Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون پنجم)
فرقہ بجنوریہ کا اعتراض ہے کہ علمائے بدایوں کے متقدمین نے اکابر دیوبند کی تکفیر کلامی نہیں,گرچہ بدایوں کے علمائے متاخرین فرقہ دیوبندیہ کی تکفیر کلامی کرتے ہیں۔
نیز یہ بھی دعوی ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے قبل اگر کسی نے اکابر دیوبند کی تکفیر کی بھی ہے تو انہوں نے تکفیر فقہی کی ہے,تکفیر کلامی نہیں کی ہے۔تکفیر کلامی سب سے پہلے امام احمد رضا قادری نے کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اکابر بدایوں یا عہد ماضی کے علمائے اہل سنت میں سے کس عالم دین نے اکابر دیوبند کے کافر فقہی ہونے کی صراحت کی ہے؟
جن عبارتوں پر تکفیر کلامی ہوتی ہے,ان عبارتوں پر تکفیر فقہی نہیں ہو سکتی ہے۔ہاں,یہ ضرور ممکن ہے کہ مفتی کے لئے کوئی شرط مفقود ہو,جس کے سبب وہ نام لے کر مجرم کی شخصی تکفیر کلامی نہ کرے,یا مشروط تکفیر کلامی کرے,مثلا مجرم کا کلام کفری معنی میں صریح متعین اور مفسر ہے۔اس میں تاویل بعید کی بھی گنجائش نہیں,لیکن مفتی کو وہ کلام تواتر کے ساتھ نہیں مل سکا,بلکہ خبر واحد کے ذریعہ موصول ہوا,پس مفتی مشروط تکفیر کرتے ہوئے کہے گا کہ اگر فلاں نے ایسا کہا ہے تو وہ یقینا کافر ہے۔یا پھر قول اور ایسے قائل کا حکم بیان کرے گا کہ ایسا قول کفریہ ہے,اور ایسا قول کرنے والا کافر ہے۔
فرقہ بجنوریہ کے پاس کون سی دلیل ہے کہ عہد ماضی کے تمام علمائے اہل سنت وجماعت کو تواتر کے ساتھ اکابر دیوبند کی کفریہ عبارات موصول ہو چکی تھیں؟
1324 ہجری مطابق 1906 میں حسام الحرمین یعنی علمائے حرمین کی تصدیقات کا مجموعہ ملک ہند آیا۔جس کا شہرہ ملک بھر میں ہوا,اس کے تیرہ سال بعد ربیع الاخر 1337 ہجری مطابق جنوری 1919 میں حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے علامۃ الہند حضرت علامہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیوبندیوں کی کفریہ عبارات سے متعلق خط بھیجا۔علامہ اجمیری نے فرمایا کہ مجھے دیوبندیوں کی کفریہ عبارات کی بالکل خبر نہیں۔اس کے بعد انہوں نے ان کفریہ عبارات کے علم کے بعد دیوبندیوں کی تکفیر فرمائی۔الصوارم الہندیہ(ص:18-19-مطبوعہ دار العلوم رضائے خواجہ اجمیر شریف)میں تفصیل مرقوم ہے۔
پس دیوبندیوں کے کفریات سے لاعلمی یا تواتر کے ساتھ کفریہ عبارات موصول نہ ہونے کے سبب کسی عالم نے اگر اکابر دیوبند کی تکفیر شخصی نہ کی ہو تو اس کو دلیل انکار نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
نیز ایک طویل مدت تک صریح لفظوں میں نام بہ نام تکفیر کلامی شخصی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے حق شرعی حکم سے آگاہ کر چکے تھے اور ایسے اقوال کو کفریہ اور ایسے قائلین کا کافر ہونا ظاہر کر چکے تھے,اور بطور کنایہ بتایا جا چکا تھا کہ اکابر دیوبند کافر ہیں۔علم بلاغت کا مشہور قانون ہے:(الکنایۃ ابلغ من التصریح)
ابتدائی مرحلہ میں نام لے کر اکابر دیوبند کو کافر نہ کہنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے اہل سنت دیوبندیوں کی توبہ ورجوع کے منتظر تھے۔
جیسے اشخاص اربعہ کی تکفیر سے انکار کے سبب فرقہ بجنوریہ پر کفر کلامی کا حکم ضرور وارد ہوتا ہے۔یہ لوگ 2017 سے امت مسلمہ میں فتنوں کو پروان چڑھا رہے ہیں,لیکن آج تک ان لوگوں پر کسی دار الافتا نے فتوی جاری نہیں کیا,لیکن فرقہ بجنوریہ خود غور کرے کہ اسلامی اصول وضوابط کے اعتبار سے ان پر کفر کلامی کا حکم کیوں عائد نہیں ہو گا؟
بجنوریوں کی نظر میں سب سے معتمد مفتی حضرت فقیہ النفس صاحب قبلہ تھے۔گزشتہ سال انہوں نے اشخاص اربعہ کی تکفیر کے انکار کے سبب بجنوریوں کو عام جلسے میں خارج اسلام قرار دیا تھا,جس پر بجنوری طبقہ تلملا اٹھا,اور مفتی صاحب کو بھی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا-اس کے بعد یہ لوگ مفتی صاحب قبلہ سے جدا ہو چکے ہیں,لیکن ان کے رسالہ:(اہل قبلہ کی تکفیر)کو نہیں چھوڑ سکتے,کیوں کہ اس رسالہ کے مشمولات ومندرجات کے سہارے امت مسلمہ کو گمرہی میں مبتلا کرنا آسان ہے۔بجنوری محررین رسالہ مذکورہ کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون پنجم)
فرقہ بجنوریہ کا اعتراض ہے کہ علمائے بدایوں کے متقدمین نے اکابر دیوبند کی تکفیر کلامی نہیں,گرچہ بدایوں کے علمائے متاخرین فرقہ دیوبندیہ کی تکفیر کلامی کرتے ہیں۔
نیز یہ بھی دعوی ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے قبل اگر کسی نے اکابر دیوبند کی تکفیر کی بھی ہے تو انہوں نے تکفیر فقہی کی ہے,تکفیر کلامی نہیں کی ہے۔تکفیر کلامی سب سے پہلے امام احمد رضا قادری نے کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اکابر بدایوں یا عہد ماضی کے علمائے اہل سنت میں سے کس عالم دین نے اکابر دیوبند کے کافر فقہی ہونے کی صراحت کی ہے؟
جن عبارتوں پر تکفیر کلامی ہوتی ہے,ان عبارتوں پر تکفیر فقہی نہیں ہو سکتی ہے۔ہاں,یہ ضرور ممکن ہے کہ مفتی کے لئے کوئی شرط مفقود ہو,جس کے سبب وہ نام لے کر مجرم کی شخصی تکفیر کلامی نہ کرے,یا مشروط تکفیر کلامی کرے,مثلا مجرم کا کلام کفری معنی میں صریح متعین اور مفسر ہے۔اس میں تاویل بعید کی بھی گنجائش نہیں,لیکن مفتی کو وہ کلام تواتر کے ساتھ نہیں مل سکا,بلکہ خبر واحد کے ذریعہ موصول ہوا,پس مفتی مشروط تکفیر کرتے ہوئے کہے گا کہ اگر فلاں نے ایسا کہا ہے تو وہ یقینا کافر ہے۔یا پھر قول اور ایسے قائل کا حکم بیان کرے گا کہ ایسا قول کفریہ ہے,اور ایسا قول کرنے والا کافر ہے۔
فرقہ بجنوریہ کے پاس کون سی دلیل ہے کہ عہد ماضی کے تمام علمائے اہل سنت وجماعت کو تواتر کے ساتھ اکابر دیوبند کی کفریہ عبارات موصول ہو چکی تھیں؟
1324 ہجری مطابق 1906 میں حسام الحرمین یعنی علمائے حرمین کی تصدیقات کا مجموعہ ملک ہند آیا۔جس کا شہرہ ملک بھر میں ہوا,اس کے تیرہ سال بعد ربیع الاخر 1337 ہجری مطابق جنوری 1919 میں حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے علامۃ الہند حضرت علامہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیوبندیوں کی کفریہ عبارات سے متعلق خط بھیجا۔علامہ اجمیری نے فرمایا کہ مجھے دیوبندیوں کی کفریہ عبارات کی بالکل خبر نہیں۔اس کے بعد انہوں نے ان کفریہ عبارات کے علم کے بعد دیوبندیوں کی تکفیر فرمائی۔الصوارم الہندیہ(ص:18-19-مطبوعہ دار العلوم رضائے خواجہ اجمیر شریف)میں تفصیل مرقوم ہے۔
پس دیوبندیوں کے کفریات سے لاعلمی یا تواتر کے ساتھ کفریہ عبارات موصول نہ ہونے کے سبب کسی عالم نے اگر اکابر دیوبند کی تکفیر شخصی نہ کی ہو تو اس کو دلیل انکار نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
نیز ایک طویل مدت تک صریح لفظوں میں نام بہ نام تکفیر کلامی شخصی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے حق شرعی حکم سے آگاہ کر چکے تھے اور ایسے اقوال کو کفریہ اور ایسے قائلین کا کافر ہونا ظاہر کر چکے تھے,اور بطور کنایہ بتایا جا چکا تھا کہ اکابر دیوبند کافر ہیں۔علم بلاغت کا مشہور قانون ہے:(الکنایۃ ابلغ من التصریح)
ابتدائی مرحلہ میں نام لے کر اکابر دیوبند کو کافر نہ کہنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے اہل سنت دیوبندیوں کی توبہ ورجوع کے منتظر تھے۔
جیسے اشخاص اربعہ کی تکفیر سے انکار کے سبب فرقہ بجنوریہ پر کفر کلامی کا حکم ضرور وارد ہوتا ہے۔یہ لوگ 2017 سے امت مسلمہ میں فتنوں کو پروان چڑھا رہے ہیں,لیکن آج تک ان لوگوں پر کسی دار الافتا نے فتوی جاری نہیں کیا,لیکن فرقہ بجنوریہ خود غور کرے کہ اسلامی اصول وضوابط کے اعتبار سے ان پر کفر کلامی کا حکم کیوں عائد نہیں ہو گا؟
بجنوریوں کی نظر میں سب سے معتمد مفتی حضرت فقیہ النفس صاحب قبلہ تھے۔گزشتہ سال انہوں نے اشخاص اربعہ کی تکفیر کے انکار کے سبب بجنوریوں کو عام جلسے میں خارج اسلام قرار دیا تھا,جس پر بجنوری طبقہ تلملا اٹھا,اور مفتی صاحب کو بھی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا-اس کے بعد یہ لوگ مفتی صاحب قبلہ سے جدا ہو چکے ہیں,لیکن ان کے رسالہ:(اہل قبلہ کی تکفیر)کو نہیں چھوڑ سکتے,کیوں کہ اس رسالہ کے مشمولات ومندرجات کے سہارے امت مسلمہ کو گمرہی میں مبتلا کرنا آسان ہے۔بجنوری محررین رسالہ مذکورہ کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ششم)
بجنوری محررین کا دعوی ہے کہ اکابر بدایوں فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کو کافر کلامی نہیں مانتے تھے اور متاخرین بدایوں کو مجبورا عناصر اربعہ کو کافر ماننا پڑا۔در حقیقت یہ بجنوریوں کا مغالطہ اور فریب بازی ہے۔
مسئلہ تکفیر باب اعتقادیات سے ہے اور مسئلہ اذان ثانی کا تعلق فقہیات سے ہے۔اذان ثانی کے مسئلہ میں علمائے بدایوں کا اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے اختلاف تھا۔اہل بدایوں آج تک مسئلہ اذان ثانی میں اپنے موقف پر ہیں۔جب فقہی وظنی مسئلہ میں وہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے قول کی طرف نہ آ سکے تو اعتقادی مسئلہ میں مجبورا کیسے امام اہل سںت قدس سرہ العزیز کے قول کو قبول کر سکتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کو ان حضرات نے حق پایا,پس اسے قبول فرمایا۔کسی نے تلوار لے کر لوگوں کو مجبور نہیں کیا تھا کہ لوگ بصورت مجبوری اشخاص اربعہ کو کافر ماننے لگے ہیں,بلکہ ان خبثائے اربعہ کا کفر کلامی مہر نیم روز کی طرح واضح وروشن ہے۔علمائے اہل سنت وجماعت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کے فتوی سے قبل بھی اکابر دیوبند کے کفر کا قول کرتے رہے ہیں۔
متقدمین بدایوں میں سے حضرت تاج الفحول قدس سرہ العزیز کی وفات جمادی الاولی 1319 مطابق ستمبر 1901 میں ہوئی اور ان کی وفات کے پانچ سال بعد حسام الحرمین یعنی افراد خمسہ(عناصر اربعہ وقادیانی)کی تکفیر کلامی پر علمائے حرمین طبین کی تصدیقات کا مجموعہ 1324مطابق 1906 میں ملک ہند آیا۔علامہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ العزیز کی وفات امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات ہی میں 1334ہجری میں ہوئی اور حسام الحرمین پر علمائے ہند کی تصدیقات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340)کی وفات کے چار سال بعد 1345/1344میں حاصل کی گئیں۔اس وقت حضرت علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان باحیات تھے۔انہوں نے حسام الحرمین کی تصدیق فرمائی ہے۔
تصدیق کے الفاظ پر اعتراض
علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ کی تصدیق کے الفاظ درج ذیل ہیں۔
"ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر,توہین سرکار رسالت کفر,بلکہ اعظم الکفریات والعیاذ باللہ"۔
حررہ الفقیر محمد عبد القدیر قادری بدایونی(الصوارم الہندیہ:ص41)
تصدیق کے الفاظ پر سب سے پہلے خلیل بجنوری نے اپنے رسالہ:انکشاف حقیقت میں اعتراض کیا کہ یہ حسام الحرمین کی تصدیق نہیں ہوئی,کیوں کہ اس میں اشخاص اربعہ کو کافر نہیں کہا گیا ہے۔
دراصل پس منظر سے بے توجہی کے سبب ایسا وہم پیدا ہوتا ہے۔برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت سے جب حسام الحرمین کی تصدیق لی جا رہی تھی۔اس وقت ایک مستقل سوالنامہ تیار کیا گیا تھا۔وہ سوال نامہ الصوارم الہندیہ کے شروع میں منقول ہے۔اس میں افراد خمسہ کے کفریہ عقائد نقل کئے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نانوتوی وقادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور گنگوہی وانبیٹھوی وتھانوی توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ان لوگوں کو علمائے حرمین طیبین نے کافر قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ان کے کفریات پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان جانے یا ان کے کفر میں شک یا توقف کرے,وہ بھی کافر ہے۔یہ فتاوی حق ہیں یا نہیں؟ تمام مسلمانوں کو اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا لازم ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر ہے اور توہین سرکار رسالت کفر ہے,بلکہ سب سے بڑا کفر ہے۔
کیا سب سے بڑے کفر کا مرتکب بھی کافر نہیں ہو گا؟
زید سے سوال ہو کہ تم نے دودھ پی لیاہے۔جواب میں وہ کہے: "ہاں"
اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔اردو,عربی,فارسی کسی زبان میں ایسی گفتگو ہو تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔
عربی زبان میں زید سے سوال ہو۔( ا شربت اللبن؟) جواب میں زید کہے:(نعم) تو یہی سمجھا جائے گا کہ زید نے دودھ پی لیا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زید خاموش کھڑا تھا,پھر اچانک وو صرف"ہاں" بولے اور خاموش ہو جائے,پس اس "ہاں" کا کچھ معنی کسی کو سمجھ میں نہیں آئے گا,حالاں کہ دونوں صورت میں زید نے صرف "ہاں"کہا ہے۔
اسی طرح جب منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول سے متعلق سوال ہونے پر کوئی کہے کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے اور توہین رسالت کفر ہے تو اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اس نے منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول کا حکم بیان کیا ہے۔
ہاں,اگر مجیب سے متعلق کوئی شبہہ ہو تو ضرور اس سے صراحت طلب کی جائے گی کہ مرتکبین کا صریح حکم بیان کیا جائے,لیکن اشخاص اربعہ کی تکفیر کے مسئلہ میں علمائے بدایوں سے متعلق کوئی شبہہ نہیں تھا۔وہ حضرات اس حکم شرعی کو مانتے تھے اور آج بھی مانتے ہیں۔صرف اذان ثانی کے مسئلہ میں اختلاف تھا۔
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ششم)
بجنوری محررین کا دعوی ہے کہ اکابر بدایوں فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کو کافر کلامی نہیں مانتے تھے اور متاخرین بدایوں کو مجبورا عناصر اربعہ کو کافر ماننا پڑا۔در حقیقت یہ بجنوریوں کا مغالطہ اور فریب بازی ہے۔
مسئلہ تکفیر باب اعتقادیات سے ہے اور مسئلہ اذان ثانی کا تعلق فقہیات سے ہے۔اذان ثانی کے مسئلہ میں علمائے بدایوں کا اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے اختلاف تھا۔اہل بدایوں آج تک مسئلہ اذان ثانی میں اپنے موقف پر ہیں۔جب فقہی وظنی مسئلہ میں وہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے قول کی طرف نہ آ سکے تو اعتقادی مسئلہ میں مجبورا کیسے امام اہل سںت قدس سرہ العزیز کے قول کو قبول کر سکتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کو ان حضرات نے حق پایا,پس اسے قبول فرمایا۔کسی نے تلوار لے کر لوگوں کو مجبور نہیں کیا تھا کہ لوگ بصورت مجبوری اشخاص اربعہ کو کافر ماننے لگے ہیں,بلکہ ان خبثائے اربعہ کا کفر کلامی مہر نیم روز کی طرح واضح وروشن ہے۔علمائے اہل سنت وجماعت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کے فتوی سے قبل بھی اکابر دیوبند کے کفر کا قول کرتے رہے ہیں۔
متقدمین بدایوں میں سے حضرت تاج الفحول قدس سرہ العزیز کی وفات جمادی الاولی 1319 مطابق ستمبر 1901 میں ہوئی اور ان کی وفات کے پانچ سال بعد حسام الحرمین یعنی افراد خمسہ(عناصر اربعہ وقادیانی)کی تکفیر کلامی پر علمائے حرمین طبین کی تصدیقات کا مجموعہ 1324مطابق 1906 میں ملک ہند آیا۔علامہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ العزیز کی وفات امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات ہی میں 1334ہجری میں ہوئی اور حسام الحرمین پر علمائے ہند کی تصدیقات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340)کی وفات کے چار سال بعد 1345/1344میں حاصل کی گئیں۔اس وقت حضرت علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان باحیات تھے۔انہوں نے حسام الحرمین کی تصدیق فرمائی ہے۔
تصدیق کے الفاظ پر اعتراض
علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ کی تصدیق کے الفاظ درج ذیل ہیں۔
"ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر,توہین سرکار رسالت کفر,بلکہ اعظم الکفریات والعیاذ باللہ"۔
حررہ الفقیر محمد عبد القدیر قادری بدایونی(الصوارم الہندیہ:ص41)
تصدیق کے الفاظ پر سب سے پہلے خلیل بجنوری نے اپنے رسالہ:انکشاف حقیقت میں اعتراض کیا کہ یہ حسام الحرمین کی تصدیق نہیں ہوئی,کیوں کہ اس میں اشخاص اربعہ کو کافر نہیں کہا گیا ہے۔
دراصل پس منظر سے بے توجہی کے سبب ایسا وہم پیدا ہوتا ہے۔برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت سے جب حسام الحرمین کی تصدیق لی جا رہی تھی۔اس وقت ایک مستقل سوالنامہ تیار کیا گیا تھا۔وہ سوال نامہ الصوارم الہندیہ کے شروع میں منقول ہے۔اس میں افراد خمسہ کے کفریہ عقائد نقل کئے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نانوتوی وقادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور گنگوہی وانبیٹھوی وتھانوی توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ان لوگوں کو علمائے حرمین طیبین نے کافر قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ان کے کفریات پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان جانے یا ان کے کفر میں شک یا توقف کرے,وہ بھی کافر ہے۔یہ فتاوی حق ہیں یا نہیں؟ تمام مسلمانوں کو اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا لازم ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر ہے اور توہین سرکار رسالت کفر ہے,بلکہ سب سے بڑا کفر ہے۔
کیا سب سے بڑے کفر کا مرتکب بھی کافر نہیں ہو گا؟
زید سے سوال ہو کہ تم نے دودھ پی لیاہے۔جواب میں وہ کہے: "ہاں"
اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔اردو,عربی,فارسی کسی زبان میں ایسی گفتگو ہو تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔
عربی زبان میں زید سے سوال ہو۔( ا شربت اللبن؟) جواب میں زید کہے:(نعم) تو یہی سمجھا جائے گا کہ زید نے دودھ پی لیا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زید خاموش کھڑا تھا,پھر اچانک وو صرف"ہاں" بولے اور خاموش ہو جائے,پس اس "ہاں" کا کچھ معنی کسی کو سمجھ میں نہیں آئے گا,حالاں کہ دونوں صورت میں زید نے صرف "ہاں"کہا ہے۔
اسی طرح جب منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول سے متعلق سوال ہونے پر کوئی کہے کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے اور توہین رسالت کفر ہے تو اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اس نے منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول کا حکم بیان کیا ہے۔
ہاں,اگر مجیب سے متعلق کوئی شبہہ ہو تو ضرور اس سے صراحت طلب کی جائے گی کہ مرتکبین کا صریح حکم بیان کیا جائے,لیکن اشخاص اربعہ کی تکفیر کے مسئلہ میں علمائے بدایوں سے متعلق کوئی شبہہ نہیں تھا۔وہ حضرات اس حکم شرعی کو مانتے تھے اور آج بھی مانتے ہیں۔صرف اذان ثانی کے مسئلہ میں اختلاف تھا۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
فرقہ بجنوریہ یہ سوال بھی بار بار دہرا رہا ہے کہ کبھی قول کفری ہوتا ہے,لیکن قائل کافر نہیں ہوتا ہے۔اسی طرح ان مقامات پر بھی ہو سکتا ہے کہ قول کفری ہو,لیکن قائل کافر نہ ہو۔ہم نے ایک مختصر مضمون میں اس کی وضاحت کر دی تھی۔ان شاء اللہ تعالی مضمون ہفتم میں بھی تشریح کر دی جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2022
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہشتم)
بجنوری تحریر میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ علمائے اہل سنت نے رقم فرمایا ہے کہ اگر قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل پیش نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
اس سے متعلق الموت الاحمر,مقالات شارح بخاری اور اہل قبلہ کی تکفیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اختصار کے ساتھ ہم متعدد مضامین میں اس پر بحث کریں گے۔
مفسر کو صریح متعین اور قطعی الدلالت بالمعنی الاخص بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوتا ہے اور کبھی فی نفسہ مفسر ومتعین نہیں ہوتا,لیکن قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ومتعین ہو جاتا ہے,جیسے زید نے بکر سے کہا کہ میرے گھر میں ایک حیوان ہے۔اسے روٹی دے دو۔بکر اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں خالد تھا۔بکر واپس آیا اور کہا کہ تمہارے گھر میں کوئی حیوان نہیں,بلکہ خالد ہے۔زید نے جواب دیا کہ اسی کو روٹی دے دو,وہ حیوان ناطق ہے۔اب زید کی اس تفسیر سے یہ واضح ہو گیا کہ حیوان سے اس کی مراد بکر ہی ہے۔
اگر کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر نہ ہو تو قائل کے سکوت یا صحیح تاویل نہ بتانے کے سبب وہ کلام کفری معنی میں مفسر نہیں ہوتا ہے,بلکہ قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ہوتا ہے۔سکوت وعدم تاویل صحیح اور بیان قطعی یہ تین امر ہیں اور تینوں کے معانی جداگانہ ہیں,جیسا کہ ظاہر ہے۔
مفسر کلام میں صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اگر صحیح تاویل کی گنجائش ہو تو وہ کلام اپنے معنی میں مفسر نہیں ہو گا۔مفسر کلام میں جانب مخالف کا احتمال قریب یا احتمال بعید نہیں ہوتا ہے۔
الموت الاحمر کے سائل نے سوال کیا تھا کہ کسی کلام کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کی کیا صورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان ن فرمایا کہ اشخاص اربعہ کے کلمات کے کفری معنی میں مفسر ومتعین ہونے کی علامت ونشانی یہ ہے کہ سولہ سال سے قسم قسم کی تاویلیں کی جا رہی ہیں,لیکن تمام تاویلات اصول وقوانین کی روشنی میں تاویلات باطلہ کی منزل میں ہیں,کیوں کہ کفری معنی میں مفسر ومتعین کلام میں کسی صحیح تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
الموت الاحمر میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
الموت الاحمر کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
"آپ پوچھتے ہیں کہ متعین ہونے کی صورت کیا ہے؟
جی یہی جو براہین قاطعہ گنگوہی وتحذیر الناس وخفض الایمان میں آپ کے پیش نظر ہے کہ 16/برس سے زیادہ گزرے,دانتوں پسینے آ رہے ہیں۔ایڑی چوٹی کے زور لگائے جا رہے ہیں اور کفر نہ ہلتا ہے,نہ ٹلتا,نہ اپنی عبارتوں میں کوئی اسلام کا پہلو نکلتا"-(الموت الاحمر ص62-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
منقولہ بالا عبارت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ مفسر ومتعین کلام میں تاویل صحیح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی,اسی لئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود کوئی صحیح تاویل منظر عام پر نہ آ سکی۔
مذکورہ عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائلین کی صحیح تاویل پیش نہ کرنے کے سبب وہ اقوال کفریہ معانی میں مفسر ومتعین ہو گئے ہیں۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور فتوی وقوع کذب پر علمائے اہل سنت مباحثہ ومناظرہ کر چکے تھے۔لیکن تھانوی کی حفظ الایمان 08: محرم الحرام 1319 مطابق 28:اپریل 1901 کو لکھی گئی۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے تھانوی سے کوئی تاویل دریافت نہ کی,بلکہ اشخاص ثلاثہ کے کلمات کی طرح تھانوی کا کلام بھی کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا۔لہذا اگلے سال 1320مطابق 1902 میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کی تکفیر کلامی کی۔1321 مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے المعتمد المستند کی اشاعت ہوئی۔1323مطابق 1905 میں جب حج وزیارت کے واسطے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز حرمین طیبین حاضر ہوئے تو علمائے حرمین طیبین نے اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر پر تصدیقات رقم فرمائیں۔
1324 مطابق 1905 میں واپسی ہوئی۔ایک مدت کے بعد تھانوی سے خط وکتابت کا معاملہ درپیش ہوا۔تکفیر پہلے ہی ہو چکی تھی,کیوں کہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا اور تواتر کے ساتھ تھانوی کی عبارت موصول ہو چکی تھیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تھانوی کو آخری تحریر"ابحاث اخیرہ"20:ذی قعدہ 1328 ہجری کو بھیجی۔جب کہ تھانوی ودیگر مرتدین کی تکفیر آٹھ سال قبل 1320 ہجری میں المعتمد المستند میں ہو چکی تھی۔
ان شاء اللہ تعالی مضمون نہم میں بھی مفسر اور تاویل سے متعلق بحث ہو گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہشتم)
بجنوری تحریر میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ علمائے اہل سنت نے رقم فرمایا ہے کہ اگر قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل پیش نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
اس سے متعلق الموت الاحمر,مقالات شارح بخاری اور اہل قبلہ کی تکفیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اختصار کے ساتھ ہم متعدد مضامین میں اس پر بحث کریں گے۔
مفسر کو صریح متعین اور قطعی الدلالت بالمعنی الاخص بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوتا ہے اور کبھی فی نفسہ مفسر ومتعین نہیں ہوتا,لیکن قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ومتعین ہو جاتا ہے,جیسے زید نے بکر سے کہا کہ میرے گھر میں ایک حیوان ہے۔اسے روٹی دے دو۔بکر اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں خالد تھا۔بکر واپس آیا اور کہا کہ تمہارے گھر میں کوئی حیوان نہیں,بلکہ خالد ہے۔زید نے جواب دیا کہ اسی کو روٹی دے دو,وہ حیوان ناطق ہے۔اب زید کی اس تفسیر سے یہ واضح ہو گیا کہ حیوان سے اس کی مراد بکر ہی ہے۔
اگر کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر نہ ہو تو قائل کے سکوت یا صحیح تاویل نہ بتانے کے سبب وہ کلام کفری معنی میں مفسر نہیں ہوتا ہے,بلکہ قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ہوتا ہے۔سکوت وعدم تاویل صحیح اور بیان قطعی یہ تین امر ہیں اور تینوں کے معانی جداگانہ ہیں,جیسا کہ ظاہر ہے۔
مفسر کلام میں صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اگر صحیح تاویل کی گنجائش ہو تو وہ کلام اپنے معنی میں مفسر نہیں ہو گا۔مفسر کلام میں جانب مخالف کا احتمال قریب یا احتمال بعید نہیں ہوتا ہے۔
الموت الاحمر کے سائل نے سوال کیا تھا کہ کسی کلام کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کی کیا صورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان ن فرمایا کہ اشخاص اربعہ کے کلمات کے کفری معنی میں مفسر ومتعین ہونے کی علامت ونشانی یہ ہے کہ سولہ سال سے قسم قسم کی تاویلیں کی جا رہی ہیں,لیکن تمام تاویلات اصول وقوانین کی روشنی میں تاویلات باطلہ کی منزل میں ہیں,کیوں کہ کفری معنی میں مفسر ومتعین کلام میں کسی صحیح تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
الموت الاحمر میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
الموت الاحمر کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
"آپ پوچھتے ہیں کہ متعین ہونے کی صورت کیا ہے؟
جی یہی جو براہین قاطعہ گنگوہی وتحذیر الناس وخفض الایمان میں آپ کے پیش نظر ہے کہ 16/برس سے زیادہ گزرے,دانتوں پسینے آ رہے ہیں۔ایڑی چوٹی کے زور لگائے جا رہے ہیں اور کفر نہ ہلتا ہے,نہ ٹلتا,نہ اپنی عبارتوں میں کوئی اسلام کا پہلو نکلتا"-(الموت الاحمر ص62-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
منقولہ بالا عبارت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ مفسر ومتعین کلام میں تاویل صحیح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی,اسی لئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود کوئی صحیح تاویل منظر عام پر نہ آ سکی۔
مذکورہ عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائلین کی صحیح تاویل پیش نہ کرنے کے سبب وہ اقوال کفریہ معانی میں مفسر ومتعین ہو گئے ہیں۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور فتوی وقوع کذب پر علمائے اہل سنت مباحثہ ومناظرہ کر چکے تھے۔لیکن تھانوی کی حفظ الایمان 08: محرم الحرام 1319 مطابق 28:اپریل 1901 کو لکھی گئی۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے تھانوی سے کوئی تاویل دریافت نہ کی,بلکہ اشخاص ثلاثہ کے کلمات کی طرح تھانوی کا کلام بھی کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا۔لہذا اگلے سال 1320مطابق 1902 میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کی تکفیر کلامی کی۔1321 مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے المعتمد المستند کی اشاعت ہوئی۔1323مطابق 1905 میں جب حج وزیارت کے واسطے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز حرمین طیبین حاضر ہوئے تو علمائے حرمین طیبین نے اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر پر تصدیقات رقم فرمائیں۔
1324 مطابق 1905 میں واپسی ہوئی۔ایک مدت کے بعد تھانوی سے خط وکتابت کا معاملہ درپیش ہوا۔تکفیر پہلے ہی ہو چکی تھی,کیوں کہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا اور تواتر کے ساتھ تھانوی کی عبارت موصول ہو چکی تھیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تھانوی کو آخری تحریر"ابحاث اخیرہ"20:ذی قعدہ 1328 ہجری کو بھیجی۔جب کہ تھانوی ودیگر مرتدین کی تکفیر آٹھ سال قبل 1320 ہجری میں المعتمد المستند میں ہو چکی تھی۔
ان شاء اللہ تعالی مضمون نہم میں بھی مفسر اور تاویل سے متعلق بحث ہو گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه=نصف اول.pdf
4.1 MB
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه=نصف دوم.pdf
3.3 MB
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎
فرقه بجنوريه=جديد.pdf
528.5 KB
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه.هفتم.pdf
570.2 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہفتم)
کب قول کفر ہوتا ہے اور قائل کافر نہیں ہوتا؟
از:طارق انور مصباحی
صفحات:11
کب قول کفر ہوتا ہے اور قائل کافر نہیں ہوتا؟
از:طارق انور مصباحی
صفحات:11
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه=نهم.pdf
591.8 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون نہم)
فرقہ بجنوریہ کے ذرائع تلبیس اور فریب کاریوں کے اوزار وآلات کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:10
فرقہ بجنوریہ کے ذرائع تلبیس اور فریب کاریوں کے اوزار وآلات کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:10
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه+دهم.pdf
757.8 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون دہم)
تکفیر دہلوی سے متعلق خلیل بجنوری(م1900)کے خیال باطل کا رد اور مقالات شارح بخاری کی عبارتوں کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:22
تکفیر دہلوی سے متعلق خلیل بجنوری(م1900)کے خیال باطل کا رد اور مقالات شارح بخاری کی عبارتوں کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:22
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
رد فرقه بجنوريه.يازدهم.pdf
636.5 KB
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون یازدہم)
سراوی محررین کی کج فہمیوں کا ذکر
اور فتاوی بے نظیر میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی تصدیق کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:11
سراوی محررین کی کج فہمیوں کا ذکر
اور فتاوی بے نظیر میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی تصدیق کی تشریح
از: طارق انور مصباحی
صفحات:11
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1444 ᴴ | 14-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1