظات اعلی حضرت، ص286 (80) اعلی حضرت کے بعض نئے فتاوی، ص86 (81) فتاوی منظر اسلام نمبر، ص218 (82) ایضاً، ص219 (83) ایضاً، ص235 (84) ایضاً، ص237 (85) ایضاً، ص239 (86) ایضاً، ص246 (87) فتاوی رضا دار الیتامی، ص285 (88) عرفان شریعت، ص10 (89) فتاوی شرعیہ، ج3، ص272 (90) ایضاً، ص531 (91) فتاوی امجدیہ، ج4، ص167 (92) ایضاً، ص185 (93) ایضاً، ص206 (94) تعزیہ اور ماتم (95) تعزیہ علماے اہل سنت کی نظر میں (96) رسومات محرم اور تعزیہ داری (97) مروجہ تعزیہ داری کا شرعی حکم (98) بہار شریعت، ح16 (99) خطبات محرم، ص464 (100) محرم میں کیا جائز کیا ناجائز (101) محرم الحرام کے بارے میں 50 سوالات اور علماے اہل سنت کے جوابات (102) ماہ محرم اور بدعات (103) قانون شریعت (104) فتاوی فیض الرسول، ج1، ص247 ‌(105) ایضاً، ص249 (106) ایضاً، ص250 (107) فتاوی فیض الرسول، ج2، ص518 (108) ایضاً، ص533 (109) ص563 (110) ایضاً، ص646

عبد مصطفی