🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-05-1444 ᴴ | 13-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ (مضمون اول)
ایک بجنوری محرر نے دعوی کیا ہے کہ الموت الاحمر میں مرقوم ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی تھی۔
اسی طرح اس نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بھی لزومی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علامہ خیر آبادی نے تکفیر کلامی کی تھی۔
یہ دونوں دعوے جھوٹے ہیں۔الموت الاحمر میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی وضاحت کی گئی ہے,نیز امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بجنوری دعوی ثابت ہونا محال ہے۔کیوں کہ جب کسی کی صحیح تکفیر کلامی ہو جائے تو دوسروں کو اس کی تصدیق لازم ہے,ورنہ دوسرے بھی اسی زمرہ میں شامل ہوں گے۔اسی مفہوم کو(من شک فی کفرہ فقد کفر)کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔
حضرت شارح بخاری قدس سرہ العزیز نے مقالات شارح بخاری میں مخالفین کو الزامی جواب دیتے ہوئے فرضی طور پر اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی بات لکھی ہے,اور انہوں نے صریح لفظوں میں اپنا مسلک بیان فرمایا کہ علامہ خیر آبادی نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تھی۔
فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی صاحب قبلہ نے بھی رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں جو کچھ لکھا ہے,ظن غالب ہے کہ وہ مناظراتی مباحث ہیں۔جو الزام خصم کے واسطے مرقوم ہوئے۔
اگر ان مباحث کو تحقیقی مباحث قرار دیئے جائیں,تب اعتراضات ہوں گے۔
کیا فرقہ بجنوریہ نے حضرت فقیہ النفس صاحب سے دریافت کر لیا ہے کہ مذکورہ رسالہ کےمشمولات ومندرجات تحقیقی ہیں۔بجنوریوں کے پاس کوئی مستحکم ثبوت ہو تو پیش کریں۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ خلفائے اعلی حضرت نے کہاں لکھا ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔تکفیر کلامی کی بات صرف رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں مرقوم ہے۔بعد میں بعض لوگ اسی رسالہ کو دیکھ کر ایسا کہنے لگے۔
خلیل بجنوری نے یہ دعوی کیا تھا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔
ناگپور سے خلیل بجنوری کے رسالے کا محققانہ رد چھپا,اس میں یہی بتایا گیا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔ہمارے متعدد رسائل میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تشریح وتفصیل ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:25:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ (مضمون اول)
ایک بجنوری محرر نے دعوی کیا ہے کہ الموت الاحمر میں مرقوم ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی تھی۔
اسی طرح اس نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بھی لزومی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علامہ خیر آبادی نے تکفیر کلامی کی تھی۔
یہ دونوں دعوے جھوٹے ہیں۔الموت الاحمر میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی وضاحت کی گئی ہے,نیز امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے کلام سے بجنوری دعوی ثابت ہونا محال ہے۔کیوں کہ جب کسی کی صحیح تکفیر کلامی ہو جائے تو دوسروں کو اس کی تصدیق لازم ہے,ورنہ دوسرے بھی اسی زمرہ میں شامل ہوں گے۔اسی مفہوم کو(من شک فی کفرہ فقد کفر)کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔
حضرت شارح بخاری قدس سرہ العزیز نے مقالات شارح بخاری میں مخالفین کو الزامی جواب دیتے ہوئے فرضی طور پر اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی بات لکھی ہے,اور انہوں نے صریح لفظوں میں اپنا مسلک بیان فرمایا کہ علامہ خیر آبادی نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تھی۔
فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی صاحب قبلہ نے بھی رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں جو کچھ لکھا ہے,ظن غالب ہے کہ وہ مناظراتی مباحث ہیں۔جو الزام خصم کے واسطے مرقوم ہوئے۔
اگر ان مباحث کو تحقیقی مباحث قرار دیئے جائیں,تب اعتراضات ہوں گے۔
کیا فرقہ بجنوریہ نے حضرت فقیہ النفس صاحب سے دریافت کر لیا ہے کہ مذکورہ رسالہ کےمشمولات ومندرجات تحقیقی ہیں۔بجنوریوں کے پاس کوئی مستحکم ثبوت ہو تو پیش کریں۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ خلفائے اعلی حضرت نے کہاں لکھا ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔تکفیر کلامی کی بات صرف رسالہ اہل قبلہ کی تکفیر میں مرقوم ہے۔بعد میں بعض لوگ اسی رسالہ کو دیکھ کر ایسا کہنے لگے۔
خلیل بجنوری نے یہ دعوی کیا تھا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔
ناگپور سے خلیل بجنوری کے رسالے کا محققانہ رد چھپا,اس میں یہی بتایا گیا کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی۔ہمارے متعدد رسائل میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تشریح وتفصیل ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:25:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون دوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے حسام الحرمین کے استفتا میں اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر کے واسطے فقہی کتابوں کے اقتباسات نقل فرمائے ہیں,لہذا یہ تکفیر فقہی ہو گی,تکفیر کلامی نہیں ہو گی۔
اس وضاحت معجون ضلالت پر سوال ہے کہ اگر فقہی کتابوں میں مرقوم ہو کہ بت پرست کافر ہے۔آتش پرست کافر ہے تو کیا اس کا معنی یہ ہو گا کہ بت پرست وآتش پرست کافر فقہی ہے اور کافر کلامی نہیں ہے؟
ع/ بریں عقل ودانش بباید گریست
سچی حقیقت یہ ہے کہ فقہی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے اور کلامی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے۔
امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات مبارکہ میں حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے الموت الاحمر تصنیف فرمائی۔اس میں صریح لفظوں میں مرقوم ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی ہوئی ہے-(الموت الاحمر ص51-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے الطاری الداری وغیرہ میں الموت الاحمر کا ذکر فرمایا ہے۔
کفر کلامی اور کفر فقہی میں فرق یہ ہے کہ کفر کلامی میں تاویل بعید کی گنجائش نہیں ہوتی اور کلام کفری معنی میں مفسر اور صریح متعین ہوتا ہے۔
کفر کلامی کے سبب سارے اعمال تباہ ہو جاتے ہیں۔
فتوی تکفیر میں عموما یہ صراحت نہیں ہوتی ہے کہ یہاں کون سے کفر کا فتوی دیا گیا ہے۔کفر کلامی کا یا کفر فقہی کا۔
اگر ضروری دینی کا مفسر انکار ہے تو فتوی تکفیر کو تکفیر کلامی پر محمول کیا جائے گا۔اگر ضروری دینی کا مفسر وصریح متعین انکار نہیں تو اس فتوی کو تکفیر فقہی پر محمول کیا جائے گا۔
"من شک" کا استعمال تکفیر کلامی وتکفیر فقہی دونوں میں ہوتا ہے۔دونوں میں توبہ,تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم دیا جاتا ہے۔
اگر فتوی میں یہ مرقوم ہو کہ ملزم کے سارے اعمال تباہ ہو گئے تو یہ تکفیر کلامی ہے,کیوں کہ کفر فقہی کے سبب اعمال سابقہ تباہ نہیں ہوتے۔
نوٹ:انتہائی فرحت وشادمانی کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ احباب اہل سنت وجماعت بجنوری خرافات کو تہس نہس کرنے کے واسطے میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔بعض تحریریں نظر نواز ہوئیں۔سلسلہ جاری رکھا جائے اور ان شاء اللہ تعالی حسب فرصت میں بھی مختصر تحاریر پیش کرتا رہوں گا۔بعض احباب علم کلام میں محنت کریں۔بوقت ضرورت وہ واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون دوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے حسام الحرمین کے استفتا میں اشخاص اربعہ وقادیانی کی تکفیر کے واسطے فقہی کتابوں کے اقتباسات نقل فرمائے ہیں,لہذا یہ تکفیر فقہی ہو گی,تکفیر کلامی نہیں ہو گی۔
اس وضاحت معجون ضلالت پر سوال ہے کہ اگر فقہی کتابوں میں مرقوم ہو کہ بت پرست کافر ہے۔آتش پرست کافر ہے تو کیا اس کا معنی یہ ہو گا کہ بت پرست وآتش پرست کافر فقہی ہے اور کافر کلامی نہیں ہے؟
ع/ بریں عقل ودانش بباید گریست
سچی حقیقت یہ ہے کہ فقہی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے اور کلامی کتابوں میں بھی کفر کلامی وکفر فقہی کا ذکر ہوتا ہے۔
امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات مبارکہ میں حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے الموت الاحمر تصنیف فرمائی۔اس میں صریح لفظوں میں مرقوم ہے کہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی ہوئی ہے-(الموت الاحمر ص51-جامعۃ الرضا بریلی شریف)
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے الطاری الداری وغیرہ میں الموت الاحمر کا ذکر فرمایا ہے۔
کفر کلامی اور کفر فقہی میں فرق یہ ہے کہ کفر کلامی میں تاویل بعید کی گنجائش نہیں ہوتی اور کلام کفری معنی میں مفسر اور صریح متعین ہوتا ہے۔
کفر کلامی کے سبب سارے اعمال تباہ ہو جاتے ہیں۔
فتوی تکفیر میں عموما یہ صراحت نہیں ہوتی ہے کہ یہاں کون سے کفر کا فتوی دیا گیا ہے۔کفر کلامی کا یا کفر فقہی کا۔
اگر ضروری دینی کا مفسر انکار ہے تو فتوی تکفیر کو تکفیر کلامی پر محمول کیا جائے گا۔اگر ضروری دینی کا مفسر وصریح متعین انکار نہیں تو اس فتوی کو تکفیر فقہی پر محمول کیا جائے گا۔
"من شک" کا استعمال تکفیر کلامی وتکفیر فقہی دونوں میں ہوتا ہے۔دونوں میں توبہ,تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم دیا جاتا ہے۔
اگر فتوی میں یہ مرقوم ہو کہ ملزم کے سارے اعمال تباہ ہو گئے تو یہ تکفیر کلامی ہے,کیوں کہ کفر فقہی کے سبب اعمال سابقہ تباہ نہیں ہوتے۔
نوٹ:انتہائی فرحت وشادمانی کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ احباب اہل سنت وجماعت بجنوری خرافات کو تہس نہس کرنے کے واسطے میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔بعض تحریریں نظر نواز ہوئیں۔سلسلہ جاری رکھا جائے اور ان شاء اللہ تعالی حسب فرصت میں بھی مختصر تحاریر پیش کرتا رہوں گا۔بعض احباب علم کلام میں محنت کریں۔بوقت ضرورت وہ واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون سوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے المعتمد المستند اور حسام الحرمین میں افراد خمسہ(اشخاص اربعہ اور قادیانی)کے لئے خود من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال نہیں فرمایا,بلکہ دوسروں سے نقل فرمایا ہے۔پس یہ دیگر اصحاب علم وفضل کے موقف کی نقل ہے۔یہ ان کا مسلک وموقف نہیں۔
دراصل قوانین تکفیر سے بے توجہی کے سبب ایسے شبہات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہیں۔اس کا ذکر انہوں نے المعتمد المستند میں فرمایا ہے۔متکلمین جس کی تکفیر کریں گے,وہ کافر کلامی ہو گا اور جو کافر کلامی نہیں ہو گا,اس کی تکفیر نہیں کریں گے,جیسے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہیں کی,کیوں کہ وہ کافر کلامی نہیں تھا اور وہ فقہا کے یہاں کافر تھا تو آپ نے دہلوی کو کافر فقہی تسلیم کیا۔
الحاصل متکلمین جس کو کافر کہیں,وہ کافر کلامی ہوتا ہے اور ہر کافر کلامی کا حکم یہی ہے کہ اس کے کفر میں شک کرنے والا کافر ہوتا ہے۔خواہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال کیا جائے,یا نہ کیا جائے۔
اسی طرح جو کفر فقہی جملہ مذاہب فقہیہ(مذاہب اربعہ)کے یہاں قطعی واجماعی ہو,اس میں بھی من شک فی کفرہ فقد کفر کا استعمال ہو گا اوراگر من شک کا اصول کا استعمال نہ بھی کیا جائے تو بھی اس کا حکم وہی ہو گا کہ اس کے کفر فقہی کا منکر اسی طرح کافر فقہی ہے۔متکلمین کفر فقہی کا انکار نہیں کرتے,بلکہ کفر فقہی کو ضلالت وگمرہی کہتے ہیں,پس یہ لفظی وتعبیری اختلاف ہے,معنوی اختلاف نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون سوم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے المعتمد المستند اور حسام الحرمین میں افراد خمسہ(اشخاص اربعہ اور قادیانی)کے لئے خود من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال نہیں فرمایا,بلکہ دوسروں سے نقل فرمایا ہے۔پس یہ دیگر اصحاب علم وفضل کے موقف کی نقل ہے۔یہ ان کا مسلک وموقف نہیں۔
دراصل قوانین تکفیر سے بے توجہی کے سبب ایسے شبہات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہیں۔اس کا ذکر انہوں نے المعتمد المستند میں فرمایا ہے۔متکلمین جس کی تکفیر کریں گے,وہ کافر کلامی ہو گا اور جو کافر کلامی نہیں ہو گا,اس کی تکفیر نہیں کریں گے,جیسے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہیں کی,کیوں کہ وہ کافر کلامی نہیں تھا اور وہ فقہا کے یہاں کافر تھا تو آپ نے دہلوی کو کافر فقہی تسلیم کیا۔
الحاصل متکلمین جس کو کافر کہیں,وہ کافر کلامی ہوتا ہے اور ہر کافر کلامی کا حکم یہی ہے کہ اس کے کفر میں شک کرنے والا کافر ہوتا ہے۔خواہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا اصول استعمال کیا جائے,یا نہ کیا جائے۔
اسی طرح جو کفر فقہی جملہ مذاہب فقہیہ(مذاہب اربعہ)کے یہاں قطعی واجماعی ہو,اس میں بھی من شک فی کفرہ فقد کفر کا استعمال ہو گا اوراگر من شک کا اصول کا استعمال نہ بھی کیا جائے تو بھی اس کا حکم وہی ہو گا کہ اس کے کفر فقہی کا منکر اسی طرح کافر فقہی ہے۔متکلمین کفر فقہی کا انکار نہیں کرتے,بلکہ کفر فقہی کو ضلالت وگمرہی کہتے ہیں,پس یہ لفظی وتعبیری اختلاف ہے,معنوی اختلاف نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون چہارم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر خود علمائے دہلی نے کی اور وہ علمائے کرام خاندان دہلوی کے فیض یافتہ اور بعض علما اس کے خاندان کے تھے,لیکن امام احمد رضا قادری نے بریلی میں بیٹھ کر دیوبند والوں کی تکفیر کی۔
فرقہ بجنوریہ سے سوال ہے کہ تکفیر کے شرائط میں یہ کہاں مرقوم ہے کہ اسی شہر کے علمائے کرام فتوی کفر نافذ کر سکتے ہیں جس شہر میں مرتکب کفر رہتا ہو۔
بالفرض اگر یہ شرط تکفیر ہے تو دیوبند والوں نے قادیانی کی تکفیر کی ہے۔بریلی اور دیوبند دونوں ہی ریاست اتر پردیش میں ہیں,لیکن قادیان ریاست پنجاب میں ہے اور دیوبند یوپی میں ہے۔بجنوری محررین پہلے دیوبند والوں سے دریافت کریں کہ دیوبند میں بیٹھ کر قادیان والے پر کیسے فتوی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قادیانی پر جو فتوی دور دراز والوں نے عائد کیا,اس کو فرقہ بجنوریہ تسلیم کرتا ہے اور دیوبندیوں پر جو فتوی عائد ہوا,اس سے انکار کے واسطے تکفیر کے جدید شرائط گڑھتا ہے۔یہ دوہری پالیسی کیوں؟
ع/ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022
رد فرقہ بجنوریہ(مضمون چہارم)
بجنوری تحریر میں مرقوم ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر خود علمائے دہلی نے کی اور وہ علمائے کرام خاندان دہلوی کے فیض یافتہ اور بعض علما اس کے خاندان کے تھے,لیکن امام احمد رضا قادری نے بریلی میں بیٹھ کر دیوبند والوں کی تکفیر کی۔
فرقہ بجنوریہ سے سوال ہے کہ تکفیر کے شرائط میں یہ کہاں مرقوم ہے کہ اسی شہر کے علمائے کرام فتوی کفر نافذ کر سکتے ہیں جس شہر میں مرتکب کفر رہتا ہو۔
بالفرض اگر یہ شرط تکفیر ہے تو دیوبند والوں نے قادیانی کی تکفیر کی ہے۔بریلی اور دیوبند دونوں ہی ریاست اتر پردیش میں ہیں,لیکن قادیان ریاست پنجاب میں ہے اور دیوبند یوپی میں ہے۔بجنوری محررین پہلے دیوبند والوں سے دریافت کریں کہ دیوبند میں بیٹھ کر قادیان والے پر کیسے فتوی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قادیانی پر جو فتوی دور دراز والوں نے عائد کیا,اس کو فرقہ بجنوریہ تسلیم کرتا ہے اور دیوبندیوں پر جو فتوی عائد ہوا,اس سے انکار کے واسطے تکفیر کے جدید شرائط گڑھتا ہے۔یہ دوہری پالیسی کیوں؟
ع/ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:نومبر 2022