🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شہیدِ ناموس رسالت ، غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
ملک ممتاز حسین قادری ۔لقب: غازیِ اسلام ، غازیِ ملت ، محافظِ ناموسِ رسالت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ ۔

والد کا اسمِ گرامی:
ملک بشیر اعوان صاحب مدظلہ العالی ۔ (ملک صاحب نہایت ہی ایمان دار شخص ہیں ۔ محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو رزقِ حلال کھلایا ہے، کبھی اپنی اولاد کو حرام کا لقمہ نہیں کھلایا) ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
غازی ملک ممتاز حسین قادری بن ملک بشیر اعوان بن ملک خان محمد بن ملک دادن خان ۔ ملک دادن خان علیہ الرحمہ غازی صاحب کے پڑ دادا تھے ۔ یہ خدا رسیدہ اور خدا ترس بزرگ تھے ۔ مسافروں کو کھانا کھلانا فرض جانتے تھے ۔ آج بھی لوگ ان کی پرہیزگاری و سخاوت کو بیان کرتے ہیں، اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا مزار شریف اسلام آباد میں " کھڈا مارکیٹ " کے ساتھ سی، ڈے، اے، کی عمارت کے عقب میں ہےٖ [1] ۔

آبائی گاؤں:
غازی صاحب کا آبائی گاؤں " باغ بھٹاں"ہے، باغ بھٹاں موجودہ " آبپارہ " کے قریب واقع تھا ۔ اسلام آباد کی تعمیر کی غرض سے حکومت نے سب دیہاتوں کو منہدم کرکے ان کے مکینوں کو یہاں سے بے دخل کر دیا تھا ۔

آپ حضرت علی کی اولاد سے ہیں:
آپ نسباً " قطب شاہی اعوان " برادری سے ہیں ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت محمد بن حنفیہ بن مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس قوم میں میں بڑے بڑے اولیاء، اور نامور سپہ سالار پیدا ہوئے ہیں [2] ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 ربیع الاول 1405ھ مطابق یکم جنوری 1985ء بروز منگل صادق آباد کے علاقے " مسلم ٹاؤن " راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہوئے [3] ۔

ولادت سے قبل بشارت:
غازی صاحب کے والدِ محترم فرماتے ہیں: ممتاز کی ولادت سے دو سال قبل میں نے ایک عجیب واقعہ دیکھا ۔ میرا معمول تھا کہ میں رات کے پچھلے پہر اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتا تھا اور اس مقصد کے لئے ہمارے گھر کا ایک کونہ مختص تھا جہاں مصلیٰ بچھا ہوتا تھا ۔ جس نے گھر والوں میں سے نماز ادا کرنی ہوتی وہ اسی جگہ نماز ادا کرتا ۔

ایک رات میں بیدار ہوا اور نماز کے لئے مذکورہ گوشے میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک نورانی شخصیت اس مصلے پر نماز ادا کر رہی ہے، میں انہیں دیکھنے لگا، انہوں نے نماز مکمل کی اور خاموشی سے جانے لگے، پھر اچانک واپس مڑے اور مجھے فرمایا: " اس گھر کے جنوبی کونے میں ایک اللہ کا ولی پیدا ہوگا، جو پوری دنیا میں اسلام کی عزت کا پرچم بلند کرےگا اور تمہارا نام روشن کرے گا " یہ کہتے ہوئے وہ تشریف لے گئے ۔ دو سال بعد میرے بیٹے ممتاز حسین کی ولادت اسی جگہ ہوئی، جہاں بزرگ نے نشاندہی فرمائی تھی ۔ اس کے بعد میں اس بات کو بھول گیا تاآنکہ 4 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر قتل ہوا، اور سارے معاملات سامنے آئے ۔ پھر مجھے وہ بزرگ والا واقعہ یاد آیا کہ جس شخص کے متعلق اس بندۂ خدا نے خبر دی تھی وہ تو ممتاز حسین نکلا [4] ۔ ایک اور بات کہ غازی صاحب کی ولادت سے ہمارے گھر کے معاشی حالات بھی بہتر ہو گئے ۔

تحصیلِ علم:
غازی صاحب نے میٹرک تک تعلیم اپنے گھر کے قریب پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکول " عائشہ لاثانی پبلک اسکول " مسلم ٹاؤن میں حاصل کی ۔ بچپن سے ہی میں غازی صاحب خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والے بغیر کسی کی مدد کے سکول کے لئے تیار ہو جانا اپنا ہوم ورک بغیر کسی کی مدد کے کر لینا وغیرہ ۔ اسکول کی تقریبات میں نعتیں شوق سے پڑھتے تھے ۔ نعتیہ مقابلے میں بھی حصہ لیتے تھے ۔ اسی طرح محلے میں جہاں کہیں نعت خوانی، یا میلاد شریف کا پروگرام ہوتا اس میں ضرور شرکت کرتے ۔

میٹرک کے بعد " سویڈش کالج " میں الیکٹرونکس ڈپلومہ کیا ۔ پھر اسی دوران 2002ء میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہو گئے ۔ آپ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مضبوط اور نشانہ بازی میں اپنے بیج کے تمام لڑکوں سے مسابقت رکھتے تھے ۔

بیعت:
میٹرک کے بعد امیرِ دعوتِ اسلامی ابو بلال حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ کے دستِ حق پرست پر بذریعہ خط بیعت ہو گئے، اور دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شریک ہونے لگے ۔

ممتاز سیرت:
غازیِ اسلام، غازیِ ملت، محافظِ ناموسِ رسالت ﷺ، پروانۂ شمعِ رسالت ﷺ، پیکرِ غیرت و حمیت، شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ، جناب ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ فنا فی الرسول ﷺ تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت آپ کا سرمایۂ حیات تھا ۔ ہر وقت ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرنا، اور سننا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ غازی صاحب کا مسلک عشق و محبت ہے ۔ ایک مرتبہ غازی صاحب فرمانے لگے: کہ اگر اللہ جل شانہ مجھ سے پوچھے ممتاز قادری! مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو میں عرض کروں گا اے باری تعالیٰ! اپنے نبی ﷺ کے ساری امتیوں کو اپنے نبی ﷺ کا عشق عطاء فرما ۔ [5]
1👍1
غازی صاحب کی سیرت کی چند جھلکیاں:
غازی صاحب بچپن سے ہی سعادت مند تھے ۔ والدین، اساتذہ، بزرگوں، سبھی مسلمانوں کے ساتھ ادب سے پیش آتے تھے ۔ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا ۔ ہمیشہ نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔

بزرگ فرماتے ہیں:
جو نمازی نہیں بن سکتا وہ غازی کیسے بن سکتا ہے؟ اکثر لوگوں کو محبت بھرے انداز میں نیکی کی دعوت اور برائی سے منع کرتے رہتے تھے ۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کا نعتیہ کلام اکثر یاد تھا ۔ علماءِ کرام کے بیانات شوق سے سنتے تھے ۔ اسی سے محبتِ مصطفیٰ ﷺ میں اضافہ ہوا ۔ غازی صاحب انتہائی با اخلاق اور نیک سیرت کے مالک تھے ۔ محلے کی بوڑھی خواتین بازار سے سودا سلف منگوانے کے لئے اکثر غازی صاحب کو پیسے دے دیتیں اور غازی صاحب بلا چوں چرا سودا سلف خرید کر آتے ۔

جب کوئی بوڑھا شخص یا محلے کی عمر رسیدہ خواتین بازار سے سامان لے کر آ رہی ہوتیں تو آپ سامان اُٹھا کر گھر پہنچا دیتے ۔ بعض مرتبہ بوڑھی خواتین سے گھر کا کوڑا کرکٹ لے کر پھینک آتے ۔ آپ کی طبیعت میں عاجزی و انکساری، خلوص و ایمان داری کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ دینِ اسلام سے سچی محبت و اطاعت کا ندازہ آپ کی سنت کے مطابق شادی سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ان مواقع پر تو بڑے بڑے حاجی صاحبان کے پاؤں بھی ڈگمگا جاتے ہیں، جواز یہ ہیش کرتے ہیں: جی بچے نہیں مان رہے، بچوں کا شوق ہے، حالانکہ خلافِ شرع اور فضول و بے ہودہ رسومات کے لئے پیسہ حاجی صاحب کے ہاتھ سے جا رہا ہوتا ہے ۔

غازی صاحب کے بھائی کہتے ہیں:
ہم نے سوچا تھا کہ سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہے، اور خوب ارمان نکالیں گے ۔ جیسے ہی غازیِ ملت کو معلوم ہوا فرمایا میری شادی انتہائی سادگی سے ہوگی، میرے سسرال کو جہیز سے بالکل منع کر دیں، اور میری شادی پر دیگر پروگراموں کی بجائے نعت خوانی ہوگی ۔

گونر سے کیا دشمنی تھی:
غازیِ ملت کی گورنر پنجاب سے کوئی ذاتی رنجش یا دشمنی نہیں تھی ۔ وہ شراب کا رسیا تھا، ایک سِکھ عورت سے اس کا ناجائز بیٹا یہ کہ رہا تھا کہ اس کا باپ سچا مسلمان نہیں، لیکن یہ سب کچھ اس کا ذاتی فعل قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا، لیکن کیا ایک سچا مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں اس کی گستاخی کو کیسے برداشت کر سکتا تھا؟ 14 جون 2009ء کو ضلع ننکانہ میں ایک عیسائی عورت آسیہ مسیح نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی، عدالت میں اس نے اعترفِ جرم کیا ۔ عدالت نے اسے 8 نومبر 2010ء کو سزائے موت اور ایک لاکھ جرمانہ کا حکم سنایا ۔ (یہ عدالت نہ کسی مولوی کی تھی، اور نہ ہی جج صاحب کوئی عالم، یا مفتی تھے ۔ بلکہ یہ تمام سب کچھ ریاست کے قوانین کے ما تحت ہوا ۔ ) 20 نومبر کو گورنر پنجاب نے ملعونہ سے ملاقات کرکے کانفرنس کی، اور اسے رہائی کا یقین دِلایا ۔ (یہ توہینِ مذب کے ساتھ توہینِ عدالت بھی تھا، لیکن تمام ادارے سب خاموش تماشائی تھے) اس سزا کو " ظالمانہ سزا " اور تحفظِ ناموسِ رسالت کے قانون (جوکہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہے) کو " کالا قانون " کہا، علماء کے فتووں کو " جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں " کے الفاظ بکے ۔ پورے ملک میں تمام شعبہائے زندگی کے افراد نے گورنر کے اس طرز پر احتجاج کیا ۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش کر دیا گیا، کہ اس قانون کو ختم کر دیا جائے، یا اس میں ترمیم کی جائے ۔ ادھر غازی صاحب نے وکلاء سے معلوم کیا کہ گورنر کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں درج ہو رہی ۔ وہ کہنے لگے کہ ان کو " استثنا " حاصل ہے ۔

غازی صاحب کے بھائی فرماتے ہیں:
اس دوران میں نے دیکھا کہ ہر کسی سے مسکرا کر ملنے والا، اور با اخلاق شخصیت کا حامل میرے بھائی نے اپنی جسمانی اور ظاہری حالت بہت خراب کر لی تھی، لباس پر توجہ نہیں، کھانے پینے کا ہوش نہیں، رات بھر جا گتے رہتے، ایک ماہ کے بیٹے کی کوئی خبر نہیں، بیمار بیوی پر کوئی توجہ نہیں، ہر وقت بے چینی کا شکار اور مضطرب نظر آتے ہیں ۔ جیسے کچھ کھو گیا ہو، جیسے کوئی لٹ گیا ہو، میں بتا نہیں سکتا کہ غازی ممتاز صاحب کی حالت دیکھ کر گھر والے کس قدر پریشان ہو گئے تھے ۔ کیو نکہ نہ کچھ بتاتے تھے، اور نہ کچھ نظر آتا تھا کہ ماجرا کیا ہے؟ میں نے کہا بھائی جان! آپ کے بیٹے کی طبیعت ناساز ہے، کسی ڈاکٹر کو دِکھاؤ ۔ کہنے لگے: آپ اسے کل ڈاکٹر کے پاس لے جانا مجھ میں ہمت نہیں کہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جا سکوں ۔

عدالتی رپورٹ کے مطابق آپ کا بیان:
" مجھے سلمان تاثیر سے ملاقات کا موقع ملا: میں نے کہا: محترم! آپ نے بحیثیت گورنر قانون تحفظِ ناموس رسالت کو " کالا قانون " کہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ آپ کو زیب نہیں دیتا ۔ اس پر اچانک وہ چلایا اور کہنےلگا: " نہ وہ صرف کالا قانون ہے بلکہ (نعوذ باللہ) وہ میری نجاست ہے " ۔ میں نے ٹریگر دبا دیا اور وہ میرے سامنے ڈھیر ہو گیا ۔
1
مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، میں نے یہ تحفظِ ناموسِ رسول ﷺ کے لئےکیا ہے [6] ۔ آپ کے اس اقدام سے اٹھنے والے سب فتنے تھم گئے، گستاخان پر زمین تنگ ہو گئی، اور جو اس قانون کو ختم کرنے کی قرار دادیں پیش کر رہے تھے، ان کی زبانیں گنگ ہو گئیں، پھر وہ بھی اس قانون کے تحفظ کی باتیں کرنے لگے ۔ پورے ملک میں مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، سارے مسلمانوں کا قرض و فرض ایک غازی صاحب نے چُکا دیا ۔

گورنر کا جنازہ تازیانۂ عبرت:
پاک وطن کے پلیدذہنیت رکھنے والے، اور اغیار کے نظام کے متوالے سیاست دانوں کے لئے ان کے " بڑے " کا جنازہ نشانِ عبرت ہے ۔ پورے ملک میں جنازہ پڑھانے کو کوئی تیار نہ تھا، بالآخر پیپلز پارٹی کے ایک باریش کارکن کے ساتھ علامہ کا لاحقہ لگا کر چالیس سیکنڈ میں جنازہ پڑھایا گیا ۔ آج چند موم بتی والی آنٹیاں، اور لنڈے کے کوٹ پہننے والے بینگنوں کے علاوہ کوئی نام لیوا نہیں ہے، اور غازیِ ملت لاکھوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن ہیں ۔ اس بات کی گواہی جنازہ دے چکا ہے ۔

جیل میں کرم نوازیاں:
جب غازی صاحب کو جیل لے جایا گیا تو قیدیوں نے شاندار استقبال کیا ۔ ہر طرف سے یہ صدا آتی تھی " ہمارا سردار آ گیا، مصطفیٰ کا جان نثار آ گیا " غازی صاحب فرماتے ہیں: مجھے بارہا رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی جب مجھ پر تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوتے تھے، تو میں اس وقت خانۂ کعبہ اور گنبدِ خضرا کے قریب اپنے آپ کو موجود پاتا تھا ۔ غازی صاحب کی بشارتوں کے واقعات بہت زیادہ ہیں ۔

غیر شرعی عدالتی فیصلہ:
یکم اکتوبر 2011ء کو دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز علی شاہ نے پرویزی فیصلے میں آپ کو دو مرتبہ سزائے موت، اور دو لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ۔ پھر دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی گئیں ۔ 7 اکتوبر 2015ء کو جج آصف کھوسہ نے کسی کے دباؤ پر تمام دفعات بحال کر دیں ۔

علامہ اقبال اور قائدِ اعظم کی روح سے غداری:
انگریز کے دورِ حکومت میں بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ غازی علم الدین شہید کی وکالت کر رہے تھے، اور مفکرِ پاکستان شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ جنازے کو کندھا دینے والوں میں سے تھے، اور ان کو لحد میں اتارا ۔ اسی طرح غازی عبد القیوم شہید کی شہادت پر ان کی شان میں نظم تحریر فرمائی ۔ لیکن بعد میں ان کے بنائے ہوئے ملک میں عاشقِ رسول ﷺ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ۔ اس وقت ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 1400 گستاخانِ رسول جیلوں میں ہیں ۔ کسی کو اس قانون کے تحت سزا نہیں دی گئی ہے، ملعونہ آسیہ مسیح ابھی زندہ ہے ۔ ایک امریکی جس نے دن دہاڑے چار افراد کو قتل کر دیا اس کو با عزت رہا کر دیا گیا ۔ ہر وقت قانون قانون کی گردانیں پڑھنے والوں کی زبانیں یہاں پر کیوں خاموش ہو جاتی ہیں ؟ ۔ ممتاز قادری ایک جذبے اور فکر کا نام ہے، فکر اور جذبہ کبھی طاقت سے ختم ہوا ہے اور نہ ہوگا ۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا:
عوامی رد عمل کے خوف سے آپ کو شہید کرنے کا منصوبہ مکمل خفیہ رکھا گیا ۔ عوام اور غازی صاحب کے خاندان کو دھوکہ دیا گیا، پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ نیند کی حالت میں آپ کو بیدار کرکے بتایا گیا کہ صبح آپ کو پھانسی دی جائے گی، ادھر سے گھر والوں کو جھوٹ بول کر بلایا گیا ۔ آپ نے گھر والوں سے ملاقات میں انہیں اطمینان کے ساتھ جھوم جھوم کر نعتیں سنائیں، اور بتایا کہ بیداری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ، خلفاء راشدین، غوث اعظم، اور داتا علی ہجویری کی زیارتیں ہوئی ہیں، اور ان حضرات نے میری قربانی کی قبولیت کی بشارت دی ہے ۔ آپ کو شہید کرنے کے لئے چار بجے کا وقت مقرر کیا گیا ۔ اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد آپ نے آبِ زم زم اور عجوہ کھجور سے روزہ رکھا، نمازِ تہجد ادا کی اور وقتِ مقررہ سے پہلے ہی پھانسی گھاٹ کی طرف جانے لگے ۔ آپ سے کہا گیا: ابھی کچھ وقت باقی ہے ۔ فرمانے لگے: " سامنے رسول اللہ ﷺ جلوہ افروز ہیں اور انتظار فرما رہے ہیں " [7] ۔ آپ نے دو رکعت نفل ادا کیے، نعرۂ تکبیر، اور نعرۂ رسالت لگاتے ہوئے، فدائے مصطفیٰ ﷺ، بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں حاضر ہو گیا ۔

تاریخِ شہادت:
بروز پیر 20 جمادی الاولی 1437ھ، مطابق 29 فروری 2016ء ۔

تاریخی جنازہ:
غازی ملت علیہ الرحمہ کا جنازہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا ۔ جس میں حکومتی رکاوٹوں، میڈیا کی بے غیرتی کے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق 60 لاکھ افراد شریک ہوئے ۔

کروں تیرے نام پہ جاں فدا
نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا

دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا
کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

[1] پروانۂ شمعِ رسالت ، ص:25
[2] محافظ ناموسِ رسالت، ص:36
[3] ایضاً
[4] ایضاً
[5] محافظ ناموس رسالت، ص:41
[6] پروانۂ شمعِ رسالت، ص:10
[7] پروانۂ شمع رسالت ، ص:14

https://scholars.pk/ur/scholar/mumtaz-husain-qadri-shaheed-ghazi-malik
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1