🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور حجۃ الاسلام ، جمال الانام ، جانشینِ اعلیٰ حضرت ، الشاہ الامام مفتی محمد حامد رضا خان قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ رب محمد صلی علیہ وسلما
نحن عباد محمد صلی علیہ وسلما
ولادت:
ربیع الاول ۱۲۹۲ھ بمطابق ۱۸۷۵ء
وصال: ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ
بمطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء
ولادت شریف:
آپ کی ولادت باسعادت شہر بریلی میں ماہ ربیع الاول ۱۲۹۲ھ (۱۸۷۵ئ) میں ہوئی۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
اسم مبارک و خطاب:
عقیقہ میں آپ کا نام حسب دستور خاندانی محمد رکھا گیا۔ جن کے اعداد ۹۲ ہیں۔ اور یہی نام آپ کا تاریخی ہو گیا ۔ اور عرفی نام حامد رضا اور خطاب آپ کا حجۃ الاسلام ہے ۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
تعلیم و تربیت:
آپ کی تعلیم و تربیت آغوش والد ماجد امام اہلسنت شاہ احمد رضا فاضل بریلوی میں ہوئی ۔ والد ماجد آپ سے بڑی محبت فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ: ’’حامد منی وانا امنی حامد ‘‘جملہ علوم و فنون آپ نے اپنے والد ماجد سے پڑھے۔ یہاں تک کہ حدیث، تفسیر، فقہ و کتب معقول و منقول کو پڑھ کر صرف ۱۹ سال کی عمر شریف میں فارغ التحصیل ہو گئے۔ ( فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۵۳)
بیعت و خلافت:
آپ مرید و خلیفہ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ کے تھے اور والد ماجد اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضاعلیہ الرحمہ سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی۔ (تذکرہ علمائے اہلسنّت ص: ۸۱)
فضائل:
رئیس العلماء، تاج الاتقیاء، آفتاب شریعت و طریقت، شیخ المحدثین، راس المفسرین، مفکر اسلام، عالم علوم اسلام حضرت علامہ الشاہ حجۃ الاسلام مولانا الحاج قاری محمد حامد رضا خاں –
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چالیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔
آپ خلف اکبر امام اہلسنت شیخ الاسلام و المسلمین الشاہ احمد رضا خاں -کے ہیں۔ آپ اپنے والد ماجد کی تمام خوبیوں کے جامع تھے آپ کی شخصیت و حقانیت اسلام کی منہ بولتی تصویر تھی ۔ بیشتر غیر مسلم آپ کے چہرئہ انور کو دیکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حسن ظاہری کا یہ عالم تھا کہ ایک نظر میں دیکھنے والا پکار اٹھتا تھا کہ : ’’ھذا حجۃ الاسلام‘‘ (یہ اسلام کی دلیل ہیں) اور حرمین طیبین کی حاضری پر حضرت شیخ سید حسین دباغ اور سید مالکی ترکی علیہ الرحمہ نے آپ کی قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’ہم نے ہند وستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا‘‘۔
آپ کمالات باطنی کے جامع تھے۔ اپنے عہد کے لاثانی اور بے نظیر مدرس تھے، حدیث و تفسیر کا درس خاص طور پر مشہور تھا۔ اور عربی ادب میں منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ شعر و ادب کا بہت نازک اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ آپ نے مسلک اہلِ سنت و سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی بے مثال خدمت انجام دی۔ اور ساری عمر مسلمانانِ عالم اسلام کی فلاح و ترقی میں کوشاں رہے۔
عادات کریمہ:
آپ اپنے اسلاف و آبا و اجداد کے مکمل نمونہ تھے۔ اخلاق و عادات کے جامع تھے۔ آپ جب بات کرتے تو تبسم فرماتے ہوئے، لہجہ انتہائی محبت آمیز ہوتا۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت کا برتاؤ آپ کس شرست کے نمایاں جوہر تھے۔ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے۔ درود شریف کا اکثر ورد فرماتے یہی وجہ ہے کہ اکثر آپ کو نیند کے عالم میں بھی درود شریف پڑھتے دیکھا گیا۔ آپ کی طبیعت انتہائی نفاست پسند تھی چنانچہ آپ کا لباس آپ کی نفاست کا بہترین نمونہ ہوتا تھا۔ انگریز اور اس کی معاشرت کے آپ اپنے والد ماجد کی طرح شدید مخالف رہے۔ اور اس میں نمایاں کام انجام دیئے۔
انکساری:
حجۃ اسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ علوم و فنون کے شہنشاہ، زہد و تقویٰ میں یگانہ اور خطابت کے شہ سوار تھے۔ آپ نے اپنے اخلاق و کردار سے اپنے اسلاف کا جو نمونہ قوم کے سامنے چھوڑا ہے وہ ایک عینی شاہد کی زبانی ملاحظہ ہو،شیخ الدلائل مدنی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نورانی شکل و صورت والے ہیں۔ میری اتنی عزت کرتے کہ جب میں مدینہ طیبہ سے ان کے یہاں گیا۔ کپڑا لے کر میری جوتیاں تک صاف کرتے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے، ہر طرح خدمت کرتے کچھ روز کے قیام کے بعد جب میں بریلی شریف سے واپس عازم مدینہ ہونے لگا تو حضرت حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: مدینہ طیبہ میں سرکار اعظم میں میرا سلام عرض کرنا اور ؎
اب تو مدینے لے بلا، گنبد سبز دے دکھا
حامدؔ و مصطفیٰ تیرے ہند میں ہیں غلام دو
حسنِ سیرت:
جس طرح حجۃ الاسلام کا چہرہ خوبصورت تھا، اسی طرح ان کا دل بھی حسین تھا۔ وہ ہر ایک سے حسین تھے۔ صورت و سیرت، اخلاق و کردار، گفتار و رفتار، علم و فضل، تقویٰ و زہد سب حسین و خوبصورت، حجۃ الاسلامr بلند پایہ کردار اور پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ متواضع اور خلیق، مہربان اور رحیم و کریم، اپنے تو اپنے بیگانے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ رب محمد صلی علیہ وسلما
نحن عباد محمد صلی علیہ وسلما
ولادت:
ربیع الاول ۱۲۹۲ھ بمطابق ۱۸۷۵ء
وصال: ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ
بمطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء
ولادت شریف:
آپ کی ولادت باسعادت شہر بریلی میں ماہ ربیع الاول ۱۲۹۲ھ (۱۸۷۵ئ) میں ہوئی۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
اسم مبارک و خطاب:
عقیقہ میں آپ کا نام حسب دستور خاندانی محمد رکھا گیا۔ جن کے اعداد ۹۲ ہیں۔ اور یہی نام آپ کا تاریخی ہو گیا ۔ اور عرفی نام حامد رضا اور خطاب آپ کا حجۃ الاسلام ہے ۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
تعلیم و تربیت:
آپ کی تعلیم و تربیت آغوش والد ماجد امام اہلسنت شاہ احمد رضا فاضل بریلوی میں ہوئی ۔ والد ماجد آپ سے بڑی محبت فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ: ’’حامد منی وانا امنی حامد ‘‘جملہ علوم و فنون آپ نے اپنے والد ماجد سے پڑھے۔ یہاں تک کہ حدیث، تفسیر، فقہ و کتب معقول و منقول کو پڑھ کر صرف ۱۹ سال کی عمر شریف میں فارغ التحصیل ہو گئے۔ ( فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۵۳)
بیعت و خلافت:
آپ مرید و خلیفہ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ کے تھے اور والد ماجد اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضاعلیہ الرحمہ سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی۔ (تذکرہ علمائے اہلسنّت ص: ۸۱)
فضائل:
رئیس العلماء، تاج الاتقیاء، آفتاب شریعت و طریقت، شیخ المحدثین، راس المفسرین، مفکر اسلام، عالم علوم اسلام حضرت علامہ الشاہ حجۃ الاسلام مولانا الحاج قاری محمد حامد رضا خاں –
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چالیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔
آپ خلف اکبر امام اہلسنت شیخ الاسلام و المسلمین الشاہ احمد رضا خاں -کے ہیں۔ آپ اپنے والد ماجد کی تمام خوبیوں کے جامع تھے آپ کی شخصیت و حقانیت اسلام کی منہ بولتی تصویر تھی ۔ بیشتر غیر مسلم آپ کے چہرئہ انور کو دیکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حسن ظاہری کا یہ عالم تھا کہ ایک نظر میں دیکھنے والا پکار اٹھتا تھا کہ : ’’ھذا حجۃ الاسلام‘‘ (یہ اسلام کی دلیل ہیں) اور حرمین طیبین کی حاضری پر حضرت شیخ سید حسین دباغ اور سید مالکی ترکی علیہ الرحمہ نے آپ کی قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’ہم نے ہند وستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا‘‘۔
آپ کمالات باطنی کے جامع تھے۔ اپنے عہد کے لاثانی اور بے نظیر مدرس تھے، حدیث و تفسیر کا درس خاص طور پر مشہور تھا۔ اور عربی ادب میں منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ شعر و ادب کا بہت نازک اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ آپ نے مسلک اہلِ سنت و سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی بے مثال خدمت انجام دی۔ اور ساری عمر مسلمانانِ عالم اسلام کی فلاح و ترقی میں کوشاں رہے۔
عادات کریمہ:
آپ اپنے اسلاف و آبا و اجداد کے مکمل نمونہ تھے۔ اخلاق و عادات کے جامع تھے۔ آپ جب بات کرتے تو تبسم فرماتے ہوئے، لہجہ انتہائی محبت آمیز ہوتا۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت کا برتاؤ آپ کس شرست کے نمایاں جوہر تھے۔ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے۔ درود شریف کا اکثر ورد فرماتے یہی وجہ ہے کہ اکثر آپ کو نیند کے عالم میں بھی درود شریف پڑھتے دیکھا گیا۔ آپ کی طبیعت انتہائی نفاست پسند تھی چنانچہ آپ کا لباس آپ کی نفاست کا بہترین نمونہ ہوتا تھا۔ انگریز اور اس کی معاشرت کے آپ اپنے والد ماجد کی طرح شدید مخالف رہے۔ اور اس میں نمایاں کام انجام دیئے۔
انکساری:
حجۃ اسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ علوم و فنون کے شہنشاہ، زہد و تقویٰ میں یگانہ اور خطابت کے شہ سوار تھے۔ آپ نے اپنے اخلاق و کردار سے اپنے اسلاف کا جو نمونہ قوم کے سامنے چھوڑا ہے وہ ایک عینی شاہد کی زبانی ملاحظہ ہو،شیخ الدلائل مدنی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نورانی شکل و صورت والے ہیں۔ میری اتنی عزت کرتے کہ جب میں مدینہ طیبہ سے ان کے یہاں گیا۔ کپڑا لے کر میری جوتیاں تک صاف کرتے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے، ہر طرح خدمت کرتے کچھ روز کے قیام کے بعد جب میں بریلی شریف سے واپس عازم مدینہ ہونے لگا تو حضرت حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: مدینہ طیبہ میں سرکار اعظم میں میرا سلام عرض کرنا اور ؎
اب تو مدینے لے بلا، گنبد سبز دے دکھا
حامدؔ و مصطفیٰ تیرے ہند میں ہیں غلام دو
حسنِ سیرت:
جس طرح حجۃ الاسلام کا چہرہ خوبصورت تھا، اسی طرح ان کا دل بھی حسین تھا۔ وہ ہر ایک سے حسین تھے۔ صورت و سیرت، اخلاق و کردار، گفتار و رفتار، علم و فضل، تقویٰ و زہد سب حسین و خوبصورت، حجۃ الاسلامr بلند پایہ کردار اور پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ متواضع اور خلیق، مہربان اور رحیم و کریم، اپنے تو اپنے بیگانے
❤1
بھی ان کے حسن سیرت اور اخلاق کی بلندی کے معترف تھے۔ البتہ آپ دشمنان دین و سنیّت اور گستاخان خدا اور رسول کے لئے برہنہ شمشیر تھے۔ اور غلامانِ مصطفیٰ کے لئے شاخ گل کی مانند لچک دار اور نرم۔
شب برات آتی تو سب سے معافی مانگتے۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچوں اور خادماؤں اور خادموں اور مریدوں سے بھی فرماتے کہ اگر میری طرف سے کوئی بات ہوگئی ہو تو معاف کر دو اور کسی کا حق رہ گیا ہو تو بتا دو۔ آپ الحب ﷲ و البغض ﷲ اور اشداء علی الکفار و رحماء بینھم کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ اپنے شاگردوں اور مریدوں سے بھی بڑے لطف و کرم اور محبت سے پیش آتے تھے۔ اور ہر مرید اور شاگرد یہی سمجھتا تھا کہ اسی سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ آپ لمبے سفر سے بریلی واپس ہوئے۔ ابھی گھر پر اترے بھی نہ تھے اور تانگہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ بہاری پور بریلی کے ایک شخص نے جس کا بڑا بھائی آپ کا مرید تھا اور اس وقت بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔ آپ سے عرض کیا کہ حضور روز ہی آکر دیکھ جاتا ہوں لیکن چونکہ حضور سفر پر تھے اس لئے دولت کدے پر معلوم کر کے ناامید لوٹ جاتا تھا میرے بھائی سرکار کے مرید ہیں اور سخت بیمار ہیں چل پھر نہیں سکتے۔ ان کی بڑی تمنا ہے کہ کسی صورت اپنے مرشد کا دیدار کر لیں۔ اتنا کہنا تھا کہ آپ نے گھر کے سامنے تانگہ رکوا کر اسی پر بیٹھے ہی بیٹھے اپنے چھوٹے صاحبزادے نعمانی میاں صاحب کو آواز دی اور کہا کہ سامان اتر والو، میں بیمار کی عیادت کر کے ابھی آتا ہوںاور آپ فوراً اپنے مرید کی عیادت کیلئے چلے گئے۔
بنارس کے مرید آپ کے بہت منہ چڑھے تھے اور آپ سے بے پناہ عقیدت بھی رکھتے تھے۔ اور محبت بھی کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے دعوت کی مریدوں میں گھرے رہنے کے سبب آپ ان کے یہاں وقت سے کھانے میں نہ پہنچ سکے۔ ان صاحب نے کافی انتظار کیا اور جب آپ نہ پہنچے تو گھر میں تالا لگا کر اور بچوں کو لے کر کہیں چلے گئے۔ آپ جب ان کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ تالا بند ہے۔ مسکراتے ہوئے لوٹ آئے بعد میں ملاقات ہونے پر انہوں نے ناراضگی بھی ظاہر کی اور روٹھنے کی وجہ بھی بتائی۔ آپ نے بجائے ان پر ناراض ہونے یا اسے اپنی ہتک سمجھنے کیلئے الٹا منایا اور دلجوئی کی۔
آپ خلفائے اعلیٰ حضرت اور اپنے ہم عصر علماء سے نہ صرف محبت کرتے بلکہ ان کا احترام بھی کرتے تھے جب کہ بیشتر آپ سے عمر اور تقریباً سب ہی علم و فضل میں آپ سے چھوٹے اور کم پایہ کے تھے۔ سادات کرام خصوصاً مارہرہ مطہرہ کے مخدوم زادگان کے سامنے توبچھ جاتے تھے۔ اور آقاؤں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔
حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بڑی انسیت تھی۔ اور دونوں میں اچھے اور گہرے مراسم بھی تھے ان کو آپ ہی نے ’’شبیہ غوث اعظم‘‘ کہا۔ آپ ہر جلسہ اور خصوصاً بریلی کی تقریبات میں ان کا بہت شاندار تعارف کرتے تھے۔ محدث اعظم ہند سے بھی اچھے مراسم تھے۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی اور صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی صاحب رضی اللہ عنہما کو بہت مانتے اور چاہتے۔ شیر بشیۂ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ سے بڑے لطف و عنایت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ آپ کی شادی میں حضور حجۃ الاسلام نے شرکت کی۔
حافظ ملت حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب بانی الجامعہ الاشرفیہ مبارکپور پر بھی خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ ان کی دعوت پر اپنے فرزند اصغر حضرت نعمانی کے ہمراہ ۱۳۳۴ھ میں آپ مبارک پور تشریف لے گئے۔آپ کو اپنے داماد شاگرداور خلیفہ حضرت مولانا تقدس علی خاں سے بھی بڑی محبت تھی۔ مولانا تقدس علی خاں سفر میں آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے۔( ماہانہ حجاز جدید اپریل ۱۹۸۹ء ص:۵۰،۵۱)
زہد و تقویٰ:
حضور حجۃ الاسلام-نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے۔ علمی و تبلیغی کاموں سے فرصت پاتے تو ذکر الہٰی اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہو جاتے۔ آپ کے جسمِ اقدس پر ایک پھوڑا ہوگیا تھا۔ جس کا آپریشن ناگزیر تھا۔ ڈاکٹر نے بے ہوشی کا انجکشن لگانا چاہا تو منع فرمادیا اور صاف کہہ دیا کہ میں نشے والا ٹیکہ نہیں لگواؤں گا۔ عالم ہوش میں دو تین گھنٹے تک آپریشن ہوتا رہا۔ درود و شریف کا ورد کرتے رہے اور کسی بھی درد و کرب کا اظہار نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر آپ کی ہمت اور استقامت اور تقویٰ پر ششدر رہ گیا۔ (ماہانہ حجاز جدید دہلی اپریل ۱۹۸۹ئ ص: ۵۱)
علمی و تبلیغی کارنامے:
حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ خطیب، مایہ ناز ادیب اور یگانۂ روزگار عالم و فاضل تھے۔ دین متین کی خدمت و تبلیغ، ناموس مصطفیٰ کی حفاظت، قوم کی فلاح و بہبود ان کی زندگی کے اصل مقاصد تھے اور یہی سچ ہے کہ وہ غلبۂ اسلام کی خاطر زندہ رہے اور سفر آخرت فرمایا تو پرچم اسلام بلند کر کے اس دنیا سے سرخرو و کامران ہوکر گئے۔ اس صدی کے مجدد ان کے والد محترم سیدنا اعلیٰ حضرت نے خود ان کی علمی و دینی خدمت کو سراہا ہے اور ان پر ناز کیا ہے۔ مسلکِ اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کی خاطر آپ نے برصغیر کے مختلف شہروں اور قصبوں کے دورے
شب برات آتی تو سب سے معافی مانگتے۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچوں اور خادماؤں اور خادموں اور مریدوں سے بھی فرماتے کہ اگر میری طرف سے کوئی بات ہوگئی ہو تو معاف کر دو اور کسی کا حق رہ گیا ہو تو بتا دو۔ آپ الحب ﷲ و البغض ﷲ اور اشداء علی الکفار و رحماء بینھم کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ اپنے شاگردوں اور مریدوں سے بھی بڑے لطف و کرم اور محبت سے پیش آتے تھے۔ اور ہر مرید اور شاگرد یہی سمجھتا تھا کہ اسی سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ آپ لمبے سفر سے بریلی واپس ہوئے۔ ابھی گھر پر اترے بھی نہ تھے اور تانگہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ بہاری پور بریلی کے ایک شخص نے جس کا بڑا بھائی آپ کا مرید تھا اور اس وقت بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔ آپ سے عرض کیا کہ حضور روز ہی آکر دیکھ جاتا ہوں لیکن چونکہ حضور سفر پر تھے اس لئے دولت کدے پر معلوم کر کے ناامید لوٹ جاتا تھا میرے بھائی سرکار کے مرید ہیں اور سخت بیمار ہیں چل پھر نہیں سکتے۔ ان کی بڑی تمنا ہے کہ کسی صورت اپنے مرشد کا دیدار کر لیں۔ اتنا کہنا تھا کہ آپ نے گھر کے سامنے تانگہ رکوا کر اسی پر بیٹھے ہی بیٹھے اپنے چھوٹے صاحبزادے نعمانی میاں صاحب کو آواز دی اور کہا کہ سامان اتر والو، میں بیمار کی عیادت کر کے ابھی آتا ہوںاور آپ فوراً اپنے مرید کی عیادت کیلئے چلے گئے۔
بنارس کے مرید آپ کے بہت منہ چڑھے تھے اور آپ سے بے پناہ عقیدت بھی رکھتے تھے۔ اور محبت بھی کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے دعوت کی مریدوں میں گھرے رہنے کے سبب آپ ان کے یہاں وقت سے کھانے میں نہ پہنچ سکے۔ ان صاحب نے کافی انتظار کیا اور جب آپ نہ پہنچے تو گھر میں تالا لگا کر اور بچوں کو لے کر کہیں چلے گئے۔ آپ جب ان کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ تالا بند ہے۔ مسکراتے ہوئے لوٹ آئے بعد میں ملاقات ہونے پر انہوں نے ناراضگی بھی ظاہر کی اور روٹھنے کی وجہ بھی بتائی۔ آپ نے بجائے ان پر ناراض ہونے یا اسے اپنی ہتک سمجھنے کیلئے الٹا منایا اور دلجوئی کی۔
آپ خلفائے اعلیٰ حضرت اور اپنے ہم عصر علماء سے نہ صرف محبت کرتے بلکہ ان کا احترام بھی کرتے تھے جب کہ بیشتر آپ سے عمر اور تقریباً سب ہی علم و فضل میں آپ سے چھوٹے اور کم پایہ کے تھے۔ سادات کرام خصوصاً مارہرہ مطہرہ کے مخدوم زادگان کے سامنے توبچھ جاتے تھے۔ اور آقاؤں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔
حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بڑی انسیت تھی۔ اور دونوں میں اچھے اور گہرے مراسم بھی تھے ان کو آپ ہی نے ’’شبیہ غوث اعظم‘‘ کہا۔ آپ ہر جلسہ اور خصوصاً بریلی کی تقریبات میں ان کا بہت شاندار تعارف کرتے تھے۔ محدث اعظم ہند سے بھی اچھے مراسم تھے۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی اور صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی صاحب رضی اللہ عنہما کو بہت مانتے اور چاہتے۔ شیر بشیۂ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ سے بڑے لطف و عنایت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ آپ کی شادی میں حضور حجۃ الاسلام نے شرکت کی۔
حافظ ملت حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب بانی الجامعہ الاشرفیہ مبارکپور پر بھی خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ ان کی دعوت پر اپنے فرزند اصغر حضرت نعمانی کے ہمراہ ۱۳۳۴ھ میں آپ مبارک پور تشریف لے گئے۔آپ کو اپنے داماد شاگرداور خلیفہ حضرت مولانا تقدس علی خاں سے بھی بڑی محبت تھی۔ مولانا تقدس علی خاں سفر میں آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے۔( ماہانہ حجاز جدید اپریل ۱۹۸۹ء ص:۵۰،۵۱)
زہد و تقویٰ:
حضور حجۃ الاسلام-نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے۔ علمی و تبلیغی کاموں سے فرصت پاتے تو ذکر الہٰی اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہو جاتے۔ آپ کے جسمِ اقدس پر ایک پھوڑا ہوگیا تھا۔ جس کا آپریشن ناگزیر تھا۔ ڈاکٹر نے بے ہوشی کا انجکشن لگانا چاہا تو منع فرمادیا اور صاف کہہ دیا کہ میں نشے والا ٹیکہ نہیں لگواؤں گا۔ عالم ہوش میں دو تین گھنٹے تک آپریشن ہوتا رہا۔ درود و شریف کا ورد کرتے رہے اور کسی بھی درد و کرب کا اظہار نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر آپ کی ہمت اور استقامت اور تقویٰ پر ششدر رہ گیا۔ (ماہانہ حجاز جدید دہلی اپریل ۱۹۸۹ئ ص: ۵۱)
علمی و تبلیغی کارنامے:
حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ خطیب، مایہ ناز ادیب اور یگانۂ روزگار عالم و فاضل تھے۔ دین متین کی خدمت و تبلیغ، ناموس مصطفیٰ کی حفاظت، قوم کی فلاح و بہبود ان کی زندگی کے اصل مقاصد تھے اور یہی سچ ہے کہ وہ غلبۂ اسلام کی خاطر زندہ رہے اور سفر آخرت فرمایا تو پرچم اسلام بلند کر کے اس دنیا سے سرخرو و کامران ہوکر گئے۔ اس صدی کے مجدد ان کے والد محترم سیدنا اعلیٰ حضرت نے خود ان کی علمی و دینی خدمت کو سراہا ہے اور ان پر ناز کیا ہے۔ مسلکِ اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کی خاطر آپ نے برصغیر کے مختلف شہروں اور قصبوں کے دورے
❤1
فرمائے ہیں، گستاخانِ رسول وہابیہ سے مناظرے کئے ہیں۔ سیاست دانوں کے دام فریب سے مسلمانوں کو نکالا ہے۔ شد ھی تحریک کی پسپائی کیلئے جی توڑ کر کوشش کی ہے اور ہر جہت سے باطل اور باطل پرستوں کا رد اور انسداد کیا ہے۔
سیاسی بصیرت اور حمایتِ حق:
حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ سیاست دانوں کی چالوں کو خوب سمجھتے تھے اور اپنے زمانے کے حال سے پوری طرح باخبر رہ کر مسلمانوں کو سیاست و ریاست کے چنگل سے بچانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس آندھی میں اڑنے والے مسلم علماء قائدین اور دانش وروں سے افہام و تفہیم اور حق نہ قبول کرنے پر ان سے ہر طرح کی نبرد آزمائی کیلئے بھی تیار تھے۔
مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی پر ان کی کچھ سیاسی حرکات اور تحریرات کی بناء پر سیدنا اعلیٰ حضرت نے پر فتویٰ صادر فرمایا۔ مولانا عبدالباری صاحبr نے نجدیوں کے ذریعہ حرمین شریفین کے قبہ جات گرانے اور بے حرمتی کرنے کے سلسلہ میں لکھنؤ میں ایک کانفرنس بلائی تھی۔ حضرت حجۃ الاسلام ’’جماعتِ رضائے مصطفیٰ‘‘ کی طرف سے چند مشہور علماء کے ہمراہ لکھنؤ تشریف لے گئے۔ وہاں مولانا عبدالباری اور ان کے متعلقین و مریدین نے زبردست استقبال کیا اور جب مولانا عبدالباری علیہ الرحمہ نے حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ سے مصافحہ کرنا چاہا تو آپ نے ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا کہ جب تک میرے والد گرامی کا فتویٰ ہے اور جب تک آپ توبہ نہیں کر لیں گے میں آپ سے نہیں مل سکتا۔
حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی کا لقب’’ صورت الایمان‘‘ تھا۔ انہوں نے حق کو حق سمجھ کر کھلے دل سے توبہ کر لی اور یہ فرمایا:
’’ لاج رہے یا نہ رہے، میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے توبہ کر رہا ہوں، مجھ کو اسی کے دربار میں جانا ہے۔ مولوی احمد رضا خاں نے جو کچھ لکھا ہے، صحیح لکھا ہے‘‘۔
اسلامی قانون کی حمایت میں جرح اور بیباکی:
لکھنؤ ہی میں مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے معاملے میں قانون بنائے جانے پر ایک کانفرنس کے موقع پر حضر ت حجۃ الاسلام، صدر الافاضل، اور مولانا تقدس علی خان بریلی شریف سے شرکت کیلئے گئے تھے۔ اس کانفرنس میں شیعہ اور ندوی مولویوں کے علاوہ شاہ سلیمان چیف جسٹس ہائی کورٹ اور حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے دامادو بھتیجے عبدالولی بھی تھے۔ حجۃ الاسلام نے جرح میں سب کو اکھاڑ دیا۔ اور فیصلہ انہی کے حق میں ہوا۔ حمایتِ اسلام اور شریعت مصطفیٰ و ناموس رسالت کے معاملے میں حجۃ الاسلام نے ہمیشہ حق گوئی سے کام لیا اور کسی بھی مصلحت کو پھٹکنے نہ دیا۔
مصلحانہ شان:
۱۹۳۵ء میں مسلمانوں کے مذہبی، قومی، سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کے سلسلہ میں ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے مراد آباد میں چار روزہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کے اجلاس کی صدارت حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی اور اس موقع پر فصیح و بلیغ پرمغز و پرتدبیر خطبہ دیا تھا ،وہ ان کی سیاسی بصیرت، علمی وجاہت قیادت و سیادت اور ملی و قومی ہمدردی اور دینی حمایت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اور جس سے ان کے عالمانہ ، مصلحانہ و مفکرانہ شان و عظمت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے یہ خطبہ عوام و خواص، علماء و طلباء ہر ایک کیلئے لائق مطالعہ ہے۔ اس خطبہ سے حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کی ادبی شان بھی جھلکتی ہے۔
زبان و ادب پر مہارت:حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کی زبان دانی اور ان کی فصاعت و بلاغت نثر نگاری و شاعری خصوصاً عربی زبان و ادب پر عبور اور مہارت کی تعریف علمائے عرب نے بھی کی ہے۔ حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کے دوسرے حج و زیارت (۱۳۴۲ھ) کے موقع پر عرب کے معروف عربی داں حضرت شیخ سیّد دباغ اور سیّد مالکی ترکیt نے آپ کی عربی دانی اور قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس طرح اعتراف کیا ہے:
’’ہم نے ہندوستان کے اکناف و اطراف میں حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ دوسرا نہیں دیکھاجسے عربی زبان میں اتنا عبور حاصل ہو‘‘۔
حضور اعلیٰ حضرت ہی کی حیات میں حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی نے ایک بار اپنے ایک رسالے پر جسے انہوں نے علم غیب کے مسئلہ پر لکھا تھا۔ حجۃ الاسلام سے تقریظ لکھنے کی فرمائش کی۔ حضرت نے قلم برداشتہ ان کے سامنے عربی زبان میں ایک فصیح تقریظ تحریر فرما دی۔
اعلیٰ حضرت کی عربی زبان کی کتب’’ الدولت المکیہ‘‘ اور’’ کفل الفقیہ الفاہم ‘‘کی طباعت کے وقت اعلیٰ حضرت کے حکم پر اسی وقت عربی زبان میں تمہیدات تحریر کر دیں۔ جنہیں دیکھ کر اعلیٰ حضرت بہت خوش ہوئے،خوب سراہا اور دعائیں دیں۔
آپ کی عربی دانی کا ایک اہم واقعہ:
حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ کو ایک بار دارالعلوم معینیہ، اجمیر شریف میں طلباء کا امتحان لینے اور دارالعلوم کے معائنہ کے لئے دعوت دی گئی۔ طلباء کے امتحان وغیرہ سے فارغ ہوکر جب آپ چلنے لگے تو مولانا معین الدین صاحب اجمیری علیہ الرحمہ نے دارالعلوم کے معائنے کے سلسلے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی۔ آپ نے فرمایا کہ فقیر تین زبانیں جانتا ہے۔ عربی، فارسی اور اردو! آپ جس زبان میں کہیں لکھ دوں۔
سیاسی بصیرت اور حمایتِ حق:
حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ سیاست دانوں کی چالوں کو خوب سمجھتے تھے اور اپنے زمانے کے حال سے پوری طرح باخبر رہ کر مسلمانوں کو سیاست و ریاست کے چنگل سے بچانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس آندھی میں اڑنے والے مسلم علماء قائدین اور دانش وروں سے افہام و تفہیم اور حق نہ قبول کرنے پر ان سے ہر طرح کی نبرد آزمائی کیلئے بھی تیار تھے۔
مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی پر ان کی کچھ سیاسی حرکات اور تحریرات کی بناء پر سیدنا اعلیٰ حضرت نے پر فتویٰ صادر فرمایا۔ مولانا عبدالباری صاحبr نے نجدیوں کے ذریعہ حرمین شریفین کے قبہ جات گرانے اور بے حرمتی کرنے کے سلسلہ میں لکھنؤ میں ایک کانفرنس بلائی تھی۔ حضرت حجۃ الاسلام ’’جماعتِ رضائے مصطفیٰ‘‘ کی طرف سے چند مشہور علماء کے ہمراہ لکھنؤ تشریف لے گئے۔ وہاں مولانا عبدالباری اور ان کے متعلقین و مریدین نے زبردست استقبال کیا اور جب مولانا عبدالباری علیہ الرحمہ نے حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ سے مصافحہ کرنا چاہا تو آپ نے ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا کہ جب تک میرے والد گرامی کا فتویٰ ہے اور جب تک آپ توبہ نہیں کر لیں گے میں آپ سے نہیں مل سکتا۔
حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی کا لقب’’ صورت الایمان‘‘ تھا۔ انہوں نے حق کو حق سمجھ کر کھلے دل سے توبہ کر لی اور یہ فرمایا:
’’ لاج رہے یا نہ رہے، میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے توبہ کر رہا ہوں، مجھ کو اسی کے دربار میں جانا ہے۔ مولوی احمد رضا خاں نے جو کچھ لکھا ہے، صحیح لکھا ہے‘‘۔
اسلامی قانون کی حمایت میں جرح اور بیباکی:
لکھنؤ ہی میں مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے معاملے میں قانون بنائے جانے پر ایک کانفرنس کے موقع پر حضر ت حجۃ الاسلام، صدر الافاضل، اور مولانا تقدس علی خان بریلی شریف سے شرکت کیلئے گئے تھے۔ اس کانفرنس میں شیعہ اور ندوی مولویوں کے علاوہ شاہ سلیمان چیف جسٹس ہائی کورٹ اور حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے دامادو بھتیجے عبدالولی بھی تھے۔ حجۃ الاسلام نے جرح میں سب کو اکھاڑ دیا۔ اور فیصلہ انہی کے حق میں ہوا۔ حمایتِ اسلام اور شریعت مصطفیٰ و ناموس رسالت کے معاملے میں حجۃ الاسلام نے ہمیشہ حق گوئی سے کام لیا اور کسی بھی مصلحت کو پھٹکنے نہ دیا۔
مصلحانہ شان:
۱۹۳۵ء میں مسلمانوں کے مذہبی، قومی، سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کے سلسلہ میں ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے مراد آباد میں چار روزہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کے اجلاس کی صدارت حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی اور اس موقع پر فصیح و بلیغ پرمغز و پرتدبیر خطبہ دیا تھا ،وہ ان کی سیاسی بصیرت، علمی وجاہت قیادت و سیادت اور ملی و قومی ہمدردی اور دینی حمایت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اور جس سے ان کے عالمانہ ، مصلحانہ و مفکرانہ شان و عظمت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے یہ خطبہ عوام و خواص، علماء و طلباء ہر ایک کیلئے لائق مطالعہ ہے۔ اس خطبہ سے حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کی ادبی شان بھی جھلکتی ہے۔
زبان و ادب پر مہارت:حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کی زبان دانی اور ان کی فصاعت و بلاغت نثر نگاری و شاعری خصوصاً عربی زبان و ادب پر عبور اور مہارت کی تعریف علمائے عرب نے بھی کی ہے۔ حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کے دوسرے حج و زیارت (۱۳۴۲ھ) کے موقع پر عرب کے معروف عربی داں حضرت شیخ سیّد دباغ اور سیّد مالکی ترکیt نے آپ کی عربی دانی اور قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس طرح اعتراف کیا ہے:
’’ہم نے ہندوستان کے اکناف و اطراف میں حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ دوسرا نہیں دیکھاجسے عربی زبان میں اتنا عبور حاصل ہو‘‘۔
حضور اعلیٰ حضرت ہی کی حیات میں حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی نے ایک بار اپنے ایک رسالے پر جسے انہوں نے علم غیب کے مسئلہ پر لکھا تھا۔ حجۃ الاسلام سے تقریظ لکھنے کی فرمائش کی۔ حضرت نے قلم برداشتہ ان کے سامنے عربی زبان میں ایک فصیح تقریظ تحریر فرما دی۔
اعلیٰ حضرت کی عربی زبان کی کتب’’ الدولت المکیہ‘‘ اور’’ کفل الفقیہ الفاہم ‘‘کی طباعت کے وقت اعلیٰ حضرت کے حکم پر اسی وقت عربی زبان میں تمہیدات تحریر کر دیں۔ جنہیں دیکھ کر اعلیٰ حضرت بہت خوش ہوئے،خوب سراہا اور دعائیں دیں۔
آپ کی عربی دانی کا ایک اہم واقعہ:
حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ کو ایک بار دارالعلوم معینیہ، اجمیر شریف میں طلباء کا امتحان لینے اور دارالعلوم کے معائنہ کے لئے دعوت دی گئی۔ طلباء کے امتحان وغیرہ سے فارغ ہوکر جب آپ چلنے لگے تو مولانا معین الدین صاحب اجمیری علیہ الرحمہ نے دارالعلوم کے معائنے کے سلسلے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی۔ آپ نے فرمایا کہ فقیر تین زبانیں جانتا ہے۔ عربی، فارسی اور اردو! آپ جس زبان میں کہیں لکھ دوں۔
❤1
مولانا معین الدین صاحب اس وقت تک اعلیٰ حضرت یا حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ سے اتنے متاثر نہ تھے جتنا ہونا چاہئے تھا انہوں نے کہہ دیا: عربی میں تحریر کر دیجئے۔
حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ نے قلم برداشتہ کئی صفحہ کا نہایت ہی فصیح و بلیغ عربی میں معائنہ تحریر فرمادیا۔حجۃ الاسلام کے اس قلم برداشتہ لکھنے پر مولانا معین الدین صاحب موصوف حیرت زدہ بھی ہورہے تھے اور سوچ بھی رہے تھے کہ جانے کیا لکھ رہے ہیں کیوں کہ ان کو اپنی عربی دانی پر بڑا ناز تھا۔
جب معائنہ لکھ کر حجۃ الاسلام چلے آئے تو بعد میں اس کے ترجمہ کیلئے مولانا مرحوم بیٹھے تو انہیں حجۃ الاسلام کی عربی سمجھنے میں بڑی ہی دقت پیش آئی بمشکل تمام لغت دیکھ دیکھ کر ترجمہ کیا۔ وہ بھی پورا پورا ترجمہ نہیں کر سکے اور بعض الفاظ انہیں لغت میں نہ ملے بعد میں انہیں عرب علماء کی زبان اور ان کی کتب سے حاصل ہوئے۔ تب جاکر انہیں ان الفاظ اور محاوروں کا علم ہوا۔
راجہ گوالیار کی عقیدت:
آپ کے حسن و جمال کا یہ عالم تھا کہ صرف صورت دیکھ کر لوگ عاشق و شیدا بن جاتے تھے چنانچہ آپ ایک مرتبہ گوالیار تشریف لے گئے۔ آپ کا قیام جب تک وہاں رہا ہر روز وہاں کا راجہ صرف آپ کی زیارت کیلئے حاضر ہوتا تھا۔ اور آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوتا تھا۔ اسی طرح چتوڑ گڑھ ،اودے پور کے راجگان آپ کے بڑے شیدائی رہے۔
یوں ہی ایک مرتبہ آپ سفر سے تشریف لائے۔ اسٹیشن پر آپ جس وقت اترے تو اسی وقت عطا اللہ بخاری بھی اترا۔ اس نے لوگوں سے پو چھا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ اعلیٰ حضرت -کے جانشین حضرت مولانا حامد رضا خاں ہیں ۔یہ سن کر کہنے لگا کہ:’’ میں نے مولوی تو بہت دیکھے مگر ان سے زیادہ حسین کسی مولوی کو نہ پایا‘‘۔( ماہنامہ اعلیٰ حضرت/ جون ۱۹۶۳ء /ص: ۱۷)
حج و زیارت:
آپ زیارت حرمین شریفین سے بھی مشرف ہوئے چنانچہ ۱۳۲۳ھ / ۱۹۰۵ء میں اپنے والد مکرم، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت – کے ہمراہ حج کو تشریف لے گئے۔ یہ حج آپ کا علمی و تحقیقی میدان میں عظیم حج تھا۔ اور جو کار نمایاں آپ نے اس حج میں ادا فرمایا وہ’’ الدولۃ المکیۃ‘‘ کی ترتیب ہے۔ جسے فاضل بریلوی -نے صرف آٹھ گھنٹے کی قلیل مدت میں قلم برداشتہ لکھا، مذکورہ کتاب کے اجزاء حضور حجۃ الاسلام کو دیتے جاتے،آپ ان کو صاف کرتے جاتے تھے۔ پھر اس کا ترجمہ بھی آپ ہی نے کیا۔ یہ ترجمہ بہت ہی اہم ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ زیارتِ سرکار مدینہ کا اشتیاق کس درجہ آپ کو تھا، اس کا صحیح اندازہ آپ کے مندرجہ ذیل شعر سے ہوتا ہے۔
اسی تمنا میں دم پڑا ہے یہی سہارا ہے زندگی کا
بلا لو مجھ کو مدینہ سرور، نہیں تو جینا حرام ہوگا
اور دوسرا حج آپ نے ۱۳۳۴ھ میں ادا فرمایا۔
پاکستان آمد:
قیام پاکستان سے پہلے آپ ۱۹۲۵ء میں ’’انجمن حزب الاحناف‘‘ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے۔ چنانچہ اسی دوران سرگروہ دیابنہ کو مناظرہ کا چیلنج دیا گیا اور مناظرہ کی غرض سے آپ کے ساتھ اکابر علمائے اہلسنّت تشریف لے گئے لیکن عین وقت پر فریق مخالف نے عذر لنگ پیش کر کے جلسہ گاہ میں آنے سے انکار کر دیا۔ جیسا کہ جناب سیّد ایوب علی صاحبr اپنی ایک منقبت میں اسی مناظرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہندوستان میں دھوم ہے کس بات کی، معلوم ہے؟
لاہور میں دولہا بنا حامد رضا ، حامد رضا
سمجھتے تھے کیا اور کیا ہوا ، ارمان دل میں رہ گیا
تیرے ہی سر سہرا رہا حامد رضا ، حامد رضا
ایوبؔ قصہ مختصر ، آیا نہ کوئی وقت پر
تیرے مقابل منچلا حامد رضا ، حامد رضا
اسی مناظرہ کے موقع پر حضرت حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کی ملاقات ڈاکٹر اقبال سے بھی ہوئی اور ڈاکٹر اقبال کو جب حجۃ الاسلام rنے دیوبندی مولویوں کی گستاخانہ عبارتیں سنائیں تو وہ سن کر حیرت زدہ رہ گئے اور بے ساختہ بولے کہ:
’’مولانا یہ ایسی گستاخانہ عبارات ہیں کہ ان لوگوں پر آسمان کیوں نہیں ٹوٹ پڑا، ان پر تو آسمان ٹوٹ پڑ جانا چاہئے‘‘۔( دعوتِ فکر /ص: ۳۵)
اس جلسہ سے سب سے بڑا فائدہ جو دنیائے سنّیت کو ہوا وہ حضرت محدث اعظم پاکستان علامہ مولانا سردار احمد صاحب-جیسی بزرگ ترین ہستی کا حصول ہے۔ واقعات اس طرح منقول ہیں کہ حصرت حجۃ الاسلام انجمن حزب الاحناف کے جلسہ میں لاہور تشریف لے گئے۔ وہاں چند روز آپ کا قیام رہا جلسہ گاہ میں دوسرے لوگوں کی طرح مولانا سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ بھی آئے! اور حضرت حجۃ الاسلام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ (مولانا سردار صاحب اس وقت انگریزی تعلیم حاصل کر رہے تھے) حضرت کی زیارت نے آپ کے قلب پر جو اثرات چھوڑے انہیں آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ اس روز سے برابر حضرت کی قیام گاہ پر پہنچتے رہے۔ دوسرے لوگ آتے اور اپنی اپنی حاجتیں بیان کرتے لیکن مولانا سردار احمد صاحب از اوَل تا آخر خاموش موّدب بیٹھے رہتے اور جب حضرت کے آرام کا وقت ہوتا تو لوگوں کے ساتھ اٹھ کر چلے جاتے اسی طرح کئی دن گزر گئے اور حضرت کی وطن واپسی میں ایک یا دو دن باقی
حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ نے قلم برداشتہ کئی صفحہ کا نہایت ہی فصیح و بلیغ عربی میں معائنہ تحریر فرمادیا۔حجۃ الاسلام کے اس قلم برداشتہ لکھنے پر مولانا معین الدین صاحب موصوف حیرت زدہ بھی ہورہے تھے اور سوچ بھی رہے تھے کہ جانے کیا لکھ رہے ہیں کیوں کہ ان کو اپنی عربی دانی پر بڑا ناز تھا۔
جب معائنہ لکھ کر حجۃ الاسلام چلے آئے تو بعد میں اس کے ترجمہ کیلئے مولانا مرحوم بیٹھے تو انہیں حجۃ الاسلام کی عربی سمجھنے میں بڑی ہی دقت پیش آئی بمشکل تمام لغت دیکھ دیکھ کر ترجمہ کیا۔ وہ بھی پورا پورا ترجمہ نہیں کر سکے اور بعض الفاظ انہیں لغت میں نہ ملے بعد میں انہیں عرب علماء کی زبان اور ان کی کتب سے حاصل ہوئے۔ تب جاکر انہیں ان الفاظ اور محاوروں کا علم ہوا۔
راجہ گوالیار کی عقیدت:
آپ کے حسن و جمال کا یہ عالم تھا کہ صرف صورت دیکھ کر لوگ عاشق و شیدا بن جاتے تھے چنانچہ آپ ایک مرتبہ گوالیار تشریف لے گئے۔ آپ کا قیام جب تک وہاں رہا ہر روز وہاں کا راجہ صرف آپ کی زیارت کیلئے حاضر ہوتا تھا۔ اور آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوتا تھا۔ اسی طرح چتوڑ گڑھ ،اودے پور کے راجگان آپ کے بڑے شیدائی رہے۔
یوں ہی ایک مرتبہ آپ سفر سے تشریف لائے۔ اسٹیشن پر آپ جس وقت اترے تو اسی وقت عطا اللہ بخاری بھی اترا۔ اس نے لوگوں سے پو چھا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ اعلیٰ حضرت -کے جانشین حضرت مولانا حامد رضا خاں ہیں ۔یہ سن کر کہنے لگا کہ:’’ میں نے مولوی تو بہت دیکھے مگر ان سے زیادہ حسین کسی مولوی کو نہ پایا‘‘۔( ماہنامہ اعلیٰ حضرت/ جون ۱۹۶۳ء /ص: ۱۷)
حج و زیارت:
آپ زیارت حرمین شریفین سے بھی مشرف ہوئے چنانچہ ۱۳۲۳ھ / ۱۹۰۵ء میں اپنے والد مکرم، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت – کے ہمراہ حج کو تشریف لے گئے۔ یہ حج آپ کا علمی و تحقیقی میدان میں عظیم حج تھا۔ اور جو کار نمایاں آپ نے اس حج میں ادا فرمایا وہ’’ الدولۃ المکیۃ‘‘ کی ترتیب ہے۔ جسے فاضل بریلوی -نے صرف آٹھ گھنٹے کی قلیل مدت میں قلم برداشتہ لکھا، مذکورہ کتاب کے اجزاء حضور حجۃ الاسلام کو دیتے جاتے،آپ ان کو صاف کرتے جاتے تھے۔ پھر اس کا ترجمہ بھی آپ ہی نے کیا۔ یہ ترجمہ بہت ہی اہم ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ زیارتِ سرکار مدینہ کا اشتیاق کس درجہ آپ کو تھا، اس کا صحیح اندازہ آپ کے مندرجہ ذیل شعر سے ہوتا ہے۔
اسی تمنا میں دم پڑا ہے یہی سہارا ہے زندگی کا
بلا لو مجھ کو مدینہ سرور، نہیں تو جینا حرام ہوگا
اور دوسرا حج آپ نے ۱۳۳۴ھ میں ادا فرمایا۔
پاکستان آمد:
قیام پاکستان سے پہلے آپ ۱۹۲۵ء میں ’’انجمن حزب الاحناف‘‘ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے۔ چنانچہ اسی دوران سرگروہ دیابنہ کو مناظرہ کا چیلنج دیا گیا اور مناظرہ کی غرض سے آپ کے ساتھ اکابر علمائے اہلسنّت تشریف لے گئے لیکن عین وقت پر فریق مخالف نے عذر لنگ پیش کر کے جلسہ گاہ میں آنے سے انکار کر دیا۔ جیسا کہ جناب سیّد ایوب علی صاحبr اپنی ایک منقبت میں اسی مناظرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہندوستان میں دھوم ہے کس بات کی، معلوم ہے؟
لاہور میں دولہا بنا حامد رضا ، حامد رضا
سمجھتے تھے کیا اور کیا ہوا ، ارمان دل میں رہ گیا
تیرے ہی سر سہرا رہا حامد رضا ، حامد رضا
ایوبؔ قصہ مختصر ، آیا نہ کوئی وقت پر
تیرے مقابل منچلا حامد رضا ، حامد رضا
اسی مناظرہ کے موقع پر حضرت حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کی ملاقات ڈاکٹر اقبال سے بھی ہوئی اور ڈاکٹر اقبال کو جب حجۃ الاسلام rنے دیوبندی مولویوں کی گستاخانہ عبارتیں سنائیں تو وہ سن کر حیرت زدہ رہ گئے اور بے ساختہ بولے کہ:
’’مولانا یہ ایسی گستاخانہ عبارات ہیں کہ ان لوگوں پر آسمان کیوں نہیں ٹوٹ پڑا، ان پر تو آسمان ٹوٹ پڑ جانا چاہئے‘‘۔( دعوتِ فکر /ص: ۳۵)
اس جلسہ سے سب سے بڑا فائدہ جو دنیائے سنّیت کو ہوا وہ حضرت محدث اعظم پاکستان علامہ مولانا سردار احمد صاحب-جیسی بزرگ ترین ہستی کا حصول ہے۔ واقعات اس طرح منقول ہیں کہ حصرت حجۃ الاسلام انجمن حزب الاحناف کے جلسہ میں لاہور تشریف لے گئے۔ وہاں چند روز آپ کا قیام رہا جلسہ گاہ میں دوسرے لوگوں کی طرح مولانا سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ بھی آئے! اور حضرت حجۃ الاسلام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ (مولانا سردار صاحب اس وقت انگریزی تعلیم حاصل کر رہے تھے) حضرت کی زیارت نے آپ کے قلب پر جو اثرات چھوڑے انہیں آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ اس روز سے برابر حضرت کی قیام گاہ پر پہنچتے رہے۔ دوسرے لوگ آتے اور اپنی اپنی حاجتیں بیان کرتے لیکن مولانا سردار احمد صاحب از اوَل تا آخر خاموش موّدب بیٹھے رہتے اور جب حضرت کے آرام کا وقت ہوتا تو لوگوں کے ساتھ اٹھ کر چلے جاتے اسی طرح کئی دن گزر گئے اور حضرت کی وطن واپسی میں ایک یا دو دن باقی
❤1
رہ گئے۔ چنانچہ ایک روز خود حضور حجۃ الاسلام – نے آپ سے دریافت کیا کہ:’’ صاحبزادے ! کیا وجہ ہے کہ آپ روز آتے ہیں لیکن خاموش بیٹھ کر کر چلے جاتے ہیں؟‘‘ دریافت حال پر مولانا موصوف نے علم دین حاصل کرنے کی غرض سے آپ کے ہمراہ چلنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ حضرت نے بخوشی منظور فرما لیا۔ اور اپنے ساتھ بریلی شریف لائے۔ چنانچہ حضرت کی باکرامت صحبت سے اپنے وقت کے عظیم محدث اور کامیاب مدرس ہوئے اور تقسیمِ پاکستان کے بعد لاہور میں سنی مسلمانوں کی قیادت آپ کے حصّے میں آئی۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت/ جون ۱۹۶۳ء /ص: ۱۷،۱۸)ۙۙؒ
ملی خدمات:
آپ نے برصغیر کے مسلمانوں کے معاشرتی ناگفتہ بہ حالت کو بہتر بنانے کیلئے ۱۹۲۵ء میں ’’آل انڈیا سنی کانفرنس‘‘ منعقدہ مراد آباد میں چند تجاویز کا ذکر اپنے خطبہ صدار ت میں کیا ہے مگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک دستور العمل ہے کہ اگر اسی کے مطابق کام ہوا ہوتا تو آج مسلمانوں کی حالت کچھ اور ہی ہوتی اور معاشی، تعلیمی ،تجارتی ،ہر دینی و دنیاوی امور میں مسلمان کسی بھی قوم سے پیچھے نہ ہوتا۔ اسی خطبۂ صدارت میں ملازمت کی حوصلہ شکنی کر کے صنعت اور تعلیم و تجارت پر زور دیا ہے، ملازمت کا حال یوں بیان فرماتے ہیں:
’’ہمارا ذریعہ معاش صرف نوکری اور غلامی ہے اور اس کی بھی یہ حالت ہے کہ ہندو نواب مسلمان کو ملازم رکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ رہیں گورنمنٹی ملازمتیں ان کا حصول طول امل ہے۔ اگر رات دن کی تگ و دو اور ان تھک کوششوں سے کوئی معقول سفارش پہنچی تو کہیں امیدواروں میں نام درج ہونے کی نوبت آتی ہے برسوں بعد جگہ ملنے کی امید پر روزانہ خدمت مفت انجام دیا کرو اگر بہت بلند ہّمت ہوئے اور قرض پر بسر اوقات کر کے برسوں کے بعد کوئی ملازمت حاصل بھی کی تو اس وقت تک قرض کا اتنا انبار ہوجاتا ہے جس کو ملازمت کی آمدنی سے ادا نہیں کر سکتے۔ پھر ہندوؤں کی اکثریت کی باعث آنکھوں میں کھٹکتے رہتے ہیں…ہمیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہماری روزی نوکری میں منحصر ہے ہمیں حرفے اور پیشے سیکھنا چاہئیں… اب اس کی تمام قابلیتیں ہیچ ہیں، سندیں بیکار ہیں، زندگی وبال ہے، اولاد کی تربیت اس ناداری میں کیونکر ہوسکے۔ خود تباہ، نسل برباد، لیکن پیشہ ور ہوتا، ہاتھ میں کوئی ہنر رکھتا تو اس طرح محتاج نہ ہوجاتا، نوکری گئی بلا سے اس کا ذریعہ معاش اس کے ساتھ ہوتا۔ ہمیں نوکری کا خیال ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ نوکری کسی قوم کو معراج ترقی تک نہیں پہنچا سکتی… دست کاری اور پیشے و ہنر سے تعلق پیدا کرنا چاہئے‘‘۔( خطبۂ حجۃ الاسلام/ص: ۵۱،۵۲)
شدھی تحریک:
آپ نے مسلمانوں کی حفاظت و تبلیغ کی وہ خدمت انجام دی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہندوستان میں شدھی تحریک نے بڑا فتنہ برپا کیا تھا اور مسلمان کو اس کے مذہب سے پھیرنے کی بڑی بڑی اسکیمیں بنائی تھیں جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
’’اب تک و شدھی کی کوششیں راجپوتانہ ہی میں تھیں لیکن اب انہوں نے میدانِ عمل وسیع کر دیا ہے اور تمام ہندوستان میں جہاں موقع ملتا ہے ہاتھ مارتے ہیں۔ قومیں کی قومیں ان کی دستبرد سے تباہ ہورہی ہیں۔ مسلمانوں کی مذہبی انجمنیں ہرجگہ نہیں ہیں جو ہیں ان میں رابطہ نہیں۔ جس سرزمین کو خالی دیکھا،وہاں آریہ دوڑ پڑے۔ جب تک علمائے اسلام کو کسی حصۂ ملک سے بلاتے جب تک کتنے غریب شکار ہوچکتے ہیں۔ راجپوتانہ میں ہمیں تجربہ ہوچکا ہے کہ آریوں کے زر، زور، طمع اور دباؤ وغیرہ کی تمام قوتیں اسلامی فضلا کی دعوتِ حق کے مقابل بیکار ہوجاتی ہیں…جاہل ناداروں کے سامنے ہزار رہا روپیہ پیش کیا جاتا تھا۔اور انہیں مرتد ہوجانے پر بہت ولولہ انگیز مژدے سنائے جاتے تھے…وہاں ہمارے پاس اسلامی زہد و بزرگوں کے ذکرکے سوا کوئی نسخہ نہ تھا جو ایسے مریض پر کارگر ہوتا ہے مگر یہ نسخہ ایسا بے خطا اثر کرتا تھا کہ دیہاتی نوجوان اپنی سرمستی سے ہوش میں آکر دل لبھانے والی صورت اور مال و منال کے لالچ دونوں کو نفرت کے ساتھ ٹھوکر مار کر اطاعتِ الہٰی کے لئے کمربستہ ہوجاتا تھا۔ (خطبۂ حجۃ الاسلام ص :۱۴ ، ۱۵)
دوسرے فریقوں کے ساتھ اتحاد کی مضرت اور اس کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’ہمارے سنی حضرات کے دل میں جب کبھی اتفاق کی امنگیں پیدا ہوئیں تو انہیں اپنوں سے پہلے مخالف یاد آئے، جو رات دن اسلامی کی بیخ کنی کیلئے بے چین ہیں اور سنیوں کی جماعت پر طرح طرح کے حملے کر کے اپنی تعداد بڑھانے کیلئے مضطر اور مجبور ہیں۔ ہمارے برادران کی اس روش نے اتحاد و اتفاق کی تحریک کو کبھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ کیونکہ اگر وہ فرقے اپنے دلوں میں اتنی گنجائش رکھتے کہ سنیوں سے مل کر رہ سکیں تو علیحدہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تعمیر کر کے نیا فرقہ ہی کیوں بناتے اور مسلمانوں کے مخالف ایک جماعت کیوں بناتے وہ حقیقتاً مل ہی نہیں سکتے اور صورۃً مل بھی جائیں تو ملنا کسی مطلب سے ہوتا ہے جس کے حصول کیلئے ہر دم تیش زنی جاری رہتی ہے اور اس کا انجام جدال و فساد ہی نکلتا ہے یہ تو تازہ تجربہ ہے کہ خلافت کمیٹی
ملی خدمات:
آپ نے برصغیر کے مسلمانوں کے معاشرتی ناگفتہ بہ حالت کو بہتر بنانے کیلئے ۱۹۲۵ء میں ’’آل انڈیا سنی کانفرنس‘‘ منعقدہ مراد آباد میں چند تجاویز کا ذکر اپنے خطبہ صدار ت میں کیا ہے مگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک دستور العمل ہے کہ اگر اسی کے مطابق کام ہوا ہوتا تو آج مسلمانوں کی حالت کچھ اور ہی ہوتی اور معاشی، تعلیمی ،تجارتی ،ہر دینی و دنیاوی امور میں مسلمان کسی بھی قوم سے پیچھے نہ ہوتا۔ اسی خطبۂ صدارت میں ملازمت کی حوصلہ شکنی کر کے صنعت اور تعلیم و تجارت پر زور دیا ہے، ملازمت کا حال یوں بیان فرماتے ہیں:
’’ہمارا ذریعہ معاش صرف نوکری اور غلامی ہے اور اس کی بھی یہ حالت ہے کہ ہندو نواب مسلمان کو ملازم رکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ رہیں گورنمنٹی ملازمتیں ان کا حصول طول امل ہے۔ اگر رات دن کی تگ و دو اور ان تھک کوششوں سے کوئی معقول سفارش پہنچی تو کہیں امیدواروں میں نام درج ہونے کی نوبت آتی ہے برسوں بعد جگہ ملنے کی امید پر روزانہ خدمت مفت انجام دیا کرو اگر بہت بلند ہّمت ہوئے اور قرض پر بسر اوقات کر کے برسوں کے بعد کوئی ملازمت حاصل بھی کی تو اس وقت تک قرض کا اتنا انبار ہوجاتا ہے جس کو ملازمت کی آمدنی سے ادا نہیں کر سکتے۔ پھر ہندوؤں کی اکثریت کی باعث آنکھوں میں کھٹکتے رہتے ہیں…ہمیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہماری روزی نوکری میں منحصر ہے ہمیں حرفے اور پیشے سیکھنا چاہئیں… اب اس کی تمام قابلیتیں ہیچ ہیں، سندیں بیکار ہیں، زندگی وبال ہے، اولاد کی تربیت اس ناداری میں کیونکر ہوسکے۔ خود تباہ، نسل برباد، لیکن پیشہ ور ہوتا، ہاتھ میں کوئی ہنر رکھتا تو اس طرح محتاج نہ ہوجاتا، نوکری گئی بلا سے اس کا ذریعہ معاش اس کے ساتھ ہوتا۔ ہمیں نوکری کا خیال ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ نوکری کسی قوم کو معراج ترقی تک نہیں پہنچا سکتی… دست کاری اور پیشے و ہنر سے تعلق پیدا کرنا چاہئے‘‘۔( خطبۂ حجۃ الاسلام/ص: ۵۱،۵۲)
شدھی تحریک:
آپ نے مسلمانوں کی حفاظت و تبلیغ کی وہ خدمت انجام دی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہندوستان میں شدھی تحریک نے بڑا فتنہ برپا کیا تھا اور مسلمان کو اس کے مذہب سے پھیرنے کی بڑی بڑی اسکیمیں بنائی تھیں جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
’’اب تک و شدھی کی کوششیں راجپوتانہ ہی میں تھیں لیکن اب انہوں نے میدانِ عمل وسیع کر دیا ہے اور تمام ہندوستان میں جہاں موقع ملتا ہے ہاتھ مارتے ہیں۔ قومیں کی قومیں ان کی دستبرد سے تباہ ہورہی ہیں۔ مسلمانوں کی مذہبی انجمنیں ہرجگہ نہیں ہیں جو ہیں ان میں رابطہ نہیں۔ جس سرزمین کو خالی دیکھا،وہاں آریہ دوڑ پڑے۔ جب تک علمائے اسلام کو کسی حصۂ ملک سے بلاتے جب تک کتنے غریب شکار ہوچکتے ہیں۔ راجپوتانہ میں ہمیں تجربہ ہوچکا ہے کہ آریوں کے زر، زور، طمع اور دباؤ وغیرہ کی تمام قوتیں اسلامی فضلا کی دعوتِ حق کے مقابل بیکار ہوجاتی ہیں…جاہل ناداروں کے سامنے ہزار رہا روپیہ پیش کیا جاتا تھا۔اور انہیں مرتد ہوجانے پر بہت ولولہ انگیز مژدے سنائے جاتے تھے…وہاں ہمارے پاس اسلامی زہد و بزرگوں کے ذکرکے سوا کوئی نسخہ نہ تھا جو ایسے مریض پر کارگر ہوتا ہے مگر یہ نسخہ ایسا بے خطا اثر کرتا تھا کہ دیہاتی نوجوان اپنی سرمستی سے ہوش میں آکر دل لبھانے والی صورت اور مال و منال کے لالچ دونوں کو نفرت کے ساتھ ٹھوکر مار کر اطاعتِ الہٰی کے لئے کمربستہ ہوجاتا تھا۔ (خطبۂ حجۃ الاسلام ص :۱۴ ، ۱۵)
دوسرے فریقوں کے ساتھ اتحاد کی مضرت اور اس کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’ہمارے سنی حضرات کے دل میں جب کبھی اتفاق کی امنگیں پیدا ہوئیں تو انہیں اپنوں سے پہلے مخالف یاد آئے، جو رات دن اسلامی کی بیخ کنی کیلئے بے چین ہیں اور سنیوں کی جماعت پر طرح طرح کے حملے کر کے اپنی تعداد بڑھانے کیلئے مضطر اور مجبور ہیں۔ ہمارے برادران کی اس روش نے اتحاد و اتفاق کی تحریک کو کبھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ کیونکہ اگر وہ فرقے اپنے دلوں میں اتنی گنجائش رکھتے کہ سنیوں سے مل کر رہ سکیں تو علیحدہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تعمیر کر کے نیا فرقہ ہی کیوں بناتے اور مسلمانوں کے مخالف ایک جماعت کیوں بناتے وہ حقیقتاً مل ہی نہیں سکتے اور صورۃً مل بھی جائیں تو ملنا کسی مطلب سے ہوتا ہے جس کے حصول کیلئے ہر دم تیش زنی جاری رہتی ہے اور اس کا انجام جدال و فساد ہی نکلتا ہے یہ تو تازہ تجربہ ہے کہ خلافت کمیٹی
❤1