قطب ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کااسمِ گرامی حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف شاہ جیلانی ابن حضرت سید حسین اشر ف شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہما۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 12 ربیع الاول 1305ھ کو دہلی میں پیدا ہوء ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد سے حاصل کی ۔ ترکیۂ نفس کے ابتدائی مراحل بھی انہی سے طے کئے ۔والد گرامی کے وصال کے بعد جامع فتح پوری سے ملحقہ مدرسہ میں مولانا مفتی غلام حبیب احمد علوی سے دینی علوم کی تکمیل کی۔
بیعت و خلافت:
جب مرجع المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو ابومخدوم سیدطاہراشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کیا، سلسۂ عالیہ قادریہ،سراجیہ ، اشرفیہ،میں اجازت و خلافت سے مشرف فرمادیا۔
سیرت و خصائص:
قطبِ ربانی سید محمد طاہراشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولیٔ کامل،مرشدِ واصل اور مظہرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تھے۔اپنے پیرومرشد سے انتہادرجے کی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ مرشد کامل کے ارشاد پر عاز م کشمیر ہوئے اور بارہ سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے۔ لاکھوں مسلمان آپ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اور صد ہا غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپ چار دفعہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے اور بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کی ۔1945ء میں تقسیمِ ملک پر اہل و عیال سمیت ہجرت کر کے کراچی تشریف لے آئے ۔ ابتداءً"کمباؤنڈ ملٹری ہاسپٹل" میں قیام رہا، بعد ازاں "فردوس کا لونی" میں "مسکنِ سادات اشرفیہ" کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی طبیعت سادگی اور نفاست کا بہترین مرقع تھی۔اقوال و افعال اور نشت و بر خاست میں سنتِ مبارکہ کی پیروی کو مدِ نظر رکھتے ۔آپ کے مریدین کا وسیع سلسلہ پاک و ہند کے طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے ۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکی تسکین کے لئے ہر امکانی سعی فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا ہمیشہ کے لئے آ پ کا عقیدت مندبن جاتا تھا۔اور ادو وظائف ادا کرنے کے علاوہ پابندی کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کی محفل منعقد فرماتے ، دعاء ،تعویذ اور دم کے ذریوے اہل حاجت کی دستگیری فرماتے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت سید محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17جمادی الاولیٰ 1381ھ/ بمطابق اکتوبر1961ء کو ہوا۔ اور "فردوس کالونی" کراچی میں محواستراحتِ ابدی ہوئے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ اکابرِ اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-tahir-ashraf-ashrafi-jilani
نام و نسب:
آپ کااسمِ گرامی حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف شاہ جیلانی ابن حضرت سید حسین اشر ف شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہما۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 12 ربیع الاول 1305ھ کو دہلی میں پیدا ہوء ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد سے حاصل کی ۔ ترکیۂ نفس کے ابتدائی مراحل بھی انہی سے طے کئے ۔والد گرامی کے وصال کے بعد جامع فتح پوری سے ملحقہ مدرسہ میں مولانا مفتی غلام حبیب احمد علوی سے دینی علوم کی تکمیل کی۔
بیعت و خلافت:
جب مرجع المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو ابومخدوم سیدطاہراشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کیا، سلسۂ عالیہ قادریہ،سراجیہ ، اشرفیہ،میں اجازت و خلافت سے مشرف فرمادیا۔
سیرت و خصائص:
قطبِ ربانی سید محمد طاہراشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولیٔ کامل،مرشدِ واصل اور مظہرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تھے۔اپنے پیرومرشد سے انتہادرجے کی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ مرشد کامل کے ارشاد پر عاز م کشمیر ہوئے اور بارہ سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے۔ لاکھوں مسلمان آپ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اور صد ہا غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپ چار دفعہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے اور بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کی ۔1945ء میں تقسیمِ ملک پر اہل و عیال سمیت ہجرت کر کے کراچی تشریف لے آئے ۔ ابتداءً"کمباؤنڈ ملٹری ہاسپٹل" میں قیام رہا، بعد ازاں "فردوس کا لونی" میں "مسکنِ سادات اشرفیہ" کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی طبیعت سادگی اور نفاست کا بہترین مرقع تھی۔اقوال و افعال اور نشت و بر خاست میں سنتِ مبارکہ کی پیروی کو مدِ نظر رکھتے ۔آپ کے مریدین کا وسیع سلسلہ پاک و ہند کے طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے ۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکی تسکین کے لئے ہر امکانی سعی فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا ہمیشہ کے لئے آ پ کا عقیدت مندبن جاتا تھا۔اور ادو وظائف ادا کرنے کے علاوہ پابندی کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کی محفل منعقد فرماتے ، دعاء ،تعویذ اور دم کے ذریوے اہل حاجت کی دستگیری فرماتے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت سید محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17جمادی الاولیٰ 1381ھ/ بمطابق اکتوبر1961ء کو ہوا۔ اور "فردوس کالونی" کراچی میں محواستراحتِ ابدی ہوئے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ اکابرِ اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-tahir-ashraf-ashrafi-jilani
❤1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام، حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے بڑے شہزادے ۔ محمد نام معروف بہ حامد رضا، لقب: حجۃ الاسلام ۔
تاریخِ ولادت:
ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنےدادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آباؤ اجداد کی شاندار روایات کےمطابق درسیات تمام وکمال والد ماجد سے پڑھی19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سےفارغ التحصیل ہوۓ۔علم وعمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین،عربی نظم ونثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی،توضیح تلویح،ہدایہ اخیرین،صحیح بخاری پرحواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز"لکھ کراپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین وملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!"حامدمنی وانا من حامد" فرماکر آپ کی عظمت وفضیلت پر مہر ثبت کردی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت وخلافت حاصل تھی۔
سیرت:
حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک ،تلامذہ،مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں ۔ تحریک پاکستان میں بھر پور کردار اداکیا ۔ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے،ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کےاثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔
وصال:
17/جمادی الاول1362ھ، کو وصال فرمایا۔مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-hamid-raza-barelvi
نام و نسب:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے بڑے شہزادے ۔ محمد نام معروف بہ حامد رضا، لقب: حجۃ الاسلام ۔
تاریخِ ولادت:
ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنےدادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آباؤ اجداد کی شاندار روایات کےمطابق درسیات تمام وکمال والد ماجد سے پڑھی19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سےفارغ التحصیل ہوۓ۔علم وعمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین،عربی نظم ونثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی،توضیح تلویح،ہدایہ اخیرین،صحیح بخاری پرحواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز"لکھ کراپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین وملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!"حامدمنی وانا من حامد" فرماکر آپ کی عظمت وفضیلت پر مہر ثبت کردی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت وخلافت حاصل تھی۔
سیرت:
حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک ،تلامذہ،مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں ۔ تحریک پاکستان میں بھر پور کردار اداکیا ۔ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے،ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کےاثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔
وصال:
17/جمادی الاول1362ھ، کو وصال فرمایا۔مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-hamid-raza-barelvi
❤2
صحابیٔ رسول ﷺ، نواسۂ صدیق اکبر، حضرت سیدنا ابو بکر عبد الله بن الزبیر بن العوام مخزومی اسدی قرشی رضی الله تعالی عنہ وارضاہ اسلام میں مہاجرین میں پہلے بچے ہیں جو پیدا ہوئے۔ حضور ﷺ نے آپ کو آپ کے نانا جناب صدیق اکبر کی کنیت ابوبکر عطا فرمائی اور انہیں کا نام یعنی عبد الله رکھا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنہ نے کان میں اذان دی۔ حضور انور ﷺ نے چھوہارے سے تحنیک کی۔ آپ کے پیٹ میں سب سے پہلے حضور ﷺ کا لعاب شریف پہنچا۔ آٹھ سال کی عمر میں حضور سے بیعت کی۔ آپ بہت زیادہ نماز روزے کے عادی تھے۔ آپ کے والد حضرت زبیر بن عوام، والدہ بی بی اسماء بنت صدیق، نانا صدیق اکبر، دادی بی بی صفیہ (حضور ﷺ کی پھوپھی صاحبہ)، خالہ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ہیں۔ 64ھ میں آپ نے خلافت کا اعلان کیا۔ 17 جمادی الاولی 73 ہجری میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ (حلیة الاولياء، تاریخ الخلفاء)
The Noble Companion of the beloved Prophet ﷺ, Grandson of Siddiq al-Akbar, Sayyidna Abu Bakr Abdullah bin Az-Zubayr bin Al-Awwam Makhzumi Asadi Qurashi (RadiyAllahu Anhu wa Ardah) was the first child born in Islam among the emigrants. The beloved Prophet gave him the surname Abu Bakr of his grandfather Siddiq al-Akbar and named him Abdullah. Sayyidna Abu Bakr as-Siddiq gave the Adhan in his ear. The beloved Prophet ﷺ gave him tahneek with a dried date. The pure and blessed saliva of the Noble Prophet ﷺ was the first thing that reached his stomach. He pledged allegiance to the beloved Prophet ﷺ at the age of eight. He would perform prayers and observe fasting a lot. His father is Sayyiduna Zubayr bin al-Awwam, his mother is Sayyidatuna Asma bint Siddiq, his maternal grandfather is Sayyiduna Siddiq al-Akbar, his paternal grandmother is Sayyidatuna Safiyyah (the maternal aunt of the Holy Prophet ﷺ), his maternal aunt is Umm al-Mu’mineen Sayyidatuna A’ishah Siddiqah (RadiyAllahu Anhum Ajma’een). He announced his caliphate in 64 AH and was martyred on 17th Jumada al-Awwal in 73 AH. [Hilyat al-Awliya, Tarikh al-Khulafa]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/696662238700090/?mibextid=Nif5oz
The Noble Companion of the beloved Prophet ﷺ, Grandson of Siddiq al-Akbar, Sayyidna Abu Bakr Abdullah bin Az-Zubayr bin Al-Awwam Makhzumi Asadi Qurashi (RadiyAllahu Anhu wa Ardah) was the first child born in Islam among the emigrants. The beloved Prophet gave him the surname Abu Bakr of his grandfather Siddiq al-Akbar and named him Abdullah. Sayyidna Abu Bakr as-Siddiq gave the Adhan in his ear. The beloved Prophet ﷺ gave him tahneek with a dried date. The pure and blessed saliva of the Noble Prophet ﷺ was the first thing that reached his stomach. He pledged allegiance to the beloved Prophet ﷺ at the age of eight. He would perform prayers and observe fasting a lot. His father is Sayyiduna Zubayr bin al-Awwam, his mother is Sayyidatuna Asma bint Siddiq, his maternal grandfather is Sayyiduna Siddiq al-Akbar, his paternal grandmother is Sayyidatuna Safiyyah (the maternal aunt of the Holy Prophet ﷺ), his maternal aunt is Umm al-Mu’mineen Sayyidatuna A’ishah Siddiqah (RadiyAllahu Anhum Ajma’een). He announced his caliphate in 64 AH and was martyred on 17th Jumada al-Awwal in 73 AH. [Hilyat al-Awliya, Tarikh al-Khulafa]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/696662238700090/?mibextid=Nif5oz
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1444 ᴴ | 11-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1