Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہشتم)
بجنوری تحریر میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ علمائے اہل سنت نے رقم فرمایا ہے کہ اگر قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل پیش نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
اس سے متعلق الموت الاحمر,مقالات شارح بخاری اور اہل قبلہ کی تکفیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اختصار کے ساتھ ہم متعدد مضامین میں اس پر بحث کریں گے۔
مفسر کو صریح متعین اور قطعی الدلالت بالمعنی الاخص بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوتا ہے اور کبھی فی نفسہ مفسر ومتعین نہیں ہوتا,لیکن قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ومتعین ہو جاتا ہے,جیسے زید نے بکر سے کہا کہ میرے گھر میں ایک حیوان ہے۔اسے روٹی دے دو۔بکر اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں خالد تھا۔بکر واپس آیا اور کہا کہ تمہارے گھر میں کوئی حیوان نہیں,بلکہ خالد ہے۔زید نے جواب دیا کہ اسی کو روٹی دے دو,وہ حیوان ناطق ہے۔اب زید کی اس تفسیر سے یہ واضح ہو گیا کہ حیوان سے اس کی مراد بکر ہی ہے۔
اگر کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر نہ ہو تو قائل کے سکوت یا صحیح تاویل نہ بتانے کے سبب وہ کلام کفری معنی میں مفسر نہیں ہوتا ہے,بلکہ قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ہوتا ہے۔سکوت وعدم تاویل صحیح اور بیان قطعی یہ تین امر ہیں اور تینوں کے معانی جداگانہ ہیں,جیسا کہ ظاہر ہے۔
مفسر کلام میں صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اگر صحیح تاویل کی گنجائش ہو تو وہ کلام اپنے معنی میں مفسر نہیں ہو گا۔مفسر کلام میں جانب مخالف کا احتمال قریب یا احتمال بعید نہیں ہوتا ہے۔
الموت الاحمر کے سائل نے سوال کیا تھا کہ کسی کلام کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کی کیا صورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان ن فرمایا کہ اشخاص اربعہ کے کلمات کے کفری معنی میں مفسر ومتعین ہونے کی علامت ونشانی یہ ہے کہ سولہ سال سے قسم قسم کی تاویلیں کی جا رہی ہیں,لیکن تمام تاویلات اصول وقوانین کی روشنی میں تاویلات باطلہ کی منزل میں ہیں,کیوں کہ کفری معنی میں مفسر ومتعین کلام میں کسی صحیح تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
الموت الاحمر میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
الموت الاحمر کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
"آپ پوچھتے ہیں کہ متعین ہونے کی صورت کیا ہے؟
جی یہی جو براہین قاطعہ گنگوہی وتحذیر الناس وخفض الایمان میں آپ کے پیش نظر ہے کہ 16/برس سے زیادہ گزرے,دانتوں پسینے آ رہے ہیں۔ایڑی چوٹی کے زور لگائے جا رہے ہیں اور کفر نہ ہلتا ہے,نہ ٹلتا,نہ اپنی عبارتوں میں کوئی اسلام کا پہلو نکلتا"-(الموت الاحمر ص62-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
منقولہ بالا عبارت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ مفسر ومتعین کلام میں تاویل صحیح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی,اسی لئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود کوئی صحیح تاویل منظر عام پر نہ آ سکی۔
مذکورہ عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائلین کی صحیح تاویل پیش نہ کرنے کے سبب وہ اقوال کفریہ معانی میں مفسر ومتعین ہو گئے ہیں۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور فتوی وقوع کذب پر علمائے اہل سنت مباحثہ ومناظرہ کر چکے تھے۔لیکن تھانوی کی حفظ الایمان 08: محرم الحرام 1319 مطابق 28:اپریل 1901 کو لکھی گئی۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے تھانوی سے کوئی تاویل دریافت نہ کی,بلکہ اشخاص ثلاثہ کے کلمات کی طرح تھانوی کا کلام بھی کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا۔لہذا اگلے سال 1320مطابق 1902 میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کی تکفیر کلامی کی۔1321 مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے المعتمد المستند کی اشاعت ہوئی۔1323مطابق 1905 میں جب حج وزیارت کے واسطے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز حرمین طیبین حاضر ہوئے تو علمائے حرمین طیبین نے اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر پر تصدیقات رقم فرمائیں۔
1324 مطابق 1905 میں واپسی ہوئی۔ایک مدت کے بعد تھانوی سے خط وکتابت کا معاملہ درپیش ہوا۔تکفیر پہلے ہی ہو چکی تھی,کیوں کہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا اور تواتر کے ساتھ تھانوی کی عبارت موصول ہو چکی تھیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تھانوی کو آخری تحریر"ابحاث اخیرہ"20:ذی قعدہ 1328 ہجری کو بھیجی۔جب کہ تھانوی ودیگر مرتدین کی تکفیر آٹھ سال قبل 1320 ہجری میں المعتمد المستند میں ہو چکی تھی۔
ان شاء اللہ تعالی مضمون نہم میں بھی مفسر اور تاویل سے متعلق بحث ہو گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہشتم)
بجنوری تحریر میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ علمائے اہل سنت نے رقم فرمایا ہے کہ اگر قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل پیش نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
اس سے متعلق الموت الاحمر,مقالات شارح بخاری اور اہل قبلہ کی تکفیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اختصار کے ساتھ ہم متعدد مضامین میں اس پر بحث کریں گے۔
مفسر کو صریح متعین اور قطعی الدلالت بالمعنی الاخص بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوتا ہے اور کبھی فی نفسہ مفسر ومتعین نہیں ہوتا,لیکن قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ومتعین ہو جاتا ہے,جیسے زید نے بکر سے کہا کہ میرے گھر میں ایک حیوان ہے۔اسے روٹی دے دو۔بکر اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں خالد تھا۔بکر واپس آیا اور کہا کہ تمہارے گھر میں کوئی حیوان نہیں,بلکہ خالد ہے۔زید نے جواب دیا کہ اسی کو روٹی دے دو,وہ حیوان ناطق ہے۔اب زید کی اس تفسیر سے یہ واضح ہو گیا کہ حیوان سے اس کی مراد بکر ہی ہے۔
اگر کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر نہ ہو تو قائل کے سکوت یا صحیح تاویل نہ بتانے کے سبب وہ کلام کفری معنی میں مفسر نہیں ہوتا ہے,بلکہ قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ہوتا ہے۔سکوت وعدم تاویل صحیح اور بیان قطعی یہ تین امر ہیں اور تینوں کے معانی جداگانہ ہیں,جیسا کہ ظاہر ہے۔
مفسر کلام میں صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اگر صحیح تاویل کی گنجائش ہو تو وہ کلام اپنے معنی میں مفسر نہیں ہو گا۔مفسر کلام میں جانب مخالف کا احتمال قریب یا احتمال بعید نہیں ہوتا ہے۔
الموت الاحمر کے سائل نے سوال کیا تھا کہ کسی کلام کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کی کیا صورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان ن فرمایا کہ اشخاص اربعہ کے کلمات کے کفری معنی میں مفسر ومتعین ہونے کی علامت ونشانی یہ ہے کہ سولہ سال سے قسم قسم کی تاویلیں کی جا رہی ہیں,لیکن تمام تاویلات اصول وقوانین کی روشنی میں تاویلات باطلہ کی منزل میں ہیں,کیوں کہ کفری معنی میں مفسر ومتعین کلام میں کسی صحیح تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
الموت الاحمر میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
الموت الاحمر کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
"آپ پوچھتے ہیں کہ متعین ہونے کی صورت کیا ہے؟
جی یہی جو براہین قاطعہ گنگوہی وتحذیر الناس وخفض الایمان میں آپ کے پیش نظر ہے کہ 16/برس سے زیادہ گزرے,دانتوں پسینے آ رہے ہیں۔ایڑی چوٹی کے زور لگائے جا رہے ہیں اور کفر نہ ہلتا ہے,نہ ٹلتا,نہ اپنی عبارتوں میں کوئی اسلام کا پہلو نکلتا"-(الموت الاحمر ص62-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
منقولہ بالا عبارت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ مفسر ومتعین کلام میں تاویل صحیح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی,اسی لئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود کوئی صحیح تاویل منظر عام پر نہ آ سکی۔
مذکورہ عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائلین کی صحیح تاویل پیش نہ کرنے کے سبب وہ اقوال کفریہ معانی میں مفسر ومتعین ہو گئے ہیں۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور فتوی وقوع کذب پر علمائے اہل سنت مباحثہ ومناظرہ کر چکے تھے۔لیکن تھانوی کی حفظ الایمان 08: محرم الحرام 1319 مطابق 28:اپریل 1901 کو لکھی گئی۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے تھانوی سے کوئی تاویل دریافت نہ کی,بلکہ اشخاص ثلاثہ کے کلمات کی طرح تھانوی کا کلام بھی کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا۔لہذا اگلے سال 1320مطابق 1902 میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کی تکفیر کلامی کی۔1321 مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے المعتمد المستند کی اشاعت ہوئی۔1323مطابق 1905 میں جب حج وزیارت کے واسطے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز حرمین طیبین حاضر ہوئے تو علمائے حرمین طیبین نے اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر پر تصدیقات رقم فرمائیں۔
1324 مطابق 1905 میں واپسی ہوئی۔ایک مدت کے بعد تھانوی سے خط وکتابت کا معاملہ درپیش ہوا۔تکفیر پہلے ہی ہو چکی تھی,کیوں کہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا اور تواتر کے ساتھ تھانوی کی عبارت موصول ہو چکی تھیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تھانوی کو آخری تحریر"ابحاث اخیرہ"20:ذی قعدہ 1328 ہجری کو بھیجی۔جب کہ تھانوی ودیگر مرتدین کی تکفیر آٹھ سال قبل 1320 ہجری میں المعتمد المستند میں ہو چکی تھی۔
ان شاء اللہ تعالی مضمون نہم میں بھی مفسر اور تاویل سے متعلق بحث ہو گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه=نصف اول.pdf
4.1 MB
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه=نصف دوم.pdf
3.3 MB
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎
فرقه بجنوريه=جديد.pdf
528.5 KB
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه.هفتم.pdf
570.2 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہفتم)
کب قول کفر ہوتا ہے اور قائل کافر نہیں ہوتا؟
از:طارق انور مصباحی
صفحات:11
کب قول کفر ہوتا ہے اور قائل کافر نہیں ہوتا؟
از:طارق انور مصباحی
صفحات:11
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه=نهم.pdf
591.8 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون نہم)
فرقہ بجنوریہ کے ذرائع تلبیس اور فریب کاریوں کے اوزار وآلات کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:10
فرقہ بجنوریہ کے ذرائع تلبیس اور فریب کاریوں کے اوزار وآلات کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:10
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه+دهم.pdf
757.8 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون دہم)
تکفیر دہلوی سے متعلق خلیل بجنوری(م1900)کے خیال باطل کا رد اور مقالات شارح بخاری کی عبارتوں کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:22
تکفیر دہلوی سے متعلق خلیل بجنوری(م1900)کے خیال باطل کا رد اور مقالات شارح بخاری کی عبارتوں کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:22
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه.يازدهم.pdf
636.5 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون یازدہم)
سراوی محررین کی کج فہمیوں کا ذکر
اور فتاوی بے نظیر میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی تصدیق کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:11
سراوی محررین کی کج فہمیوں کا ذکر
اور فتاوی بے نظیر میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی تصدیق کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:11
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1