🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
یمانِ ابی طالب کے قائل کیوں ہیں۔؟

بلکہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ جو اس بات کا قائل نہیں آپ لوگوں نے ان پر کفر و منافقت اور گستاخی کا فتویٰ لگا کر بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ کیونکہ آپکے فتوے کی زد میں مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم سمیت صحابہ کرام و محدثینِ عظام آ رہے ہیں۔

اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ آپ کو توبہ و رجوع کی توفیق بخشے جو امتِ محمدیہ کے اکابرین کی تکفیر و تضلیل و تفسیق کر کے گناہِ عظیم کا بوجھ سر لیا ہے۔

سُونا جنگل رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو ! جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے

محمد اویس رضا رضوی قادری
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مجاہد ملت، حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
عبد الحامد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی، بن مولانا حافظ فرید جیلانی، بن مولانا محی الدین، بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول، بن مولانا شاہ عین الحق عبد المجید علیہم الرحم

ولادت:
۱۱ نومبر ۱۹۰۰ء کو دہلی میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مدرسہ قادریہ میں مولانا عبد المقتدر بدایونی سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ مولانا محب احمد، مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی (مصنف تنبیہ الجھال بالھام الباسط المتعال) مولانا مفتی محمد ابراہیم ، مولانا مشتاق احمد کانپوری ، مولانا واحد حسین اور مولانا عبدالسلام فلسفی سے تعلیم حاصل کی ۔ آخر میں الہیات کی تکمیل اور قراٗت قرآن شریف کے شوق میں آپ دو سال تک مدرسہ الہیات کانپور میں مقیم رہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ قادریہ میں نامور عالم دین حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ کے دست پر بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
عظیم صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک اور خاندانِ بدایوں کے علمی، روحانی، دینی و سیاسی، میراث کے حقیقی کامل و اکمل وارث تھے ۔ وعظ و تقریر میں خصوصی ملکہ حاصل تھا ۔ ہندوستان کے بلادو امصار میں مجالسِ میلاد، سیاسی کانفرنسوں میں شریک ہوتے، انتظامی صلاحیتوں سے خوب آراستہ تھے۔

تحریکِ خلافت اور تحریک ِپاکستان میں آپ کا ممتاز کردار رہا، تقسیم کے بعد کراچی میں مقیم ہو گئے، جمعیۃ علمائے پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ملکی ملی، مذہبی خدمات انجام دیں، پاکستان میں دستور اسلامی کے نفاذ کے لیے آپ نے بڑی کوششیں کیں اورحکومت سے اسلامی دستور کا مطالبہ کیا، جس کو ابو الاعلیٰ مودودی نے ناکام بنادیا۔قیامِ پاکستان کے بعدکراچی سے سب سےپہلا عید میلاد النبی ﷺ کا عظیم الشان جلوس شان و شوکت سے منانے کا اہتمام بھی آپ ہی نے شروع کیا جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ پاکستان کے گورنر جزل اور وزیر اعظم نے بھی شرکت کی ۔ آپکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ۔

وصال:
حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی نے مصروف زندگی گذار کر ۷۲ سال کی عمر میں ۱۵، جمادی الاول ۱۳۹۰ھ بمطابق ۲۰، جولائی ۱۹۷۰ء بروزدو شنبہ اس دنیائے فانی سے انتقال فرما گئے ۔ جامعہ اسلامیہ منگھوپیر روڈ کے احاطہ میں آپ کو دفن کیا گیا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-hamid-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد قمرالدین سیالوی ۔ لقب: شیخ الاسلام والمسلمین

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی، بن قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی، بن عارف کبیر خواجہ محمد الدین سیالوی،بن شیخ المشائخ خواجہ محمدشمس الدین سیالوی ۔ علیہم الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 15، جمادی الاول، 1324ھ، بمطابق 1905ء، کو قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے گھر سیال شریف ضلع سرگودھا پنجاب میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے جد امجد خواجہ محمد الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ ابھی آپ کی عمر مبارک 4 سال کی تھی توجدامجد کا انتقال ہوگیا۔جب آپ چار سال، چار ماہ، دس دن کے ہوئے تواس وقت کے معروف حافظِ قرآن، حافظ عبد الکریم کی خدمت میں حفظِ قرآنِ مجید کیلئے بٹھا دیا گیا۔ اپنی خانقاہ کے مدرسہ ضیاء شمس الاسلام کے اساتذہ اور والد ماجد سے اکثر درسی کتب کا درس لینے کے بعد 1346ھ میں دار الخیر اجمیر پہنچے،اور جامع المنقولِ والمعقول حضرت مولانا معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ سے شرفِ تلمذ اختیار کیا، اسی سن میں چند ماہ کے بعد آپ کے والد ماجد نے مولانا اجمیری کو سیال شریف آنے کی دعوت دی، تو آپ بھی اُن کے ساتھ وطن آگئے، اور پورے انہماک کے ساتھ اُن سے کسب علم میں مشغول ہوگئے، اور 1351ھ، بمطابق1932ءمیں تکمیلِ درسیات کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔

1356ھ، بمطابق 1938ء میں بموقع حج و زیارت علماء حرمین شریفین سے بھی سندیں حاصل کیں۔

بیعت وخلافت:
اپنے والدِ گرامی قدوۃالسالکین خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت وخلافت حاصل ہوئی۔

سیرت وخصائص:
مجسمہ ٔروحانیت ،آفتابِ شریعت، ماہتابِ طریقت، اقلیمِ فقر کے تاجدار، عاشقِ نبی مختار، عارف باللہ ،مردِ حقیقت آگاہ ، وارث علوم حضرت پیر سیال لجپال، شیخ الاسلام و المسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ نے ہزاروں گم کردہ را ہوں کو راہ ِہدایت سے ہمکنار فرمایا۔بد نصیبوں کو سکون و طمانیت کی دولت عطا کی۔ انگنت نفوس آپ کے انفاس طیبہ کی وجہ سے اللہ کریم اور حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے انوار سے چمک اٹھے۔آپ سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایمان اور خوش عقیدگی کے تحفظ کی خاطر ہمیشہ فرقہائے باطلہ کی تردید میں سینہ سپر رہے۔ حضرت شیخ الاسلام عربی فارسی اردوسرائیکی اور پنجابی زبانوں میں تسلسل کے ساتھ گفتگو فرمالیا کرتے تھے۔ عربی میں کمال درجے کا شغف رکھنے کے علاوہ آپ اس زبان میں بلا تکلف مضمون لکھنے کی بھی مہارت تامہ حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس غضب کا حافظہ عطا کیا تھا کہ سالوں پہلے پڑھی ہوئی کتابوں کے مضامین آپ کے پیش نظر رہتے تھے۔آپ کے استاد محترمہ علامہ معین الدین اجمیری آپ ذہانت و ذکاوت کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے۔ آپ کو تقابلِ ادیان پر بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ نے اپنے زور علم اور زور بیان سے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کئے جس میں بڑے بڑے عیسائی پادرویوں کو منہ کی کھانی پڑی۔آپ حُسن اخلاق کےپیکر اور اپنے بزرگوں کےسچے جانشین تھے۔ علماءومشائخ کے طبقہ میں یکساں مقبول تھے، پاکستان کے مسلمانوں کی عظیم دینی و سیاسی تنظیم جمعیت علماء پاکستان کے 1970کےشدید بُحران اور اختلاف کی فضاء میں باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ آپ کی قیادت میں جمعیۃ علماء پاکستان نے بہترین کارہائے نمایاںسر انجام دیئےتھے۔

حضرت خواجہ سیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کشمیر میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ اور فرنٹیئر کے سرحدی علاقوں سے بیش قیمت اسلحہ خرید کر مجاہدین میں تقسیم فرمایا۔جہاد کشمیر کےلیے آپ نے ملک گیر مہم چلائی اور لوگوں کو اس جہاد میں شامل ہونے کی طرف راغب گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق جہاد کشمیر میں شامل ہونے لگے۔حضرت خواجہ سیالوی نے مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور حصہ لیا اور حکومت کا ہاتھ ہٹانے بٹانے کے علاوہ اپنے ذاتی فنڈ سے بے شمار مہاجروں کے گھروں کو آباد گیا۔1965ء کی جنگ کے موقع پر آپ نے اپنی تمام جمع پونجی دفاعی فنڈ میں جمع کرادی اور اپنے مریدین اور معتقدین کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حکم دیا۔آپ کے ایثار و قربانی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے زیورات بھی ملک پر قربان کر دیئے اور اپنے احباب کو قنوت نازلہ پڑھنے کا حکم دیا۔آپ علیہ الرحمہ بیحدخودداراورغیورتھے۔کبھی بھی ذات مفادات آپ کی رکاوٹ نہ بن سکے،اوریہی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کاخاصہ ہوتاہے۔
1
حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ آلو مہار شریف ضلع سیالکوٹ والے فرماتے ہیں: کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر ایک سرمایہ دار اور جاگیر دار شخص جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا خواہش مند تھا۔اس تمنا کی تکمیل کے لیے وہ حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں سیال شریف حاضر ہوا۔ آپ نے اس کی خواہش سنی تو فرمایا یہ نشست تو ہم نے ایک عالم کو دی ہے۔ تاکہ وہ الیکشن میں کامیاب ہوجائے اور دین کی خدمت کرے ۔یہ سن کر مذکورہ جاگیر دار بہت مایوس ہوا اور ناکام واپس چلاگیا۔اس بات کے کچھ ہی دنوں بعد وہ تین لاکھ روپےکی خطیر رقم کا چیک لیکر خواجہ صاحب کے پاس دوبارہ آیا اور عرض کی حضرت یہ رقم ناچیز کی طرف سے قبول کرلیجئے تاکہ لنگر کے خرچ میں کام آئے۔ حضرت خواجہ صاحب سمجھ گئے کہ اس دنیا دار کا مقصد کیا ہے۔ آپ کو اس سرمایہ دار کی اس حرکت پر اتنا طیش آیا کہ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا کہ اے دولت مند انسان !یہ اپنی دولت لے جا اور یہ بوٹی کسی دنیا کےکتے کے آگے ڈال دینا۔ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہ شخص شرمندہ ہوکر چلاگیا۔آپ نےساری زندگی پاکستان میں نظام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کےلیے بیحد کوششیں فرمائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر جسٹس تنزیل الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ حضرت شیخ الاسلام نے اسلامی نظریات کونسل کےلیے ہمیشہ تنخواہ کے بغیر کام کیا ہے۔حتیٰ کہ سفر کےاخراجات کےلیے بھی آپ نےکبھی بھی حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

وصال:
آپ 17 رمضان المبارک 1401ھ، بمطابق 20 جولائی 1981ء،کواپنے خالق حقیق سے جا ملے۔ سیال شریف ضلع سرگودھا میں آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص و عام ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-qamaruddin-sialvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-05-1444 ᴴ | 09-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-05-1444 ᴴ | 10-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1