🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ (مضمون اول)
ایک بجنوری محرر نے دعوی کیا ہے کہ الموت الاحمر میں مرقوم ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی تھی۔
اسی طرح اس نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بھی لزومی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علامہ خیر آبادی نے تکفیر کلامی کی تھی۔
یہ دونوں دعوے جھوٹے ہیں۔الموت الاحمر میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی وضاحت کی گئی ہے,نیز امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بجنوری دعوی ثابت ہونا محال ہے۔کیوں کہ جب کسی کی صحیح تکفیر کلامی ہو جائے تو دوسروں کو اس کی تصدیق لازم ہے,ورنہ دوسرے بھی اسی زمرہ میں شامل ہوں گے۔اسی مفہوم کو(من شک فی کفرہ فقد کفر)کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔
حضرت شارح بخاری قدس سرہ العزیز نے مقالات شارح بخاری میں مخالفین کو الزامی جواب دیتے ہوئے فرضی طور پر اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی بات لکھی ہے,اور انہوں نے صریح لفظوں میں اپنا مسلک بیان فرمایا کہ علامہ خیر آبادی نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تھی۔
فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی صاحب قبلہ نے بھی رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں جو کچھ لکھا ہے,ظن غالب ہے کہ وہ مناظراتی مباحث ہیں۔جو الزام خصم کے واسطے مرقوم ہوئے۔
اگر ان مباحث کو تحقیقی مباحث قرار دیئے جائیں,تب اعتراضات ہوں گے۔
کیا فرقہ بجنوریہ نے حضرت فقیہ النفس صاحب سے دریافت کر لیا ہے کہ مذکورہ رسالہ کےمشمولات ومندرجات تحقیقی ہیں۔بجنوریوں کے پاس کوئی مستحکم ثبوت ہو تو پیش کریں۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ خلفائے اعلی حضرت نے کہاں لکھا ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔تکفیر کلامی کی بات صرف رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں مرقوم ہے۔بعد میں بعض لوگ اسی رسالہ کو دیکھ کر ایسا کہنے لگے۔
خلیل بجنوری نے یہ دعوی کیا تھا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔
ناگپور سے خلیل بجنوری کے رسالے کا محققانہ رد چھپا,اس میں یہی بتایا گیا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔ہمارے متعدد رسائل میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تشریح وتفصیل ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:25:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ (مضمون اول)
ایک بجنوری محرر نے دعوی کیا ہے کہ الموت الاحمر میں مرقوم ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی تھی۔
اسی طرح اس نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بھی لزومی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علامہ خیر آبادی نے تکفیر کلامی کی تھی۔
یہ دونوں دعوے جھوٹے ہیں۔الموت الاحمر میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی وضاحت کی گئی ہے,نیز امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بجنوری دعوی ثابت ہونا محال ہے۔کیوں کہ جب کسی کی صحیح تکفیر کلامی ہو جائے تو دوسروں کو اس کی تصدیق لازم ہے,ورنہ دوسرے بھی اسی زمرہ میں شامل ہوں گے۔اسی مفہوم کو(من شک فی کفرہ فقد کفر)کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔
حضرت شارح بخاری قدس سرہ العزیز نے مقالات شارح بخاری میں مخالفین کو الزامی جواب دیتے ہوئے فرضی طور پر اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی بات لکھی ہے,اور انہوں نے صریح لفظوں میں اپنا مسلک بیان فرمایا کہ علامہ خیر آبادی نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تھی۔
فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی صاحب قبلہ نے بھی رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں جو کچھ لکھا ہے,ظن غالب ہے کہ وہ مناظراتی مباحث ہیں۔جو الزام خصم کے واسطے مرقوم ہوئے۔
اگر ان مباحث کو تحقیقی مباحث قرار دیئے جائیں,تب اعتراضات ہوں گے۔
کیا فرقہ بجنوریہ نے حضرت فقیہ النفس صاحب سے دریافت کر لیا ہے کہ مذکورہ رسالہ کےمشمولات ومندرجات تحقیقی ہیں۔بجنوریوں کے پاس کوئی مستحکم ثبوت ہو تو پیش کریں۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ خلفائے اعلی حضرت نے کہاں لکھا ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔تکفیر کلامی کی بات صرف رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں مرقوم ہے۔بعد میں بعض لوگ اسی رسالہ کو دیکھ کر ایسا کہنے لگے۔
خلیل بجنوری نے یہ دعوی کیا تھا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔
ناگپور سے خلیل بجنوری کے رسالے کا محققانہ رد چھپا,اس میں یہی بتایا گیا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔ہمارے متعدد رسائل میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تشریح وتفصیل ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:25:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون دوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے حسام الحرمین کے استفتا میں اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر کے واسطے فقہی کتابوں کے اقتباسات نقل فرمائے ہیں,لہذا یہ تکفیر فقہی ہو گی,تکفیر کلامی نہیں ہو گی۔
اس وضاحت معجون ضلالت پر سوال ہے کہ اگر فقہی کتابوں میں مرقوم ہو کہ بت پرست کافر ہے۔آتش پرست کافر ہے تو کیا اس کا معنی یہ ہو گا کہ بت پرست وآتش پرست کافر فقہی ہے اور کافر کلامی نہیں ہے؟
ع/ بریں عقل ودانش بباید گریست
سچی حقیقت یہ ہے کہ فقہی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے اور کلامی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے۔
امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات مبارکہ میں حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے الموت الاحمر تصنیف فرمائی۔اس میں صریح لفظوں میں مرقوم ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی ہوئی ہے-(الموت الاحمر ص51-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے الطاری الداری وغیرہ میں الموت الاحمر کا ذکر فرمایا ہے۔
کفر کلامی اور کفر فقہی میں فرق یہ ہے کہ کفر کلامی میں تاویل بعید کی گنجائش نہیں ہوتی اور کلام کفری معنی میں مفسر اور صریح متعین ہوتا ہے۔
کفر کلامی کے سبب سارے اعمال تباہ ہو جاتے ہیں۔
فتوی تکفیر میں عموما یہ صراحت نہیں ہوتی ہے کہ یہاں کون سے کفر کا فتوی دیا گیا ہے۔کفر کلامی کا یا کفر فقہی کا۔
اگر ضروری دینی کا مفسر انکار ہے تو فتوی تکفیر کو تکفیر کلامی پر محمول کیا جائے گا۔اگر ضروری دینی کا مفسر وصریح متعین انکار نہیں تو اس فتوی کو تکفیر فقہی پر محمول کیا جائے گا۔
"من شک" کا استعمال تکفیر کلامی وتکفیر فقہی دونوں میں ہوتا ہے۔دونوں میں توبہ,تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم دیا جاتا ہے۔
اگر فتوی میں یہ مرقوم ہو کہ ملزم کے سارے اعمال تباہ ہو گئے تو یہ تکفیر کلامی ہے,کیوں کہ کفر فقہی کے سبب اعمال سابقہ تباہ نہیں ہوتے۔
نوٹ:انتہائی فرحت وشادمانی کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ احباب اہل سنت وجماعت بجنوری خرافات کو تہس نہس کرنے کے واسطے میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔بعض تحریریں نظر نواز ہوئیں۔سلسلہ جاری رکھا جائے اور ان شاء اللہ تعالی حسب فرصت میں بھی مختصر تحاریر پیش کرتا رہوں گا۔بعض احباب علم کلام میں محنت کریں۔بوقت ضرورت وہ واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون دوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے حسام الحرمین کے استفتا میں اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر کے واسطے فقہی کتابوں کے اقتباسات نقل فرمائے ہیں,لہذا یہ تکفیر فقہی ہو گی,تکفیر کلامی نہیں ہو گی۔
اس وضاحت معجون ضلالت پر سوال ہے کہ اگر فقہی کتابوں میں مرقوم ہو کہ بت پرست کافر ہے۔آتش پرست کافر ہے تو کیا اس کا معنی یہ ہو گا کہ بت پرست وآتش پرست کافر فقہی ہے اور کافر کلامی نہیں ہے؟
ع/ بریں عقل ودانش بباید گریست
سچی حقیقت یہ ہے کہ فقہی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے اور کلامی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے۔
امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات مبارکہ میں حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے الموت الاحمر تصنیف فرمائی۔اس میں صریح لفظوں میں مرقوم ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی ہوئی ہے-(الموت الاحمر ص51-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے الطاری الداری وغیرہ میں الموت الاحمر کا ذکر فرمایا ہے۔
کفر کلامی اور کفر فقہی میں فرق یہ ہے کہ کفر کلامی میں تاویل بعید کی گنجائش نہیں ہوتی اور کلام کفری معنی میں مفسر اور صریح متعین ہوتا ہے۔
کفر کلامی کے سبب سارے اعمال تباہ ہو جاتے ہیں۔
فتوی تکفیر میں عموما یہ صراحت نہیں ہوتی ہے کہ یہاں کون سے کفر کا فتوی دیا گیا ہے۔کفر کلامی کا یا کفر فقہی کا۔
اگر ضروری دینی کا مفسر انکار ہے تو فتوی تکفیر کو تکفیر کلامی پر محمول کیا جائے گا۔اگر ضروری دینی کا مفسر وصریح متعین انکار نہیں تو اس فتوی کو تکفیر فقہی پر محمول کیا جائے گا۔
"من شک" کا استعمال تکفیر کلامی وتکفیر فقہی دونوں میں ہوتا ہے۔دونوں میں توبہ,تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم دیا جاتا ہے۔
اگر فتوی میں یہ مرقوم ہو کہ ملزم کے سارے اعمال تباہ ہو گئے تو یہ تکفیر کلامی ہے,کیوں کہ کفر فقہی کے سبب اعمال سابقہ تباہ نہیں ہوتے۔
نوٹ:انتہائی فرحت وشادمانی کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ احباب اہل سنت وجماعت بجنوری خرافات کو تہس نہس کرنے کے واسطے میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔بعض تحریریں نظر نواز ہوئیں۔سلسلہ جاری رکھا جائے اور ان شاء اللہ تعالی حسب فرصت میں بھی مختصر تحاریر پیش کرتا رہوں گا۔بعض احباب علم کلام میں محنت کریں۔بوقت ضرورت وہ واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون سوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے المعتمد المستند اور حسام الحرمین میں افراد خمسہ(اشخاص اربعہ اور قادیانی)کے لئے خود من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال نہیں فرمایا,بلکہ دوسروں سے نقل فرمایا ہے۔پس یہ دیگر اصحاب علم وفضل کے موقف کی نقل ہے۔یہ ان کا مسلک وموقف نہیں۔
دراصل قوانین تکفیر سے بے توجہی کے سبب ایسے شبہات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہیں۔اس کا ذکر انہوں نے المعتمد المستند میں فرمایا ہے۔متکلمین جس کی تکفیر کریں گے,وہ کافر کلامی ہو گا اور جو کافر کلامی نہیں ہو گا,اس کی تکفیر نہیں کریں گے,جیسے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہیں کی,کیوں کہ وہ کافر کلامی نہیں تھا اور وہ فقہا کے یہاں کافر تھا تو آپ نے دہلوی کو کافر فقہی تسلیم کیا۔
الحاصل متکلمین جس کو کافر کہیں,وہ کافر کلامی ہوتا ہے اور ہر کافر کلامی کا حکم یہی ہے کہ اس کے کفر میں شک کرنے والا کافر ہوتا ہے۔خواہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال کیا جائے,یا نہ کیا جائے۔
اسی طرح جو کفر فقہی جملہ مذاہب فقہیہ(مذاہب اربعہ)کے یہاں قطعی واجماعی ہو,اس میں بھی من شک فی کفرہ فقد کفر کا استعمال ہو گا اوراگر من شک کا اصول کا استعمال نہ بھی کیا جائے تو بھی اس کا حکم وہی ہو گا کہ اس کے کفر فقہی کا منکر اسی طرح کافر فقہی ہے۔متکلمین کفر فقہی کا انکار نہیں کرتے,بلکہ کفر فقہی کو ضلالت وگمرہی کہتے ہیں,پس یہ لفظی وتعبیری اختلاف ہے,معنوی اختلاف نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون سوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے المعتمد المستند اور حسام الحرمین میں افراد خمسہ(اشخاص اربعہ اور قادیانی)کے لئے خود من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال نہیں فرمایا,بلکہ دوسروں سے نقل فرمایا ہے۔پس یہ دیگر اصحاب علم وفضل کے موقف کی نقل ہے۔یہ ان کا مسلک وموقف نہیں۔
دراصل قوانین تکفیر سے بے توجہی کے سبب ایسے شبہات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہیں۔اس کا ذکر انہوں نے المعتمد المستند میں فرمایا ہے۔متکلمین جس کی تکفیر کریں گے,وہ کافر کلامی ہو گا اور جو کافر کلامی نہیں ہو گا,اس کی تکفیر نہیں کریں گے,جیسے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہیں کی,کیوں کہ وہ کافر کلامی نہیں تھا اور وہ فقہا کے یہاں کافر تھا تو آپ نے دہلوی کو کافر فقہی تسلیم کیا۔
الحاصل متکلمین جس کو کافر کہیں,وہ کافر کلامی ہوتا ہے اور ہر کافر کلامی کا حکم یہی ہے کہ اس کے کفر میں شک کرنے والا کافر ہوتا ہے۔خواہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال کیا جائے,یا نہ کیا جائے۔
اسی طرح جو کفر فقہی جملہ مذاہب فقہیہ(مذاہب اربعہ)کے یہاں قطعی واجماعی ہو,اس میں بھی من شک فی کفرہ فقد کفر کا استعمال ہو گا اوراگر من شک کا اصول کا استعمال نہ بھی کیا جائے تو بھی اس کا حکم وہی ہو گا کہ اس کے کفر فقہی کا منکر اسی طرح کافر فقہی ہے۔متکلمین کفر فقہی کا انکار نہیں کرتے,بلکہ کفر فقہی کو ضلالت وگمرہی کہتے ہیں,پس یہ لفظی وتعبیری اختلاف ہے,معنوی اختلاف نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون چہارم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر خود علمائے دہلی نے کی اور وہ علمائے کرام خاندان دہلوی کے فیض یافتہ اور بعض علما اس کے خاندان کے تھے,لیکن امام احمد رضا قادری نے بریلی میں بیٹھ کر دیوبند والوں کی تکفیر کی۔
فرقہ بجنوریہ سے سوال ہے کہ تکفیر کے شرائط میں یہ کہاں مرقوم ہے کہ اسی شہر کے علمائے کرام فتوی کفر نافذ کر سکتے ہیں جس شہر میں مرتکب کفر رہتا ہو۔
بالفرض اگر یہ شرط تکفیر ہے تو دیوبند والوں نے قادیانی کی تکفیر کی ہے۔بریلی اور دیوبند دونوں ہی ریاست اتر پردیش میں ہیں,لیکن قادیان ریاست پنجاب میں ہے اور دیوبند یوپی میں ہے۔بجنوری محررین پہلے دیوبند والوں سے دریافت کریں کہ دیوبند میں بیٹھ کر قادیان والے پر کیسے فتوی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قادیانی پر جو فتوی دور دراز والوں نے عائد کیا,اس کو فرقہ بجنوریہ تسلیم کرتا ہے اور دیوبندیوں پر جو فتوی عائد ہوا,اس سے انکار کے واسطے تکفیر کے جدید شرائط گڑھتا ہے۔یہ دوہری پالیسی کیوں؟
ع/ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون چہارم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر خود علمائے دہلی نے کی اور وہ علمائے کرام خاندان دہلوی کے فیض یافتہ اور بعض علما اس کے خاندان کے تھے,لیکن امام احمد رضا قادری نے بریلی میں بیٹھ کر دیوبند والوں کی تکفیر کی۔
فرقہ بجنوریہ سے سوال ہے کہ تکفیر کے شرائط میں یہ کہاں مرقوم ہے کہ اسی شہر کے علمائے کرام فتوی کفر نافذ کر سکتے ہیں جس شہر میں مرتکب کفر رہتا ہو۔
بالفرض اگر یہ شرط تکفیر ہے تو دیوبند والوں نے قادیانی کی تکفیر کی ہے۔بریلی اور دیوبند دونوں ہی ریاست اتر پردیش میں ہیں,لیکن قادیان ریاست پنجاب میں ہے اور دیوبند یوپی میں ہے۔بجنوری محررین پہلے دیوبند والوں سے دریافت کریں کہ دیوبند میں بیٹھ کر قادیان والے پر کیسے فتوی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قادیانی پر جو فتوی دور دراز والوں نے عائد کیا,اس کو فرقہ بجنوریہ تسلیم کرتا ہے اور دیوبندیوں پر جو فتوی عائد ہوا,اس سے انکار کے واسطے تکفیر کے جدید شرائط گڑھتا ہے۔یہ دوہری پالیسی کیوں؟
ع/ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون پنجم)
فرقہ بجنوریہ کا اعتراض ہے کہ علمائے بدایوں کے متقدمین نے اکابر دیوبند کی تکفیر کلامی نہیں,گرچہ بدایوں کے علمائے متاخرین فرقہ دیوبندیہ کی تکفیر کلامی کرتے ہیں۔
نیز یہ بھی دعوی ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے قبل اگر کسی نے اکابر دیوبند کی تکفیر کی بھی ہے تو انہوں نے تکفیر فقہی کی ہے,تکفیر کلامی نہیں کی ہے۔تکفیر کلامی سب سے پہلے امام احمد رضا قادری نے کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اکابر بدایوں یا عہد ماضی کے علمائے اہل سنت میں سے کس عالم دین نے اکابر دیوبند کے کافر فقہی ہونے کی صراحت کی ہے؟
جن عبارتوں پر تکفیر کلامی ہوتی ہے,ان عبارتوں پر تکفیر فقہی نہیں ہو سکتی ہے۔ہاں,یہ ضرور ممکن ہے کہ مفتی کے لئے کوئی شرط مفقود ہو,جس کے سبب وہ نام لے کر مجرم کی شخصی تکفیر کلامی نہ کرے,یا مشروط تکفیر کلامی کرے,مثلا مجرم کا کلام کفری معنی میں صریح متعین اور مفسر ہے۔اس میں تاویل بعید کی بھی گنجائش نہیں,لیکن مفتی کو وہ کلام تواتر کے ساتھ نہیں مل سکا,بلکہ خبر واحد کے ذریعہ موصول ہوا,پس مفتی مشروط تکفیر کرتے ہوئے کہے گا کہ اگر فلاں نے ایسا کہا ہے تو وہ یقینا کافر ہے۔یا پھر قول اور ایسے قائل کا حکم بیان کرے گا کہ ایسا قول کفریہ ہے,اور ایسا قول کرنے والا کافر ہے۔
فرقہ بجنوریہ کے پاس کون سی دلیل ہے کہ عہد ماضی کے تمام علمائے اہل سنت وجماعت کو تواتر کے ساتھ اکابر دیوبند کی کفریہ عبارات موصول ہو چکی تھیں؟
1324 ہجری مطابق 1906 میں حسام الحرمین یعنی علمائے حرمین کی تصدیقات کا مجموعہ ملک ہند آیا۔جس کا شہرہ ملک بھر میں ہوا,اس کے تیرہ سال بعد ربیع الاخر 1337 ہجری مطابق جنوری 1919 میں حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے علامۃ الہند حضرت علامہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیوبندیوں کی کفریہ عبارات سے متعلق خط بھیجا۔علامہ اجمیری نے فرمایا کہ مجھے دیوبندیوں کی کفریہ عبارات کی بالکل خبر نہیں۔اس کے بعد انہوں نے ان کفریہ عبارات کے علم کے بعد دیوبندیوں کی تکفیر فرمائی۔الصوارم الہندیہ(ص:18-19-مطبوعہ دار العلوم رضائے خواجہ اجمیر شریف)میں تفصیل مرقوم ہے۔
پس دیوبندیوں کے کفریات سے لاعلمی یا تواتر کے ساتھ کفریہ عبارات موصول نہ ہونے کے سبب کسی عالم نے اگر اکابر دیوبند کی تکفیر شخصی نہ کی ہو تو اس کو دلیل انکار نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
نیز ایک طویل مدت تک صریح لفظوں میں نام بہ نام تکفیر کلامی شخصی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے حق شرعی حکم سے آگاہ کر چکے تھے اور ایسے اقوال کو کفریہ اور ایسے قائلین کا کافر ہونا ظاہر کر چکے تھے,اور بطور کنایہ بتایا جا چکا تھا کہ اکابر دیوبند کافر ہیں۔علم بلاغت کا مشہور قانون ہے:(الکنایۃ ابلغ من التصریح)
ابتدائی مرحلہ میں نام لے کر اکابر دیوبند کو کافر نہ کہنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے اہل سنت دیوبندیوں کی توبہ ورجوع کے منتظر تھے۔
جیسے اشخاص اربعہ کی تکفیر سے انکار کے سبب فرقہ بجنوریہ پر کفر کلامی کا حکم ضرور وارد ہوتا ہے۔یہ لوگ 2017 سے امت مسلمہ میں فتنوں کو پروان چڑھا رہے ہیں,لیکن آج تک ان لوگوں پر کسی دار الافتا نے فتوی جاری نہیں کیا,لیکن فرقہ بجنوریہ خود غور کرے کہ اسلامی اصول وضوابط کے اعتبار سے ان پر کفر کلامی کا حکم کیوں عائد نہیں ہو گا؟
بجنوریوں کی نظر میں سب سے معتمد مفتی حضرت فقیہ النفس صاحب قبلہ تھے۔گزشتہ سال انہوں نے اشخاص اربعہ کی تکفیر کے انکار کے سبب بجنوریوں کو عام جلسے میں خارج اسلام قرار دیا تھا,جس پر بجنوری طبقہ تلملا اٹھا,اور مفتی صاحب کو بھی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا-اس کے بعد یہ لوگ مفتی صاحب قبلہ سے جدا ہو چکے ہیں,لیکن ان کے رسالہ:(اہل قبلہ کی تکفیر)کو نہیں چھوڑ سکتے,کیوں کہ اس رسالہ کے مشمولات ومندرجات کے سہارے امت مسلمہ کو گمرہی میں مبتلا کرنا آسان ہے۔بجنوری محررین رسالہ مذکورہ کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون پنجم)
فرقہ بجنوریہ کا اعتراض ہے کہ علمائے بدایوں کے متقدمین نے اکابر دیوبند کی تکفیر کلامی نہیں,گرچہ بدایوں کے علمائے متاخرین فرقہ دیوبندیہ کی تکفیر کلامی کرتے ہیں۔
نیز یہ بھی دعوی ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے قبل اگر کسی نے اکابر دیوبند کی تکفیر کی بھی ہے تو انہوں نے تکفیر فقہی کی ہے,تکفیر کلامی نہیں کی ہے۔تکفیر کلامی سب سے پہلے امام احمد رضا قادری نے کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اکابر بدایوں یا عہد ماضی کے علمائے اہل سنت میں سے کس عالم دین نے اکابر دیوبند کے کافر فقہی ہونے کی صراحت کی ہے؟
جن عبارتوں پر تکفیر کلامی ہوتی ہے,ان عبارتوں پر تکفیر فقہی نہیں ہو سکتی ہے۔ہاں,یہ ضرور ممکن ہے کہ مفتی کے لئے کوئی شرط مفقود ہو,جس کے سبب وہ نام لے کر مجرم کی شخصی تکفیر کلامی نہ کرے,یا مشروط تکفیر کلامی کرے,مثلا مجرم کا کلام کفری معنی میں صریح متعین اور مفسر ہے۔اس میں تاویل بعید کی بھی گنجائش نہیں,لیکن مفتی کو وہ کلام تواتر کے ساتھ نہیں مل سکا,بلکہ خبر واحد کے ذریعہ موصول ہوا,پس مفتی مشروط تکفیر کرتے ہوئے کہے گا کہ اگر فلاں نے ایسا کہا ہے تو وہ یقینا کافر ہے۔یا پھر قول اور ایسے قائل کا حکم بیان کرے گا کہ ایسا قول کفریہ ہے,اور ایسا قول کرنے والا کافر ہے۔
فرقہ بجنوریہ کے پاس کون سی دلیل ہے کہ عہد ماضی کے تمام علمائے اہل سنت وجماعت کو تواتر کے ساتھ اکابر دیوبند کی کفریہ عبارات موصول ہو چکی تھیں؟
1324 ہجری مطابق 1906 میں حسام الحرمین یعنی علمائے حرمین کی تصدیقات کا مجموعہ ملک ہند آیا۔جس کا شہرہ ملک بھر میں ہوا,اس کے تیرہ سال بعد ربیع الاخر 1337 ہجری مطابق جنوری 1919 میں حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے علامۃ الہند حضرت علامہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیوبندیوں کی کفریہ عبارات سے متعلق خط بھیجا۔علامہ اجمیری نے فرمایا کہ مجھے دیوبندیوں کی کفریہ عبارات کی بالکل خبر نہیں۔اس کے بعد انہوں نے ان کفریہ عبارات کے علم کے بعد دیوبندیوں کی تکفیر فرمائی۔الصوارم الہندیہ(ص:18-19-مطبوعہ دار العلوم رضائے خواجہ اجمیر شریف)میں تفصیل مرقوم ہے۔
پس دیوبندیوں کے کفریات سے لاعلمی یا تواتر کے ساتھ کفریہ عبارات موصول نہ ہونے کے سبب کسی عالم نے اگر اکابر دیوبند کی تکفیر شخصی نہ کی ہو تو اس کو دلیل انکار نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
نیز ایک طویل مدت تک صریح لفظوں میں نام بہ نام تکفیر کلامی شخصی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے حق شرعی حکم سے آگاہ کر چکے تھے اور ایسے اقوال کو کفریہ اور ایسے قائلین کا کافر ہونا ظاہر کر چکے تھے,اور بطور کنایہ بتایا جا چکا تھا کہ اکابر دیوبند کافر ہیں۔علم بلاغت کا مشہور قانون ہے:(الکنایۃ ابلغ من التصریح)
ابتدائی مرحلہ میں نام لے کر اکابر دیوبند کو کافر نہ کہنے کا سبب یہ تھا کہ علمائے اہل سنت دیوبندیوں کی توبہ ورجوع کے منتظر تھے۔
جیسے اشخاص اربعہ کی تکفیر سے انکار کے سبب فرقہ بجنوریہ پر کفر کلامی کا حکم ضرور وارد ہوتا ہے۔یہ لوگ 2017 سے امت مسلمہ میں فتنوں کو پروان چڑھا رہے ہیں,لیکن آج تک ان لوگوں پر کسی دار الافتا نے فتوی جاری نہیں کیا,لیکن فرقہ بجنوریہ خود غور کرے کہ اسلامی اصول وضوابط کے اعتبار سے ان پر کفر کلامی کا حکم کیوں عائد نہیں ہو گا؟
بجنوریوں کی نظر میں سب سے معتمد مفتی حضرت فقیہ النفس صاحب قبلہ تھے۔گزشتہ سال انہوں نے اشخاص اربعہ کی تکفیر کے انکار کے سبب بجنوریوں کو عام جلسے میں خارج اسلام قرار دیا تھا,جس پر بجنوری طبقہ تلملا اٹھا,اور مفتی صاحب کو بھی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا-اس کے بعد یہ لوگ مفتی صاحب قبلہ سے جدا ہو چکے ہیں,لیکن ان کے رسالہ:(اہل قبلہ کی تکفیر)کو نہیں چھوڑ سکتے,کیوں کہ اس رسالہ کے مشمولات ومندرجات کے سہارے امت مسلمہ کو گمرہی میں مبتلا کرنا آسان ہے۔بجنوری محررین رسالہ مذکورہ کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ششم)
بجنوری محررین کا دعوی ہے کہ اکابر بدایوں فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کو کافر کلامی نہیں مانتے تھے اور متاخرین بدایوں کو مجبورا عناصر اربعہ کو کافر ماننا پڑا۔در حقیقت یہ بجنوریوں کا مغالطہ اور فریب بازی ہے۔
مسئلہ تکفیر باب اعتقادیات سے ہے اور مسئلہ اذان ثانی کا تعلق فقہیات سے ہے۔اذان ثانی کے مسئلہ میں علمائے بدایوں کا اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے اختلاف تھا۔اہل بدایوں آج تک مسئلہ اذان ثانی میں اپنے موقف پر ہیں۔جب فقہی وظنی مسئلہ میں وہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے قول کی طرف نہ آ سکے تو اعتقادی مسئلہ میں مجبورا کیسے امام اہل سںت قدس سرہ العزیز کے قول کو قبول کر سکتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کو ان حضرات نے حق پایا,پس اسے قبول فرمایا۔کسی نے تلوار لے کر لوگوں کو مجبور نہیں کیا تھا کہ لوگ بصورت مجبوری اشخاص اربعہ کو کافر ماننے لگے ہیں,بلکہ ان خبثائے اربعہ کا کفر کلامی مہر نیم روز کی طرح واضح وروشن ہے۔علمائے اہل سنت وجماعت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کے فتوی سے قبل بھی اکابر دیوبند کے کفر کا قول کرتے رہے ہیں۔
متقدمین بدایوں میں سے حضرت تاج الفحول قدس سرہ العزیز کی وفات جمادی الاولی 1319 مطابق ستمبر 1901 میں ہوئی اور ان کی وفات کے پانچ سال بعد حسام الحرمین یعنی افراد خمسہ(عناصر اربعہ وقادیانی)کی تکفیر کلامی پر علمائے حرمین طبین کی تصدیقات کا مجموعہ 1324مطابق 1906 میں ملک ہند آیا۔علامہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ العزیز کی وفات امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات ہی میں 1334ہجری میں ہوئی اور حسام الحرمین پر علمائے ہند کی تصدیقات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340)کی وفات کے چار سال بعد 1345/1344میں حاصل کی گئیں۔اس وقت حضرت علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان باحیات تھے۔انہوں نے حسام الحرمین کی تصدیق فرمائی ہے۔
تصدیق کے الفاظ پر اعتراض
علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ کی تصدیق کے الفاظ درج ذیل ہیں۔
"ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر,توہین سرکار رسالت کفر,بلکہ اعظم الکفریات والعیاذ باللہ"۔
حررہ الفقیر محمد عبد القدیر قادری بدایونی(الصوارم الہندیہ:ص41)
تصدیق کے الفاظ پر سب سے پہلے خلیل بجنوری نے اپنے رسالہ:انکشاف حقیقت میں اعتراض کیا کہ یہ حسام الحرمین کی تصدیق نہیں ہوئی,کیوں کہ اس میں اشخاص اربعہ کو کافر نہیں کہا گیا ہے۔
دراصل پس منظر سے بے توجہی کے سبب ایسا وہم پیدا ہوتا ہے۔برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت سے جب حسام الحرمین کی تصدیق لی جا رہی تھی۔اس وقت ایک مستقل سوالنامہ تیار کیا گیا تھا۔وہ سوال نامہ الصوارم الہندیہ کے شروع میں منقول ہے۔اس میں افراد خمسہ کے کفریہ عقائد نقل کئے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نانوتوی وقادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور گنگوہی وانبیٹھوی وتھانوی توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ان لوگوں کو علمائے حرمین طیبین نے کافر قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ان کے کفریات پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان جانے یا ان کے کفر میں شک یا توقف کرے,وہ بھی کافر ہے۔یہ فتاوی حق ہیں یا نہیں؟ تمام مسلمانوں کو اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا لازم ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر ہے اور توہین سرکار رسالت کفر ہے,بلکہ سب سے بڑا کفر ہے۔
کیا سب سے بڑے کفر کا مرتکب بھی کافر نہیں ہو گا؟
زید سے سوال ہو کہ تم نے دودھ پی لیاہے۔جواب میں وہ کہے: "ہاں"
اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔اردو,عربی,فارسی کسی زبان میں ایسی گفتگو ہو تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔
عربی زبان میں زید سے سوال ہو۔( ا شربت اللبن؟) جواب میں زید کہے:(نعم) تو یہی سمجھا جائے گا کہ زید نے دودھ پی لیا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زید خاموش کھڑا تھا,پھر اچانک وو صرف"ہاں" بولے اور خاموش ہو جائے,پس اس "ہاں" کا کچھ معنی کسی کو سمجھ میں نہیں آئے گا,حالاں کہ دونوں صورت میں زید نے صرف "ہاں"کہا ہے۔
اسی طرح جب منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول سے متعلق سوال ہونے پر کوئی کہے کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے اور توہین رسالت کفر ہے تو اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اس نے منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول کا حکم بیان کیا ہے۔
ہاں,اگر مجیب سے متعلق کوئی شبہہ ہو تو ضرور اس سے صراحت طلب کی جائے گی کہ مرتکبین کا صریح حکم بیان کیا جائے,لیکن اشخاص اربعہ کی تکفیر کے مسئلہ میں علمائے بدایوں سے متعلق کوئی شبہہ نہیں تھا۔وہ حضرات اس حکم شرعی کو مانتے تھے اور آج بھی مانتے ہیں۔صرف اذان ثانی کے مسئلہ میں اختلاف تھا۔
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ششم)
بجنوری محررین کا دعوی ہے کہ اکابر بدایوں فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کو کافر کلامی نہیں مانتے تھے اور متاخرین بدایوں کو مجبورا عناصر اربعہ کو کافر ماننا پڑا۔در حقیقت یہ بجنوریوں کا مغالطہ اور فریب بازی ہے۔
مسئلہ تکفیر باب اعتقادیات سے ہے اور مسئلہ اذان ثانی کا تعلق فقہیات سے ہے۔اذان ثانی کے مسئلہ میں علمائے بدایوں کا اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے اختلاف تھا۔اہل بدایوں آج تک مسئلہ اذان ثانی میں اپنے موقف پر ہیں۔جب فقہی وظنی مسئلہ میں وہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے قول کی طرف نہ آ سکے تو اعتقادی مسئلہ میں مجبورا کیسے امام اہل سںت قدس سرہ العزیز کے قول کو قبول کر سکتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کو ان حضرات نے حق پایا,پس اسے قبول فرمایا۔کسی نے تلوار لے کر لوگوں کو مجبور نہیں کیا تھا کہ لوگ بصورت مجبوری اشخاص اربعہ کو کافر ماننے لگے ہیں,بلکہ ان خبثائے اربعہ کا کفر کلامی مہر نیم روز کی طرح واضح وروشن ہے۔علمائے اہل سنت وجماعت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کے فتوی سے قبل بھی اکابر دیوبند کے کفر کا قول کرتے رہے ہیں۔
متقدمین بدایوں میں سے حضرت تاج الفحول قدس سرہ العزیز کی وفات جمادی الاولی 1319 مطابق ستمبر 1901 میں ہوئی اور ان کی وفات کے پانچ سال بعد حسام الحرمین یعنی افراد خمسہ(عناصر اربعہ وقادیانی)کی تکفیر کلامی پر علمائے حرمین طبین کی تصدیقات کا مجموعہ 1324مطابق 1906 میں ملک ہند آیا۔علامہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ العزیز کی وفات امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات ہی میں 1334ہجری میں ہوئی اور حسام الحرمین پر علمائے ہند کی تصدیقات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340)کی وفات کے چار سال بعد 1345/1344میں حاصل کی گئیں۔اس وقت حضرت علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان باحیات تھے۔انہوں نے حسام الحرمین کی تصدیق فرمائی ہے۔
تصدیق کے الفاظ پر اعتراض
علامہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ کی تصدیق کے الفاظ درج ذیل ہیں۔
"ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر,توہین سرکار رسالت کفر,بلکہ اعظم الکفریات والعیاذ باللہ"۔
حررہ الفقیر محمد عبد القدیر قادری بدایونی(الصوارم الہندیہ:ص41)
تصدیق کے الفاظ پر سب سے پہلے خلیل بجنوری نے اپنے رسالہ:انکشاف حقیقت میں اعتراض کیا کہ یہ حسام الحرمین کی تصدیق نہیں ہوئی,کیوں کہ اس میں اشخاص اربعہ کو کافر نہیں کہا گیا ہے۔
دراصل پس منظر سے بے توجہی کے سبب ایسا وہم پیدا ہوتا ہے۔برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت سے جب حسام الحرمین کی تصدیق لی جا رہی تھی۔اس وقت ایک مستقل سوالنامہ تیار کیا گیا تھا۔وہ سوال نامہ الصوارم الہندیہ کے شروع میں منقول ہے۔اس میں افراد خمسہ کے کفریہ عقائد نقل کئے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نانوتوی وقادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور گنگوہی وانبیٹھوی وتھانوی توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ان لوگوں کو علمائے حرمین طیبین نے کافر قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ان کے کفریات پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان جانے یا ان کے کفر میں شک یا توقف کرے,وہ بھی کافر ہے۔یہ فتاوی حق ہیں یا نہیں؟ تمام مسلمانوں کو اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا لازم ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ختم نبوت کے بعد دعوائے نبوت کفر ہے اور توہین سرکار رسالت کفر ہے,بلکہ سب سے بڑا کفر ہے۔
کیا سب سے بڑے کفر کا مرتکب بھی کافر نہیں ہو گا؟
زید سے سوال ہو کہ تم نے دودھ پی لیاہے۔جواب میں وہ کہے: "ہاں"
اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔اردو,عربی,فارسی کسی زبان میں ایسی گفتگو ہو تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے دودھ پی لیا ہے۔
عربی زبان میں زید سے سوال ہو۔( ا شربت اللبن؟) جواب میں زید کہے:(نعم) تو یہی سمجھا جائے گا کہ زید نے دودھ پی لیا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زید خاموش کھڑا تھا,پھر اچانک وو صرف"ہاں" بولے اور خاموش ہو جائے,پس اس "ہاں" کا کچھ معنی کسی کو سمجھ میں نہیں آئے گا,حالاں کہ دونوں صورت میں زید نے صرف "ہاں"کہا ہے۔
اسی طرح جب منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول سے متعلق سوال ہونے پر کوئی کہے کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے اور توہین رسالت کفر ہے تو اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اس نے منکر ختم نبوت اور مرتکب توہین رسول کا حکم بیان کیا ہے۔
ہاں,اگر مجیب سے متعلق کوئی شبہہ ہو تو ضرور اس سے صراحت طلب کی جائے گی کہ مرتکبین کا صریح حکم بیان کیا جائے,لیکن اشخاص اربعہ کی تکفیر کے مسئلہ میں علمائے بدایوں سے متعلق کوئی شبہہ نہیں تھا۔وہ حضرات اس حکم شرعی کو مانتے تھے اور آج بھی مانتے ہیں۔صرف اذان ثانی کے مسئلہ میں اختلاف تھا۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
فرقہ بجنوریہ یہ سوال بھی بار بار دہرا رہا ہے کہ کبھی قول کفری ہوتا ہے,لیکن قائل کافر نہیں ہوتا ہے۔اسی طرح ان مقامات پر بھی ہو سکتا ہے کہ قول کفری ہو,لیکن قائل کافر نہ ہو۔ہم نے ایک مختصر مضمون میں اس کی وضاحت کر دی تھی۔ان شاء اللہ تعالی مضمون ہفتم میں بھی تشریح کر دی جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2022
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہشتم)
بجنوری تحریر میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ علمائے اہل سنت نے رقم فرمایا ہے کہ اگر قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل پیش نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
اس سے متعلق الموت الاحمر,مقالات شارح بخاری اور اہل قبلہ کی تکفیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اختصار کے ساتھ ہم متعدد مضامین میں اس پر بحث کریں گے۔
مفسر کو صریح متعین اور قطعی الدلالت بالمعنی الاخص بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوتا ہے اور کبھی فی نفسہ مفسر ومتعین نہیں ہوتا,لیکن قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ومتعین ہو جاتا ہے,جیسے زید نے بکر سے کہا کہ میرے گھر میں ایک حیوان ہے۔اسے روٹی دے دو۔بکر اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں خالد تھا۔بکر واپس آیا اور کہا کہ تمہارے گھر میں کوئی حیوان نہیں,بلکہ خالد ہے۔زید نے جواب دیا کہ اسی کو روٹی دے دو,وہ حیوان ناطق ہے۔اب زید کی اس تفسیر سے یہ واضح ہو گیا کہ حیوان سے اس کی مراد بکر ہی ہے۔
اگر کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر نہ ہو تو قائل کے سکوت یا صحیح تاویل نہ بتانے کے سبب وہ کلام کفری معنی میں مفسر نہیں ہوتا ہے,بلکہ قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ہوتا ہے۔سکوت وعدم تاویل صحیح اور بیان قطعی یہ تین امر ہیں اور تینوں کے معانی جداگانہ ہیں,جیسا کہ ظاہر ہے۔
مفسر کلام میں صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اگر صحیح تاویل کی گنجائش ہو تو وہ کلام اپنے معنی میں مفسر نہیں ہو گا۔مفسر کلام میں جانب مخالف کا احتمال قریب یا احتمال بعید نہیں ہوتا ہے۔
الموت الاحمر کے سائل نے سوال کیا تھا کہ کسی کلام کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کی کیا صورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان ن فرمایا کہ اشخاص اربعہ کے کلمات کے کفری معنی میں مفسر ومتعین ہونے کی علامت ونشانی یہ ہے کہ سولہ سال سے قسم قسم کی تاویلیں کی جا رہی ہیں,لیکن تمام تاویلات اصول وقوانین کی روشنی میں تاویلات باطلہ کی منزل میں ہیں,کیوں کہ کفری معنی میں مفسر ومتعین کلام میں کسی صحیح تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
الموت الاحمر میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
الموت الاحمر کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
"آپ پوچھتے ہیں کہ متعین ہونے کی صورت کیا ہے؟
جی یہی جو براہین قاطعہ گنگوہی وتحذیر الناس وخفض الایمان میں آپ کے پیش نظر ہے کہ 16/برس سے زیادہ گزرے,دانتوں پسینے آ رہے ہیں۔ایڑی چوٹی کے زور لگائے جا رہے ہیں اور کفر نہ ہلتا ہے,نہ ٹلتا,نہ اپنی عبارتوں میں کوئی اسلام کا پہلو نکلتا"-(الموت الاحمر ص62-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
منقولہ بالا عبارت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ مفسر ومتعین کلام میں تاویل صحیح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی,اسی لئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود کوئی صحیح تاویل منظر عام پر نہ آ سکی۔
مذکورہ عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائلین کی صحیح تاویل پیش نہ کرنے کے سبب وہ اقوال کفریہ معانی میں مفسر ومتعین ہو گئے ہیں۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور فتوی وقوع کذب پر علمائے اہل سنت مباحثہ ومناظرہ کر چکے تھے۔لیکن تھانوی کی حفظ الایمان 08: محرم الحرام 1319 مطابق 28:اپریل 1901 کو لکھی گئی۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے تھانوی سے کوئی تاویل دریافت نہ کی,بلکہ اشخاص ثلاثہ کے کلمات کی طرح تھانوی کا کلام بھی کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا۔لہذا اگلے سال 1320مطابق 1902 میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کی تکفیر کلامی کی۔1321 مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے المعتمد المستند کی اشاعت ہوئی۔1323مطابق 1905 میں جب حج وزیارت کے واسطے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز حرمین طیبین حاضر ہوئے تو علمائے حرمین طیبین نے اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر پر تصدیقات رقم فرمائیں۔
1324 مطابق 1905 میں واپسی ہوئی۔ایک مدت کے بعد تھانوی سے خط وکتابت کا معاملہ درپیش ہوا۔تکفیر پہلے ہی ہو چکی تھی,کیوں کہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا اور تواتر کے ساتھ تھانوی کی عبارت موصول ہو چکی تھیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تھانوی کو آخری تحریر"ابحاث اخیرہ"20:ذی قعدہ 1328 ہجری کو بھیجی۔جب کہ تھانوی ودیگر مرتدین کی تکفیر آٹھ سال قبل 1320 ہجری میں المعتمد المستند میں ہو چکی تھی۔
ان شاء اللہ تعالی مضمون نہم میں بھی مفسر اور تاویل سے متعلق بحث ہو گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون ہشتم)
بجنوری تحریر میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ علمائے اہل سنت نے رقم فرمایا ہے کہ اگر قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل پیش نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
اس سے متعلق الموت الاحمر,مقالات شارح بخاری اور اہل قبلہ کی تکفیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اختصار کے ساتھ ہم متعدد مضامین میں اس پر بحث کریں گے۔
مفسر کو صریح متعین اور قطعی الدلالت بالمعنی الاخص بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوتا ہے اور کبھی فی نفسہ مفسر ومتعین نہیں ہوتا,لیکن قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ومتعین ہو جاتا ہے,جیسے زید نے بکر سے کہا کہ میرے گھر میں ایک حیوان ہے۔اسے روٹی دے دو۔بکر اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں خالد تھا۔بکر واپس آیا اور کہا کہ تمہارے گھر میں کوئی حیوان نہیں,بلکہ خالد ہے۔زید نے جواب دیا کہ اسی کو روٹی دے دو,وہ حیوان ناطق ہے۔اب زید کی اس تفسیر سے یہ واضح ہو گیا کہ حیوان سے اس کی مراد بکر ہی ہے۔
اگر کلام فی نفسہ کفری معنی میں مفسر نہ ہو تو قائل کے سکوت یا صحیح تاویل نہ بتانے کے سبب وہ کلام کفری معنی میں مفسر نہیں ہوتا ہے,بلکہ قائل کے بیان قطعی کے سبب مفسر ہوتا ہے۔سکوت وعدم تاویل صحیح اور بیان قطعی یہ تین امر ہیں اور تینوں کے معانی جداگانہ ہیں,جیسا کہ ظاہر ہے۔
مفسر کلام میں صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اگر صحیح تاویل کی گنجائش ہو تو وہ کلام اپنے معنی میں مفسر نہیں ہو گا۔مفسر کلام میں جانب مخالف کا احتمال قریب یا احتمال بعید نہیں ہوتا ہے۔
الموت الاحمر کے سائل نے سوال کیا تھا کہ کسی کلام کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کی کیا صورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان ن فرمایا کہ اشخاص اربعہ کے کلمات کے کفری معنی میں مفسر ومتعین ہونے کی علامت ونشانی یہ ہے کہ سولہ سال سے قسم قسم کی تاویلیں کی جا رہی ہیں,لیکن تمام تاویلات اصول وقوانین کی روشنی میں تاویلات باطلہ کی منزل میں ہیں,کیوں کہ کفری معنی میں مفسر ومتعین کلام میں کسی صحیح تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
الموت الاحمر میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قائل اپنے کلام کی صحیح تاویل نہ کر سکے تو وہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین ہو جاتا ہے۔
الموت الاحمر کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
"آپ پوچھتے ہیں کہ متعین ہونے کی صورت کیا ہے؟
جی یہی جو براہین قاطعہ گنگوہی وتحذیر الناس وخفض الایمان میں آپ کے پیش نظر ہے کہ 16/برس سے زیادہ گزرے,دانتوں پسینے آ رہے ہیں۔ایڑی چوٹی کے زور لگائے جا رہے ہیں اور کفر نہ ہلتا ہے,نہ ٹلتا,نہ اپنی عبارتوں میں کوئی اسلام کا پہلو نکلتا"-(الموت الاحمر ص62-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
منقولہ بالا عبارت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ مفسر ومتعین کلام میں تاویل صحیح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی,اسی لئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود کوئی صحیح تاویل منظر عام پر نہ آ سکی۔
مذکورہ عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائلین کی صحیح تاویل پیش نہ کرنے کے سبب وہ اقوال کفریہ معانی میں مفسر ومتعین ہو گئے ہیں۔
تحذیر الناس,براہین قاطعہ اور فتوی وقوع کذب پر علمائے اہل سنت مباحثہ ومناظرہ کر چکے تھے۔لیکن تھانوی کی حفظ الایمان 08: محرم الحرام 1319 مطابق 28:اپریل 1901 کو لکھی گئی۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے تھانوی سے کوئی تاویل دریافت نہ کی,بلکہ اشخاص ثلاثہ کے کلمات کی طرح تھانوی کا کلام بھی کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا۔لہذا اگلے سال 1320مطابق 1902 میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کی تکفیر کلامی کی۔1321 مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے المعتمد المستند کی اشاعت ہوئی۔1323مطابق 1905 میں جب حج وزیارت کے واسطے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز حرمین طیبین حاضر ہوئے تو علمائے حرمین طیبین نے اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر پر تصدیقات رقم فرمائیں۔
1324 مطابق 1905 میں واپسی ہوئی۔ایک مدت کے بعد تھانوی سے خط وکتابت کا معاملہ درپیش ہوا۔تکفیر پہلے ہی ہو چکی تھی,کیوں کہ کلام کفری معنی میں مفسر ومتعین تھا اور تواتر کے ساتھ تھانوی کی عبارت موصول ہو چکی تھیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تھانوی کو آخری تحریر"ابحاث اخیرہ"20:ذی قعدہ 1328 ہجری کو بھیجی۔جب کہ تھانوی ودیگر مرتدین کی تکفیر آٹھ سال قبل 1320 ہجری میں المعتمد المستند میں ہو چکی تھی۔
ان شاء اللہ تعالی مضمون نہم میں بھی مفسر اور تاویل سے متعلق بحث ہو گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2022