🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-05-1444 ᴴ | 16-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-05-1444 ᴴ | 16-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ان شاء اللہ اور انشاء اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ان شاء اللہ اور انشاء اللہ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
انفرادی شان ملے تو ضلالت قبول ہے
آج سے ایک صدی پیش تر جب عرب وعجم کے علمائے اہل سنت وجماعت نے امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کو مجدد اسلام تسلیم کر لیا۔ہر چہار جانب ان کی عظمت شان کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔عوام وخواص میں ان کی قبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔ملک وبیرون ملک میں ان کا علمی سکہ چلنے لگا۔اکناف عالم میں ان کا شہرہ بڑھنے لگا,تب بعض لوگوں کو درد شکم لاحق ہوا۔
بعض لوگ اپنی انفرادی شان قائم کرنے کے لئے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی ذات کو مجروح کرنے کی سعی لاحاصل کرنے لگے۔ان سے کسی علمی مسئلہ میں اختلاف کرنے لگے۔رفتہ رفتہ اختلاف کا سلسلہ فقہیات سے اعتقادیات تک جا پہنچا۔
امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان نے مذہب اسلام کے صحیح عقائد بیان فرمائے ہیں۔اختلاف کرنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ اعتقادی اختلاف کے سبب ضلالت یا کفر کا حکم عائد ہوتا ہے,لیکن اس اختلاف کے سبب ان کی انفرادی شان ضرور قائم ہو جاتی ہے اور ان کے معتقدین ان کو سنی ہی سمجھتے ہیں۔اگر کوئی ان کو گمراہ وبد دین کہے تو ان کے ہزاروں معتقدین دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور غلط سلط تاویل بے جا پیش کر کے ان پر نافذ شدہ حکم شرعی کو اختلافی بنا دیتے ہیں۔
ایسے کج کلاہوں میں سے مسٹر طاہر القادری اور اسی ڈگر پر چلنے والے بعض لوگ ہیں۔ایسی ناشائستہ حرکت وہ لوگ کرتے ہیں جن کے دو چار ہزار معتقدین ہوں۔ماضی قریب میں وابستگان سراواں نے پیر سراواں کو شیخ الاسلام بنا کر پیش کیا تھا۔اس وقت حالات سے نا آشنائی کے سبب بعض علمائے اہل سنت وجماعت بھی سراواں آمد ورفت رکھتے تھے۔رفتہ رفتہ حقائق مخفیہ کا ظہور ہونے لگا اور یکے بعد دیگرے علمائے کرام نے آنا جانا بند کر دیا۔
چوں کہ شیخ سراواں نے مدرسہ بھی کھول رکھا ہے تو وہاں کے فارغین سراوی نظریات کو قبول کریں گے اور ایک امتیازی شان ضرور نمایاں ہو جائے گی۔اسی مقصد کی خاطر وابستگان سراواں(فرقہ بجنوریہ)اپنے نظریات باطلہ کی تشہیر کر رہے ہیں,حالاں کہ فرقہ دیوبندیہ کے مرتدین اربعہ کو مومن ماننے کے سبب شرعی اصول وقوانین کی روشنی میں فرقہ بجنوریہ پر حکم ارتداد نافذ ہوتا ہے۔
فرقہ سراویہ بجنوریہ کا یہ مشہور اعتراض ہے کہ اعلی حضرت قدس سرہ العزیز سے قبل کے علمائے اہل سنت وجماعت نے اکابر دیوبند کو صریح لفظوں میں کافر کیوں نہیں کہا؟
اس کا جواب یہی ہے کہ جیسے 2017 سے فرقہ سراویہ بجنوریہ علی الاعلان تکفیر اشخاص اربعہ کا انکار کر رہا ہے,لیکن کسی دار الافتا نے آج تک ان لوگوں کے کفر واتداد کا حکم نافذ نہیں کیا,حالاں کہ شرعی حکم وارد ہوتا ہے۔اس کا سبب یہی ہے کہ علمائے اہل سنت یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ افہام وتفہیم کے ذریعہ معاملہ حل ہو جائے اور جو حکم شرعی ہے,وہ بار بار بتایا جا چکا ہے اور وہ حکم شرع مخفی نہیں,بلکہ عوام وخواص کو معلوم ہے۔جب معاملہ حل نہیں ہو گا تو وہی شرعی حکم بیان کیا جائے گا جو خلیل بجنوری,ظفر ادیبی,اہل پھلواری وغیرہم کے واسطے بیان کیا گیا ہے۔خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ہاں,وابستگان سراواں کو ایک گروپ بھی مل جائے گا,لیکن یہ خیال کہ اہل حق ان کے نظریات باطلہ کو قبول کر لیں گے۔ان شاء اللہ تعالی ایسا ہرگز نہیں ہو گا,نہ عہد ماضی میں ایسا ہوا ہے۔
معتزلہ,کرامیہ,جہمیہ ودیگر فرق باطلہ اپنی مکروہ صورتوں کے ساتھ نمودار ہوئے اور انجام کار صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔اہل سنت وجماعت عہد رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا سے آج تک حقانیت پر قائم ومستحکم ہیں اور بفضل الہی بقائے اسلام تک اپنے جلوۂ حقانیت کے ساتھ موجود رہیں گے۔ان شاء اللہ تعالی فرقہ سراویہ بجنوریہ بھی اپنے انجام کو جلد ہی پہنچ جائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:دسمبر 2022
انفرادی شان ملے تو ضلالت قبول ہے
آج سے ایک صدی پیش تر جب عرب وعجم کے علمائے اہل سنت وجماعت نے امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کو مجدد اسلام تسلیم کر لیا۔ہر چہار جانب ان کی عظمت شان کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔عوام وخواص میں ان کی قبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔ملک وبیرون ملک میں ان کا علمی سکہ چلنے لگا۔اکناف عالم میں ان کا شہرہ بڑھنے لگا,تب بعض لوگوں کو درد شکم لاحق ہوا۔
بعض لوگ اپنی انفرادی شان قائم کرنے کے لئے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی ذات کو مجروح کرنے کی سعی لاحاصل کرنے لگے۔ان سے کسی علمی مسئلہ میں اختلاف کرنے لگے۔رفتہ رفتہ اختلاف کا سلسلہ فقہیات سے اعتقادیات تک جا پہنچا۔
امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان نے مذہب اسلام کے صحیح عقائد بیان فرمائے ہیں۔اختلاف کرنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ اعتقادی اختلاف کے سبب ضلالت یا کفر کا حکم عائد ہوتا ہے,لیکن اس اختلاف کے سبب ان کی انفرادی شان ضرور قائم ہو جاتی ہے اور ان کے معتقدین ان کو سنی ہی سمجھتے ہیں۔اگر کوئی ان کو گمراہ وبد دین کہے تو ان کے ہزاروں معتقدین دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور غلط سلط تاویل بے جا پیش کر کے ان پر نافذ شدہ حکم شرعی کو اختلافی بنا دیتے ہیں۔
ایسے کج کلاہوں میں سے مسٹر طاہر القادری اور اسی ڈگر پر چلنے والے بعض لوگ ہیں۔ایسی ناشائستہ حرکت وہ لوگ کرتے ہیں جن کے دو چار ہزار معتقدین ہوں۔ماضی قریب میں وابستگان سراواں نے پیر سراواں کو شیخ الاسلام بنا کر پیش کیا تھا۔اس وقت حالات سے نا آشنائی کے سبب بعض علمائے اہل سنت وجماعت بھی سراواں آمد ورفت رکھتے تھے۔رفتہ رفتہ حقائق مخفیہ کا ظہور ہونے لگا اور یکے بعد دیگرے علمائے کرام نے آنا جانا بند کر دیا۔
چوں کہ شیخ سراواں نے مدرسہ بھی کھول رکھا ہے تو وہاں کے فارغین سراوی نظریات کو قبول کریں گے اور ایک امتیازی شان ضرور نمایاں ہو جائے گی۔اسی مقصد کی خاطر وابستگان سراواں(فرقہ بجنوریہ)اپنے نظریات باطلہ کی تشہیر کر رہے ہیں,حالاں کہ فرقہ دیوبندیہ کے مرتدین اربعہ کو مومن ماننے کے سبب شرعی اصول وقوانین کی روشنی میں فرقہ بجنوریہ پر حکم ارتداد نافذ ہوتا ہے۔
فرقہ سراویہ بجنوریہ کا یہ مشہور اعتراض ہے کہ اعلی حضرت قدس سرہ العزیز سے قبل کے علمائے اہل سنت وجماعت نے اکابر دیوبند کو صریح لفظوں میں کافر کیوں نہیں کہا؟
اس کا جواب یہی ہے کہ جیسے 2017 سے فرقہ سراویہ بجنوریہ علی الاعلان تکفیر اشخاص اربعہ کا انکار کر رہا ہے,لیکن کسی دار الافتا نے آج تک ان لوگوں کے کفر واتداد کا حکم نافذ نہیں کیا,حالاں کہ شرعی حکم وارد ہوتا ہے۔اس کا سبب یہی ہے کہ علمائے اہل سنت یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ افہام وتفہیم کے ذریعہ معاملہ حل ہو جائے اور جو حکم شرعی ہے,وہ بار بار بتایا جا چکا ہے اور وہ حکم شرع مخفی نہیں,بلکہ عوام وخواص کو معلوم ہے۔جب معاملہ حل نہیں ہو گا تو وہی شرعی حکم بیان کیا جائے گا جو خلیل بجنوری,ظفر ادیبی,اہل پھلواری وغیرہم کے واسطے بیان کیا گیا ہے۔خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ہاں,وابستگان سراواں کو ایک گروپ بھی مل جائے گا,لیکن یہ خیال کہ اہل حق ان کے نظریات باطلہ کو قبول کر لیں گے۔ان شاء اللہ تعالی ایسا ہرگز نہیں ہو گا,نہ عہد ماضی میں ایسا ہوا ہے۔
معتزلہ,کرامیہ,جہمیہ ودیگر فرق باطلہ اپنی مکروہ صورتوں کے ساتھ نمودار ہوئے اور انجام کار صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔اہل سنت وجماعت عہد رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا سے آج تک حقانیت پر قائم ومستحکم ہیں اور بفضل الہی بقائے اسلام تک اپنے جلوۂ حقانیت کے ساتھ موجود رہیں گے۔ان شاء اللہ تعالی فرقہ سراویہ بجنوریہ بھی اپنے انجام کو جلد ہی پہنچ جائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:دسمبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
دہلوی کی شہرت توبہ اور امام اہل سنت
بجنوری تحریر میں چیلنج کیا گیا ہے کہ کوئی رضاخانی فاضل بریلوی کی تحریروں سے اسماعیل دہلوی کی توبہ کی شہرت ثابت کرے۔
یہ سوال وچیلنج فریب بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے احتمال بعید کے سبب دہلوی کی تکفیر کلامی نہیں کی۔ایسا نہیں کہ شہرت توبہ کے سبب تکفیر کلامی نہیں کی۔
اگر دہلوی کی توبہ کی خبر قابل اعتماد ہوتی تو آپ اس کو کافر فقہی بھی نہیں مانتے,حالاں کہ آپ نے الکوکبۃ الشہابیہ,سل السیوف الہندیہ اور فتاوی رضویہ میں دہلوی کو کافر فقہی تسلیم کیا ہے۔
بعض علمائے اہل سنت نے دیوبندیوں کو محض الزامی جواب دیتے ہوئے کہا کہ رشید احمد گنگوہی نے اسماعیل دہلوی کی شہرت توبہ کا ذکر کیا ہے,پس اس شہرت توبہ کے سبب تکفیر سے سکوت کیا جائے تو سکوت کرنے والے پر شرعی الزام نہیں ہو گا۔
تکفیر کلامی وتکفیر فقہی کا فرق عوام الناس کو سمجھنا مشکل تھا,اور دیابنہ امت مسلمہ کو گمرہی میں مبتلا کر رہے تھے,لہذا(کلموا الناس علی قدر عقولہم)کی روشنی میں شہرت توبہ کے ذریعہ دیوبندیوں کو الزامی جواب دیا گیا,اور دیوبندی مولویوں کو تحقیقی جوابات بھی الموت الاحمر وغیرہ میں دیئے جا چکے تھے کہ احتمال بعید کے سبب تکفیر کلامی نہیں ہوتی ہے اور تکفیر فقہی ہو جاتی ہے,کیوں کہ فقہائے کرام احتمال بعید کو قبول نہیں کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:دسمبر 2022
دہلوی کی شہرت توبہ اور امام اہل سنت
بجنوری تحریر میں چیلنج کیا گیا ہے کہ کوئی رضاخانی فاضل بریلوی کی تحریروں سے اسماعیل دہلوی کی توبہ کی شہرت ثابت کرے۔
یہ سوال وچیلنج فریب بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے احتمال بعید کے سبب دہلوی کی تکفیر کلامی نہیں کی۔ایسا نہیں کہ شہرت توبہ کے سبب تکفیر کلامی نہیں کی۔
اگر دہلوی کی توبہ کی خبر قابل اعتماد ہوتی تو آپ اس کو کافر فقہی بھی نہیں مانتے,حالاں کہ آپ نے الکوکبۃ الشہابیہ,سل السیوف الہندیہ اور فتاوی رضویہ میں دہلوی کو کافر فقہی تسلیم کیا ہے۔
بعض علمائے اہل سنت نے دیوبندیوں کو محض الزامی جواب دیتے ہوئے کہا کہ رشید احمد گنگوہی نے اسماعیل دہلوی کی شہرت توبہ کا ذکر کیا ہے,پس اس شہرت توبہ کے سبب تکفیر سے سکوت کیا جائے تو سکوت کرنے والے پر شرعی الزام نہیں ہو گا۔
تکفیر کلامی وتکفیر فقہی کا فرق عوام الناس کو سمجھنا مشکل تھا,اور دیابنہ امت مسلمہ کو گمرہی میں مبتلا کر رہے تھے,لہذا(کلموا الناس علی قدر عقولہم)کی روشنی میں شہرت توبہ کے ذریعہ دیوبندیوں کو الزامی جواب دیا گیا,اور دیوبندی مولویوں کو تحقیقی جوابات بھی الموت الاحمر وغیرہ میں دیئے جا چکے تھے کہ احتمال بعید کے سبب تکفیر کلامی نہیں ہوتی ہے اور تکفیر فقہی ہو جاتی ہے,کیوں کہ فقہائے کرام احتمال بعید کو قبول نہیں کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:دسمبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
فرقہ سراویہ بجنوریہ کی ارتدادی فطرت
فرقہ سراویہ بجنوریہ جو دراصل"انجمن تحفظ عناصر اربعہ آف دیوبند"ہے,اس کی فطرت وجبلت میں کفر وارتداد ہے۔ان لوگوں کو اسلام کی جانب بلایا جائے تو یہ لوگ مزید قوت وتوانائی کے ساتھ ارتداد کی طرف دوڑ لگاتے نظر آتے ہیں۔اسلامی تعلیم یہی ہے کہ مومن کو مومن اور کافر کو کافر مانا جائے۔
مومن کے کلام میں تاویل کی جاتی ہے کہ حتی الامکان اس کو کفر سے بچایا جا سکے,لیکن جو ایسا کفر کر چکا ہو کہ وہ من کل الوجوہ اسلام سے خارج ہو گیا۔اصول وضوابط کی روشنی میں اس کے کلام کو جانچ پرکھ لیا گیا۔اصول وضوابط کے اعتبار سے کوئی ایسی راہ نہیں کہ وہ کفر سے بچ سکے تو اب فرض ہے کہ اس کو کافر مانا جائے۔
فروعی وظنی مسائل میں اجتہاد کی اجازت ہے۔کفر کلامی کفر قطعی ہے۔قطعیات میں نفس الامری حقیقت کے مطابق جو حکم ہے,اسی کو بیان کرنا لازم ہے۔تکفیر کلامی کے خاص اصول وضوابط کے سبب مسئلہ تکفیر کلامی میں خالص فقہائے اسلام کو بھی تحقیق وتدقیق کی اجازت نہیں۔ایسی صورت میں بجنوریوں کو مسئلہ تکفیر میں کلام کی اجازت کیسے مل سکتی ہے۔
یہ لوگ خود بھی ارتداد میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلائے کفر کر دینا چاہتے ہیں۔علمائے اہل سنت وجماعت اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی سے متعلق تمام سوالوں کے جوابات بہت سے رسائل وکتب اور مناظروں میں دے چکے ہیں۔
عوام مسلمین ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی کی کتاب"حسام الحرمین کے سو سال"کا مطالعہ کریں۔اس کتاب کا اسلوب بیان سہل اور طرز نگارش عوام الناس کے لئے قابل فہم ہے۔
فرقہ سراویہ بجنوریہ بار بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے پہلے فلاں فلاں علمائے اہل سنت تھے,انہوں نے اکابر دیوبندیہ کو کافر نہیں کہا۔
جواب یہ ہے کہ کافر کو کافر اعتقاد کرنا ضروری ہے۔ہاں,سوال کے وقت اس اعتقاد کا اظہار لازم ہے۔اگر کسی سے سوال نہ کیا گیا,یا اظہار عقیدہ کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئی جس کے سبب اظہار واقرار نہ ہو سکا تو اس پر کوئی شرعی الزام نہیں,جب کہ عقیدہ صحیح ہو۔
آج بھی بے شمار علمائے اہل سنت وجماعت ہیں کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر سے متعلق ان کی تحریر نہیں۔اگر سوال ہونے پر کوئی صحیح عقیدہ کا اقرار نہ کرے,تب شرعا اعتراض ہو گا,ورنہ صحیح عقیدہ کافی ہے۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے ماقبل کے جن علمائے اہل سنت کی کوئی تحریر یا قول اکابر دیوبند کی تکفیر سے متعلق منقول وموجود نہیں تو یہ دیکھنا ہو گا کہ ان کو دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں کی خبر تھی یا نہیں؟
اگر خبر تھی تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ تکفیر کرنے والے علمائے اہل سنت وجماعت کو اہل حق مانتے تھے یا اہل باطل؟
ان کے روابط علمائے اہل سنت کے ساتھ تھے یا اکابر دیوبند کے ساتھ؟
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علمائے اہل سنت کے روابط اکابر دیوبند کے ساتھ نہ تھے۔کفریات کے علم کے بعد علمائے اہل سنت دیوبندیوں سے جدا ہو گئے تھے۔
کفریات سے بے خبر ہونے کی حالت میں کسی سنی عالم نے اکابر دیوبند کی تعریف وتوصیف کی ہو تو اس کا اعتبار نہیں۔
اکابر دیوبند کے پیر طریقت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور شیخ انوار اللہ فاروقی حیدرآبادی نے تقدیس الوکیل پر اپنی تقریظ وتصدیق لکھی۔حاجی صاحب نے"فیصلہ ہفت مسئلہ"رقم فرمایا,یعنی خود اکابر دیوبند کے پیر طریقت نے بھی دیوبندیوں کی تردید کی,لیکن وہ لوگ اپنے پیر طریقت کی بھی بات قبول نہ کرسکے۔ان کے پیر طریقت نے خلاف شریعت بات نہ کی تھی,بلکہ وہی نقل کیا تھا جو اسلام کا صحیح حکم تھا۔
اگر استاذ وشیخ کی بات خلاف شرع ہو تو یقینا قبول نہیں کی جائے گی۔سچ یہ ہے کہ دیوبندیوں نے اپنے اصلی پیر ہی کی پیروی کی تھی,یعنی ابلیس لعین کی۔وہ لوگ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزمائش بن گئے۔خود بھی مستحق جہنم بنے اور لاکھوں مسلمانوں کو جہنمی بنا گئے۔
اشخاص اربعہ کی طرح فرقہ سراویہ بجنوریہ بھی مسلمانوں کے لئے آزمائش ہے۔پان کے پتے کا جو حصہ داغدار ہو جاتا ہے,اسے دوکان دار کاٹ کر پان سے الگ کر دیتا ہے,یعنی کچھ نقصان سہنا پڑتا ہے۔پان پتے کے داغدار حصے کی طرح فرقہ بجنوریہ بھی داغدار حصہ تھا۔ہم نے اسے چار سال قبل 2018 ہی میں اس کو جدا کر دیا ہے اور اس کا لقب(فرقہ بجنوریہ) بھی اسی وقت وضع کر دیا تھا۔یہ ہم میں سے نہیں۔نہ کوئی ذمہ دار سنی ایسوں کو اپنوں میں شمار کرتا ہے۔
اسماعیل دہلوی کے عہد میں شیعہ لوگ وہابی نہ ہوئے تھے,بلکہ سنی کہلانے ہی وہابی بنے تھے۔جب ان کے عقائد صحیح تھے,ان کو سنی تسلیم کیا گیا۔جب وہ لوگ غلط عقائد اختیار کر لئے تو ان لوگوں کو جدا کر دیا گیا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:دسمبر 2022
فرقہ سراویہ بجنوریہ کی ارتدادی فطرت
فرقہ سراویہ بجنوریہ جو دراصل"انجمن تحفظ عناصر اربعہ آف دیوبند"ہے,اس کی فطرت وجبلت میں کفر وارتداد ہے۔ان لوگوں کو اسلام کی جانب بلایا جائے تو یہ لوگ مزید قوت وتوانائی کے ساتھ ارتداد کی طرف دوڑ لگاتے نظر آتے ہیں۔اسلامی تعلیم یہی ہے کہ مومن کو مومن اور کافر کو کافر مانا جائے۔
مومن کے کلام میں تاویل کی جاتی ہے کہ حتی الامکان اس کو کفر سے بچایا جا سکے,لیکن جو ایسا کفر کر چکا ہو کہ وہ من کل الوجوہ اسلام سے خارج ہو گیا۔اصول وضوابط کی روشنی میں اس کے کلام کو جانچ پرکھ لیا گیا۔اصول وضوابط کے اعتبار سے کوئی ایسی راہ نہیں کہ وہ کفر سے بچ سکے تو اب فرض ہے کہ اس کو کافر مانا جائے۔
فروعی وظنی مسائل میں اجتہاد کی اجازت ہے۔کفر کلامی کفر قطعی ہے۔قطعیات میں نفس الامری حقیقت کے مطابق جو حکم ہے,اسی کو بیان کرنا لازم ہے۔تکفیر کلامی کے خاص اصول وضوابط کے سبب مسئلہ تکفیر کلامی میں خالص فقہائے اسلام کو بھی تحقیق وتدقیق کی اجازت نہیں۔ایسی صورت میں بجنوریوں کو مسئلہ تکفیر میں کلام کی اجازت کیسے مل سکتی ہے۔
یہ لوگ خود بھی ارتداد میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلائے کفر کر دینا چاہتے ہیں۔علمائے اہل سنت وجماعت اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی سے متعلق تمام سوالوں کے جوابات بہت سے رسائل وکتب اور مناظروں میں دے چکے ہیں۔
عوام مسلمین ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی کی کتاب"حسام الحرمین کے سو سال"کا مطالعہ کریں۔اس کتاب کا اسلوب بیان سہل اور طرز نگارش عوام الناس کے لئے قابل فہم ہے۔
فرقہ سراویہ بجنوریہ بار بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے پہلے فلاں فلاں علمائے اہل سنت تھے,انہوں نے اکابر دیوبندیہ کو کافر نہیں کہا۔
جواب یہ ہے کہ کافر کو کافر اعتقاد کرنا ضروری ہے۔ہاں,سوال کے وقت اس اعتقاد کا اظہار لازم ہے۔اگر کسی سے سوال نہ کیا گیا,یا اظہار عقیدہ کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئی جس کے سبب اظہار واقرار نہ ہو سکا تو اس پر کوئی شرعی الزام نہیں,جب کہ عقیدہ صحیح ہو۔
آج بھی بے شمار علمائے اہل سنت وجماعت ہیں کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر سے متعلق ان کی تحریر نہیں۔اگر سوال ہونے پر کوئی صحیح عقیدہ کا اقرار نہ کرے,تب شرعا اعتراض ہو گا,ورنہ صحیح عقیدہ کافی ہے۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے ماقبل کے جن علمائے اہل سنت کی کوئی تحریر یا قول اکابر دیوبند کی تکفیر سے متعلق منقول وموجود نہیں تو یہ دیکھنا ہو گا کہ ان کو دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں کی خبر تھی یا نہیں؟
اگر خبر تھی تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ تکفیر کرنے والے علمائے اہل سنت وجماعت کو اہل حق مانتے تھے یا اہل باطل؟
ان کے روابط علمائے اہل سنت کے ساتھ تھے یا اکابر دیوبند کے ساتھ؟
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علمائے اہل سنت کے روابط اکابر دیوبند کے ساتھ نہ تھے۔کفریات کے علم کے بعد علمائے اہل سنت دیوبندیوں سے جدا ہو گئے تھے۔
کفریات سے بے خبر ہونے کی حالت میں کسی سنی عالم نے اکابر دیوبند کی تعریف وتوصیف کی ہو تو اس کا اعتبار نہیں۔
اکابر دیوبند کے پیر طریقت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور شیخ انوار اللہ فاروقی حیدرآبادی نے تقدیس الوکیل پر اپنی تقریظ وتصدیق لکھی۔حاجی صاحب نے"فیصلہ ہفت مسئلہ"رقم فرمایا,یعنی خود اکابر دیوبند کے پیر طریقت نے بھی دیوبندیوں کی تردید کی,لیکن وہ لوگ اپنے پیر طریقت کی بھی بات قبول نہ کرسکے۔ان کے پیر طریقت نے خلاف شریعت بات نہ کی تھی,بلکہ وہی نقل کیا تھا جو اسلام کا صحیح حکم تھا۔
اگر استاذ وشیخ کی بات خلاف شرع ہو تو یقینا قبول نہیں کی جائے گی۔سچ یہ ہے کہ دیوبندیوں نے اپنے اصلی پیر ہی کی پیروی کی تھی,یعنی ابلیس لعین کی۔وہ لوگ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزمائش بن گئے۔خود بھی مستحق جہنم بنے اور لاکھوں مسلمانوں کو جہنمی بنا گئے۔
اشخاص اربعہ کی طرح فرقہ سراویہ بجنوریہ بھی مسلمانوں کے لئے آزمائش ہے۔پان کے پتے کا جو حصہ داغدار ہو جاتا ہے,اسے دوکان دار کاٹ کر پان سے الگ کر دیتا ہے,یعنی کچھ نقصان سہنا پڑتا ہے۔پان پتے کے داغدار حصے کی طرح فرقہ بجنوریہ بھی داغدار حصہ تھا۔ہم نے اسے چار سال قبل 2018 ہی میں اس کو جدا کر دیا ہے اور اس کا لقب(فرقہ بجنوریہ) بھی اسی وقت وضع کر دیا تھا۔یہ ہم میں سے نہیں۔نہ کوئی ذمہ دار سنی ایسوں کو اپنوں میں شمار کرتا ہے۔
اسماعیل دہلوی کے عہد میں شیعہ لوگ وہابی نہ ہوئے تھے,بلکہ سنی کہلانے ہی وہابی بنے تھے۔جب ان کے عقائد صحیح تھے,ان کو سنی تسلیم کیا گیا۔جب وہ لوگ غلط عقائد اختیار کر لئے تو ان لوگوں کو جدا کر دیا گیا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:دسمبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
الخط یشبہ الخط اور بجنوریوں کا خبط
گنگوہی کے وقوع کذب کے فتوی سے متعلق بجنوری تحریروں میں اعتراض کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ الخط یشبہ الخط یعنی ایک کی تحریر کی مثل دوسرے کی تحریر ہو سکتی ہے,پس محض تحریر کے سبب تکفیر نہیں ہو سکتی ہے۔
بجنوریوں کی یہ بات بالکل درست ہے کہ تحریروں میں مماثلت ہوتی ہے,لیکن یہ کس نے کہہ دیا کہ محض تحریر دیکھ کر تکفیر کر دی گئی۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور حفظ الایمان تو مطبوعہ تھی۔مطبوعہ کتابوں کی باضابطہ کتابت ہوتی ہے اور کتابت کوئی کاتب کرتا ہے۔کوئی ضروری نہیں کہ مصنف ومؤلف خود کتابت کرے۔آج تک دیوبندیوں نے بھی دعوی نہیں کیا کہ مطبوعہ تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور حفظ الایمان کی کتابت خود ان کے مولفین نے کی تھی,بلکہ کسی کاتب نے کی ہو گی,یعنی ان مطبوعہ نسخوں کی کتابت خود مولفین کے ہاتھوں سے ہونے کا نہ کسی کو ظن ہے,نہ یقین ہے,پھر بھی ان رسالوں کے مولفین کی تکفیر کلامی ہوئی ہے۔
درحقیقت بجنوریوں کو تکفیر کلامی کی شرط ہی صحیح طور پر سمجھ میں نہ آ سکی ہے۔تکفیر کلامی کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جہت تکلم سے احتمال بعید بھی منتفی ہو,یعنی جہت تکلم قطعی بالمعنی الاخص ہو۔اس کی ایک صورت یہ ہے کہ خود مفتی کے سامنے ہی ملزم کفری کلام کہے یا لکھے یا کفری عمل کرے۔دوسری صورت یہ ہے کہ مفتی کو تواتر کے ساتھ یہ خبر ملے کہ فلاں نے یہ کفری کلام کہا ہے یا لکھا ہے یا کفری عمل کیا ہے۔
بجنوریوں کے جد اعلی رشید احمد گنگوہی کا فتوی وقوع کذب میرٹھ سے ربیع الاخر 1308 ہجری مطابق 1890 میں چھپا۔اعلی درجہ کے تواتر کے ساتھ اس کی خبر ملک بھر میں مشتہر ہوئی کہ یہ فتوی گنگوہی کا ہے۔اس وقت دیوبندیوں نے اس کا انکار نہیں کیا,بلکہ گنگوہی نے اپنے شاگرد محمد حسن مراد آبادی کے نام سے "تقدیس القدیر"چھپوائی تو اس میں صفحہ 79 پر لکھا:"گفتگو جواز وقوعی میں ہے,نہ کہ جواز امکانی میں"۔
اسی میں صفحہ 78پر لکھا:"جواز وقوعی میں بحث ہے"-
مرتضی حسن دربھنگوی نے اسکات المعتدی میں ص31 پر اکابر اشاعرہ کو وقوع کذب الہی کا قائل بتایا۔
زندگی بھر گنگوہی نے انکار نہ کیا کہ یہ فتوی میرا نہیں ہے,حالاں کہ اسی فتوی کے سبب گنگوہی کی زندگی میں اس کی تکفیر بھی کی گئی۔
گنگوہی کے وقوع کذب کے فتوی کے رد میں حضرت علامہ نذیر احمد خاں رامپوری,احمد آبادی قدس سرہ العزیز کا فتوی 1309ہجری میں مطبع خیر المطابع میرٹھ سے شائع ہوا۔اس میں گنگوہی کے لئے کفر ثابت کیا گیا۔چوں کہ ایک سال قبل 1308 میں یہیں سے گنگوہی کا فتوی شائع ہوا تھا,لہذا جوابی فتوی بھی یہیں سے شائع ہوا۔
پھر علامہ نذیر احمد رام پوی کا فتوی اضافات کے ساتھ 1318ہجری میں ممبئی سے شائع ہوا۔اس کے بعد 1320 میں گنگوہی کے فتوی کا رد بلیغ مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے شائع ہوا۔1320 ہجری میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے المعتمد المستند میں اس فتوی کے سبب گنگوہی کی تکفیر کی۔اور براہین قاطعہ کی تصدیق کے سبب بھی تکفیر کی۔المعتمد المستند 1321ہجری میں مطبع تحفیہ حنفیہ(پٹنہ)سے شائع ہوئی۔
گنگوہی بار بار اپنی تکفیر دیکھتا رہا۔گنگوہی یا دیوبندیوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ فتوی گنگوہی کا نہیں ہے۔9:جمادی الاخری 1324 ہجری کو گنگوہی راہی ملک عدم ہو گیا۔اس کی موت کے فورا بعد بھی کسی نے نہیں کہا کہ یہ فتوی گنگوہی کا نہیں ہے۔
جب 1324 ہجری میں حسام الحرمین میں قادیانی اور فرقہ دیوبندیہ کے مرتدین اربعہ کے کفر کلامی کا فتوی حرمین طیبین سے آ گیا اور ملک بھر میں دیوبندیوں کی ذلت وخواری ہوئی,تب اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنی تحریروں سے انکار کرنے لگے اور باطل تاویل کرنے لگے۔خلیل احمد انبیٹھوی کا رسالہ:"المہند علی المفند"اس کی واضح مثال ہے۔اس میں اپنی عبارتوں کے غلط مطالب بتائے۔غلط تراجم کئے اور اپنے لکھے ہوئے عقائد پر خود اپنی تکفیر کر لی کہ ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے اور خود وہی عقائد ان کی کفری عبارتوں میں موجود ہیں جن کے سبب ان مرتدین اربعہ کی تکفیر حسام الحرمین میں کی گئی ہے۔اس طرح(المہند)حسام الحرمین کی پہلی تصدیق ہے اور (الصوارم الہندیہ)حسام الحرمین کی دوسری تصدیق ہے۔
حضور شارح بخاری قدس سرہ العزیز کے رسالہ:"سنی دیوبندی کے منصفانہ جائزہ"میں ان تاویلات باطلہ کا تفصیلی رد ہے۔بجنوری گروہ انہی اعتراضات کو دہراتا رہتا ہے۔
بجنوریوں نے یہ سمجھا کہ گنگوہی نے وقوع کذب کا فتوی لکھا اور سائل کو دے دیا گیا,پھر اسی فتوی کو محض دیکھ کر گنگوہی کی تکفیر کلامی کر دی گئی۔لہذا یہاں (الخط یشبہ الخط) کے اصول کے تحت اعتراض ہو سکتا ہے۔حالاں کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔جس طرح تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور حفظ الایمان وغیرہ باضابطہ ان کے مولفین کے نام کے ساتھ شائع ہوئیں,اسی طرح گنگوہی کا فتوی بھی باضابطہ میرٹھ سے 1308 میں شائع ہوا ہے۔
الخط یشبہ الخط اور بجنوریوں کا خبط
گنگوہی کے وقوع کذب کے فتوی سے متعلق بجنوری تحریروں میں اعتراض کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ الخط یشبہ الخط یعنی ایک کی تحریر کی مثل دوسرے کی تحریر ہو سکتی ہے,پس محض تحریر کے سبب تکفیر نہیں ہو سکتی ہے۔
بجنوریوں کی یہ بات بالکل درست ہے کہ تحریروں میں مماثلت ہوتی ہے,لیکن یہ کس نے کہہ دیا کہ محض تحریر دیکھ کر تکفیر کر دی گئی۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور حفظ الایمان تو مطبوعہ تھی۔مطبوعہ کتابوں کی باضابطہ کتابت ہوتی ہے اور کتابت کوئی کاتب کرتا ہے۔کوئی ضروری نہیں کہ مصنف ومؤلف خود کتابت کرے۔آج تک دیوبندیوں نے بھی دعوی نہیں کیا کہ مطبوعہ تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور حفظ الایمان کی کتابت خود ان کے مولفین نے کی تھی,بلکہ کسی کاتب نے کی ہو گی,یعنی ان مطبوعہ نسخوں کی کتابت خود مولفین کے ہاتھوں سے ہونے کا نہ کسی کو ظن ہے,نہ یقین ہے,پھر بھی ان رسالوں کے مولفین کی تکفیر کلامی ہوئی ہے۔
درحقیقت بجنوریوں کو تکفیر کلامی کی شرط ہی صحیح طور پر سمجھ میں نہ آ سکی ہے۔تکفیر کلامی کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جہت تکلم سے احتمال بعید بھی منتفی ہو,یعنی جہت تکلم قطعی بالمعنی الاخص ہو۔اس کی ایک صورت یہ ہے کہ خود مفتی کے سامنے ہی ملزم کفری کلام کہے یا لکھے یا کفری عمل کرے۔دوسری صورت یہ ہے کہ مفتی کو تواتر کے ساتھ یہ خبر ملے کہ فلاں نے یہ کفری کلام کہا ہے یا لکھا ہے یا کفری عمل کیا ہے۔
بجنوریوں کے جد اعلی رشید احمد گنگوہی کا فتوی وقوع کذب میرٹھ سے ربیع الاخر 1308 ہجری مطابق 1890 میں چھپا۔اعلی درجہ کے تواتر کے ساتھ اس کی خبر ملک بھر میں مشتہر ہوئی کہ یہ فتوی گنگوہی کا ہے۔اس وقت دیوبندیوں نے اس کا انکار نہیں کیا,بلکہ گنگوہی نے اپنے شاگرد محمد حسن مراد آبادی کے نام سے "تقدیس القدیر"چھپوائی تو اس میں صفحہ 79 پر لکھا:"گفتگو جواز وقوعی میں ہے,نہ کہ جواز امکانی میں"۔
اسی میں صفحہ 78پر لکھا:"جواز وقوعی میں بحث ہے"-
مرتضی حسن دربھنگوی نے اسکات المعتدی میں ص31 پر اکابر اشاعرہ کو وقوع کذب الہی کا قائل بتایا۔
زندگی بھر گنگوہی نے انکار نہ کیا کہ یہ فتوی میرا نہیں ہے,حالاں کہ اسی فتوی کے سبب گنگوہی کی زندگی میں اس کی تکفیر بھی کی گئی۔
گنگوہی کے وقوع کذب کے فتوی کے رد میں حضرت علامہ نذیر احمد خاں رامپوری,احمد آبادی قدس سرہ العزیز کا فتوی 1309ہجری میں مطبع خیر المطابع میرٹھ سے شائع ہوا۔اس میں گنگوہی کے لئے کفر ثابت کیا گیا۔چوں کہ ایک سال قبل 1308 میں یہیں سے گنگوہی کا فتوی شائع ہوا تھا,لہذا جوابی فتوی بھی یہیں سے شائع ہوا۔
پھر علامہ نذیر احمد رام پوی کا فتوی اضافات کے ساتھ 1318ہجری میں ممبئی سے شائع ہوا۔اس کے بعد 1320 میں گنگوہی کے فتوی کا رد بلیغ مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے شائع ہوا۔1320 ہجری میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے المعتمد المستند میں اس فتوی کے سبب گنگوہی کی تکفیر کی۔اور براہین قاطعہ کی تصدیق کے سبب بھی تکفیر کی۔المعتمد المستند 1321ہجری میں مطبع تحفیہ حنفیہ(پٹنہ)سے شائع ہوئی۔
گنگوہی بار بار اپنی تکفیر دیکھتا رہا۔گنگوہی یا دیوبندیوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ فتوی گنگوہی کا نہیں ہے۔9:جمادی الاخری 1324 ہجری کو گنگوہی راہی ملک عدم ہو گیا۔اس کی موت کے فورا بعد بھی کسی نے نہیں کہا کہ یہ فتوی گنگوہی کا نہیں ہے۔
جب 1324 ہجری میں حسام الحرمین میں قادیانی اور فرقہ دیوبندیہ کے مرتدین اربعہ کے کفر کلامی کا فتوی حرمین طیبین سے آ گیا اور ملک بھر میں دیوبندیوں کی ذلت وخواری ہوئی,تب اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنی تحریروں سے انکار کرنے لگے اور باطل تاویل کرنے لگے۔خلیل احمد انبیٹھوی کا رسالہ:"المہند علی المفند"اس کی واضح مثال ہے۔اس میں اپنی عبارتوں کے غلط مطالب بتائے۔غلط تراجم کئے اور اپنے لکھے ہوئے عقائد پر خود اپنی تکفیر کر لی کہ ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے اور خود وہی عقائد ان کی کفری عبارتوں میں موجود ہیں جن کے سبب ان مرتدین اربعہ کی تکفیر حسام الحرمین میں کی گئی ہے۔اس طرح(المہند)حسام الحرمین کی پہلی تصدیق ہے اور (الصوارم الہندیہ)حسام الحرمین کی دوسری تصدیق ہے۔
حضور شارح بخاری قدس سرہ العزیز کے رسالہ:"سنی دیوبندی کے منصفانہ جائزہ"میں ان تاویلات باطلہ کا تفصیلی رد ہے۔بجنوری گروہ انہی اعتراضات کو دہراتا رہتا ہے۔
بجنوریوں نے یہ سمجھا کہ گنگوہی نے وقوع کذب کا فتوی لکھا اور سائل کو دے دیا گیا,پھر اسی فتوی کو محض دیکھ کر گنگوہی کی تکفیر کلامی کر دی گئی۔لہذا یہاں (الخط یشبہ الخط) کے اصول کے تحت اعتراض ہو سکتا ہے۔حالاں کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔جس طرح تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور حفظ الایمان وغیرہ باضابطہ ان کے مولفین کے نام کے ساتھ شائع ہوئیں,اسی طرح گنگوہی کا فتوی بھی باضابطہ میرٹھ سے 1308 میں شائع ہوا ہے۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
اس عہد میں بعض اہم فتوی مستقل طور پر شائع کیا جاتا تھا,جس طرح آج بھی اخبارات,میگزین وغیرہ میں فتاوی شائع ہوتے ہیں اور پھر فتاوی کا مستقل مجموعہ بھی شائع ہوتا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:17:دسمبر 2022
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:17:دسمبر 2022
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-05-1444 ᴴ | 16-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-05-1444 ᴴ | 17-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1