🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-05-1444 ᴴ | 17-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-05-1444 ᴴ | 17-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مقدمہ المستند اردو صفحہ 3 تا 4
فقیر غلام رسول قاسمی قادِری

یہ کتاب مکمل pdf فائل میں ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15349

بِسۡمِ الـلّٰـهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ

اَلۡحَمۡدُ لِـلّٰـهِ رَبِّ الۡعَالَمِيۡنَ وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوۡلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلىٰ آلِهٖ وَ أَصۡحَابِهٖ أَجۡمَعِيۡنَ أَمَّا بَعۡدُ

کافی عرصہ پہلے فقیر کو خیال آیا تھا کہ دنیا بھر سے تمام ذخیرہ احادیث کو یکجا کر کے ترتیب دے دیا جائے اور قرآن مجید کی طرح حدیث کی صرف ایک ہی کتاب تیار کر دی جائے۔ لیکن معایہ خیال بھی آ گیا کہ یہ کام مشقت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا فائدہ مند بھی نہیں۔ کون اتنے بڑے ذخیرہ احادیث کو خریدےگا اور کون پڑھے گا؟ اور کسی عربی دان نے خرید کر پڑھ بھی لیا تو اردو خوانوں اور دیگر زبان والوں کے لیے ترجمہ ضروری ہوگا۔ اسکے باوجود اصل کتب بخاری مسلم صحاح ستہ وغیرہ سے کسی قیمت پر بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا۔ ایسا کام کر کے محض ایک نام تو پیدا کیا جاسکتا ہے مگر یہ اس دور کی اہم ضرورت نہیں۔

بالآخر فقیر نے ترجیح اس بات کو دی کہ ایک نہایت مختصر ذخیر و احادیث تیار کر دیا جائے جس میں عصر حاضر کی ضروریات کے مطابق تمام تر اسلامی عقائد اور تمام تر خطی احکام کو یکجا کر دیا گیا ہو ۔ اہل سنت کے عقائد اس کتاب میں اس طرح یکجا کر دیے گئے ہوں کہ اس کتاب کو پڑھ لینے کے بعد کسی دوسری کتاب میں تلاش کرنے کی حاجت مندر ہے۔

اس کے علاوہ نماز روزہ ، زکوۃ ، حج ، نکاح ، طلاق ، معاشیات ، سیاسیات ، تصوف ، اخلاق ، معاشرت ، میراث اور طب وغیرہ پر جدید دور کے تقاضے مد نظر رکھے گئے ہوں اور دنیا میں آج تک ایسی جامع کتاب نہ لکھی گئی ہو ۔ جو شخص اس کتاب کو پڑھ کر سمجھ لے وہ اسلام سے آگاہ و آشنا ہو جائے اور اگر اسی کتاب کو اسلامی مدارس کے نصاب میں شامل کر لیا جائے تو یہ کتاب کسی لحاظ سے اپنے اندر کوئی کمی نہ رکھتی ہو ۔ جگہ جگہ اسی کتاب کے کورسز کرائے جائیں اور خصوصاً گرمی کی چھٹیوں میں یا رمضان شریف کے مہینے میں یہ کتاب سکولوں کالجوں کے طلباء کو پڑھا دی جائے تو اللہ کی مہربانی سے ان کی زندگیاں سنور جائیں ۔ جس بہن بیٹی کے پاس یہ کتاب موجود ہو وہ اس کتاب پر قرآن کے بعد سب سے زیادہ بھروسہ کر سکے ۔ کسی صاحب مسند دار شاد نے یہ کتاب پڑھ لی ہو تو وہ اپنے مریدین کو اچھی رہنمائی دے سکیں اور اس کتاب کو اپنے پاس رکھیں ۔

حنفی احکام کو ترجیح دینے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اکثریت احناف ہی کی ہے ۔ پورا پاکستان اور ہندوستان، بنگلا دیش اور ارد گرد کی ریاستیں ، انڈونیشیا، ملائشیا، افغانستان، روس سے آزاد ہونے والی تمام مسلم ریاستیں، ازبکستان وغیرہ سب حنفی ہیں حتی کہ ایران کے سنی اور عرب ممالک کے بے شمار مسلمان حنفی ہیں ۔ غیر مسلم ممالک چین، برطانیہ، امریکہ وغیرہ میں بھی مقدم احناف بلکہ بعض ممالک میں پاکستانیوں کی اکثریت ہے ۔ الغرض مسلمانوں میں ۸۰ فیصد سے زائد حنفی ہیں۔

اللہ تعالیٰ دیگر کتب حدیث کے مصنفین کو بھی اجر عظیم عطا فرمائے اور ان کی کتب کو مزید ترقی دے اور مسلمانوں کی اتنی بھاری اکثریت کے لیے سنی عقائد اور حنفی احکام کو یکجا کر دینے کی ہماری اس چھوٹی سی کاوش کو بھی اپنی بارگاہ میں شرف قبول سے نوازے آمین۔

چنانچہ فقیر نے یہ سب کچھ سوچنے کے بعد مسنون طریقے سے اللہ کریم جل شانہ سے استخارہ کیا اور کتاب لکھنے کی اجازت ملنے کے بعد قلم اٹھایا اور الحمد للہ اس کتاب کے اصل نسخہ کو مرتب کرتے وقت فقیر ہر وقت با وضو رہا ۔

اس کتاب کی ترتیب اس طرح ہے کہ ہر باب یا فصل کا نام فقہی تحقیقات کا خلاصہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد متعلقہ آیات قرآنی لکھی گئی ہیں اس کے بعد احادیث لکھی گئی ہیں اور باب یا فصل کے آخر میں اگر ضروری سمجھا ہے تو روافض کی کتب سے احادیث ان کی تردید کی غرض سے لکھ دی ہیں ۔

یہ کتاب پہلی بار 2006ء میں صرف عربی متن کے ساتھ چھپی تھی ۔ الحمد للہ ملک کے طول و عرض میں اللہ تعالیٰ نے اسے خوب پذیرائی سے نوازا ۔ علماء کرام نے نہایت وسعت قلبی سے اسے خوب خراج تحسین پیش فرمایا ۔ حضرت شیخ الحدیث علامہ محمد اشرف صاحب سیالوی دامت برکاتہم نے اسے متعدد بار پڑھا اور لکھ کر دیا کہ میں نے اس سے قبل ایسی جامع کتاب نہیں دیکھی اور انہوں نے اسے اپنے مدرسہ میں شامل نصاب کیا ۔

حضرت پیر طریقت قبلہ پیر علاؤ الدین صاحب صدیقی دامت برکاتہم نے بھی اسے محی الدین اسلامی یونیورسٹی نیریاں شریف کے نصاب میں شامل فرمایا ۔ تقلیل عرصہ میں یہ کتاب متعدد مدارس میں رائج کر دی گئی ۔ بہت سے علماء نے اپنی مساجد میں نمازوں کے بعد اس کی تدریس شروع کر دی ۔

تنظیم المدارس کے سربراہ حضرت علامہ مفتی منیب الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے اس کی تخریج کرنے کا پر زور مشورہ دیا اور بعض علماء نے اس کا ترجمہ کرنے کو فرمایا ۔
1👍1
چنانچہ اس بار مکمل تخریج تحقیق اور اردو ترجمہ کے ساتھ نیا ایڈیشن پیش خدمت ہے ۔ تحقیق کرتے وقت بعض موضوع احادیث کو نکالنا پڑا اور بعض صحیح احادیث کو داخل کرنا پڑا ۔ اس کی تخریج میں فقیر کے ساتھ تعاون کرنے والے چند ساتھیوں کا ذکر خیر کرنا ضروری ہے ۔ محمد کاشف سلیم، محمد طارق سعید، اظہر عباس، محمد حسنین، مصطفیٰ حسین، محمد عدنان ۔

اللہ کریم ان سب نو جوانوں کو اجر عظیم عطا فرمائے اور دین متین کی خدمت کی توفیق بخشے ۔ آمین

فقیر غلام رسول قاسمی قادِری
مقدمہ المستند اردو صفحہ 3 تا 4

ʸᵉʰ ᴹᵘᵏᵃᵐᵐᵃˡ ᴮᵒᵒᵏ ᵖᵈᶠ ᴹᵉⁿ↷
یہ مکمل کتاب pdf فائل میں ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/42091
1
المستند اردو 📖 ذخیرۂ احادیث
اِس کِتاب میں ¹⁷⁶⁴ احادیث ہَیں
ناشِــر 📇 مکتبہ رحمة للعالمین
@Maslake_Aalaa_Hazrat
شـیخ الحدیث والتفسیر پِـیر
سائیں غلام رسول قاسمی قادِری
نقشبندی دامت برکاتـهـم الـعـالـیہ
1
المستند_اردو_=_علامہ_غلام_رسول_قاسمی_قادری.pdf
9.7 MB
المستند اردو 📖 1764 احادیث
@Maslake_Aalaa_Hazrat
علامہ غلام رسول قاسمی قادِری
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*🕯برائی کو روکنا ضروری ہے🕯*


📬 رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَاِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ یعنی جو تم میں سے کوئی بُرائی دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ سے بَدَل دے اور اگر وہ اِس کی قوّت نہیں رکھتا تو اپنی زَبان سے (روک دے) پھر اگر وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے) اور یہ سب سے کمزور ایمان کادَرَجہ ہے۔(مسلم،ص 48، حدیث: 177)

بُرائی سے روکنے اور نیکی کی دعوت کی ہر شخص کو اُس کی طاقت کے مطابق ذِمَّہ داری دی گئی ہے۔لہٰذا وہ طَبَقَہ جسے لوگوں پر غَلَبہ اور تَسَلُّط حاصل ہے،جیسے حاکِمِ اسلام کو عام لوگوں پر، والِدَین کو اپنی اَولاد پر، اَساتِذہ کو اپنے طُلَبا پر، اِن کے لئے لازم ہے کہ اگر یہ اپنے کسی ماتَحت کو بُرائی میں مبتلا دیکھیں تو شریعت کی مُقَرَّر کردہ حد میں رہتے ہوئے سزا دے کر بھی ان کو بُرائی سے روکیں۔ اور وہ عُلَمائے کرام اور مُبَلِّغینِ اِسلام جو لوگوں پر غَلَبہ نہیں رکھتے وہ مختلف ذَرائع جیسے اِجْتِماع اور جُمُعہ وغیرہ میں اپنے بَیان کے ذریعے اور کُتُب اور خُطُوط وغیرہ تَحریر کے ذریعے لوگوں کو بُرائی سے روکیں، بلکہ حکیمُ الاُمَّت مفتی اَحمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے شُعَرَا کا اپنی نظموں کے ذریعے بُرائی کا قَلْع قَمع کرنا بھی زَبان وتَحریر کے ذریعے بُرائی سے روکنے میں شامل کیا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج6، ص503، ملخصاً)

اور وہ عام لوگ جو زَبان سے بھی بُرائی کو روکنے کی قوّت نہیں رکھتے تو وہ بُرائی کو دل سے بُرا جانیں، اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین دَرَجہ ہے کیونکہ کوشش کر کے زَبان سے روکنا چاہئے، لیکن جب ایسا شخص بُرائی کو دل سے بُرا سمجھے گا تو یقیناً خود بُرائی کے قریب نہیں جائے گا، نتیجہ یہ نکلے گا کہ مُعَاشرے کے بَکَثْرت اَفراد خود بخود راہِ راست پر آجائیں گے۔

یہ یاد رہے کہ بعض صورتوں میں نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا واجب ہوتا ہے جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ مولانا مفتی امجد علی اَعْظَمِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں: اگر غالب گُمان یہ ہے کہ یہ اُن سے کہے گا تو وہ اِس کی بات مان لیں گے اور بُری بات سے باز آجائیں گے تو اَمْر بِالْمَعْرُوْف واجب ہے اُس کو باز رہنا جائز نہیں۔( بہارِ شریعت،حصه 16، ص 615)

حافظ اِبنِ مُلَقِّن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بُرائی سے روکنا فرضِ کِفایہ ارشاد فرمایا ہے۔(المعین علی تفھم الاربعین، ص 394) البتہ دیگر شَارِحِینِ حدیث نے یہ بھی اِرشاد فرمایا کہ دل سے بُرائی کا انکار کرنا فرضِ عین ہے یعنی ضروری ہے کہ ہر ایک بُرائی کو بُرا سمجھے۔(الفتح المبین، ص 547، ملخصاً)

امام ابو داؤد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سَیِّدُنا عُرْس بن عَمِیْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جب کسی مقام پر بُرائی ہو رہی ہو اور وہاں موجود شخص اس کو ناپسند کرتا ہے (اور ایک روایت میں ہے: اس کا انکار کرتا ہے) تو وہ ایسا ہے گویا وہاں موجود ہی نہیں اور جو وہاں موجود نہیں مگر اس بُرائی پر راضی ہے تو وہ ایسا ہے جیسا وہاں حاضر ہے۔(ابو داؤد،ج4، ص166، حدیث: 4354) اس موضوع پر مزید تفصیل کے لئے امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیفِ لطیف ”نیکی کی دعوت“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مُطالَعہ بے حد مُفید ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلــم✍🏻 مفتی محمد حسان رضا عطاری مدنی۔*
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-05-1444 ᴴ | 17-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-05-1444 ᴴ | 18-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1