🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1444 ᴴ | 11-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-05-1444 ᴴ | 11-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
⚡️ دیوبندیوں کا سنی مساجد میں دخول⚡️
⚡️ اور اس پر رضامند امام کی اقتداء ⚡️


(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے اور اس مسجد میں ایک دیوبندی ہمیشہ نماز پڑھتا ہے اس دیوبندی کو کچھ مقتدیوں نے بھگانا چاہا مگر وہ دیوبندی ضد کرنے لگا اور کہنے لگا کہ میں اسی مسجد میں ہمیشہ نماز پڑھوں گا کوئی مجھے روک نہیں سکتا ہے جب مقتدیوں نے مسجد کے صدر کو کہا تو صدر نے کہا میں کسی بھی دیوبندی اور وہابی کو اس مسجد میں آنے سے نہیں روکونگا ہوسکتا ہے وہ سنی ہو جائے اور یہ بات جب زید (امام )کو معلوم پڑی تو اس نے خامو شی اختیار کرلی تو کیا اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اور اس مسجد کے صدر پر کیا حکم لاگو ہوگا ؟
سائل: محمد رضوان علیمی
⚡️⚡️⚡️⚡️
(الجواب) بد عقیدہ صف کے درمیان میں کہیں کھڑا ہو تو صف کا قطع ہے اور صف کا قطع ناجائز ہے. (فتاوی رضویہ، ٦١٨/٦)
البتہ نماز تمام خوش عقیدہ مقتدیوں کی ادا ہوجائے گی لیکن جو خوش عقیدہ اس کی شرکت پر راضی ہوئے یا باوصف قدرت منع نہ کیا سب گنہگار ومستحق وعید عذاب ہوئے.

قال الإمام رحمه الله: تو جتنے اہلسنت ان کی شرکت پر راضی ہوں گے یا باوصف قدرت منع نہ کریں گے سب گنہگار ومستحق وعید عذاب ہوں گے اور نماز میں بھی نقص آئے گا کہ قطع صف مکروہ تحریمی ہے اور اگر صرف ایک ہی صف ہو اور اس کے کنارہ پر غیرمقلد کھڑا ہو تو اس صورت میں اگرچہ فی الحال قطع صف نہیں مگر اس کا احتمال واندیشہ ہے کہ ممکن کہ کوئی مسلمان بعد کو آئے اور اس غیر مقلد کے برابر یا دوسری صف میں کھڑا ہو تو قطع ہوجائے گا اور جس طرح فعل حرام حرام ہے یونہی وہ کام کرنا جس سے فعل حرام کاسامان مہیا اور اس کا اندیشہ حاصل ہو وہ بھی ممنوع ہے ولہٰذا حدود الله میں فقط وقوع کومنع نہ فرمایا بلکہ ان کے قرب سے بھی ممانعت ہوئی کہ تلك حدود الله فلا تقربوها (یہ الله کی حدود ہیں ن کے قریب نہ جاؤ اس کے باوجود) مع ھذا ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لا تصلوا علیهم ولا تصلوا معهم. (نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو) والله تعالی اعلم. (فتاوی رضویہ، ١٥١/٧)
ظاہر ہوا کہ مرتد دیوبندیوں کو مسجد میں آنے دینا حرام ہے اور اس پر سکوت کرنا اذن دینا ہی ہے. لہذا ایسے صدر وامام گنہگار مستحق عذاب النار ہیں اور اس امام کے پیچھے نماز واجب الاعادہ.اور وہ دیوبندی مرتد نہ ہو تو مسئلہ برعکس ہے.
والله تعالی اعلم
⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
1👍1
⚡️ کافر کو بھائی کہنا ⚡️
⚡️کافرہ کے سلام کا جواب دینا⚡️

(مسئلہ) کیا عیسائی مرد کو بھائی اور عورت کو بہن کہہ کے پکار سکتے ہیں اور جہاں میں کام کرتا ہو وہاں عیسائی عورت صفائی کا کام کرتی ہے جب آتی ہے تو سلام کرتی ہے اس کا جواب دینا چاہئیے یا نہیں اگر نہیں تو پھر جواب میں کیا کہنا چاہئیے؟
⚡️⚡️⚡️⚡️
(الجواب) عیسائی کافروں کا نسب آدم علیہ السلام سے منقطع ہے. الله ﷻ نوح علیہ السلام کے بیٹے کے متعلق ان سے فرماتا ہے:
يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ. (القرآن الکریم، ٤٦/١١: اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں).لہذا نہ وہ ہمارے بھائی بہن ہوسکتے ہیں نہ ہم انہیں ایسا کہیں اور وہ نرے ناپاک ہیں.
قال الإمام رحمة الله تعالى علیه: اگر وہ مسلمان نہ تھی تو برا کیا کہ اسے مسلمان کی بہن ٹھہرایا، اور فقط اولادِ آدم علیہ السلام ہونا کافی نہیں کہ کافروں کا نسب خود حضرت سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے منقطع ہے. (فتاوی رضویہ، ٤٤٧/١٣)
کافرہ اگر سلام کرے تو اس کے سلام کے جواب نہ دیں اگر اعتراض کرے تو کہلا بھیجیں کہ ہمارے مذہب میں غیر محرم عورتوں کے سلام کا جواب زبان سے دینا نہیں.
قال الإمام رحمه الله: اجنبی جوان عورت اگر سلام کرے تو دل میں جواب دینا چاہئے. (فتاوی رضویہ، ٤٠٨/٢٢). والله تعالی اعلم
⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩)
⚡️ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانا ⚡️
⚡️ ٹی شرٹ میں نماز کا حکم ⚡️

(مسئلہ) `کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کہ پاجامہ ٹخنے کے نیچے پہننا کیسا ہے کیا اس سے نماز ہو جاتی ہے اور جس کا پا جامہ اتنا لمبا ہو کہ ٹخنے کے نیچے ہو جائے کیونکہ ٹیلر حضرات کبھی کبھی پاجامہ لمبا کر دیتے ہیں تو اس پاجامہ کو استعمال کرے یا نہیں اور بہت حضرات ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھتے ہیں کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی
سائل: محمد ریحان. ممبئی
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
(الجواب) پاجامہ نماز میں ٹخنے سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے اور اس سے نماز میں جائے گی. جو پاجامہ درزی نے لمبا سی دیا ہے اسے کٹوا کر ٹخنے کے اوپر تک کریں پھر اس کے استعمال میں حرج نہیں. وہ ٹی شرٹ کہ جس کی آستین کہنیوں کے نیچے تک ہو پہننا جائز ہے. کہنیوں کے اوپر تک آستین کا ہونا مکروہ تنزیہی ہے اس میں بھی نماز ہوجائے گی. ہاں پاجامہ یا آستین لمبی ہو یا چھوٹی ہو اسے چڑھا کر نماز مکروہ تحریمی ہے نماز واجب الاعادہ ہوگی.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قطب ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کااسمِ گرامی حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف شاہ جیلانی ابن حضرت سید حسین اشر ف شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہما۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 12 ربیع الاول 1305ھ کو دہلی میں پیدا ہوء ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد سے حاصل کی ۔ ترکیۂ نفس کے ابتدائی مراحل بھی انہی سے طے کئے ۔والد گرامی کے وصال کے بعد جامع فتح پوری سے ملحقہ مدرسہ میں مولانا مفتی غلام حبیب احمد علوی سے دینی علوم کی تکمیل کی۔

بیعت و خلافت:
جب مرجع المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو ابومخدوم سیدطاہراشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کیا، سلسۂ عالیہ قادریہ،سراجیہ ، اشرفیہ،میں اجازت و خلافت سے مشرف فرمادیا۔

سیرت و خصائص:
قطبِ ربانی سید محمد طاہراشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولیٔ کامل،مرشدِ واصل اور مظہرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تھے۔اپنے پیرومرشد سے انتہادرجے کی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ مرشد کامل کے ارشاد پر عاز م کشمیر ہوئے اور بارہ سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے۔ لاکھوں مسلمان آپ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اور صد ہا غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپ چار دفعہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے اور بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کی ۔1945ء میں تقسیمِ ملک پر اہل و عیال سمیت ہجرت کر کے کراچی تشریف لے آئے ۔ ابتداءً"کمباؤنڈ ملٹری ہاسپٹل" میں قیام رہا، بعد ازاں "فردوس کا لونی" میں "مسکنِ سادات اشرفیہ" کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی طبیعت سادگی اور نفاست کا بہترین مرقع تھی۔اقوال و افعال اور نشت و بر خاست میں سنتِ مبارکہ کی پیروی کو مدِ نظر رکھتے ۔آپ کے مریدین کا وسیع سلسلہ پاک و ہند کے طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے ۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکی تسکین کے لئے ہر امکانی سعی فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا ہمیشہ کے لئے آ پ کا عقیدت مندبن جاتا تھا۔اور ادو وظائف ادا کرنے کے علاوہ پابندی کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کی محفل منعقد فرماتے ، دعاء ،تعویذ اور دم کے ذریوے اہل حاجت کی دستگیری فرماتے ۔

تاریخِ وصال:
حضرت سید محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17جمادی الاولیٰ 1381ھ/ بمطابق اکتوبر1961ء کو ہوا۔ اور "فردوس کالونی" کراچی میں محواستراحتِ ابدی ہوئے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ اکابرِ اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-tahir-ashraf-ashrafi-jilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام، حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے بڑے شہزادے ۔ محمد نام معروف بہ حامد رضا، لقب: حجۃ الاسلام ۔

تاریخِ ولادت:
ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنےدادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آباؤ اجداد کی شاندار روایات کےمطابق درسیات تمام وکمال والد ماجد سے پڑھی19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سےفارغ التحصیل ہوۓ۔علم وعمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین،عربی نظم ونثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی،توضیح تلویح،ہدایہ اخیرین،صحیح بخاری پرحواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز"لکھ کراپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین وملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!"حامدمنی وانا من حامد" فرماکر آپ کی عظمت وفضیلت پر مہر ثبت کردی ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت وخلافت حاصل تھی۔

سیرت:
حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک ،تلامذہ،مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں ۔ تحریک پاکستان میں بھر پور کردار اداکیا ۔ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے،ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کےاثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔

وصال:
17/جمادی الاول1362ھ، کو وصال فرمایا۔مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-hamid-raza-barelvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
صحابیٔ رسول ﷺ، نواسۂ صدیق اکبر، حضرت سیدنا ابو بکر عبد الله بن الزبیر بن العوام مخزومی اسدی قرشی رضی الله تعالی عنہ وارضاہ اسلام میں مہاجرین میں پہلے بچے ہیں جو پیدا ہوئے۔ حضور ﷺ نے آپ کو آپ کے نانا جناب صدیق اکبر کی کنیت ابوبکر عطا فرمائی اور انہیں کا نام یعنی عبد الله رکھا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنہ نے کان میں اذان دی۔ حضور انور ﷺ نے چھوہارے سے تحنیک کی۔ آپ کے پیٹ میں سب سے پہلے حضور ﷺ کا لعاب شریف پہنچا۔ آٹھ سال کی عمر میں حضور سے بیعت کی۔ آپ بہت زیادہ نماز روزے کے عادی تھے۔ آپ کے والد حضرت زبیر بن عوام، والدہ بی بی اسماء بنت صدیق، نانا صدیق اکبر، دادی بی بی صفیہ (حضور ﷺ کی پھوپھی صاحبہ)، خالہ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ہیں۔ 64ھ میں آپ نے خلافت کا اعلان کیا۔ 17 جمادی الاولی 73 ہجری میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ (حلیة الاولياء، تاریخ الخلفاء)

The Noble Companion of the beloved Prophet ﷺ, Grandson of Siddiq al-Akbar, Sayyidna Abu Bakr Abdullah bin Az-Zubayr bin Al-Awwam Makhzumi Asadi Qurashi (RadiyAllahu Anhu wa Ardah) was the first child born in Islam among the emigrants. The beloved Prophet gave him the surname Abu Bakr of his grandfather Siddiq al-Akbar and named him Abdullah. Sayyidna Abu Bakr as-Siddiq gave the Adhan in his ear. The beloved Prophet ﷺ gave him tahneek with a dried date. The pure and blessed saliva of the Noble Prophet ﷺ was the first thing that reached his stomach. He pledged allegiance to the beloved Prophet ﷺ at the age of eight. He would perform prayers and observe fasting a lot. His father is Sayyiduna Zubayr bin al-Awwam, his mother is Sayyidatuna Asma bint Siddiq, his maternal grandfather is Sayyiduna Siddiq al-Akbar, his paternal grandmother is Sayyidatuna Safiyyah (the maternal aunt of the Holy Prophet ﷺ), his maternal aunt is Umm al-Mu’mineen Sayyidatuna A’ishah Siddiqah (RadiyAllahu Anhum Ajma’een). He announced his caliphate in 64 AH and was martyred on 17th Jumada al-Awwal in 73 AH. [Hilyat al-Awliya, Tarikh al-Khulafa]

https://www.facebook.com/100050689590519/posts/696662238700090/?mibextid=Nif5oz
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1444 ᴴ | 11-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1444 ᴴ | 12-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1