🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-05-1444 ᴴ | 09-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-05-1444 ᴴ | 09-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
راولپنڈی کے نام نہاد پیر اور خودساختہ مقرر و خطیب حسان حسیب الرحمن کا ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں موصوف جناب ابو طالب کے مومن ہونے اور صحابی ہونے پر ایڑی چوٹی کا زور لگانے کی سعئ لاحاصل کررہے ہیں۔
مشہور ہے کہ
*لکل فن رجال*
ہر فن کے کچھ ماہرین ہوتے ہیں.
لیکن جب غیر متعلق اور فنی بحثوں سے نابلد لوگ اس قسم کے حساس نزاعی مسئلوں میں اپنی چونچ لڑانے لگ جائیں تو عوام کے عقیدہ کا اللہ ہی حافظ ہے.
*موصوف نے اپنی بے ڈھنگی تقریر میں اپنے مبلغ علم (جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے) کے مطابق کچھ یوں اجتہاد فرمایا :*
ابو طالب جنتی ہیں
مومن ہیں
اہل بیت سے ہیں
ابو طالب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کفیل تھے لہذا جنتی ہیں
ان کو کافر کہنے والے یزید کے حمایتی ہیں
جب اصحابِ کہف کا کتا جنت میں جائے تو ابو طالب ضرور جنت میں جائیں گے.
یہ بات درست ہے کہ جناب ابو طالب کے مومن ہونے میں علماء اہل سنت کا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن *پچھلی صدی کے مجدد اعظم امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ اور جمہور علماء اہل سنت و جماعت کا یہ موقف ہے* کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں اعلی حضرت نے اپنی مشہور زمانہ کتاب فتاوی رضویہ کی جلد ٢٩ میں پورا ایک مستقل رسالہ لکھا ہے "شرح المطالب فی مبحث ابی طالب" جس میں شرح و بسط کے ساتھ دلائل قاہرہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں.
*چونکہ پنڈی کے پیر صاحب اور ان کے ابا حضور بھی اعلی حضرت کے نام لیوا ہیں تو انہیں اعلی حضرت کی تحقیق کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے.*
*پھر حسان صاحب کی یہ دلیل کے ابو طالب چونکہ سرکار علیہ السلام کے کفیل ہیں اس لیے جنتی ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کا کفیل فرعون ہے تو کیا وہ بھی جنتی ہے؟ جواب دیں.*
حد ہوتی ہے جہالت کی کیا محض یتیم کی کفالت سے جنت مل جائے گی یعنی ایمان کی کوئی شرط ہی نہیں. معاذاللہ
*حسان صاحب کے اس ہذیانی استدلال سے تو سارے کفار یہودی و نصرانی جو یتیموں کی کفالت کرتے ہیں سب ہی جنت میں جائیں گے.*
*نیز ان کا یہ جاہلانہ اجتہاد کہ ابو طالب کو مومن نہ ماننا یزید کی حمایت اور اس کے جنتی ہونے کو مستلزم ہے سراسر باطل اور خلاف واقعہ ہے اہل سنت و جماعت کبھی یزید کو جنتی نہیں کہتے.*
آخر کس دلیل سے حسان صاحب ابو طالب کو اہل بیت میں شامل کرتے ہیں؟
حسان صاحب کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اصحاب کہف کا کتا جنت میں نہیں جائے گا بلکہ اس کی کھال بلعم باعورہ کو پہنا کر داخل جنت کیا جائے گا. لیکن اس بوگس دلیل سے ابو طالب کا ایمان کیسے)ثابت ہوتا ہے.
کسی شاعر نے حسان صاحب کی منقبت میں ہی یہ شعر کہا ہے
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا
*اس ویڈیو کلپ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حسان صاحب پنڈوی نے ابو طالب کو مومن نہ ماننے والے جن میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ بھی شامل ہیں پر لعنت بھیجی ہے.*
*وہ اس طرح کہ برادر اعلی حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمۃ کے اشعار دو مرتبہ پڑھے جو انہوں نے رافضیوں کی مذمت میں کہے ہیں*
*لعنۃ اللہ علیکم دشمنان اہل بیت*
*ان اشعار کا مشار الیہ اس بے وقوف نے ابو طالب کے مومن نہ ماننے والوں کو قرار دیا ہے جس میں سیدی اعلی حضرت بلکہ خود برادر اعلی حضرت جن کے یہ اشعار ہیں وہ بھی شامل ہیں.* یا للعجب!!!
اور ایک مقام پر جوش میں آکر سارے ہوش کھو دیے اور *حنیف قریشی ، ریاض شاہ، امتیاز شاہ کاظمی اور نام نہاد عبد القادر تفضیلی کی راہ پر چلتے ہوئے یہ بک دیا کہ*
*"تیرے یزید کی جو کفالت کرے(یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) وہ ایسے جنت میں قریب ہو اور مصطفی کا کفیل (یعنی ابو طالب) جہنم میں جائے گا لعنت ہو تمہارے عقیدے پہ"*
لاحول ولا قوۃ الا باللہ و انا للہ وانا الیہ راجعون.
*یہ ساری پیٹ کی مروڑ اسی لیے ہے کہ کسی طرح صحابی رسول امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین ہوسکے تف ہے ایسے اجہل پر.*
اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن پنڈوی پیر کی خدمت میں امام اہل سنت کا تازیانہ پیش خدمت ہے.
*ہم سنیوں کے امام اعلی حضرت علیہ الرحمۃ علامہ قاضی عیاض کے حوالہ سے فرماتے ہیں ومن یکون یطعن فی معاویۃ فذالک کلب من کلاب الھاویۃ*
*جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتّا ہے۔*
*علماء کرام و اہل فکر و دانش کی بارگاہ میں سوال ہے کہ کیا ایسے جاہل پیر کو اہل سنت و جماعت کی نمائندگی کرنے کا حق حاصل ہے؟*
*اور کیا ایسا بندہ ممبر رسول پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کے قابل ہے؟*
*نیز کیا ایسا جاہل پیر بیعت کرنے کا مجاز ہے؟*
*امید ہے علماء اہل سنت اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے فتنہ کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا فرمائیں گے تاکہ بھولی بھالی عوام ان چھپے ہوئے تفضیلوں کے دام میں آنے سے محفوط رہ سکیں.*
ابو الحسین رضویراولپنڈی کے نام نہاد پیر اور خودساختہ مقرر و خطیب حسان حسیب الرحمن کا ایک ویڈیو
مشہور ہے کہ
*لکل فن رجال*
ہر فن کے کچھ ماہرین ہوتے ہیں.
لیکن جب غیر متعلق اور فنی بحثوں سے نابلد لوگ اس قسم کے حساس نزاعی مسئلوں میں اپنی چونچ لڑانے لگ جائیں تو عوام کے عقیدہ کا اللہ ہی حافظ ہے.
*موصوف نے اپنی بے ڈھنگی تقریر میں اپنے مبلغ علم (جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے) کے مطابق کچھ یوں اجتہاد فرمایا :*
ابو طالب جنتی ہیں
مومن ہیں
اہل بیت سے ہیں
ابو طالب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کفیل تھے لہذا جنتی ہیں
ان کو کافر کہنے والے یزید کے حمایتی ہیں
جب اصحابِ کہف کا کتا جنت میں جائے تو ابو طالب ضرور جنت میں جائیں گے.
یہ بات درست ہے کہ جناب ابو طالب کے مومن ہونے میں علماء اہل سنت کا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن *پچھلی صدی کے مجدد اعظم امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ اور جمہور علماء اہل سنت و جماعت کا یہ موقف ہے* کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں اعلی حضرت نے اپنی مشہور زمانہ کتاب فتاوی رضویہ کی جلد ٢٩ میں پورا ایک مستقل رسالہ لکھا ہے "شرح المطالب فی مبحث ابی طالب" جس میں شرح و بسط کے ساتھ دلائل قاہرہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں.
*چونکہ پنڈی کے پیر صاحب اور ان کے ابا حضور بھی اعلی حضرت کے نام لیوا ہیں تو انہیں اعلی حضرت کی تحقیق کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے.*
*پھر حسان صاحب کی یہ دلیل کے ابو طالب چونکہ سرکار علیہ السلام کے کفیل ہیں اس لیے جنتی ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کا کفیل فرعون ہے تو کیا وہ بھی جنتی ہے؟ جواب دیں.*
حد ہوتی ہے جہالت کی کیا محض یتیم کی کفالت سے جنت مل جائے گی یعنی ایمان کی کوئی شرط ہی نہیں. معاذاللہ
*حسان صاحب کے اس ہذیانی استدلال سے تو سارے کفار یہودی و نصرانی جو یتیموں کی کفالت کرتے ہیں سب ہی جنت میں جائیں گے.*
*نیز ان کا یہ جاہلانہ اجتہاد کہ ابو طالب کو مومن نہ ماننا یزید کی حمایت اور اس کے جنتی ہونے کو مستلزم ہے سراسر باطل اور خلاف واقعہ ہے اہل سنت و جماعت کبھی یزید کو جنتی نہیں کہتے.*
آخر کس دلیل سے حسان صاحب ابو طالب کو اہل بیت میں شامل کرتے ہیں؟
حسان صاحب کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اصحاب کہف کا کتا جنت میں نہیں جائے گا بلکہ اس کی کھال بلعم باعورہ کو پہنا کر داخل جنت کیا جائے گا. لیکن اس بوگس دلیل سے ابو طالب کا ایمان کیسے)ثابت ہوتا ہے.
کسی شاعر نے حسان صاحب کی منقبت میں ہی یہ شعر کہا ہے
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا
*اس ویڈیو کلپ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حسان صاحب پنڈوی نے ابو طالب کو مومن نہ ماننے والے جن میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ بھی شامل ہیں پر لعنت بھیجی ہے.*
*وہ اس طرح کہ برادر اعلی حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمۃ کے اشعار دو مرتبہ پڑھے جو انہوں نے رافضیوں کی مذمت میں کہے ہیں*
*لعنۃ اللہ علیکم دشمنان اہل بیت*
*ان اشعار کا مشار الیہ اس بے وقوف نے ابو طالب کے مومن نہ ماننے والوں کو قرار دیا ہے جس میں سیدی اعلی حضرت بلکہ خود برادر اعلی حضرت جن کے یہ اشعار ہیں وہ بھی شامل ہیں.* یا للعجب!!!
اور ایک مقام پر جوش میں آکر سارے ہوش کھو دیے اور *حنیف قریشی ، ریاض شاہ، امتیاز شاہ کاظمی اور نام نہاد عبد القادر تفضیلی کی راہ پر چلتے ہوئے یہ بک دیا کہ*
*"تیرے یزید کی جو کفالت کرے(یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) وہ ایسے جنت میں قریب ہو اور مصطفی کا کفیل (یعنی ابو طالب) جہنم میں جائے گا لعنت ہو تمہارے عقیدے پہ"*
لاحول ولا قوۃ الا باللہ و انا للہ وانا الیہ راجعون.
*یہ ساری پیٹ کی مروڑ اسی لیے ہے کہ کسی طرح صحابی رسول امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین ہوسکے تف ہے ایسے اجہل پر.*
اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن پنڈوی پیر کی خدمت میں امام اہل سنت کا تازیانہ پیش خدمت ہے.
*ہم سنیوں کے امام اعلی حضرت علیہ الرحمۃ علامہ قاضی عیاض کے حوالہ سے فرماتے ہیں ومن یکون یطعن فی معاویۃ فذالک کلب من کلاب الھاویۃ*
*جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتّا ہے۔*
*علماء کرام و اہل فکر و دانش کی بارگاہ میں سوال ہے کہ کیا ایسے جاہل پیر کو اہل سنت و جماعت کی نمائندگی کرنے کا حق حاصل ہے؟*
*اور کیا ایسا بندہ ممبر رسول پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کے قابل ہے؟*
*نیز کیا ایسا جاہل پیر بیعت کرنے کا مجاز ہے؟*
*امید ہے علماء اہل سنت اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے فتنہ کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا فرمائیں گے تاکہ بھولی بھالی عوام ان چھپے ہوئے تفضیلوں کے دام میں آنے سے محفوط رہ سکیں.*
ابو الحسین رضویراولپنڈی کے نام نہاد پیر اور خودساختہ مقرر و خطیب حسان حسیب الرحمن کا ایک ویڈیو
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں موصوف جناب ابو طالب کے مومن ہونے اور صحابی ہونے پر ایڑی چوٹی کا زور لگانے کی سعئ لاحاصل کررہے ہیں۔
مشہور ہے کہ
*لکل فن رجال*
ہر فن کے کچھ ماہرین ہوتے ہیں.
لیکن جب غیر متعلق اور فنی بحثوں سے نابلد لوگ اس قسم کے حساس نزاعی مسئلوں میں اپنی چونچ لڑانے لگ جائیں تو عوام کے عقیدہ کا اللہ ہی حافظ ہے.
*موصوف نے اپنی بے ڈھنگی تقریر میں اپنے مبلغ علم (جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے) کے مطابق کچھ یوں اجتہاد فرمایا :*
ابو طالب جنتی ہیں
مومن ہیں
اہل بیت سے ہیں
ابو طالب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کفیل تھے لہذا جنتی ہیں
ان کو کافر کہنے والے یزید کے حمایتی ہیں
جب اصحابِ کہف کا کتا جنت میں جائے تو ابو طالب ضرور جنت میں جائیں گے.
یہ بات درست ہے کہ جناب ابو طالب کے مومن ہونے میں علماء اہل سنت کا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن *پچھلی صدی کے مجدد اعظم امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ اور جمہور علماء اہل سنت و جماعت کا یہ موقف ہے* کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں اعلی حضرت نے اپنی مشہور زمانہ کتاب فتاوی رضویہ کی جلد ٢٩ میں پورا ایک مستقل رسالہ لکھا ہے "شرح المطالب فی مبحث ابی طالب" جس میں شرح و بسط کے ساتھ دلائل قاہرہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں.
*چونکہ پنڈی کے پیر صاحب اور ان کے ابا حضور بھی اعلی حضرت کے نام لیوا ہیں تو انہیں اعلی حضرت کی تحقیق کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے.*
*پھر حسان صاحب کی یہ دلیل کے ابو طالب چونکہ سرکار علیہ السلام کے کفیل ہیں اس لیے جنتی ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کا کفیل فرعون ہے تو کیا وہ بھی جنتی ہے؟ جواب دیں.*
حد ہوتی ہے جہالت کی کیا محض یتیم کی کفالت سے جنت مل جائے گی یعنی ایمان کی کوئی شرط ہی نہیں. معاذاللہ
*حسان صاحب کے اس ہذیانی استدلال سے تو سارے کفار یہودی و نصرانی جو یتیموں کی کفالت کرتے ہیں سب ہی جنت میں جائیں گے.*
*نیز ان کا یہ جاہلانہ اجتہاد کہ ابو طالب کو مومن نہ ماننا یزید کی حمایت اور اس کے جنتی ہونے کو مستلزم ہے سراسر باطل اور خلاف واقعہ ہے اہل سنت و جماعت کبھی یزید کو جنتی نہیں کہتے.*
آخر کس دلیل سے حسان صاحب ابو طالب کو اہل بیت میں شامل کرتے ہیں؟
حسان صاحب کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اصحاب کہف کا کتا بلعم باعورہ کی شکل بنکر داخل جنت کیا جائے گا. لیکن اس بوگس دلیل سے ابو طالب کا ایمان کیسے )ثابت ہوتا ہے.
کسی شاعر نے حسان صاحب کی منقبت میں ہی یہ شعر کہا ہے
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا
*اس ویڈیو کلپ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حسان صاحب پنڈوی نے ابو طالب کو مومن نہ ماننے والے جن میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ بھی شامل ہیں پر لعنت بھیجی ہے.*
*وہ اس طرح کہ برادر اعلی حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمۃ کے اشعار دو مرتبہ پڑھے جو انہوں نے رافضیوں کی مذمت میں کہے ہیں*
*لعنۃ اللہ علیکم دشمنان اہل بیت*
*ان اشعار کا مشار الیہ اس بے وقوف نے ابو طالب کے مومن نہ ماننے والوں کو قرار دیا ہے جس میں سیدی اعلی حضرت بلکہ خود برادر اعلی حضرت جن کے یہ اشعار ہیں وہ بھی شامل ہیں.* یا للعجب!!!
اور ایک مقام پر جوش میں آکر سارے ہوش کھو دیے اور *حنیف قریشی ، ریاض شاہ، امتیاز شاہ کاظمی اور نام نہاد عبد القادر تفضیلی کی راہ پر چلتے ہوئے یہ بک دیا کہ*
*"تیرے یزید کی جو کفالت کرے(یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) وہ ایسے جنت میں قریب ہو اور مصطفی کا کفیل (یعنی ابو طالب) جہنم میں جائے گا لعنت ہو تمہارے عقیدے پہ"*
لاحول ولا قوۃ الا باللہ و انا للہ وانا الیہ راجعون.
*یہ ساری پیٹ کی مروڑ اسی لیے ہے کہ کسی طرح صحابی رسول امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین ہوسکے تف ہے ایسے اجہل پر.*
اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن پنڈوی پیر کی خدمت میں امام اہل سنت کا تازیانہ پیش خدمت ہے.
*ہم سنیوں کے امام اعلی حضرت علیہ الرحمۃ علامہ قاضی عیاض کے حوالہ سے فرماتے ہیں ومن یکون یطعن فی معاویۃ فذالک کلب من کلاب الھاویۃ*
جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتّا ہے۔
علماء کرام و اہل فکر و دانش کی بارگاہ میں سوال ہے کہ کیا ایسے جاہل پیر کو اہل سنت و جماعت کی نمائندگی کرنے کا حق حاصل ہے؟
اور کیا ایسا بندہ ممبر رسول پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کے قابل ہے؟
*نیز کیا ایسا جاہل پیر بیعت کرنے کا مجاز ہے؟
امید ہے علماء اہل سنت اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے فتنہ کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا فرمائیں گے تاکہ بھولی بھالی عوام ان چھپے ہوئے تفضیلوں کے دام میں آنے سے محفوط رہ سکیں.
ابو الحسین رضوی
مشہور ہے کہ
*لکل فن رجال*
ہر فن کے کچھ ماہرین ہوتے ہیں.
لیکن جب غیر متعلق اور فنی بحثوں سے نابلد لوگ اس قسم کے حساس نزاعی مسئلوں میں اپنی چونچ لڑانے لگ جائیں تو عوام کے عقیدہ کا اللہ ہی حافظ ہے.
*موصوف نے اپنی بے ڈھنگی تقریر میں اپنے مبلغ علم (جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے) کے مطابق کچھ یوں اجتہاد فرمایا :*
ابو طالب جنتی ہیں
مومن ہیں
اہل بیت سے ہیں
ابو طالب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کفیل تھے لہذا جنتی ہیں
ان کو کافر کہنے والے یزید کے حمایتی ہیں
جب اصحابِ کہف کا کتا جنت میں جائے تو ابو طالب ضرور جنت میں جائیں گے.
یہ بات درست ہے کہ جناب ابو طالب کے مومن ہونے میں علماء اہل سنت کا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن *پچھلی صدی کے مجدد اعظم امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ اور جمہور علماء اہل سنت و جماعت کا یہ موقف ہے* کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں اعلی حضرت نے اپنی مشہور زمانہ کتاب فتاوی رضویہ کی جلد ٢٩ میں پورا ایک مستقل رسالہ لکھا ہے "شرح المطالب فی مبحث ابی طالب" جس میں شرح و بسط کے ساتھ دلائل قاہرہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں.
*چونکہ پنڈی کے پیر صاحب اور ان کے ابا حضور بھی اعلی حضرت کے نام لیوا ہیں تو انہیں اعلی حضرت کی تحقیق کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے.*
*پھر حسان صاحب کی یہ دلیل کے ابو طالب چونکہ سرکار علیہ السلام کے کفیل ہیں اس لیے جنتی ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کا کفیل فرعون ہے تو کیا وہ بھی جنتی ہے؟ جواب دیں.*
حد ہوتی ہے جہالت کی کیا محض یتیم کی کفالت سے جنت مل جائے گی یعنی ایمان کی کوئی شرط ہی نہیں. معاذاللہ
*حسان صاحب کے اس ہذیانی استدلال سے تو سارے کفار یہودی و نصرانی جو یتیموں کی کفالت کرتے ہیں سب ہی جنت میں جائیں گے.*
*نیز ان کا یہ جاہلانہ اجتہاد کہ ابو طالب کو مومن نہ ماننا یزید کی حمایت اور اس کے جنتی ہونے کو مستلزم ہے سراسر باطل اور خلاف واقعہ ہے اہل سنت و جماعت کبھی یزید کو جنتی نہیں کہتے.*
آخر کس دلیل سے حسان صاحب ابو طالب کو اہل بیت میں شامل کرتے ہیں؟
حسان صاحب کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اصحاب کہف کا کتا بلعم باعورہ کی شکل بنکر داخل جنت کیا جائے گا. لیکن اس بوگس دلیل سے ابو طالب کا ایمان کیسے )ثابت ہوتا ہے.
کسی شاعر نے حسان صاحب کی منقبت میں ہی یہ شعر کہا ہے
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا
*اس ویڈیو کلپ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حسان صاحب پنڈوی نے ابو طالب کو مومن نہ ماننے والے جن میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ بھی شامل ہیں پر لعنت بھیجی ہے.*
*وہ اس طرح کہ برادر اعلی حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمۃ کے اشعار دو مرتبہ پڑھے جو انہوں نے رافضیوں کی مذمت میں کہے ہیں*
*لعنۃ اللہ علیکم دشمنان اہل بیت*
*ان اشعار کا مشار الیہ اس بے وقوف نے ابو طالب کے مومن نہ ماننے والوں کو قرار دیا ہے جس میں سیدی اعلی حضرت بلکہ خود برادر اعلی حضرت جن کے یہ اشعار ہیں وہ بھی شامل ہیں.* یا للعجب!!!
اور ایک مقام پر جوش میں آکر سارے ہوش کھو دیے اور *حنیف قریشی ، ریاض شاہ، امتیاز شاہ کاظمی اور نام نہاد عبد القادر تفضیلی کی راہ پر چلتے ہوئے یہ بک دیا کہ*
*"تیرے یزید کی جو کفالت کرے(یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) وہ ایسے جنت میں قریب ہو اور مصطفی کا کفیل (یعنی ابو طالب) جہنم میں جائے گا لعنت ہو تمہارے عقیدے پہ"*
لاحول ولا قوۃ الا باللہ و انا للہ وانا الیہ راجعون.
*یہ ساری پیٹ کی مروڑ اسی لیے ہے کہ کسی طرح صحابی رسول امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین ہوسکے تف ہے ایسے اجہل پر.*
اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن پنڈوی پیر کی خدمت میں امام اہل سنت کا تازیانہ پیش خدمت ہے.
*ہم سنیوں کے امام اعلی حضرت علیہ الرحمۃ علامہ قاضی عیاض کے حوالہ سے فرماتے ہیں ومن یکون یطعن فی معاویۃ فذالک کلب من کلاب الھاویۃ*
جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتّا ہے۔
علماء کرام و اہل فکر و دانش کی بارگاہ میں سوال ہے کہ کیا ایسے جاہل پیر کو اہل سنت و جماعت کی نمائندگی کرنے کا حق حاصل ہے؟
اور کیا ایسا بندہ ممبر رسول پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کے قابل ہے؟
*نیز کیا ایسا جاہل پیر بیعت کرنے کا مجاز ہے؟
امید ہے علماء اہل سنت اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے فتنہ کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا فرمائیں گے تاکہ بھولی بھالی عوام ان چھپے ہوئے تفضیلوں کے دام میں آنے سے محفوط رہ سکیں.
ابو الحسین رضوی
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
ہم مسئلہ ایمانِ ابی طالب میں بلاوجہ کفر کفر کا ڈھنڈورا پیٹ کر کافر کافر کی رٹ لگانے کے قائل نہیں ہیں، اگرچہ جمہور علماء کے نزدیک انکا ایمان ثابت نہیں، اور سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مؤقف ہی ہمارا مؤقف ہے۔ ہم تو احتیاط اسی کو جانتے ہیں کہ اس مسئلے کو موضوعِ بحث نہ بنایا جائے۔ کیونکہ یہ مسئلہ نہ تو ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ اور نہ ہی قطعیات کے قبیل میں سے۔
لیکن پچھلے کچھ دنوں سے مسلسل کچھ روالپنڈی ، اور ڈیرہ اسماعیل خان کے افراد ”ایمانِ ابی طالب“ کے مسئلہ کو بنیاد بنا پر اجلّہ اکابرین کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں۔ ان پر منافقت ، کفر ، اور گستاخی کے فتوے لگا رہے ہیں۔
آئیے ترتیب وار انکے بیانات نقل کرتے ہیں؛
#خطیب_نمبر_1
اس سلسلے میں پنڈی کے پیر زادے حسان حسیب الرحمٰن صاحب کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ کہتے ہیں کہ:
”جو کہتا ہے کہ ابو طالب جنت میں نہیں جائے گا لعنت ہو اسکے عقیدے پر“
مزید اپنے بیان میں کہا کہ:
”مر گئے تمہارے پیر، مر گئے تمہارے استاد جو ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں“
مزید اپنے بیان میں مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کا اُن لوگوں کے بارے میں شعر پڑھا جو ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں ہیں۔ کہ
”شانِ اھلبیت میں گستاخیاں بےباکیاں“
”لعنت اللہ علیکم، دشمنانِ اھلبیت“
یعنی: جو ایمانِ ابی طالب کا قائل نہیں وہ شانِ اھلبیت کا گستاخ ہے اور وہ اھلبیت کا دشمن ہونے کیساتھ ساتھ لعنتی بھی ہے۔
کیونکہ اس شعر کو اسی تناظر میں لا کر پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کن کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
#خطیب_نمبر2
پیرانور شاہ گیلانی صاحب ڈیرہ سماعیل خان والے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہتے ہیں کہ:
”جو ابو طالب کو کافر کہے وہ کبھی بھی مومن نہیں ہوسکتا“
#خطیب_نمبر_3
پنڈی کے مفتی حنیف قریشی صاحب شانِ ابی طالب میں ایک منقبت پڑھتے پڑھتے درمیان میں کہتے ہیں کہ:
”مومن آدمی ہی اس طرح کا کلام لکھ سکتا ہے۔
تو شعب ابی طالب پر غور تو کر سید
سرکار کی خدمت ہے ایمانِ ابی طالب
(ان تینوں حضرات کی ویڈیوز ہم نے کمنٹ میں دے دی ہی تاکہ شک و شُبہ کی گنجائش باقی نہ رہے)
ان بیان سے درج ذیل چیزیں ثابت ہوئیں
1..حسان حسیب الرحمٰن صاحب کے نزدیک جو ابو طالب کو مومن نہ مانے وہ، گستاخِ اھلبیت و لعنتی ہے اسکے عقیدے پر لعنت ہے۔
2..پیر انور شاہ گیلانی صاحب کے نزدیک جو ابو طالب کے ایمان کا قائل نہ ہو وہ مومن نہیں ہے۔
3..مفتی حنیف قریشی صاحب کے نزدیک مومن آدمی وہی وہی ہے جو ایمانِ ابی طالب کے اثبات پر کلام کرے۔
دوستو....!!
کیونکہ یہ تینوں حضرات اپنے اپ کو سنی اور اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مسلک کے داعی مانتے ہیں۔ یہاں ہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ لوگ ایمانِ ابی طالب کے قائل کیوں ہیں۔
ہمارا شکوہ فقط اتنا ہے کہ جو لوگ ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں ہیں۔ یہ انکو کافر ، منافق، گستاخ، اور لعنتی کہتے ہیں۔
اب آئیے دیکھئے یہ فتوے کہاں کہاں تک جاتے ہیں۔ اور کتنے صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین و محدثین و علماء عظام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین، ان کے فتوؤں کی زد میں آ کر گستاخ ٹہرتے ہیں۔ (العیاذبااللہ تعالی)
ان حضرات نے اپنی اپنی تقاریر میں کہا کہ جو ابو طالب کے ایمان کا قائل نہیں، وہ مومن نہیں، وہ گستاخِ اھلبیت ہے، وہ لعنتی ہے۔ آئیے اب دیکھتے جائیے انکے فتوے کہاں کہاں جا کر لگے ہیں۔
اللہ کریم ﷻ انکو رجوع کی توفیق عطا فرمائے آمین
اب ہم یہاں ان اجلّہ ہستیوں کی فہرست پیش کرتے ہیں جنکے نزدیک ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں۔
کیونکہ یہ حضرات خود کو مسلکِ اعلی حضرت کی طرف منسوب کرتے ہیں اس لئے ہم یہ فہرست اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حوالے سے ہی پیش کرتے ہیں۔
ان ائمہ دین و علمائے معتمدین کے ذکر اسمائے طیبہ میں جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی اور ان کے ارشادات کی نقل اس رسالہ (شرح المطالب فی مبحث ایمان ابی طالب) میں گزری۔
#فمن_الصحابة" (صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم میں سے جو جوکفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(1) امیر المومنین صدیق اکبر
(2) امیر المومنین فاروق اعظم
(3) امیر المومنین علی مرتضی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ:
یہاں مناسب سمجھتا ہوں کہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی روایت پیش کر دی جائیں۔
حضرت سیدنا امیر المومنین مولا علی کرم ﷲ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے :
قَالَ قلتُ للنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان عمك الشیخ الضال قد مات قال اذھب فوار اباك
یعنی میں نے حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی: یارسول ﷲ ! حضور کا چچا وہ بوڑھا گمراہ مرگیا ، فرمایا: جا، اسے دبا آ۔
[نصب الرایة بحوالۃ الشافعی واسحق بن راھو یہ وابی داؤد الطیالسی وغیرھم کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی المیت الحدیث الحادی العشر، النوریۃ الرضویۃ پبلشنگ کمپنی لاہور ۲ /۲۸۹ و ۲۹۰]
[سنن ابی داؤدکتاب الجنائز باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرک آفتاب عالم پریس ۲ /۱۰۲]
[مسند احمد بن حنبل عن علی
لیکن پچھلے کچھ دنوں سے مسلسل کچھ روالپنڈی ، اور ڈیرہ اسماعیل خان کے افراد ”ایمانِ ابی طالب“ کے مسئلہ کو بنیاد بنا پر اجلّہ اکابرین کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں۔ ان پر منافقت ، کفر ، اور گستاخی کے فتوے لگا رہے ہیں۔
آئیے ترتیب وار انکے بیانات نقل کرتے ہیں؛
#خطیب_نمبر_1
اس سلسلے میں پنڈی کے پیر زادے حسان حسیب الرحمٰن صاحب کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ کہتے ہیں کہ:
”جو کہتا ہے کہ ابو طالب جنت میں نہیں جائے گا لعنت ہو اسکے عقیدے پر“
مزید اپنے بیان میں کہا کہ:
”مر گئے تمہارے پیر، مر گئے تمہارے استاد جو ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں“
مزید اپنے بیان میں مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کا اُن لوگوں کے بارے میں شعر پڑھا جو ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں ہیں۔ کہ
”شانِ اھلبیت میں گستاخیاں بےباکیاں“
”لعنت اللہ علیکم، دشمنانِ اھلبیت“
یعنی: جو ایمانِ ابی طالب کا قائل نہیں وہ شانِ اھلبیت کا گستاخ ہے اور وہ اھلبیت کا دشمن ہونے کیساتھ ساتھ لعنتی بھی ہے۔
کیونکہ اس شعر کو اسی تناظر میں لا کر پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کن کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
#خطیب_نمبر2
پیرانور شاہ گیلانی صاحب ڈیرہ سماعیل خان والے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہتے ہیں کہ:
”جو ابو طالب کو کافر کہے وہ کبھی بھی مومن نہیں ہوسکتا“
#خطیب_نمبر_3
پنڈی کے مفتی حنیف قریشی صاحب شانِ ابی طالب میں ایک منقبت پڑھتے پڑھتے درمیان میں کہتے ہیں کہ:
”مومن آدمی ہی اس طرح کا کلام لکھ سکتا ہے۔
تو شعب ابی طالب پر غور تو کر سید
سرکار کی خدمت ہے ایمانِ ابی طالب
(ان تینوں حضرات کی ویڈیوز ہم نے کمنٹ میں دے دی ہی تاکہ شک و شُبہ کی گنجائش باقی نہ رہے)
ان بیان سے درج ذیل چیزیں ثابت ہوئیں
1..حسان حسیب الرحمٰن صاحب کے نزدیک جو ابو طالب کو مومن نہ مانے وہ، گستاخِ اھلبیت و لعنتی ہے اسکے عقیدے پر لعنت ہے۔
2..پیر انور شاہ گیلانی صاحب کے نزدیک جو ابو طالب کے ایمان کا قائل نہ ہو وہ مومن نہیں ہے۔
3..مفتی حنیف قریشی صاحب کے نزدیک مومن آدمی وہی وہی ہے جو ایمانِ ابی طالب کے اثبات پر کلام کرے۔
دوستو....!!
کیونکہ یہ تینوں حضرات اپنے اپ کو سنی اور اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مسلک کے داعی مانتے ہیں۔ یہاں ہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ لوگ ایمانِ ابی طالب کے قائل کیوں ہیں۔
ہمارا شکوہ فقط اتنا ہے کہ جو لوگ ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں ہیں۔ یہ انکو کافر ، منافق، گستاخ، اور لعنتی کہتے ہیں۔
اب آئیے دیکھئے یہ فتوے کہاں کہاں تک جاتے ہیں۔ اور کتنے صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین و محدثین و علماء عظام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین، ان کے فتوؤں کی زد میں آ کر گستاخ ٹہرتے ہیں۔ (العیاذبااللہ تعالی)
ان حضرات نے اپنی اپنی تقاریر میں کہا کہ جو ابو طالب کے ایمان کا قائل نہیں، وہ مومن نہیں، وہ گستاخِ اھلبیت ہے، وہ لعنتی ہے۔ آئیے اب دیکھتے جائیے انکے فتوے کہاں کہاں جا کر لگے ہیں۔
اللہ کریم ﷻ انکو رجوع کی توفیق عطا فرمائے آمین
اب ہم یہاں ان اجلّہ ہستیوں کی فہرست پیش کرتے ہیں جنکے نزدیک ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں۔
کیونکہ یہ حضرات خود کو مسلکِ اعلی حضرت کی طرف منسوب کرتے ہیں اس لئے ہم یہ فہرست اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حوالے سے ہی پیش کرتے ہیں۔
ان ائمہ دین و علمائے معتمدین کے ذکر اسمائے طیبہ میں جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی اور ان کے ارشادات کی نقل اس رسالہ (شرح المطالب فی مبحث ایمان ابی طالب) میں گزری۔
#فمن_الصحابة" (صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم میں سے جو جوکفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(1) امیر المومنین صدیق اکبر
(2) امیر المومنین فاروق اعظم
(3) امیر المومنین علی مرتضی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ:
یہاں مناسب سمجھتا ہوں کہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی روایت پیش کر دی جائیں۔
حضرت سیدنا امیر المومنین مولا علی کرم ﷲ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے :
قَالَ قلتُ للنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان عمك الشیخ الضال قد مات قال اذھب فوار اباك
یعنی میں نے حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی: یارسول ﷲ ! حضور کا چچا وہ بوڑھا گمراہ مرگیا ، فرمایا: جا، اسے دبا آ۔
[نصب الرایة بحوالۃ الشافعی واسحق بن راھو یہ وابی داؤد الطیالسی وغیرھم کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی المیت الحدیث الحادی العشر، النوریۃ الرضویۃ پبلشنگ کمپنی لاہور ۲ /۲۸۹ و ۲۹۰]
[سنن ابی داؤدکتاب الجنائز باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرک آفتاب عالم پریس ۲ /۱۰۲]
[مسند احمد بن حنبل عن علی
👍1
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۲۹ و۱۳۰]
[السنن الکبری کتاب الجنائزباب المسلم یغسل ذاقرابتہ دارصادر بیروت ۳ /۳۵۸]
ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے مولا علی نے عرض کی :
ان عمك الشیخ الکافر قدمات فما تری فیه، قال رسول ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اری ان تغسله وامرہ بالغسل
حضور کا چچا وہ بوڑھا کافر مر گیا اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں؟ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نہلا کر دبا دو۔
[المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائزباب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرک ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۴۸]
امام شافعی کی روایت میں ہے : فقلت یارسول ﷲ انه مات مشرکا قال اذھب فوارہ
میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! وہ تو مشرک مرا، فرمایا : جاؤ ، دبا آؤ۔
[نصف الرایہ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی ا لمیت النوریہ الرضویہ الخ ۳ /۲۹۰]
امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا : حدیث صحیح ہے۔ امام حافظ الشان اصابہ فی تیمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں: صححہ ابن خزیمہ یعنی: ابن خزیمہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
[الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷]
ان روایاتِ صحیحہ میں خود مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنے والد کے بارے میں کفر کا قول کر رہے ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے بھی انکار نہ فرمایاـ
(4) حبر الامتہ سیدنا عبدﷲ بن عباس
(5)حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ
(6)صحابی ابن الصحابی سیدنا مسیب بن حزن قریشی مخزومی
(7) حضرت سیدنا عباس عم رسول ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(8) سیدنا ابوسعید خدری
(9) سیدنا جابر بن عبدﷲ انصاری
(10) حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین
(11)سیدنا انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(12)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین
پہلے چھ حضرات سے تو خود ان کے اقوال (شرح المطالب رسالہ میں) گزرے اور انس و ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم کی تقریر اور باقی چار خود حضور پرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد بیان فرماتے ہیں، اور پر ظاہر کہ یہاں اپنے کہنے سے نبی صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد بتانا اور بھی ابلغ ہے۔
#ومن_التابعین : (تابعین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(13)آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضٰی رضی ﷲ تعالٰی عنہم و کرم وجوھہم
(14)امام عطاء بن ابی رباح استاذ سیّدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہا
(15) امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلّہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔
(16) سعید بن محمد ابوالسفرتابعی ابن التابعی ابن الصحابی نبیرہ سیّدنا جبیرین مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
(17) امام الائمہ سراج الاُمہ سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ۔
#ومن_تبع_تابعین: (تبع تابعین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(18) عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیّدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(19) محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ
(20)امام تفسیر مقاتل بلخی
(21)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین جن کے آنے کی سیّدنا عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما نے بشارت دی تھی کہ :" منّا السفاح ومنّا المنصور ومنّا المھدی رواہ الخطیب و ابن عساکر وغیرھما بطریق سعید بن جبیرعنہ قال السیوطی قال الذھبی اسنادہ صالح "۔
ہمیں میں سے ہوگا سفاح اور ہمیں میں منصور اور ہمیں میں مہدی۔(اس کو خطیب و ابن عساکروغیرہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا اور اُسی کے طریق سے امام سیوطی نے کہا : ذہبی نے کہا اس کا اسناد صالح ہے۔)
بلکہ دو حدیثوں میں یہی الفاظ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے آئے :رواہ کذلك الخطیب من طریق الضحاك عن ابن عباس وابن عساکر فی ضمن حدیث عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہم رفعاہ الی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم"اس کو اسی طرح خطیب نے بطریق ضحاک سیّدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کیا جب کہ ابن عساکر نے ایک حدیث کے ضمن میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ان دونوں نے اس کا رفع نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک کیا۔
اعنی امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
#ومن_اتباع_التبع_ومن_یلیھم: (تابعین کے بعد جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(22) امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبدﷲ محمد بن اسمعیل بخاری ۔
(23) امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی
(24) امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔
(25) امام ابو عبدﷲ بن یزید ابن ماجہ قزوینی۔
یہ چاروں ائمہ اصحاب صحاح مشہورہ ہیں اور یہی طبقہ اخیرہ عبدﷲ بن المعتز کا ہے۔
#وممن_بعدھم_من_المفسرین: (انکے بعد مفسرین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(26) امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فّراء بغوی
(27) امام ابواسحٰق زجاج ابراہیم بن السری۔
(28) جار ﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری
(29) ابوا
[السنن الکبری کتاب الجنائزباب المسلم یغسل ذاقرابتہ دارصادر بیروت ۳ /۳۵۸]
ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے مولا علی نے عرض کی :
ان عمك الشیخ الکافر قدمات فما تری فیه، قال رسول ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اری ان تغسله وامرہ بالغسل
حضور کا چچا وہ بوڑھا کافر مر گیا اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں؟ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نہلا کر دبا دو۔
[المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائزباب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرک ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۴۸]
امام شافعی کی روایت میں ہے : فقلت یارسول ﷲ انه مات مشرکا قال اذھب فوارہ
میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! وہ تو مشرک مرا، فرمایا : جاؤ ، دبا آؤ۔
[نصف الرایہ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی ا لمیت النوریہ الرضویہ الخ ۳ /۲۹۰]
امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا : حدیث صحیح ہے۔ امام حافظ الشان اصابہ فی تیمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں: صححہ ابن خزیمہ یعنی: ابن خزیمہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
[الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷]
ان روایاتِ صحیحہ میں خود مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنے والد کے بارے میں کفر کا قول کر رہے ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے بھی انکار نہ فرمایاـ
(4) حبر الامتہ سیدنا عبدﷲ بن عباس
(5)حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ
(6)صحابی ابن الصحابی سیدنا مسیب بن حزن قریشی مخزومی
(7) حضرت سیدنا عباس عم رسول ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(8) سیدنا ابوسعید خدری
(9) سیدنا جابر بن عبدﷲ انصاری
(10) حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین
(11)سیدنا انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(12)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین
پہلے چھ حضرات سے تو خود ان کے اقوال (شرح المطالب رسالہ میں) گزرے اور انس و ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم کی تقریر اور باقی چار خود حضور پرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد بیان فرماتے ہیں، اور پر ظاہر کہ یہاں اپنے کہنے سے نبی صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد بتانا اور بھی ابلغ ہے۔
#ومن_التابعین : (تابعین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(13)آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضٰی رضی ﷲ تعالٰی عنہم و کرم وجوھہم
(14)امام عطاء بن ابی رباح استاذ سیّدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہا
(15) امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلّہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔
(16) سعید بن محمد ابوالسفرتابعی ابن التابعی ابن الصحابی نبیرہ سیّدنا جبیرین مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
(17) امام الائمہ سراج الاُمہ سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ۔
#ومن_تبع_تابعین: (تبع تابعین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(18) عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیّدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(19) محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ
(20)امام تفسیر مقاتل بلخی
(21)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین جن کے آنے کی سیّدنا عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما نے بشارت دی تھی کہ :" منّا السفاح ومنّا المنصور ومنّا المھدی رواہ الخطیب و ابن عساکر وغیرھما بطریق سعید بن جبیرعنہ قال السیوطی قال الذھبی اسنادہ صالح "۔
ہمیں میں سے ہوگا سفاح اور ہمیں میں منصور اور ہمیں میں مہدی۔(اس کو خطیب و ابن عساکروغیرہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا اور اُسی کے طریق سے امام سیوطی نے کہا : ذہبی نے کہا اس کا اسناد صالح ہے۔)
بلکہ دو حدیثوں میں یہی الفاظ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے آئے :رواہ کذلك الخطیب من طریق الضحاك عن ابن عباس وابن عساکر فی ضمن حدیث عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہم رفعاہ الی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم"اس کو اسی طرح خطیب نے بطریق ضحاک سیّدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کیا جب کہ ابن عساکر نے ایک حدیث کے ضمن میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ان دونوں نے اس کا رفع نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک کیا۔
اعنی امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
#ومن_اتباع_التبع_ومن_یلیھم: (تابعین کے بعد جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(22) امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبدﷲ محمد بن اسمعیل بخاری ۔
(23) امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی
(24) امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔
(25) امام ابو عبدﷲ بن یزید ابن ماجہ قزوینی۔
یہ چاروں ائمہ اصحاب صحاح مشہورہ ہیں اور یہی طبقہ اخیرہ عبدﷲ بن المعتز کا ہے۔
#وممن_بعدھم_من_المفسرین: (انکے بعد مفسرین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(26) امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فّراء بغوی
(27) امام ابواسحٰق زجاج ابراہیم بن السری۔
(28) جار ﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری
(29) ابوا
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
لحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری صاحبِ بسیط ووسیط ووجیز۔
(30) امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔
(31) قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔
(32) علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحبِ تقریب۔
(33) امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔
(34) امام علامۃ الوجود مفتی ممالک رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔
(35) علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحبِ تفسیر لباب شہیربہ خازن ۔
(36) امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔
(37) علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
#ومن_المحدثین_والشارحین: (محدثین و شارحین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(38) امام اجل احمد بن حسین بیہقی
(39) حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر ۔
(40) امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔
(41) امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔
(42) امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیٰی بن شرف نووی۔
(43) امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔
(44) امام ابوالسعادات مبارک بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحبِ نہایہ وجامع الاصول ۔
(45) امام جلیل محب الدین احمد بن عبداللہ الطبری۔
(46) امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ
(47) امام شمس الدین محمد بن یوسف بن علی کرمانی شارح صحیح بخاری۔
(48) علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔
(49) امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔
(50) امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی ۔(51) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحبِ تنقیح الاصول۔
(52) امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔
(53) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔
(54) علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔
(55) علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔
(56) مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔(57) علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔
(58) امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔
(59) شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔
(60) سید جمال الدین عطاء اﷲ بن فضل اﷲ شیرازی صاحبِ روضۃ الاحباب
(61) امام عارف باﷲ سیدی علاء الملۃ والدین علی بن حسام الدین متقی مکی۔
(62) علامہ شہاب الدین احمد خفا جی شارح شفاء
(63) علامہ علی بن احمد بن محمد بن ابراہیم عزیزی۔
(64) علامہ محمد حفنی محشی افضل القرٰی
(65) علامہ طاہر فتنی صاحبِ مجمع بحارالانوار
(66) شیخ محقق مولانا عبدالحق بن سیف الدین بخاری
(67) علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی مصری
(68) فاضل محمد بن علی صبان مصری صاحبف اسعاف الراغبین وغیرہم ممن مضی ویجیئ۔
#ومن_الفقہاءوالاصُولیین: (فقھاء اور اصولیین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(69) امام اجل شیخ الاسلام والمسلمین علی بن ابی بکر برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ
(70) امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد حافظ الدین نسفی صاحبِ کنز۔
(71) امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام۔
(72) امام جلال الدین کرلالی صاحبِ کفایہ۔
(73) امام محقق محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج حلبی۔
(74) امام ابراہیم بن موسٰی طرابلسی مصری صاحبِ مواہب الرحمن۔
(75) علامہ ابراہیم بن محمد حلبی شارح منیہ
(76) علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی۔
(77) علامہ محقق زین بن نجیم مصری صاحبِ بحر۔
(78) ملک العلماء بحر العلوم عبدالعلی محمد لکھنوی۔
(89) علامہ سید احمد مصری طحطاوی۔
(80) علامہ سید محمد افندی ابن عبابدین شامی وغیر ھم ممن تقدم رحم ﷲ تعالٰی علمائنا جمیعا من تاخر منھم ومن قدم اٰمن
ہم نے 80 کے قریب ان نفوسِ قدسیہ کی لِسٹ پیش کی ہے جو ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں تھے۔ جو مزید توضیح ومعلومات اور ان حضرات کے اقوال و دلائل جاننا چاہتا ہے وہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے رسالہ ”شرح المطالب فی مبحثِ ایمانِ ابی طالب“ دیکھ سکتا ہے۔
اب ہمارا ان تین خطباء و انکے محبین سے سوال فقط اتنا ہے کہ اگر آپکے نزدیک ایمانِ ابی طالب کا منکر کافر ہے، منافق ہے، گستاخ ہے، لعنتی ہے۔
تو ان 80 کے قریب افراد جن میں اجلّہ صحابہ کرام بلکہ خود مولا علی اور تابعین و تبع تابعین، و شارحین، و محدثین، و اصولیین و فقھاء کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین آتے ہیں۔
ان کے بارے میں کیا کہو گے؟؟
آپ لوگوں کا کفر و نفاق و گستاخی اور لعنت کا فتوے ڈریکٹ ان 80 کے قریب افراد پر لگ رہا ہے جو امت کے کےاکابرین میں سے ہیں۔
لہذا ایمانِ ابی طالب کے مسئلہ میں اس قدر غُلُو سے بچتے ہوئے انکو توبہ کرنی چائیے کے صحابہ کرام و محدثین پر کیچڑا اچھال دیا ہے۔
ہم اپنی بات پھر دہراتے ہیں کہ ہمیں یہاں اس سے غرض نہیں کہ آپ لوگ ا
(30) امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔
(31) قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔
(32) علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحبِ تقریب۔
(33) امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔
(34) امام علامۃ الوجود مفتی ممالک رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔
(35) علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحبِ تفسیر لباب شہیربہ خازن ۔
(36) امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔
(37) علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
#ومن_المحدثین_والشارحین: (محدثین و شارحین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(38) امام اجل احمد بن حسین بیہقی
(39) حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر ۔
(40) امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔
(41) امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔
(42) امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیٰی بن شرف نووی۔
(43) امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔
(44) امام ابوالسعادات مبارک بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحبِ نہایہ وجامع الاصول ۔
(45) امام جلیل محب الدین احمد بن عبداللہ الطبری۔
(46) امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ
(47) امام شمس الدین محمد بن یوسف بن علی کرمانی شارح صحیح بخاری۔
(48) علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔
(49) امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔
(50) امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی ۔(51) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحبِ تنقیح الاصول۔
(52) امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔
(53) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔
(54) علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔
(55) علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔
(56) مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔(57) علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔
(58) امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔
(59) شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔
(60) سید جمال الدین عطاء اﷲ بن فضل اﷲ شیرازی صاحبِ روضۃ الاحباب
(61) امام عارف باﷲ سیدی علاء الملۃ والدین علی بن حسام الدین متقی مکی۔
(62) علامہ شہاب الدین احمد خفا جی شارح شفاء
(63) علامہ علی بن احمد بن محمد بن ابراہیم عزیزی۔
(64) علامہ محمد حفنی محشی افضل القرٰی
(65) علامہ طاہر فتنی صاحبِ مجمع بحارالانوار
(66) شیخ محقق مولانا عبدالحق بن سیف الدین بخاری
(67) علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی مصری
(68) فاضل محمد بن علی صبان مصری صاحبف اسعاف الراغبین وغیرہم ممن مضی ویجیئ۔
#ومن_الفقہاءوالاصُولیین: (فقھاء اور اصولیین میں سے جو کفرِ ابی طالب کے قائل تھے)
(69) امام اجل شیخ الاسلام والمسلمین علی بن ابی بکر برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ
(70) امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد حافظ الدین نسفی صاحبِ کنز۔
(71) امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام۔
(72) امام جلال الدین کرلالی صاحبِ کفایہ۔
(73) امام محقق محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج حلبی۔
(74) امام ابراہیم بن موسٰی طرابلسی مصری صاحبِ مواہب الرحمن۔
(75) علامہ ابراہیم بن محمد حلبی شارح منیہ
(76) علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی۔
(77) علامہ محقق زین بن نجیم مصری صاحبِ بحر۔
(78) ملک العلماء بحر العلوم عبدالعلی محمد لکھنوی۔
(89) علامہ سید احمد مصری طحطاوی۔
(80) علامہ سید محمد افندی ابن عبابدین شامی وغیر ھم ممن تقدم رحم ﷲ تعالٰی علمائنا جمیعا من تاخر منھم ومن قدم اٰمن
ہم نے 80 کے قریب ان نفوسِ قدسیہ کی لِسٹ پیش کی ہے جو ایمانِ ابی طالب کے قائل نہیں تھے۔ جو مزید توضیح ومعلومات اور ان حضرات کے اقوال و دلائل جاننا چاہتا ہے وہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے رسالہ ”شرح المطالب فی مبحثِ ایمانِ ابی طالب“ دیکھ سکتا ہے۔
اب ہمارا ان تین خطباء و انکے محبین سے سوال فقط اتنا ہے کہ اگر آپکے نزدیک ایمانِ ابی طالب کا منکر کافر ہے، منافق ہے، گستاخ ہے، لعنتی ہے۔
تو ان 80 کے قریب افراد جن میں اجلّہ صحابہ کرام بلکہ خود مولا علی اور تابعین و تبع تابعین، و شارحین، و محدثین، و اصولیین و فقھاء کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین آتے ہیں۔
ان کے بارے میں کیا کہو گے؟؟
آپ لوگوں کا کفر و نفاق و گستاخی اور لعنت کا فتوے ڈریکٹ ان 80 کے قریب افراد پر لگ رہا ہے جو امت کے کےاکابرین میں سے ہیں۔
لہذا ایمانِ ابی طالب کے مسئلہ میں اس قدر غُلُو سے بچتے ہوئے انکو توبہ کرنی چائیے کے صحابہ کرام و محدثین پر کیچڑا اچھال دیا ہے۔
ہم اپنی بات پھر دہراتے ہیں کہ ہمیں یہاں اس سے غرض نہیں کہ آپ لوگ ا
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
یمانِ ابی طالب کے قائل کیوں ہیں۔؟
بلکہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ جو اس بات کا قائل نہیں آپ لوگوں نے ان پر کفر و منافقت اور گستاخی کا فتویٰ لگا کر بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ کیونکہ آپکے فتوے کی زد میں مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم سمیت صحابہ کرام و محدثینِ عظام آ رہے ہیں۔
اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ آپ کو توبہ و رجوع کی توفیق بخشے جو امتِ محمدیہ کے اکابرین کی تکفیر و تضلیل و تفسیق کر کے گناہِ عظیم کا بوجھ سر لیا ہے۔
سُونا جنگل رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو ! جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے
محمد اویس رضا رضوی قادری
بلکہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ جو اس بات کا قائل نہیں آپ لوگوں نے ان پر کفر و منافقت اور گستاخی کا فتویٰ لگا کر بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ کیونکہ آپکے فتوے کی زد میں مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم سمیت صحابہ کرام و محدثینِ عظام آ رہے ہیں۔
اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ آپ کو توبہ و رجوع کی توفیق بخشے جو امتِ محمدیہ کے اکابرین کی تکفیر و تضلیل و تفسیق کر کے گناہِ عظیم کا بوجھ سر لیا ہے۔
سُونا جنگل رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو ! جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے
محمد اویس رضا رضوی قادری
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مجاہد ملت، حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
عبد الحامد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی، بن مولانا حافظ فرید جیلانی، بن مولانا محی الدین، بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول، بن مولانا شاہ عین الحق عبد المجید علیہم الرحم
ولادت:
۱۱ نومبر ۱۹۰۰ء کو دہلی میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مدرسہ قادریہ میں مولانا عبد المقتدر بدایونی سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ مولانا محب احمد، مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی (مصنف تنبیہ الجھال بالھام الباسط المتعال) مولانا مفتی محمد ابراہیم ، مولانا مشتاق احمد کانپوری ، مولانا واحد حسین اور مولانا عبدالسلام فلسفی سے تعلیم حاصل کی ۔ آخر میں الہیات کی تکمیل اور قراٗت قرآن شریف کے شوق میں آپ دو سال تک مدرسہ الہیات کانپور میں مقیم رہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ قادریہ میں نامور عالم دین حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ کے دست پر بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عظیم صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک اور خاندانِ بدایوں کے علمی، روحانی، دینی و سیاسی، میراث کے حقیقی کامل و اکمل وارث تھے ۔ وعظ و تقریر میں خصوصی ملکہ حاصل تھا ۔ ہندوستان کے بلادو امصار میں مجالسِ میلاد، سیاسی کانفرنسوں میں شریک ہوتے، انتظامی صلاحیتوں سے خوب آراستہ تھے۔
تحریکِ خلافت اور تحریک ِپاکستان میں آپ کا ممتاز کردار رہا، تقسیم کے بعد کراچی میں مقیم ہو گئے، جمعیۃ علمائے پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ملکی ملی، مذہبی خدمات انجام دیں، پاکستان میں دستور اسلامی کے نفاذ کے لیے آپ نے بڑی کوششیں کیں اورحکومت سے اسلامی دستور کا مطالبہ کیا، جس کو ابو الاعلیٰ مودودی نے ناکام بنادیا۔قیامِ پاکستان کے بعدکراچی سے سب سےپہلا عید میلاد النبی ﷺ کا عظیم الشان جلوس شان و شوکت سے منانے کا اہتمام بھی آپ ہی نے شروع کیا جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ پاکستان کے گورنر جزل اور وزیر اعظم نے بھی شرکت کی ۔ آپکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ۔
وصال:
حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی نے مصروف زندگی گذار کر ۷۲ سال کی عمر میں ۱۵، جمادی الاول ۱۳۹۰ھ بمطابق ۲۰، جولائی ۱۹۷۰ء بروزدو شنبہ اس دنیائے فانی سے انتقال فرما گئے ۔ جامعہ اسلامیہ منگھوپیر روڈ کے احاطہ میں آپ کو دفن کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-hamid-badayuni
نام و نسب:
عبد الحامد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی، بن مولانا حافظ فرید جیلانی، بن مولانا محی الدین، بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول، بن مولانا شاہ عین الحق عبد المجید علیہم الرحم
ولادت:
۱۱ نومبر ۱۹۰۰ء کو دہلی میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مدرسہ قادریہ میں مولانا عبد المقتدر بدایونی سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ مولانا محب احمد، مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی (مصنف تنبیہ الجھال بالھام الباسط المتعال) مولانا مفتی محمد ابراہیم ، مولانا مشتاق احمد کانپوری ، مولانا واحد حسین اور مولانا عبدالسلام فلسفی سے تعلیم حاصل کی ۔ آخر میں الہیات کی تکمیل اور قراٗت قرآن شریف کے شوق میں آپ دو سال تک مدرسہ الہیات کانپور میں مقیم رہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ قادریہ میں نامور عالم دین حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ کے دست پر بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عظیم صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک اور خاندانِ بدایوں کے علمی، روحانی، دینی و سیاسی، میراث کے حقیقی کامل و اکمل وارث تھے ۔ وعظ و تقریر میں خصوصی ملکہ حاصل تھا ۔ ہندوستان کے بلادو امصار میں مجالسِ میلاد، سیاسی کانفرنسوں میں شریک ہوتے، انتظامی صلاحیتوں سے خوب آراستہ تھے۔
تحریکِ خلافت اور تحریک ِپاکستان میں آپ کا ممتاز کردار رہا، تقسیم کے بعد کراچی میں مقیم ہو گئے، جمعیۃ علمائے پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ملکی ملی، مذہبی خدمات انجام دیں، پاکستان میں دستور اسلامی کے نفاذ کے لیے آپ نے بڑی کوششیں کیں اورحکومت سے اسلامی دستور کا مطالبہ کیا، جس کو ابو الاعلیٰ مودودی نے ناکام بنادیا۔قیامِ پاکستان کے بعدکراچی سے سب سےپہلا عید میلاد النبی ﷺ کا عظیم الشان جلوس شان و شوکت سے منانے کا اہتمام بھی آپ ہی نے شروع کیا جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ پاکستان کے گورنر جزل اور وزیر اعظم نے بھی شرکت کی ۔ آپکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ۔
وصال:
حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی نے مصروف زندگی گذار کر ۷۲ سال کی عمر میں ۱۵، جمادی الاول ۱۳۹۰ھ بمطابق ۲۰، جولائی ۱۹۷۰ء بروزدو شنبہ اس دنیائے فانی سے انتقال فرما گئے ۔ جامعہ اسلامیہ منگھوپیر روڈ کے احاطہ میں آپ کو دفن کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-hamid-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Hamid Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد قمرالدین سیالوی ۔ لقب: شیخ الاسلام والمسلمین
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی، بن قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی، بن عارف کبیر خواجہ محمد الدین سیالوی،بن شیخ المشائخ خواجہ محمدشمس الدین سیالوی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 15، جمادی الاول، 1324ھ، بمطابق 1905ء، کو قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے گھر سیال شریف ضلع سرگودھا پنجاب میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے جد امجد خواجہ محمد الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ ابھی آپ کی عمر مبارک 4 سال کی تھی توجدامجد کا انتقال ہوگیا۔جب آپ چار سال، چار ماہ، دس دن کے ہوئے تواس وقت کے معروف حافظِ قرآن، حافظ عبد الکریم کی خدمت میں حفظِ قرآنِ مجید کیلئے بٹھا دیا گیا۔ اپنی خانقاہ کے مدرسہ ضیاء شمس الاسلام کے اساتذہ اور والد ماجد سے اکثر درسی کتب کا درس لینے کے بعد 1346ھ میں دار الخیر اجمیر پہنچے،اور جامع المنقولِ والمعقول حضرت مولانا معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ سے شرفِ تلمذ اختیار کیا، اسی سن میں چند ماہ کے بعد آپ کے والد ماجد نے مولانا اجمیری کو سیال شریف آنے کی دعوت دی، تو آپ بھی اُن کے ساتھ وطن آگئے، اور پورے انہماک کے ساتھ اُن سے کسب علم میں مشغول ہوگئے، اور 1351ھ، بمطابق1932ءمیں تکمیلِ درسیات کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔
1356ھ، بمطابق 1938ء میں بموقع حج و زیارت علماء حرمین شریفین سے بھی سندیں حاصل کیں۔
بیعت وخلافت:
اپنے والدِ گرامی قدوۃالسالکین خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت وخلافت حاصل ہوئی۔
سیرت وخصائص:
مجسمہ ٔروحانیت ،آفتابِ شریعت، ماہتابِ طریقت، اقلیمِ فقر کے تاجدار، عاشقِ نبی مختار، عارف باللہ ،مردِ حقیقت آگاہ ، وارث علوم حضرت پیر سیال لجپال، شیخ الاسلام و المسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے ہزاروں گم کردہ را ہوں کو راہ ِہدایت سے ہمکنار فرمایا۔بد نصیبوں کو سکون و طمانیت کی دولت عطا کی۔ انگنت نفوس آپ کے انفاس طیبہ کی وجہ سے اللہ کریم اور حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے انوار سے چمک اٹھے۔آپ سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایمان اور خوش عقیدگی کے تحفظ کی خاطر ہمیشہ فرقہائے باطلہ کی تردید میں سینہ سپر رہے۔ حضرت شیخ الاسلام عربی فارسی اردوسرائیکی اور پنجابی زبانوں میں تسلسل کے ساتھ گفتگو فرمالیا کرتے تھے۔ عربی میں کمال درجے کا شغف رکھنے کے علاوہ آپ اس زبان میں بلا تکلف مضمون لکھنے کی بھی مہارت تامہ حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس غضب کا حافظہ عطا کیا تھا کہ سالوں پہلے پڑھی ہوئی کتابوں کے مضامین آپ کے پیش نظر رہتے تھے۔آپ کے استاد محترمہ علامہ معین الدین اجمیری آپ ذہانت و ذکاوت کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے۔ آپ کو تقابلِ ادیان پر بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ نے اپنے زور علم اور زور بیان سے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کئے جس میں بڑے بڑے عیسائی پادرویوں کو منہ کی کھانی پڑی۔آپ حُسن اخلاق کےپیکر اور اپنے بزرگوں کےسچے جانشین تھے۔ علماءومشائخ کے طبقہ میں یکساں مقبول تھے، پاکستان کے مسلمانوں کی عظیم دینی و سیاسی تنظیم جمعیت علماء پاکستان کے 1970کےشدید بُحران اور اختلاف کی فضاء میں باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ آپ کی قیادت میں جمعیۃ علماء پاکستان نے بہترین کارہائے نمایاںسر انجام دیئےتھے۔
حضرت خواجہ سیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کشمیر میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ اور فرنٹیئر کے سرحدی علاقوں سے بیش قیمت اسلحہ خرید کر مجاہدین میں تقسیم فرمایا۔جہاد کشمیر کےلیے آپ نے ملک گیر مہم چلائی اور لوگوں کو اس جہاد میں شامل ہونے کی طرف راغب گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق جہاد کشمیر میں شامل ہونے لگے۔حضرت خواجہ سیالوی نے مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور حصہ لیا اور حکومت کا ہاتھ ہٹانے بٹانے کے علاوہ اپنے ذاتی فنڈ سے بے شمار مہاجروں کے گھروں کو آباد گیا۔1965ء کی جنگ کے موقع پر آپ نے اپنی تمام جمع پونجی دفاعی فنڈ میں جمع کرادی اور اپنے مریدین اور معتقدین کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حکم دیا۔آپ کے ایثار و قربانی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے زیورات بھی ملک پر قربان کر دیئے اور اپنے احباب کو قنوت نازلہ پڑھنے کا حکم دیا۔آپ علیہ الرحمہ بیحدخودداراورغیورتھے۔کبھی بھی ذات مفادات آپ کی رکاوٹ نہ بن سکے،اوریہی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کاخاصہ ہوتاہے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد قمرالدین سیالوی ۔ لقب: شیخ الاسلام والمسلمین
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی، بن قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی، بن عارف کبیر خواجہ محمد الدین سیالوی،بن شیخ المشائخ خواجہ محمدشمس الدین سیالوی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 15، جمادی الاول، 1324ھ، بمطابق 1905ء، کو قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے گھر سیال شریف ضلع سرگودھا پنجاب میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے جد امجد خواجہ محمد الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ ابھی آپ کی عمر مبارک 4 سال کی تھی توجدامجد کا انتقال ہوگیا۔جب آپ چار سال، چار ماہ، دس دن کے ہوئے تواس وقت کے معروف حافظِ قرآن، حافظ عبد الکریم کی خدمت میں حفظِ قرآنِ مجید کیلئے بٹھا دیا گیا۔ اپنی خانقاہ کے مدرسہ ضیاء شمس الاسلام کے اساتذہ اور والد ماجد سے اکثر درسی کتب کا درس لینے کے بعد 1346ھ میں دار الخیر اجمیر پہنچے،اور جامع المنقولِ والمعقول حضرت مولانا معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ سے شرفِ تلمذ اختیار کیا، اسی سن میں چند ماہ کے بعد آپ کے والد ماجد نے مولانا اجمیری کو سیال شریف آنے کی دعوت دی، تو آپ بھی اُن کے ساتھ وطن آگئے، اور پورے انہماک کے ساتھ اُن سے کسب علم میں مشغول ہوگئے، اور 1351ھ، بمطابق1932ءمیں تکمیلِ درسیات کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔
1356ھ، بمطابق 1938ء میں بموقع حج و زیارت علماء حرمین شریفین سے بھی سندیں حاصل کیں۔
بیعت وخلافت:
اپنے والدِ گرامی قدوۃالسالکین خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت وخلافت حاصل ہوئی۔
سیرت وخصائص:
مجسمہ ٔروحانیت ،آفتابِ شریعت، ماہتابِ طریقت، اقلیمِ فقر کے تاجدار، عاشقِ نبی مختار، عارف باللہ ،مردِ حقیقت آگاہ ، وارث علوم حضرت پیر سیال لجپال، شیخ الاسلام و المسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے ہزاروں گم کردہ را ہوں کو راہ ِہدایت سے ہمکنار فرمایا۔بد نصیبوں کو سکون و طمانیت کی دولت عطا کی۔ انگنت نفوس آپ کے انفاس طیبہ کی وجہ سے اللہ کریم اور حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے انوار سے چمک اٹھے۔آپ سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایمان اور خوش عقیدگی کے تحفظ کی خاطر ہمیشہ فرقہائے باطلہ کی تردید میں سینہ سپر رہے۔ حضرت شیخ الاسلام عربی فارسی اردوسرائیکی اور پنجابی زبانوں میں تسلسل کے ساتھ گفتگو فرمالیا کرتے تھے۔ عربی میں کمال درجے کا شغف رکھنے کے علاوہ آپ اس زبان میں بلا تکلف مضمون لکھنے کی بھی مہارت تامہ حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس غضب کا حافظہ عطا کیا تھا کہ سالوں پہلے پڑھی ہوئی کتابوں کے مضامین آپ کے پیش نظر رہتے تھے۔آپ کے استاد محترمہ علامہ معین الدین اجمیری آپ ذہانت و ذکاوت کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے۔ آپ کو تقابلِ ادیان پر بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ نے اپنے زور علم اور زور بیان سے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کئے جس میں بڑے بڑے عیسائی پادرویوں کو منہ کی کھانی پڑی۔آپ حُسن اخلاق کےپیکر اور اپنے بزرگوں کےسچے جانشین تھے۔ علماءومشائخ کے طبقہ میں یکساں مقبول تھے، پاکستان کے مسلمانوں کی عظیم دینی و سیاسی تنظیم جمعیت علماء پاکستان کے 1970کےشدید بُحران اور اختلاف کی فضاء میں باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ آپ کی قیادت میں جمعیۃ علماء پاکستان نے بہترین کارہائے نمایاںسر انجام دیئےتھے۔
حضرت خواجہ سیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کشمیر میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ اور فرنٹیئر کے سرحدی علاقوں سے بیش قیمت اسلحہ خرید کر مجاہدین میں تقسیم فرمایا۔جہاد کشمیر کےلیے آپ نے ملک گیر مہم چلائی اور لوگوں کو اس جہاد میں شامل ہونے کی طرف راغب گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق جہاد کشمیر میں شامل ہونے لگے۔حضرت خواجہ سیالوی نے مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور حصہ لیا اور حکومت کا ہاتھ ہٹانے بٹانے کے علاوہ اپنے ذاتی فنڈ سے بے شمار مہاجروں کے گھروں کو آباد گیا۔1965ء کی جنگ کے موقع پر آپ نے اپنی تمام جمع پونجی دفاعی فنڈ میں جمع کرادی اور اپنے مریدین اور معتقدین کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حکم دیا۔آپ کے ایثار و قربانی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے زیورات بھی ملک پر قربان کر دیئے اور اپنے احباب کو قنوت نازلہ پڑھنے کا حکم دیا۔آپ علیہ الرحمہ بیحدخودداراورغیورتھے۔کبھی بھی ذات مفادات آپ کی رکاوٹ نہ بن سکے،اوریہی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کاخاصہ ہوتاہے۔
❤1
حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ آلو مہار شریف ضلع سیالکوٹ والے فرماتے ہیں: کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر ایک سرمایہ دار اور جاگیر دار شخص جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا خواہش مند تھا۔اس تمنا کی تکمیل کے لیے وہ حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں سیال شریف حاضر ہوا۔ آپ نے اس کی خواہش سنی تو فرمایا یہ نشست تو ہم نے ایک عالم کو دی ہے۔ تاکہ وہ الیکشن میں کامیاب ہوجائے اور دین کی خدمت کرے ۔یہ سن کر مذکورہ جاگیر دار بہت مایوس ہوا اور ناکام واپس چلاگیا۔اس بات کے کچھ ہی دنوں بعد وہ تین لاکھ روپےکی خطیر رقم کا چیک لیکر خواجہ صاحب کے پاس دوبارہ آیا اور عرض کی حضرت یہ رقم ناچیز کی طرف سے قبول کرلیجئے تاکہ لنگر کے خرچ میں کام آئے۔ حضرت خواجہ صاحب سمجھ گئے کہ اس دنیا دار کا مقصد کیا ہے۔ آپ کو اس سرمایہ دار کی اس حرکت پر اتنا طیش آیا کہ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا کہ اے دولت مند انسان !یہ اپنی دولت لے جا اور یہ بوٹی کسی دنیا کےکتے کے آگے ڈال دینا۔ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہ شخص شرمندہ ہوکر چلاگیا۔آپ نےساری زندگی پاکستان میں نظام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کےلیے بیحد کوششیں فرمائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر جسٹس تنزیل الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ حضرت شیخ الاسلام نے اسلامی نظریات کونسل کےلیے ہمیشہ تنخواہ کے بغیر کام کیا ہے۔حتیٰ کہ سفر کےاخراجات کےلیے بھی آپ نےکبھی بھی حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔
وصال:
آپ 17 رمضان المبارک 1401ھ، بمطابق 20 جولائی 1981ء،کواپنے خالق حقیق سے جا ملے۔ سیال شریف ضلع سرگودھا میں آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص و عام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-qamaruddin-sialvi
وصال:
آپ 17 رمضان المبارک 1401ھ، بمطابق 20 جولائی 1981ء،کواپنے خالق حقیق سے جا ملے۔ سیال شریف ضلع سرگودھا میں آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص و عام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-qamaruddin-sialvi
scholars.pk
Hazrat Molana Khawaja Qamaruddin Sialvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-05-1444 ᴴ | 09-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-05-1444 ᴴ | 10-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1