کے ساتھ ایک جماعت جمعیۃ العلماء کے نام سے شامل ہوئی جس میں تقریباً سب کے سب یا… زیادہ وہابی اور غیرمقلد ہیں، نادر ہی کوئی دوسرا شخص ہو تو ہو۔ اس جماعت نے خلافت کی تائید کو تو عنوان بنایا ، عوام کے سامنے نمائش کیلئے تو یہ مقصد پیش کیا مگر کام اہل سنت کے رد، اور ان کی بیخ کنی کا انجام دیا۔ اپنے مذہب کی ترویج اسی پردہ میں خوب کی۔ میرے پاس جناب مولوی احمد مختار صاحب صدر جمعیۃ العلماء صوبہ بمبئی کا ایک خط آیا ہے جو انہوں نے مدارس کا دورہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ وہابی اس صوبہ میں اس قومی روپیہ سے جو ترکوں کے دردناک حالات بیان کر کے وصول کیا گیا تھا۔ اب تک دو لاکھ ’’تقویۃ الایمان‘‘ چھپا کر مفت تقسیم کر چکے ہیں۔ اب بتائیے کہ ان جماعتوں کا ملانا ’’زردا دن دردِ سرخریدن‘‘ ہوا یا نہیں۔ اپنے ہی روپے سے اپنے ہی مذہب کا نقصان ہوا‘‘۔ (خطبۂ حجۃ الاسلام/ص :۳۱،۳۲)
تعلیم نسواں:
پر آپ نے اپنے خطبہ صدارت میں کافی زور دیا ہے بلکہ لڑکیوں کی تعلیم اور اس کی فلاح و ترقی کیلئے بھی آپ بے حد کوشاں رہے۔ اور صنفِ نازک کی بقا و استحکام نیز اس کے تعلیم کے فوائد پر آپ بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے کتنے ملک گیر دورے اسی مقصد کے تحت ہوئے آپ کے ٹھوس تاثرات و تجاویزات جو کانفرنسوں میں پاس ہوتے جن کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے آپ کے دل میں قوم مسلم کی بقا و ترقی کا کتنا درد و دیعت فرمایا تھا۔ ذیل میں کانفرنس مراد آباد کی تجاویز اس کی روشن دلیل ہے، فرماتے ہیں:
’’ لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام بھی نہایت ضروری ہے اور اس میں دینیات کے علاوہ سوزن کاری اور معمولی… خانہ داری کی تعلیم تابحد امکان لازمی ہے۔ پردے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ّ(خطبۂ حجۃ الاسلام/ص :۱۸)
المختصر یہ کہ خطبۂ صدارت مراد آباد آپ کی ذہانت اور قائدانہ صلاحیت کی بھرپور و روشن دلیل ہے۔ جس کا مطالعہ ہر ذی علم اور قومی و علمی کام کرنے والوں کیلئے از حد ضروری ہے جس میں سمندر کو کوزے میں بھر دیا ہے۔
ذوق شاعری:
آپ عربی، فارسی، اردو نظم و نثر میں منفرد اسلوب بیان رکھتے تھے۔ حمد و نعت و دیگر اصنافِ شاعری کے بیشتر اشعار آپ کے دیوان میں محفوظ ہیں۔ ذیل میں چند کلام پیش کیئے جاتے ہیں جس سے آپ کا ادبی ذوق و قابلیت و عشق رسول ﷺکا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔
دل میرا گدگداتی رہی آرزو
آنکھ پھر پھر کے کرتی رہی جستجو
عرش تا فرش ڈھونڈ آیا میں تجھ کو تو
نکلا اَقْرَبْ زِحَبْلِ وَ رِیْدِ گَلُو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
رہ کے پردوں میں تو جلوہ آرا ہوا
بس کے آنکھوں میں آنکھوں سے پردہ کیا
آنکھ کا پردہ، پردہ ہوا آنکھ کا
بند آنکھیں ہوئیں تو، نظر آیا تو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
کعبۂ کعبہ ہے کعبۂ دل میرا
کعبہ پتھر کا دل جلوہ گاہ خدا
ایک دل پر ہزاروں ہی کعبے فدا
کعبۂ جان و دل کعبے کی آبرو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
طور سینا پہ تو جلوہ آرا ہوا
صاف موسیٰ سے فرما دیا لَنْ تَرَا
اور اِنِّیٓ اَنَا اﷲ شجر بول اٹھا
تیرے جلوؤں کی نیرنگیاں سو بسو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
کون تھا جس نے سُبْحَانِیْ فرما دیا
اور مَا اَعْظَمَ شَانِیْ کس نے کہا
با یزید اور بسطام میں کون تھا
کب اَنَا الْحَقْ تھی منصور کی گفتگو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
یا الٰہی دکھا ہم کو وہ دن بھی تو
آبِ زم زم سے کر کے حرم میں وضو
با ادب شوق سے بیٹھ کر قبلہ رو
مل کے ہم سب کہیں یک زباں ہو بہو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
میں نے مانا کہ حامد گنہگار ہے
معصیت کیش ہے اور خطا کار ہے
میرے مولیٰ مگر تو ، تو غَفَّارہے
کہتی رحمت ہے مجرم سے لَا تَقْنَطُوْا
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
………… …………
تعلیم نسواں:
پر آپ نے اپنے خطبہ صدارت میں کافی زور دیا ہے بلکہ لڑکیوں کی تعلیم اور اس کی فلاح و ترقی کیلئے بھی آپ بے حد کوشاں رہے۔ اور صنفِ نازک کی بقا و استحکام نیز اس کے تعلیم کے فوائد پر آپ بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے کتنے ملک گیر دورے اسی مقصد کے تحت ہوئے آپ کے ٹھوس تاثرات و تجاویزات جو کانفرنسوں میں پاس ہوتے جن کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے آپ کے دل میں قوم مسلم کی بقا و ترقی کا کتنا درد و دیعت فرمایا تھا۔ ذیل میں کانفرنس مراد آباد کی تجاویز اس کی روشن دلیل ہے، فرماتے ہیں:
’’ لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام بھی نہایت ضروری ہے اور اس میں دینیات کے علاوہ سوزن کاری اور معمولی… خانہ داری کی تعلیم تابحد امکان لازمی ہے۔ پردے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ّ(خطبۂ حجۃ الاسلام/ص :۱۸)
المختصر یہ کہ خطبۂ صدارت مراد آباد آپ کی ذہانت اور قائدانہ صلاحیت کی بھرپور و روشن دلیل ہے۔ جس کا مطالعہ ہر ذی علم اور قومی و علمی کام کرنے والوں کیلئے از حد ضروری ہے جس میں سمندر کو کوزے میں بھر دیا ہے۔
ذوق شاعری:
آپ عربی، فارسی، اردو نظم و نثر میں منفرد اسلوب بیان رکھتے تھے۔ حمد و نعت و دیگر اصنافِ شاعری کے بیشتر اشعار آپ کے دیوان میں محفوظ ہیں۔ ذیل میں چند کلام پیش کیئے جاتے ہیں جس سے آپ کا ادبی ذوق و قابلیت و عشق رسول ﷺکا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔
دل میرا گدگداتی رہی آرزو
آنکھ پھر پھر کے کرتی رہی جستجو
عرش تا فرش ڈھونڈ آیا میں تجھ کو تو
نکلا اَقْرَبْ زِحَبْلِ وَ رِیْدِ گَلُو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
رہ کے پردوں میں تو جلوہ آرا ہوا
بس کے آنکھوں میں آنکھوں سے پردہ کیا
آنکھ کا پردہ، پردہ ہوا آنکھ کا
بند آنکھیں ہوئیں تو، نظر آیا تو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
کعبۂ کعبہ ہے کعبۂ دل میرا
کعبہ پتھر کا دل جلوہ گاہ خدا
ایک دل پر ہزاروں ہی کعبے فدا
کعبۂ جان و دل کعبے کی آبرو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
طور سینا پہ تو جلوہ آرا ہوا
صاف موسیٰ سے فرما دیا لَنْ تَرَا
اور اِنِّیٓ اَنَا اﷲ شجر بول اٹھا
تیرے جلوؤں کی نیرنگیاں سو بسو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
کون تھا جس نے سُبْحَانِیْ فرما دیا
اور مَا اَعْظَمَ شَانِیْ کس نے کہا
با یزید اور بسطام میں کون تھا
کب اَنَا الْحَقْ تھی منصور کی گفتگو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
یا الٰہی دکھا ہم کو وہ دن بھی تو
آبِ زم زم سے کر کے حرم میں وضو
با ادب شوق سے بیٹھ کر قبلہ رو
مل کے ہم سب کہیں یک زباں ہو بہو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
میں نے مانا کہ حامد گنہگار ہے
معصیت کیش ہے اور خطا کار ہے
میرے مولیٰ مگر تو ، تو غَفَّارہے
کہتی رحمت ہے مجرم سے لَا تَقْنَطُوْا
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
………… …………
❤1
گناہگاروں کا روزِ محشر
شفیع خیر الانام ہوگا
دلہن شفاعت بنے گی،
دولہا نبی علیہ السلام ہوگا
کبھی تو چمکے گا نجم قسمت،
ہلال ماہ تمام ہوگا
کبھی تو ذرے پہ مہر ہوگی ،
وہ مہر ادھر خوش خرام ہوگا
پڑا ہوں میں ان کی رہ گزر میں
پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
دل و جگر فرش رہ بنیں گے
یہ دیدہ مشق خرام ہوگا
وہی ہے شافع ، وہی ہے مشفع،
اسی شفاعت سے کام ہوگا
ہماری بگڑی بنے گی اس دن ،
وہی مدار المھام ہوگا
انہیں کا منہ سب تکیں گے اس دن
جو وہ کریں گے وہ کام
دہائی سب ان کی دیتے ہوں گے
انہیں کا ہر لب پہ نام ہوگا
اَنَا لَہَا کہہ کے عاصیوں کو
وہ لیں گے آغوشِ مرحمت میں
عزیز اکلوتا جیسے ماں کو
انہیں ہر ایک یوں غلام ہوگا
ادھر وہ گرتوں کو تھام لیں گے
ادھر پیاسوں کو جام دینگے
صراط و میزان و حوضِ کوثر
یہیں وہ عالی مقام ہوگا
کہیں وہ جلتے بجھاتے ہوں گے
کہیں وہ روتے ہنساتے ہوں گے
وہ پائے نازک پہ دوڑنا اور
بعید ہر ایک مقام ہوگا
ہوئی جو مجرم کو باریابی
تو خوفِ عصیاں سے دھج یہ ہوگی
خمیدہ سر ، آبدیدہ آنکھیں ،
لرزتا ہندی غلام ہوگا
حضورِ مرشد کھڑا رہوں گا
کھڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
نگاہ لطف و کرم اٹھے گی
تو جھک کے میرا سلام ہوگا
خدا کی مرضی ہے ان کی مرضی ،
ہے ان کی مرضی خدا کی مرضی
انہیں کی مرضی پہ ہو رہا ہے ،
انہیں کی مرضی پہ کام ہوگا
جدھر خدا ہے ادھر نبی ہے ،
جدھر نبی ہے ادھر خدا ہے
خدائی بھر سب ادھر پھرے گی ،
جدھر وہ عالی مقام ہوگا
اسی تمنا میں دم پڑا ہے ،
یہی سہارا ہے زندگی کا
بلالو مجھ کو مدینے سرور ،
نہیں تو جینا حرام ہوگا
حضورِ روضہ ہوا جو حاضر ،
تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامدؔ
خمیدہ سر ، آنکھ بند ،
لب پر میرے درود و سلام ہوگا
………… …………
محمد مصطفی نورِ خدا ، نامِ خدا تم ہو
شہ ِ خیر الوریٰ ، شانِ خدا ، صَلِّ عَلیٰ تم ہو
شکیبِ دل ، قرارِ جاں ، محمد مصطفی (ﷺ) تم ہو
طبیبِ دردِ دل تم ہو ، میرے دل کی دوا تم ہو
غریبوں درد مندوں کی ، دوا تم ہو دعا تم ہو
فقیروں بے نواؤں کی ، صدا تم ہو ندا تم ہو
حبیبِ کبریا تم ہو ، امام الانبیاء تم ہو
محمد مصطفی (ﷺ) تم ہو ، محمد مجتبیٰ (ﷺ) تم ہو
نہ کوئی ماہ وش تم سا ، نہ کوئی مہ جبیں تم سا
حسینوں میں ہو تم ایسے کہ محبوبِ خدا تم ہو
میں صدقے انبیاء کے یوں تو سب محبوب ہیں لیکن
جو سب پیاروں سے پیارا ہے ، وہ محبوبِ خدا تم ہو
تمہارے حسن رنگیں کی جھلک ہے سب حسینوں میں
بہاروں کی بہاروں میں ، بہار جانفزا تم ہو
زمیں میں ہے چمک کس کی ، فلک پر ہے جھلک کس کی
مہ و خورشید ، سیاروں ، ستاروں کی ضیاء تم ہو
وہ لاثانی ہو تم آقا ، نہیں ثانی کوئی جس کا
اگر ہے دوسرا کوئی ، تو اپنا دوسرا تم ہو
ھُوَ الْاَوَّل ، ھُوَ الْآخِر ، ھُوَ الظَّاہِر ، ہُوَ الْبَاطِن
بِکُلِّ شَیٍٔ عَلِیْم ، لوح محفوظِ خدا تم ہو
نہ ہوسکتے ہیں دو اوّل ، نہ ہوسکتے ہیں دو آخر
تم اوّل اور آخر ، ابتداء تم انتہا تم ہو
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
اَنَا مِنْ حَامِدٌ وَ حَامِدْ رَضَا مِنِّی کے جلوؤں سے
بحمد اللہ! رضا ، حامد ہیں اور حامدؔ رضا تم ہو
………… …………
فن تاریخ گوئی میں کمال:
والد ماجد اعلیٰ حضرت کی طرح حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کو بھی تاریخ گوئی کے فن میں کمال حاصل تھا۔ حضرت مولانا عبد الکریمؔ درس رضی اللہ عنہ کے وصال (متوفی ۱۳۴۴ھ) پر حجۃ اسلام رضی اللہ عنہ نے طویل تاریخیں لکھی ہیں۔ یونہی بنیاد مسجد پر بھی آپ نے بہترین تاریخیں لکھی ہیں جو اس طرح ہیں ۔
من بناہ بنی لہ اللہ
بیت در بحنۃ الماویٰ
قلت سبحٰن ربی الاعلیٰ ۴۷۴
مسجدُ اسد علیٰ تقویٰ ۸۵۴
تصنیفی و علمی کارنامے:
حضرت حجۃ الاسلام - صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ آپ کی علمی جلالت کا صحیح پتہ اور علم تو آپ کی تصانیف سے زیادہ ممکن ہے۔ ذیل میں آپ کی قلمی یادگار کی نشاندہی کی جاتی ہے قارئین اصل کتب کی طرف مراجعت کریں۔
۱۔ الصارم الربانی علیٰ اسراف القادیانی(سب سے پہلے آپ نے ۱۳۱۵ھ، ۱۸۹۷ء میں قادیانیوں کا رد لکھا۔)
۲۔ ترجمہ الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبہ
۳۔ ترجمہ حسام الحرمین علی منحر الفکر و المبین
۴۔ حاشیہ ملا جلال
۵۔ مقدمہ الاجازات المتینہ
۶۔ نعتیہ دیوان
۷۔ مجموعہ فتاویٰ
شفیع خیر الانام ہوگا
دلہن شفاعت بنے گی،
دولہا نبی علیہ السلام ہوگا
کبھی تو چمکے گا نجم قسمت،
ہلال ماہ تمام ہوگا
کبھی تو ذرے پہ مہر ہوگی ،
وہ مہر ادھر خوش خرام ہوگا
پڑا ہوں میں ان کی رہ گزر میں
پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
دل و جگر فرش رہ بنیں گے
یہ دیدہ مشق خرام ہوگا
وہی ہے شافع ، وہی ہے مشفع،
اسی شفاعت سے کام ہوگا
ہماری بگڑی بنے گی اس دن ،
وہی مدار المھام ہوگا
انہیں کا منہ سب تکیں گے اس دن
جو وہ کریں گے وہ کام
دہائی سب ان کی دیتے ہوں گے
انہیں کا ہر لب پہ نام ہوگا
اَنَا لَہَا کہہ کے عاصیوں کو
وہ لیں گے آغوشِ مرحمت میں
عزیز اکلوتا جیسے ماں کو
انہیں ہر ایک یوں غلام ہوگا
ادھر وہ گرتوں کو تھام لیں گے
ادھر پیاسوں کو جام دینگے
صراط و میزان و حوضِ کوثر
یہیں وہ عالی مقام ہوگا
کہیں وہ جلتے بجھاتے ہوں گے
کہیں وہ روتے ہنساتے ہوں گے
وہ پائے نازک پہ دوڑنا اور
بعید ہر ایک مقام ہوگا
ہوئی جو مجرم کو باریابی
تو خوفِ عصیاں سے دھج یہ ہوگی
خمیدہ سر ، آبدیدہ آنکھیں ،
لرزتا ہندی غلام ہوگا
حضورِ مرشد کھڑا رہوں گا
کھڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
نگاہ لطف و کرم اٹھے گی
تو جھک کے میرا سلام ہوگا
خدا کی مرضی ہے ان کی مرضی ،
ہے ان کی مرضی خدا کی مرضی
انہیں کی مرضی پہ ہو رہا ہے ،
انہیں کی مرضی پہ کام ہوگا
جدھر خدا ہے ادھر نبی ہے ،
جدھر نبی ہے ادھر خدا ہے
خدائی بھر سب ادھر پھرے گی ،
جدھر وہ عالی مقام ہوگا
اسی تمنا میں دم پڑا ہے ،
یہی سہارا ہے زندگی کا
بلالو مجھ کو مدینے سرور ،
نہیں تو جینا حرام ہوگا
حضورِ روضہ ہوا جو حاضر ،
تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامدؔ
خمیدہ سر ، آنکھ بند ،
لب پر میرے درود و سلام ہوگا
………… …………
محمد مصطفی نورِ خدا ، نامِ خدا تم ہو
شہ ِ خیر الوریٰ ، شانِ خدا ، صَلِّ عَلیٰ تم ہو
شکیبِ دل ، قرارِ جاں ، محمد مصطفی (ﷺ) تم ہو
طبیبِ دردِ دل تم ہو ، میرے دل کی دوا تم ہو
غریبوں درد مندوں کی ، دوا تم ہو دعا تم ہو
فقیروں بے نواؤں کی ، صدا تم ہو ندا تم ہو
حبیبِ کبریا تم ہو ، امام الانبیاء تم ہو
محمد مصطفی (ﷺ) تم ہو ، محمد مجتبیٰ (ﷺ) تم ہو
نہ کوئی ماہ وش تم سا ، نہ کوئی مہ جبیں تم سا
حسینوں میں ہو تم ایسے کہ محبوبِ خدا تم ہو
میں صدقے انبیاء کے یوں تو سب محبوب ہیں لیکن
جو سب پیاروں سے پیارا ہے ، وہ محبوبِ خدا تم ہو
تمہارے حسن رنگیں کی جھلک ہے سب حسینوں میں
بہاروں کی بہاروں میں ، بہار جانفزا تم ہو
زمیں میں ہے چمک کس کی ، فلک پر ہے جھلک کس کی
مہ و خورشید ، سیاروں ، ستاروں کی ضیاء تم ہو
وہ لاثانی ہو تم آقا ، نہیں ثانی کوئی جس کا
اگر ہے دوسرا کوئی ، تو اپنا دوسرا تم ہو
ھُوَ الْاَوَّل ، ھُوَ الْآخِر ، ھُوَ الظَّاہِر ، ہُوَ الْبَاطِن
بِکُلِّ شَیٍٔ عَلِیْم ، لوح محفوظِ خدا تم ہو
نہ ہوسکتے ہیں دو اوّل ، نہ ہوسکتے ہیں دو آخر
تم اوّل اور آخر ، ابتداء تم انتہا تم ہو
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
اَنَا مِنْ حَامِدٌ وَ حَامِدْ رَضَا مِنِّی کے جلوؤں سے
بحمد اللہ! رضا ، حامد ہیں اور حامدؔ رضا تم ہو
………… …………
فن تاریخ گوئی میں کمال:
والد ماجد اعلیٰ حضرت کی طرح حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کو بھی تاریخ گوئی کے فن میں کمال حاصل تھا۔ حضرت مولانا عبد الکریمؔ درس رضی اللہ عنہ کے وصال (متوفی ۱۳۴۴ھ) پر حجۃ اسلام رضی اللہ عنہ نے طویل تاریخیں لکھی ہیں۔ یونہی بنیاد مسجد پر بھی آپ نے بہترین تاریخیں لکھی ہیں جو اس طرح ہیں ۔
من بناہ بنی لہ اللہ
بیت در بحنۃ الماویٰ
قلت سبحٰن ربی الاعلیٰ ۴۷۴
مسجدُ اسد علیٰ تقویٰ ۸۵۴
تصنیفی و علمی کارنامے:
حضرت حجۃ الاسلام - صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ آپ کی علمی جلالت کا صحیح پتہ اور علم تو آپ کی تصانیف سے زیادہ ممکن ہے۔ ذیل میں آپ کی قلمی یادگار کی نشاندہی کی جاتی ہے قارئین اصل کتب کی طرف مراجعت کریں۔
۱۔ الصارم الربانی علیٰ اسراف القادیانی(سب سے پہلے آپ نے ۱۳۱۵ھ، ۱۸۹۷ء میں قادیانیوں کا رد لکھا۔)
۲۔ ترجمہ الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبہ
۳۔ ترجمہ حسام الحرمین علی منحر الفکر و المبین
۴۔ حاشیہ ملا جلال
۵۔ مقدمہ الاجازات المتینہ
۶۔ نعتیہ دیوان
۷۔ مجموعہ فتاویٰ
❤1👍1
کشف و کرامات:
آپ کے کشف و کرامات میں سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ مذہب اہلسنت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور نبی کریم کی سنت آپ کے ہر عمل سے ہویدا تھی۔ تاہم چند کرامات مندرجہ ذیل ہیں:
باکرامت مدرس:
حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد ر ضا -ایک تجربہ کار مدرس اور تدریسی امور میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک بار دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف کے چند اہم مدرسین مدرسہ چھوڑ کر چلے گئے۔ تو حضور حجۃ الاسلام -نے علوم و فنون کی تمام اہم کتابیں خود پڑھانی شروع کر دیں اور اس طرح پڑھائیں کہ ان مدرسین کا وہ خیال غلط ثابت ہوا جو یہ کہتے تھے کہ ہمارے بغیر طلباء مدرسہ چھوڑ دیں گے۔ بلکہ آپ کی تدریسی مہارت اور علمی قابلیت کا شہرہ سن کر بہت سے دوسرے قابل طلباء دارالعلوم میں مزید داخل ہوئے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت ماہ اپریل ۱۹۸۶ئ/ ص: ۲۵)
قبر اصلی جگہ پر نہیں:
راقم سے جناب حاجی محمد اسمعٰیل بن حاجی عبدالغفور صاحب مدنپورہ ،بنارس نے بیان کیا کہ:’’ ایک مرتبہ حضور حجۃ الاسلام مدنپورہ بنارس میں تشریف لائے۔ ادائے نماز کیلئے مسجد برتلہ میں تشریف لے گئے۔ بعد نماز مسجد مذکور میں واقع مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے لگے۔ چند ہی لمحوں کے بعد اچانک آپ نے قدم کو پیچھے ہٹا لیااور ارشاد فرمایا:’’ یہ قبر اپنی اصلی جگہ پر نہیں ہے‘‘؟ لوگوں نے جب اس بات کو سنا تو کہا کہ:’’ حضور! صف میں دشواری ہو رہی تھی جس کی وجہ سے تابوت کو ذرا کھسکا دیا گیا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا کہ:’’ ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ فوراً اس تابوت کو اس کے اصل جگہ پر رکھا جائے‘‘۔
جن و آسیب کو بھگانے میں شانِ مسیحائی:
ایک مرتبہ آپ مدنپورہ، بنارس تشریف لائے۔ لوگوں کو جب علم ہوا کہ حضرت آسیب زدہ کو فی الفور صحت یاب فرما دیتے ہیں۔ تو لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور متعدد لوگوں نے اپنی حاجت بیان کی۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ مریض کے کپڑے کو سامنے لاؤ، آناً فاناً کپڑوں کا انبار لگ گیا۔ آپ نے ان تمام کپڑوں کو بنظر غور دیکھا اور اس میں سے چند کپڑوں کو الگ کر کے ارشاد فرمایا کہ یہی لوگ اصلی مریض ہیں، باقی سب یوں ہی ہیں، ان کو آسیب کا کوئی عارضہ نہیں ہے۔ ان کپڑوں پر آپ نے کچھ پڑھا۔ چند ہی دنوں میں وہ تمام مریض صحت یاب ہوگئے اور بھی کبھی آسیبی خلل میں گرفتار نہ ہوئے۔ انہیں میں سے ایک شخص پر اتنا خطرناک قسم کا جن تھا جو رات میں چھتوں کی منڈیر پر خوب دوڑتا تھا۔ گھر والے اس کی حرکت سے کافی پریشان تھے اور ہمہ وقت خطرہ لاحق رہتا کہ کہیں چھت سے نیچے گر کر ہلاک نہ ہوجائے۔ حضرت کی دعا سے وہ خبیث جن بھی تائب ہوا اور اس مذکورہ شخص کو چھوڑ دیا جس سے وہ صحت یاب ہوگیا ۔
دیوبندی گستاخ پر غیبی عتاب:
حضرت علامہ شیخ عبدالمعبود جیلانی مکی روایت کرتے ہیں کہ:’’ میں جب بریلی شریف گیا تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا – اپنی مشہور نعت و ہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں، کا گیارہواں شعر لکھ رہے تھے۔ چونکہ میں گیارہویں والے سرکار حضور غوث اعظم کی اولاد سے ہوں ۔اس لئے اس کو میں نے اپنے لئے فال نیک سمجھا۔ بہرحال ان چند دنوں میں حضور حجۃ الاسلام سے بھی بہت قریب رہا ، مجھے یقین کرنا پڑا کہ حجۃ الاسلام صاحبِ کرامت بزرگ ہیں۔ ان کی کرامت کا اندازہ مجھے اس واقعہ سے ہوا کہ جب میں بریلی شریف سے دہلی آیا تو دہلی میں جس مکان میں میرا قیام تھا اسی سے متصل دیو بندیوں کا جلسہ ہورہا تھا۔ دورانِ تقریر ایک مولوی نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ مولانا حامدؔ رضا حامد نہیں ہیں بلکہ جامد ہیں‘‘۔ (معاذ اللہ) اس مولوی دیوبندی نجدی نے سرکار حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) کا نام نامی بے ادبی و گستاخی سے لیا اور حامد کے بجائے جامد کہا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد لوگوں نے دیکھا کہ اس بے ادب گستاخ مقرر کی زبان جامد ہوگئی اور وہ خود جامد ہوگیا۔ اور چند ہی لمحے کے بعد موت نے اس کو ہمیشہ کیلئے جامد کر دیا۔ اس واقعہ سے جلسہ میں کہرام مچ گیا یہاں تک کہ اس نے کچھ بولنا چاہا مگر بول نہ سکا تو اشارہ سے قلم دوات طلب کیا اور ایک کاغذ پر مرنے سے قبل یہ لکھ کر مرا :
’’ میں مولانا حامدؔ رضا خاں صاحب کی بے ادبی سے توبہ کرتا ہوں ‘‘ ۔ ( ماہنامہ اعلیٰ حضرت ، بریلی شریف اپریل۱۹۸۶ئ/ ص: ۲۶،۲۷)
آپ کے کشف و کرامات میں سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ مذہب اہلسنت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور نبی کریم کی سنت آپ کے ہر عمل سے ہویدا تھی۔ تاہم چند کرامات مندرجہ ذیل ہیں:
باکرامت مدرس:
حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد ر ضا -ایک تجربہ کار مدرس اور تدریسی امور میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک بار دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف کے چند اہم مدرسین مدرسہ چھوڑ کر چلے گئے۔ تو حضور حجۃ الاسلام -نے علوم و فنون کی تمام اہم کتابیں خود پڑھانی شروع کر دیں اور اس طرح پڑھائیں کہ ان مدرسین کا وہ خیال غلط ثابت ہوا جو یہ کہتے تھے کہ ہمارے بغیر طلباء مدرسہ چھوڑ دیں گے۔ بلکہ آپ کی تدریسی مہارت اور علمی قابلیت کا شہرہ سن کر بہت سے دوسرے قابل طلباء دارالعلوم میں مزید داخل ہوئے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت ماہ اپریل ۱۹۸۶ئ/ ص: ۲۵)
قبر اصلی جگہ پر نہیں:
راقم سے جناب حاجی محمد اسمعٰیل بن حاجی عبدالغفور صاحب مدنپورہ ،بنارس نے بیان کیا کہ:’’ ایک مرتبہ حضور حجۃ الاسلام مدنپورہ بنارس میں تشریف لائے۔ ادائے نماز کیلئے مسجد برتلہ میں تشریف لے گئے۔ بعد نماز مسجد مذکور میں واقع مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے لگے۔ چند ہی لمحوں کے بعد اچانک آپ نے قدم کو پیچھے ہٹا لیااور ارشاد فرمایا:’’ یہ قبر اپنی اصلی جگہ پر نہیں ہے‘‘؟ لوگوں نے جب اس بات کو سنا تو کہا کہ:’’ حضور! صف میں دشواری ہو رہی تھی جس کی وجہ سے تابوت کو ذرا کھسکا دیا گیا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا کہ:’’ ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ فوراً اس تابوت کو اس کے اصل جگہ پر رکھا جائے‘‘۔
جن و آسیب کو بھگانے میں شانِ مسیحائی:
ایک مرتبہ آپ مدنپورہ، بنارس تشریف لائے۔ لوگوں کو جب علم ہوا کہ حضرت آسیب زدہ کو فی الفور صحت یاب فرما دیتے ہیں۔ تو لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور متعدد لوگوں نے اپنی حاجت بیان کی۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ مریض کے کپڑے کو سامنے لاؤ، آناً فاناً کپڑوں کا انبار لگ گیا۔ آپ نے ان تمام کپڑوں کو بنظر غور دیکھا اور اس میں سے چند کپڑوں کو الگ کر کے ارشاد فرمایا کہ یہی لوگ اصلی مریض ہیں، باقی سب یوں ہی ہیں، ان کو آسیب کا کوئی عارضہ نہیں ہے۔ ان کپڑوں پر آپ نے کچھ پڑھا۔ چند ہی دنوں میں وہ تمام مریض صحت یاب ہوگئے اور بھی کبھی آسیبی خلل میں گرفتار نہ ہوئے۔ انہیں میں سے ایک شخص پر اتنا خطرناک قسم کا جن تھا جو رات میں چھتوں کی منڈیر پر خوب دوڑتا تھا۔ گھر والے اس کی حرکت سے کافی پریشان تھے اور ہمہ وقت خطرہ لاحق رہتا کہ کہیں چھت سے نیچے گر کر ہلاک نہ ہوجائے۔ حضرت کی دعا سے وہ خبیث جن بھی تائب ہوا اور اس مذکورہ شخص کو چھوڑ دیا جس سے وہ صحت یاب ہوگیا ۔
دیوبندی گستاخ پر غیبی عتاب:
حضرت علامہ شیخ عبدالمعبود جیلانی مکی روایت کرتے ہیں کہ:’’ میں جب بریلی شریف گیا تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا – اپنی مشہور نعت و ہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں، کا گیارہواں شعر لکھ رہے تھے۔ چونکہ میں گیارہویں والے سرکار حضور غوث اعظم کی اولاد سے ہوں ۔اس لئے اس کو میں نے اپنے لئے فال نیک سمجھا۔ بہرحال ان چند دنوں میں حضور حجۃ الاسلام سے بھی بہت قریب رہا ، مجھے یقین کرنا پڑا کہ حجۃ الاسلام صاحبِ کرامت بزرگ ہیں۔ ان کی کرامت کا اندازہ مجھے اس واقعہ سے ہوا کہ جب میں بریلی شریف سے دہلی آیا تو دہلی میں جس مکان میں میرا قیام تھا اسی سے متصل دیو بندیوں کا جلسہ ہورہا تھا۔ دورانِ تقریر ایک مولوی نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ مولانا حامدؔ رضا حامد نہیں ہیں بلکہ جامد ہیں‘‘۔ (معاذ اللہ) اس مولوی دیوبندی نجدی نے سرکار حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) کا نام نامی بے ادبی و گستاخی سے لیا اور حامد کے بجائے جامد کہا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد لوگوں نے دیکھا کہ اس بے ادب گستاخ مقرر کی زبان جامد ہوگئی اور وہ خود جامد ہوگیا۔ اور چند ہی لمحے کے بعد موت نے اس کو ہمیشہ کیلئے جامد کر دیا۔ اس واقعہ سے جلسہ میں کہرام مچ گیا یہاں تک کہ اس نے کچھ بولنا چاہا مگر بول نہ سکا تو اشارہ سے قلم دوات طلب کیا اور ایک کاغذ پر مرنے سے قبل یہ لکھ کر مرا :
’’ میں مولانا حامدؔ رضا خاں صاحب کی بے ادبی سے توبہ کرتا ہوں ‘‘ ۔ ( ماہنامہ اعلیٰ حضرت ، بریلی شریف اپریل۱۹۸۶ئ/ ص: ۲۶،۲۷)
❤1
مریدین خلفائے کرام تلامذہ:
حجۃ الاسلام کے مریدین کی تعداد یوں تو لاکھوں میں تھی۔ لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں ان کے مریدین موجود ہیں چتوڑ گڑھ، جے پور، اودے پور، جودھپور، سلطان پور، بریلی و اطراف کانپور، فتح پور، بنارس اور صوبہ بہار وغیرہ میں ان کے مریدین زیادہ ہیں۔ کراچی میں بھی حامدیوں کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔
ان کے خلفاء اور تلامذہ میں محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب رضی اللہ عنہ سرفہرست ہیں۔انکے علاوہ حضور مجاہد ملّت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب، حضرت مولانا شاہ رفاقت حسین صاحب، حضرت مولانا شاہ حشمت علی خاں صاحب، حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں صاحب، خلفِ اصغر حماد رضا صاحب، حضرت مولانا احسان علی صاحب فیض پوری سابق شیخ الحدیث دارالعلوم منظر اسلام بریلی، حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ صاحب ازہری( تذکرہ علمائے اہلسنّت/ص:۸۲)
حضرت مفتی تقدس علی خاں صاحب، حضرت مولانا عنایت محمد خاں صاحب غوری، حضرت مولانا عبدالغفور صاحب ہزاروی، حضرت مولانا محمد سعید شبلی صاحب فرید کوٹی، حضرت مولانا ولی الرحمن صاحب پوکھریروی، حضرت مولانا حافظ محمدؔ میاں صاحب اشرفی رضوی، حضرت مولانا ابو الخلیل انیسؔ عالم صاحب سیوانی، حضرت مولانا قاضی فضل کریم صاحب بہاری حضرت مولانا رضی احمدصاحب وغیرہ ۔ پاکستان کے مشہور شاعر حسان العصر جناب اختر الحامدی مرحوم بھی حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کے مرید تھے۔(ماہنامہ حجاز جدید ،دہلی/ اپریل ۱۹۸۹ئ/ ص: ۵۰)
اولاد امجاد:
حضور حجۃ الاسلام - کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں صاحبزادگان کے نام یہ ہیں ۔
۱۔ مفسر اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں –
۲۔ حضرت مولانا حماد رضا خاں نعمانی میاں –
(ماہنامہ حجاز جدید ،دہلی/ اپریل ۱۹۸۹ئ/ ص: ۵۳)
ذکر وصال:
جب تیری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے
(از حسن رضا خاں)
آپ اپنی کیفیت وصال بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ زبان ذکر ورسولg وصلوٰۃ و سلام میں مشغول ہوگی اور روح قرب وصال کے چھلکتے کیف و سرور کے جام سے محظوظ ہوگی۔
حضورِ روضہ ہوا جو حاضر ، تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامد
خمیدہ سر بند آنکھیں لب پہ میرے درود و سلام ہوگا
(فقیہ اسلام ص:۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص:۸۲)
وصال:
آپ ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ مطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء بعمر ۷۰ سال عین حالت نماز میں دوران تشہد دس بجکر ۴۵ منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔ (فقیہ اسلام ص:۲۳۷، وفاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص:۸۲)
نماز جنازہ:جنازے کی نماز آپ کے خلیفۂ خاص حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد-نے مجمع کثیر میں پڑھائی۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت/ جون ۱۹۶۳ء/ص: ۱۸)
مزار مبارک:
آپ کا مزار مبارک خانقاہ رضویہ بریلی شریف میں والد ماجد کے پہلو میں ہے۔ ہر سال عرس کی تاریخ میں بے شمار علماء و مشائخ کے ساتھ عوام شریک ہوتے ہیں۔ اور اپنے اپنے دامن گوہر مراد سے پر کرتے ہیں۔ بریلی شریف کی خانقاہ کے علاوہ بھی برصغیر پاک و ہند میں آپ کے بے شمار متوسلین مذکورہ تاریخ پر آپ کی روحانی فیض سے مستفیض ہوتے ہیں اور مقالے و تقریر سے آپ کی علمی، دینی و تصوفانہ کارنامے کو پیش کرتے ہیں۔
مادۂ تاریخ:
از: مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب فریدی سمتی پوری
دے ز بزم جہاں رفت بہ بزم جنا
مفتیٔ دین متین مولوی حامد رضا
صاحب زہد و ورع، عالم اتقاء
پیشروِ اہل دیں، ہادیٔ راہِ خدا
عابد شب زندہ دار، صوفی و صافی منش
رہر وِ راہِ سلوک، صاحب رشد و ہدا
برسرِ عرشِ ہدیٰ ماہ شرف ذاتِ او
نجم صداقت پئے مطلع صدق و صفا
داغ فراقِ رضا، باز بدل تازہ شد
وارثِ فضل رضا رفتہ بہ قرب رضا
مرگ کزیں عالمے، مرگِ جہاں ہم بود
ماتم او ماتم دہر بود بر ملا
غیر رضا بالقضا، چارئہ دل، ہیچ نیست
شیوئہ ایماں بود، صبر دم ابتلا
اسم محمد شدہ عہد ولادت نگر ۱۲۹۲ھ
سیزدہ صد شش و دو دیدہ گزید آں سرا
۱۳۶۲ھ
شب زمہ پنج میں ہیزدہ ہم آمدہ
چوں زفنائے مکاں رفتہ بدار بقا ۱۹۴۳
کلک فریدی نوشت از پئے سال وصال
بیں جناں آمدہ مولوی حامد رضا ۱۳۶۲ھ
✍ حضرت علامہ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی علیہ الرحمہ
www.muftiakhtarrazakhan.com – A project of Taaj-al-Shari’ah Foundation, Karachi, Pakistan. Cell: 92 303 2886671 Mail: markweb1011@gmail.com
Website URL ↷
https://muftiakhtarrazakhan.com/hujjaul-islam-taaruf/
حجۃ الاسلام کے مریدین کی تعداد یوں تو لاکھوں میں تھی۔ لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں ان کے مریدین موجود ہیں چتوڑ گڑھ، جے پور، اودے پور، جودھپور، سلطان پور، بریلی و اطراف کانپور، فتح پور، بنارس اور صوبہ بہار وغیرہ میں ان کے مریدین زیادہ ہیں۔ کراچی میں بھی حامدیوں کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔
ان کے خلفاء اور تلامذہ میں محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب رضی اللہ عنہ سرفہرست ہیں۔انکے علاوہ حضور مجاہد ملّت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب، حضرت مولانا شاہ رفاقت حسین صاحب، حضرت مولانا شاہ حشمت علی خاں صاحب، حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں صاحب، خلفِ اصغر حماد رضا صاحب، حضرت مولانا احسان علی صاحب فیض پوری سابق شیخ الحدیث دارالعلوم منظر اسلام بریلی، حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ صاحب ازہری( تذکرہ علمائے اہلسنّت/ص:۸۲)
حضرت مفتی تقدس علی خاں صاحب، حضرت مولانا عنایت محمد خاں صاحب غوری، حضرت مولانا عبدالغفور صاحب ہزاروی، حضرت مولانا محمد سعید شبلی صاحب فرید کوٹی، حضرت مولانا ولی الرحمن صاحب پوکھریروی، حضرت مولانا حافظ محمدؔ میاں صاحب اشرفی رضوی، حضرت مولانا ابو الخلیل انیسؔ عالم صاحب سیوانی، حضرت مولانا قاضی فضل کریم صاحب بہاری حضرت مولانا رضی احمدصاحب وغیرہ ۔ پاکستان کے مشہور شاعر حسان العصر جناب اختر الحامدی مرحوم بھی حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کے مرید تھے۔(ماہنامہ حجاز جدید ،دہلی/ اپریل ۱۹۸۹ئ/ ص: ۵۰)
اولاد امجاد:
حضور حجۃ الاسلام - کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں صاحبزادگان کے نام یہ ہیں ۔
۱۔ مفسر اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں –
۲۔ حضرت مولانا حماد رضا خاں نعمانی میاں –
(ماہنامہ حجاز جدید ،دہلی/ اپریل ۱۹۸۹ئ/ ص: ۵۳)
ذکر وصال:
جب تیری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے
(از حسن رضا خاں)
آپ اپنی کیفیت وصال بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ زبان ذکر ورسولg وصلوٰۃ و سلام میں مشغول ہوگی اور روح قرب وصال کے چھلکتے کیف و سرور کے جام سے محظوظ ہوگی۔
حضورِ روضہ ہوا جو حاضر ، تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامد
خمیدہ سر بند آنکھیں لب پہ میرے درود و سلام ہوگا
(فقیہ اسلام ص:۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص:۸۲)
وصال:
آپ ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ مطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء بعمر ۷۰ سال عین حالت نماز میں دوران تشہد دس بجکر ۴۵ منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔ (فقیہ اسلام ص:۲۳۷، وفاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص:۸۲)
نماز جنازہ:جنازے کی نماز آپ کے خلیفۂ خاص حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد-نے مجمع کثیر میں پڑھائی۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت/ جون ۱۹۶۳ء/ص: ۱۸)
مزار مبارک:
آپ کا مزار مبارک خانقاہ رضویہ بریلی شریف میں والد ماجد کے پہلو میں ہے۔ ہر سال عرس کی تاریخ میں بے شمار علماء و مشائخ کے ساتھ عوام شریک ہوتے ہیں۔ اور اپنے اپنے دامن گوہر مراد سے پر کرتے ہیں۔ بریلی شریف کی خانقاہ کے علاوہ بھی برصغیر پاک و ہند میں آپ کے بے شمار متوسلین مذکورہ تاریخ پر آپ کی روحانی فیض سے مستفیض ہوتے ہیں اور مقالے و تقریر سے آپ کی علمی، دینی و تصوفانہ کارنامے کو پیش کرتے ہیں۔
مادۂ تاریخ:
از: مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب فریدی سمتی پوری
دے ز بزم جہاں رفت بہ بزم جنا
مفتیٔ دین متین مولوی حامد رضا
صاحب زہد و ورع، عالم اتقاء
پیشروِ اہل دیں، ہادیٔ راہِ خدا
عابد شب زندہ دار، صوفی و صافی منش
رہر وِ راہِ سلوک، صاحب رشد و ہدا
برسرِ عرشِ ہدیٰ ماہ شرف ذاتِ او
نجم صداقت پئے مطلع صدق و صفا
داغ فراقِ رضا، باز بدل تازہ شد
وارثِ فضل رضا رفتہ بہ قرب رضا
مرگ کزیں عالمے، مرگِ جہاں ہم بود
ماتم او ماتم دہر بود بر ملا
غیر رضا بالقضا، چارئہ دل، ہیچ نیست
شیوئہ ایماں بود، صبر دم ابتلا
اسم محمد شدہ عہد ولادت نگر ۱۲۹۲ھ
سیزدہ صد شش و دو دیدہ گزید آں سرا
۱۳۶۲ھ
شب زمہ پنج میں ہیزدہ ہم آمدہ
چوں زفنائے مکاں رفتہ بدار بقا ۱۹۴۳
کلک فریدی نوشت از پئے سال وصال
بیں جناں آمدہ مولوی حامد رضا ۱۳۶۲ھ
✍ حضرت علامہ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی علیہ الرحمہ
www.muftiakhtarrazakhan.com – A project of Taaj-al-Shari’ah Foundation, Karachi, Pakistan. Cell: 92 303 2886671 Mail: markweb1011@gmail.com
Website URL ↷
https://muftiakhtarrazakhan.com/hujjaul-islam-taaruf/
❤1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ السلام
علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ
یوم وصال 17 جمادی الاولیٰ ¹³⁶²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ حامدیہ مکمل 13.9MB
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5083
الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5092
الصارم الربانی علی اسراف القادیانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5098
الصارم الربانی علی ..... انگلش
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5117
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5102
خطبۂ صدارت علامہ حامد رضا
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5104
بیاض پاک نعتیہ دیوان اردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5106
بیاض پاک نعتیہ دیوان رومن
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5114
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آسمان رضویت کا نیر تاباں
✍ابو کلیم محمد صدیق فانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5108
تذکرۂ جمیل حیات حامد رضا
✍مولانا ابراہیم خوشتر رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5110
جانشین اعلیٰ حضرت حامد رضا
✍ حضرت مولانا داؤد رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5112
تذکرۂ حامد رضا اردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5119
تذکرۂ حامد رضا انگلش Click
علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ
یوم وصال 17 جمادی الاولیٰ ¹³⁶²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ حامدیہ مکمل 13.9MB
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5083
الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5092
الصارم الربانی علی اسراف القادیانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5098
الصارم الربانی علی ..... انگلش
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5117
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5102
خطبۂ صدارت علامہ حامد رضا
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5104
بیاض پاک نعتیہ دیوان اردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5106
بیاض پاک نعتیہ دیوان رومن
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5114
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آسمان رضویت کا نیر تاباں
✍ابو کلیم محمد صدیق فانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5108
تذکرۂ جمیل حیات حامد رضا
✍مولانا ابراہیم خوشتر رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5110
جانشین اعلیٰ حضرت حامد رضا
✍ حضرت مولانا داؤد رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5112
تذکرۂ حامد رضا اردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5119
تذکرۂ حامد رضا انگلش Click
❤1
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے ـ جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں ـ
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم
و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں ـ
✍ حسن نوری گونڈوی
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم
و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں ـ
✍ حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
*मदारियों से बचो और अपनी औलाद को बचाओ*
---पार्ट2-----
यक़ीनन हज़रत शाह बादियुद्दीन अलैहिर्रहमा एक वालिये क़ामिल हैं
आप की जाते बा बरकात पर एतिराज न करे गा मगर जाहिल
*इख़्तिलाफ़ उन मदारियों से है जो अक़ीदत की आड़ में क़ुरआन व हदीस का खुला मज़ाक़ करते हैं*
मदारी कभी अल्लाह रब्बुल इज़्ज़त की शाने उल्हुय्यत पर हमला करते हैं
*तो कभी*
इमामुल अम्बिया सल्लल्लाहू अलैही वसल्लम की मक़ामे नबूवत पर
*तो कभी ये मदारी*
सरकार ग़ौसुल आज़म की शाने कुतबियत पर
_मदारियों के के नज़दीक सरकार गौस ए आज़म और दीगर औलिया का कोई खास मक़ाम नही_
*मदारियो के बातिल अकाइद व नजरीयात*
*मदारी अकीदा 1*
_अल्लाह ने जहान बानाने के बाद ज़िंदा शाह मदार के कांधो पे अपना पैर रख कर अर्श पे गया_
*मदारी अकीदा2*
हूजूर सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम नबी बनने से पहले दर्जा मदार में थे
*मदारी अकीदा3*
मदारे पाक की न कोई इन्तिहा है और न ही इब्तीदा
-----------------------------------------
मदारियों की जिहालत जानने के लिये आप
फतावा शारेह बुख़ारी
फैसिला शरिय्या
वग़ैरह
नूरूल हसन गोंडवी
---पार्ट2-----
यक़ीनन हज़रत शाह बादियुद्दीन अलैहिर्रहमा एक वालिये क़ामिल हैं
आप की जाते बा बरकात पर एतिराज न करे गा मगर जाहिल
*इख़्तिलाफ़ उन मदारियों से है जो अक़ीदत की आड़ में क़ुरआन व हदीस का खुला मज़ाक़ करते हैं*
मदारी कभी अल्लाह रब्बुल इज़्ज़त की शाने उल्हुय्यत पर हमला करते हैं
*तो कभी*
इमामुल अम्बिया सल्लल्लाहू अलैही वसल्लम की मक़ामे नबूवत पर
*तो कभी ये मदारी*
सरकार ग़ौसुल आज़म की शाने कुतबियत पर
_मदारियों के के नज़दीक सरकार गौस ए आज़म और दीगर औलिया का कोई खास मक़ाम नही_
*मदारियो के बातिल अकाइद व नजरीयात*
*मदारी अकीदा 1*
_अल्लाह ने जहान बानाने के बाद ज़िंदा शाह मदार के कांधो पे अपना पैर रख कर अर्श पे गया_
*मदारी अकीदा2*
हूजूर सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम नबी बनने से पहले दर्जा मदार में थे
*मदारी अकीदा3*
मदारे पाक की न कोई इन्तिहा है और न ही इब्तीदा
-----------------------------------------
मदारियों की जिहालत जानने के लिये आप
फतावा शारेह बुख़ारी
फैसिला शरिय्या
वग़ैरह
नूरूल हसन गोंडवी
👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
*मदारी और मदारियत*
✏नूरूल हसन गोंडवी
_इस वक़्त मदारीयत बड़ी तेज़ी के साथ फ़ैल रही है_
आप जानते हैं इनके अक़ाइद किया हैं?
1) मदारियों के गौसुलआज़म मौलवी क़मर अली मकन पुरी ने अपनी क़िताब मिलाद ज़िन्दा शाह मदार में लिखतें हैं कि
"" *खतमुन्नबीन नबूवत से पेहले दर्जये क़ुत्बुल मदार में थे*
मआज़ अल्लाह
ये हैं इस बातिल जामत के बातिल अक़ाइद
*मदारियों से बचो और क़ौम को बचाओ*
✏नूरूल हसन गोंडवी
_इस वक़्त मदारीयत बड़ी तेज़ी के साथ फ़ैल रही है_
आप जानते हैं इनके अक़ाइद किया हैं?
1) मदारियों के गौसुलआज़म मौलवी क़मर अली मकन पुरी ने अपनी क़िताब मिलाद ज़िन्दा शाह मदार में लिखतें हैं कि
"" *खतमुन्नबीन नबूवत से पेहले दर्जये क़ुत्बुल मदार में थे*
मआज़ अल्लाह
ये हैं इस बातिल जामत के बातिल अक़ाइद
*मदारियों से बचो और क़ौम को बचाओ*
Forwarded from چینل صدائے حق
*اعلی حضرت کی مانیں یا جاہل مداریوں کی؟*
پارٹ3
_نور الحسن گونڈوی_
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے
جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم
و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں
*مداریت کیا ہے؟*
اسے جاننے کے لیے فیصلہ شرعیہ دربارہ مداریہ
درمیانی امت
فتاوی رضویہ شریف
وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں
امام اہلسنت سے سوال ہوا کہ
*سوال نمبر1*
زیدکہتاہے کہ میں اولادسیدبدیع الدین صاحب عرف شاہ مدار کے ہوں اوران ہی سے ہمیں خلافت بھی ہے۔
عمرونے اس پرجواب دیاکہ سیدبدیع الدین
صاحب نے نہ شادی کی نہ ان کی اولادہوئی پھرتم کہاں سے پیداہوئے اورتمہیں خلافت کس نے دی۔ زیدنے اس پرجواب دیاکہ نہیں سیّدبدیع الدین صاحب نے دوخلیفہ کئے ہم انہیں کی اولاد میں ہیں اورانہیں سے خلافت چل رہی ہے۔
*سوال نمبر2*
زیدکہتاہے کہ ہم مدارصاحب کے بھتیجوں کی اولاد میں ہیں
*سوال نمبر3*
زیدکہتاہے کہ سیدمدارصاحب نے ایک نقش لکھ کرایک عورت کودکھایا کہ جس کے دیکھنے سے وہ حاملہ ہو گئی اوراس سے جواولاد پیداہوئی ہم اس کی اولاد میں ہیں یہاں تک کہ ایک گاؤں اس کی اولاد سے آبادہے
*سوال نمبر4*
زیدکامرید مع زیدیہ بات کہتاہے کہ جب ہماری خلافت ثابت نہیں تو آج تک کسی عالم نے کیوں نہیں منع کیا۔
*سوال نمبر5*
یہ کہ اب علماء فرمائیں کہ سیدمدارصاحب نے کسی کوخلیفہ کیایانہیں یاشادی کی یانہیں یاکوئی بھتیجا ہمراہ آیاتھا یانہیں، اوراگرکسی کوخلیفہ کیاتو اس کی اولاد ہوئی یانہیں اور وہ خلیفہ کہاں گئے اورکیاہوئے؟
*سوال نمبر6*
سیدمدارصاحب کاوصال مکن پورہوایاکہیں اور؟ اوروہ خلیفہ کہاں مدفون ہیں؟
*سوال نمبر7*
یہ کہ وہ خلیفہ ہندوستان میں گئے یاعرب میں یاکہاں؟
*سوال نمبر8*
یہ کہ وہ خلیفہ سیدمدارصاحب سے پہلے رحلت کرگئے یابعد کو
*بیّنواتوجروا*
*فتاوی رضویہ جلد26ص 97 سے جواب ملاحظہ فرمائیں*
*الجواب* : بے اصل وبے سروپاباتیں ہیں جن کاکہیں پتانہیں، سبع سنابل شریف میں ہے: حضرت مدارصاحب قدس سرہ نے فرمایاہے: خلافت نہ کسے دادہ ام نخواہم داد ۱؎، میں نے خلافت نہ کسی کودی ہے نہ آگے دوں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ سبع سنابل مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۱)
------------10/03/2017--------------
پارٹ3
_نور الحسن گونڈوی_
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے
جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم
و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں
*مداریت کیا ہے؟*
اسے جاننے کے لیے فیصلہ شرعیہ دربارہ مداریہ
درمیانی امت
فتاوی رضویہ شریف
وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں
امام اہلسنت سے سوال ہوا کہ
*سوال نمبر1*
زیدکہتاہے کہ میں اولادسیدبدیع الدین صاحب عرف شاہ مدار کے ہوں اوران ہی سے ہمیں خلافت بھی ہے۔
عمرونے اس پرجواب دیاکہ سیدبدیع الدین
صاحب نے نہ شادی کی نہ ان کی اولادہوئی پھرتم کہاں سے پیداہوئے اورتمہیں خلافت کس نے دی۔ زیدنے اس پرجواب دیاکہ نہیں سیّدبدیع الدین صاحب نے دوخلیفہ کئے ہم انہیں کی اولاد میں ہیں اورانہیں سے خلافت چل رہی ہے۔
*سوال نمبر2*
زیدکہتاہے کہ ہم مدارصاحب کے بھتیجوں کی اولاد میں ہیں
*سوال نمبر3*
زیدکہتاہے کہ سیدمدارصاحب نے ایک نقش لکھ کرایک عورت کودکھایا کہ جس کے دیکھنے سے وہ حاملہ ہو گئی اوراس سے جواولاد پیداہوئی ہم اس کی اولاد میں ہیں یہاں تک کہ ایک گاؤں اس کی اولاد سے آبادہے
*سوال نمبر4*
زیدکامرید مع زیدیہ بات کہتاہے کہ جب ہماری خلافت ثابت نہیں تو آج تک کسی عالم نے کیوں نہیں منع کیا۔
*سوال نمبر5*
یہ کہ اب علماء فرمائیں کہ سیدمدارصاحب نے کسی کوخلیفہ کیایانہیں یاشادی کی یانہیں یاکوئی بھتیجا ہمراہ آیاتھا یانہیں، اوراگرکسی کوخلیفہ کیاتو اس کی اولاد ہوئی یانہیں اور وہ خلیفہ کہاں گئے اورکیاہوئے؟
*سوال نمبر6*
سیدمدارصاحب کاوصال مکن پورہوایاکہیں اور؟ اوروہ خلیفہ کہاں مدفون ہیں؟
*سوال نمبر7*
یہ کہ وہ خلیفہ ہندوستان میں گئے یاعرب میں یاکہاں؟
*سوال نمبر8*
یہ کہ وہ خلیفہ سیدمدارصاحب سے پہلے رحلت کرگئے یابعد کو
*بیّنواتوجروا*
*فتاوی رضویہ جلد26ص 97 سے جواب ملاحظہ فرمائیں*
*الجواب* : بے اصل وبے سروپاباتیں ہیں جن کاکہیں پتانہیں، سبع سنابل شریف میں ہے: حضرت مدارصاحب قدس سرہ نے فرمایاہے: خلافت نہ کسے دادہ ام نخواہم داد ۱؎، میں نے خلافت نہ کسی کودی ہے نہ آگے دوں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ سبع سنابل مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۱)
------------10/03/2017--------------
4
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے ـ جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں ـ
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم
و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں ـ
✍ حسن نوری گونڈوی
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے ـ جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں ـ
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم
و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں ـ
✍ حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
*مداریوں کا باطل تصور کہ مدار پاک غوث پاک سے افضل ہیں*
------------5-----------------------------
حسن نوری دوآبہ وزیر گنج گونڈہ یوپی
------------------------------------
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ بعض مداری کہتے ہیں کہ مدار پاک غوث پاک سے افضل ہیں کیا یہ درست ہے؟
سرکار غوث پاک کن کن اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں؟
*فتاوی رضویہ شریف سے ایک فتوی ملاحظہ فرمائیں*
گزارش یہ ہے کہ ایک جگہ ایساجھگڑا آپڑا ہواہے وہ یہ ہے کہ خاندان غوثیہ والے ایک صاحب یعنی خاندان محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے صاحب نے مداریہ خاندان والوں سے کہاکہ ہماراخاندان بڑاہے،
تم لوگ ہمارے یہاں بیعت ہو۔ انہوں نے کہایعنی مداریہ والوں نے جواب دیاکہ ہماراخاندان تمہارے خاندان سے اچھانہیں ہے
، اوراچھابھی ہے توخدا کے یہاں خاندان نہ پوچھاجائے گا بلکہ عمل پوچھاجائے گا
۔ خاندان غوثیہ والوں نے ثبوت پیش کیاکہ حضرت غوث پاک کے بارے میں جناب رسول مقبول صلی ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میراقدم تیری گردن پراورتیرا قدم کل اولیاء ﷲ کی گردن پر ہوگا۔ *مداریوں نے دریافت کیاکہ* حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کی گردن پربھی اورحضرات حسنین علیہما السلام خواجہ حسن کی گردن پربھی رحمۃ ﷲ علیہ وحضرت خواجہ حبیب عجمی اورمدارصاحب کی گردن پرتھایانہیں؟
خاندان غوثیہ والوں نے جواب دیاکہ مدارصاحب کی گردن پرقدم تھا۔ اورجوصاحبان پہلے گزرچکے ہیں ان پرنہیں
*خاندان مداریہ والوں نے جواب دیا:*
ہماراخانوادہ طیفوریہ دوئم اورتمہارا خانوادہ طوسیہ ہفتم ہے، ہمارے خاندان سے تمہاراخاندان بعد میں ہوا۔
*اورمداریہ کہتے ہیں کہ مدارکارتبہ غوث سے اعلٰی ہے۔*
*جناب کو تکلیف دے کرعرض ہے کہ مدارکے کیامعنی ہیں؟ اورجو درجہ مداریہ ہے اس کی کیاتشریح ہے؟*
*اوران دونوں خاندان والے صاحبان میں کون حق پرہیں اورکون سے نہیں؟*
----------------------------------------
*الجواب*
عوام کوایسے امورمیں بحث کرناسخت مضرت کاباعث ہوتاہے۔ مبادا کسی طرف گستاخی ہوجائے توعیاذاً باﷲ سخت تباہی وبربادی، بلکہ اس کی شامت سے زوال ایمان کااندیشہ ہے، حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس ﷲ سرہ العزیز ضروراکابر اولیاء سے ہیں مگر اس میں شک نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامرتبہ بہت اعلٰی وافضل ہے۔
_غوث اپنے دَورمیں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔_
*اورہمارے حضورامام حسن عسکری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کی تشریف آوری تک تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء ﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاک ہے*
۔امام ابوالحسن علی بن یوسف بن حمریر لخمی بن شطنوفی قدس سرہ العزیز نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں بسند مسلسل دواکابر اولیاء ﷲ معاصرین حضورغوث اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ حضرت سیدی احمد ابن ابی بکرحریمی وحضرت ابوعمروعثمان ابن صریفینی قدس ﷲ اسرارہما سے دوحدیثیں روایت فرمائیں۔پہلی کی سند یہ ہے:اخبرنا ابوالمعالی صالح ابن احمد بن علی البغدادی المالکی سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن البغدادی المعروف بالخفاف قال اخبرنا شیخنا الشیخ ابوالسعود احمدبن ابی بکرن الحریمی بہ سنۃ ثمانین وخمسامئۃ۔۱؎ اوردوسری سندیہ ہے: اخبرنا ابوالمعالی قال اخبرنا شیخ ابومحمد عبداللطیف البغدادی المعروف الصریفینی۲؎۔
اور ان دونوں حدیثوں کامتن یہ ہے کہ دونوں حضرات کرام نے فرمایا: وﷲ مااظھر ﷲ تعالٰی ولایظھر الی الوجود مثل الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی ﷲ تعالٰی عنہ۔۳
*یعنی خدا کی قسم ﷲ تعالٰی نے حضورسیدنا غوث الاعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے مانندنہ کوئی ولی عالم میں ظاہرکیانہ ظاہرکرے۔* (۱؎ بہجۃ الاسرار
ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵)
(۲؎بہجۃ الاسرار
ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵)
(۳؎بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصرص۲۵)
*نیزامام ممدوح کتاب موصوف میں حضرت سیدی ابومحمدبن عبدبصری رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کوفرماتے سنا:*
مااوصل ﷲ تعالٰی ولیا الٰی مقام الاوکان الشیخ عبدالقادر اعلاہ ولاسقی ﷲ حبیبا کاساً من حبہ الاوکان الشیخ عبدالقادر اھناہ، ولاوھب ﷲ لمقرب حالاالاوکان الشیخ عبدالقادر اجلہ، وقد اودعہ ﷲ تعالٰی سرّا من اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء ومااتخذ ﷲ ولیا کان اویکون الاوھو متادب معہ الٰی یوم القٰیمۃ۔۱؎
*یعنی ﷲ تعالٰی نے جس ولی کوکسی مقام تک پہنچایا شیخ عبدالقادر کامقام اس سے اعلٰی ہے، اور جس پیارے کو اپنی محبت کاجام پلایاشیخ عبدالقادر کے لئے اس سے بڑھ کرخوشگوار جام ہے اور جس مقرب کوکوئی حال عطافرمایا شیخ عبدالقادر کاحال اس سے اعظم ہے۔*
ﷲ تعالٰی نے اپنے اسرار سے وہ راز ان میں رکھاہے جس کے سبب ان کوجمہور اولیاء پرسبقت ہے۔
*اورﷲ تعال
------------5-----------------------------
حسن نوری دوآبہ وزیر گنج گونڈہ یوپی
------------------------------------
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ بعض مداری کہتے ہیں کہ مدار پاک غوث پاک سے افضل ہیں کیا یہ درست ہے؟
سرکار غوث پاک کن کن اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں؟
*فتاوی رضویہ شریف سے ایک فتوی ملاحظہ فرمائیں*
گزارش یہ ہے کہ ایک جگہ ایساجھگڑا آپڑا ہواہے وہ یہ ہے کہ خاندان غوثیہ والے ایک صاحب یعنی خاندان محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے صاحب نے مداریہ خاندان والوں سے کہاکہ ہماراخاندان بڑاہے،
تم لوگ ہمارے یہاں بیعت ہو۔ انہوں نے کہایعنی مداریہ والوں نے جواب دیاکہ ہماراخاندان تمہارے خاندان سے اچھانہیں ہے
، اوراچھابھی ہے توخدا کے یہاں خاندان نہ پوچھاجائے گا بلکہ عمل پوچھاجائے گا
۔ خاندان غوثیہ والوں نے ثبوت پیش کیاکہ حضرت غوث پاک کے بارے میں جناب رسول مقبول صلی ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میراقدم تیری گردن پراورتیرا قدم کل اولیاء ﷲ کی گردن پر ہوگا۔ *مداریوں نے دریافت کیاکہ* حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کی گردن پربھی اورحضرات حسنین علیہما السلام خواجہ حسن کی گردن پربھی رحمۃ ﷲ علیہ وحضرت خواجہ حبیب عجمی اورمدارصاحب کی گردن پرتھایانہیں؟
خاندان غوثیہ والوں نے جواب دیاکہ مدارصاحب کی گردن پرقدم تھا۔ اورجوصاحبان پہلے گزرچکے ہیں ان پرنہیں
*خاندان مداریہ والوں نے جواب دیا:*
ہماراخانوادہ طیفوریہ دوئم اورتمہارا خانوادہ طوسیہ ہفتم ہے، ہمارے خاندان سے تمہاراخاندان بعد میں ہوا۔
*اورمداریہ کہتے ہیں کہ مدارکارتبہ غوث سے اعلٰی ہے۔*
*جناب کو تکلیف دے کرعرض ہے کہ مدارکے کیامعنی ہیں؟ اورجو درجہ مداریہ ہے اس کی کیاتشریح ہے؟*
*اوران دونوں خاندان والے صاحبان میں کون حق پرہیں اورکون سے نہیں؟*
----------------------------------------
*الجواب*
عوام کوایسے امورمیں بحث کرناسخت مضرت کاباعث ہوتاہے۔ مبادا کسی طرف گستاخی ہوجائے توعیاذاً باﷲ سخت تباہی وبربادی، بلکہ اس کی شامت سے زوال ایمان کااندیشہ ہے، حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس ﷲ سرہ العزیز ضروراکابر اولیاء سے ہیں مگر اس میں شک نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامرتبہ بہت اعلٰی وافضل ہے۔
_غوث اپنے دَورمیں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔_
*اورہمارے حضورامام حسن عسکری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کی تشریف آوری تک تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء ﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاک ہے*
۔امام ابوالحسن علی بن یوسف بن حمریر لخمی بن شطنوفی قدس سرہ العزیز نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں بسند مسلسل دواکابر اولیاء ﷲ معاصرین حضورغوث اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ حضرت سیدی احمد ابن ابی بکرحریمی وحضرت ابوعمروعثمان ابن صریفینی قدس ﷲ اسرارہما سے دوحدیثیں روایت فرمائیں۔پہلی کی سند یہ ہے:اخبرنا ابوالمعالی صالح ابن احمد بن علی البغدادی المالکی سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن البغدادی المعروف بالخفاف قال اخبرنا شیخنا الشیخ ابوالسعود احمدبن ابی بکرن الحریمی بہ سنۃ ثمانین وخمسامئۃ۔۱؎ اوردوسری سندیہ ہے: اخبرنا ابوالمعالی قال اخبرنا شیخ ابومحمد عبداللطیف البغدادی المعروف الصریفینی۲؎۔
اور ان دونوں حدیثوں کامتن یہ ہے کہ دونوں حضرات کرام نے فرمایا: وﷲ مااظھر ﷲ تعالٰی ولایظھر الی الوجود مثل الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی ﷲ تعالٰی عنہ۔۳
*یعنی خدا کی قسم ﷲ تعالٰی نے حضورسیدنا غوث الاعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے مانندنہ کوئی ولی عالم میں ظاہرکیانہ ظاہرکرے۔* (۱؎ بہجۃ الاسرار
ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵)
(۲؎بہجۃ الاسرار
ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵)
(۳؎بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصرص۲۵)
*نیزامام ممدوح کتاب موصوف میں حضرت سیدی ابومحمدبن عبدبصری رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کوفرماتے سنا:*
مااوصل ﷲ تعالٰی ولیا الٰی مقام الاوکان الشیخ عبدالقادر اعلاہ ولاسقی ﷲ حبیبا کاساً من حبہ الاوکان الشیخ عبدالقادر اھناہ، ولاوھب ﷲ لمقرب حالاالاوکان الشیخ عبدالقادر اجلہ، وقد اودعہ ﷲ تعالٰی سرّا من اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء ومااتخذ ﷲ ولیا کان اویکون الاوھو متادب معہ الٰی یوم القٰیمۃ۔۱؎
*یعنی ﷲ تعالٰی نے جس ولی کوکسی مقام تک پہنچایا شیخ عبدالقادر کامقام اس سے اعلٰی ہے، اور جس پیارے کو اپنی محبت کاجام پلایاشیخ عبدالقادر کے لئے اس سے بڑھ کرخوشگوار جام ہے اور جس مقرب کوکوئی حال عطافرمایا شیخ عبدالقادر کاحال اس سے اعظم ہے۔*
ﷲ تعالٰی نے اپنے اسرار سے وہ راز ان میں رکھاہے جس کے سبب ان کوجمہور اولیاء پرسبقت ہے۔
*اورﷲ تعال
👍1
Forwarded from چینل صدائے حق
ٰی کے جتنے ولی ہوگئے یاہوں گے قیامت تک سب شیخ عبدالقادر کا ادب کریں گے۔*
(۱؎ بہجۃ الاسرار
ذکرابومحمد القاسم بن عبدالبصری مصطفی البابی مصرص۱۷۳)
_یہ شہادتیں ہیں حضرت خضراور حضرات اولیاء کرام کی، علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام ؎_
بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم
کہ ہواہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا
*جوولی قبل تھے یابعد ہوئے یاہوں گے*
*سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا*
۲؎وﷲ تعالٰی اعلم علمہ احکم
(۲؎ حدائق بخشش وصل سوم درحسن مفاخرت ازسرکار قادریت رضی ﷲ عنہ
مطبوعہ آرام باغ کراچی حصہ اول ص۶)
---------------15/03/2017------------
(۱؎ بہجۃ الاسرار
ذکرابومحمد القاسم بن عبدالبصری مصطفی البابی مصرص۱۷۳)
_یہ شہادتیں ہیں حضرت خضراور حضرات اولیاء کرام کی، علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام ؎_
بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم
کہ ہواہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا
*جوولی قبل تھے یابعد ہوئے یاہوں گے*
*سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا*
۲؎وﷲ تعالٰی اعلم علمہ احکم
(۲؎ حدائق بخشش وصل سوم درحسن مفاخرت ازسرکار قادریت رضی ﷲ عنہ
مطبوعہ آرام باغ کراچی حصہ اول ص۶)
---------------15/03/2017------------
👍1
Forwarded from چینل صدائے حق
*ہمارا اختلاف سرکار مدار سے نہیں جاہل مداریوں سے ہے*
_-----------------------6-----------------_
📝 حسن نوری دوابہ وزیر گنج گونڈہ
*-----------------------------*
*کہاں وہ جائے گا بچ کر میری نگاہوں سے*
*میں آئینہ ہوں اسے بے نقاب کرنا ہے*
مداریوں کیا تمہارے نزدیک دارا شکوہ بھی ولی ہے؟
مداریوں کیا تمہارا خدا مدار پاک کے کاندھوں پہ قدم رکھ کر عرش پہ استوی ہوا؟
مداریوں سیدنا غوث الاعظم کا یہ فرمان کہ *قدمی ھذہ رقبۃ علی کل ولی اللہ* کیا سیدنا مدار پاک اس سے مستثنی ہیں؟
مداریوں لطائف اشرفی میں کہاں ہے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قبل نبوت درجہ قطب مدار میں تھے؟
مداریوں آخر کب تک جھوٹ کے ذریعہ لوگوں کے آنکھ میں دھول جھونکتے رہو گے؟
مداریوں بزرگان دین کی جانب جھوٹ منسوب کرنے میں باک کیوں محسوس نہیں کرتے؟
مداریوں ہمیں سرکار مدار پاک علیہ الرحمہ جو اکابر اولیاء سے ہیں ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں اور کوئی بدنصیب ہی ہوگا جو ان کی ذات پر بے جا کلام کرے
ہمیں اختلاف موجودہ بعض جاہل اور غالی مداریوں سے ہے جو اہل سنت کا خون کر رہے ہیں
جو بزرگوں کی شان میں نازیبا باتیں کر رہے ہیں
جو غلو عقیدت میں مقام الہیت و نبوت کا پاس بھی نہیں رکھتے
ہمارے مخاطب وہی مداری ہیں
جو شریعت اسلامی کا کھلا مذاق اڑاتے ہیں
*ابھی جاری ہے*
---------15/03/2017-----------------
_-----------------------6-----------------_
📝 حسن نوری دوابہ وزیر گنج گونڈہ
*-----------------------------*
*کہاں وہ جائے گا بچ کر میری نگاہوں سے*
*میں آئینہ ہوں اسے بے نقاب کرنا ہے*
مداریوں کیا تمہارے نزدیک دارا شکوہ بھی ولی ہے؟
مداریوں کیا تمہارا خدا مدار پاک کے کاندھوں پہ قدم رکھ کر عرش پہ استوی ہوا؟
مداریوں سیدنا غوث الاعظم کا یہ فرمان کہ *قدمی ھذہ رقبۃ علی کل ولی اللہ* کیا سیدنا مدار پاک اس سے مستثنی ہیں؟
مداریوں لطائف اشرفی میں کہاں ہے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قبل نبوت درجہ قطب مدار میں تھے؟
مداریوں آخر کب تک جھوٹ کے ذریعہ لوگوں کے آنکھ میں دھول جھونکتے رہو گے؟
مداریوں بزرگان دین کی جانب جھوٹ منسوب کرنے میں باک کیوں محسوس نہیں کرتے؟
مداریوں ہمیں سرکار مدار پاک علیہ الرحمہ جو اکابر اولیاء سے ہیں ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں اور کوئی بدنصیب ہی ہوگا جو ان کی ذات پر بے جا کلام کرے
ہمیں اختلاف موجودہ بعض جاہل اور غالی مداریوں سے ہے جو اہل سنت کا خون کر رہے ہیں
جو بزرگوں کی شان میں نازیبا باتیں کر رہے ہیں
جو غلو عقیدت میں مقام الہیت و نبوت کا پاس بھی نہیں رکھتے
ہمارے مخاطب وہی مداری ہیں
جو شریعت اسلامی کا کھلا مذاق اڑاتے ہیں
*ابھی جاری ہے*
---------15/03/2017-----------------