🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-05-1444 ᴴ | 07-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-05-1444 ᴴ | 07-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-05-1444 ᴴ | 07-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-05-1444 ᴴ | 07-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
قضیہ علیمیہ : کیا اب اپنے بھی ایسا کریں گے؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی پچھلے کافی وقت سے تنازعات کے حوالے سے سرخیوں میں ہے۔لیکن حالیہ تنازع میں اختلاف کی جو روش سامنے آئی ہے وہ انتہائی سنگین ہے۔اگر وقت رہتے اس روش کا سد باب نہ کیا گیا تو کسی ادارے کا اسلامی کردار باقی رہے گا نہ کسی عالم دین کی پگڑی سلامت رہ پائے گی!
____اصل معاملہ کیا ہے؟
چند دن پہلے جمدا شاہی کے ایک رہائشی نے ادارے کے سینئر استاذ ومفتی اور جماعت کے نام ور فقیہ وعالم،حضرت مفتی اختر حسین علیمی حفظہ اللہ کے خلاف مقامی تھانے میں ایک شکایت نامہ دیا۔شکایت نامہ میں آف دی ریکارڈ آڈیو کو بنیاد بنا کر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے ہیں۔سارے الزامات تقریباً اُسی نوعیت کے ہیں جو آئے دن شدت پسند عناصر مدراس اور علما پر لگاتے رہتے ہیں۔اس شکایت کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ شدت پسند تنظیم وِشْو ہندو پریشد اور ہندو یُوا وَاہِنی نے بھی مفتی اختر حسین علیمی کے خلاف ضلع بستی اور خلیل آباد میں ڈی ایم کو ایک ایک میمورنڈم سونپا۔اس میمورنڈم میں بھی لگ بھگ وہی الزامات ہیں جو پہلے شکایت نامے میں درج تھے،ہاں جس بات کو پہلے شکایت نامے میں ذرا دبے لفظوں میں لکھا گیا تھا اسے وشو ہندو پریشد اور ہندو یُوا واہنی نے کھل کر لکھ دیا ہے۔ مسلم دشمن تنظیموں کا اچانک سے اس معاملے میں دخیل ہونا مدارس وعلما کے لحاظ سے ہرگز اچھا نہیں ہے۔اب شدت پسند عناصر خود سے اس معاملے میں دخیل ہوئے یا کسی نادان دوست کی کرتوت ہے، کچھ کہنا مشکل ہے۔لیکن جو بھی ہوا اور ہورہا ہے اچھا نہیں ہو رہا ہے۔ان تنظیموں کا تو پہلا اور آخری نشانہ مسلمان/مدارس اور علما ہیں۔لیکن حالیہ تنازع کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ خود ایک مسلمان نے مفتی صاحب کے خلاف مقامی تھانے اور ایس پی(S. P) کو شکایت نامہ دیا ہے۔یہاں یہ بات مزید افسوس ناک ہے کہ شکایت کنندہ کوئی غیر نہیں بل کہ ادارے کے سربراہ اعلیٰ، مولانا شفیق الرحمن صاحب (مفتی اعظم ہالینڈ) کے سگے بھائی ہیں۔
کہتے ہیں جب آندھیاں چلتی ہیں تو ہر چہار جانب سے بگولے اٹھتے ہیں، ایسا ہی ایک بگولہ علیمیہ کے لیٹر ہیڈ پر "وجہ بتاؤ نوٹس" کے روپ میں ظاہر ہوا۔جو صدر مدرسہ کی جانب سے مفتی اختر حسین کے نام لکھا گیا ہے۔مذکورہ نوٹس میں بھی وہی الزامات ہیں جو ماقبل کے شکایت نامے میں درج تھے۔ویسے تو ادارہ جاتی اصول کے مطابق نوٹس متعلقہ بندے ہی کو دیا جاتا ہے عوامی سطح پر پھیلایا نہیں جاتا لیکن اللہ بہتر جانے منتظمین علیمیہ کے سامنے کیا عوامل تھے کہ اصول وقواعد کے برعکس مخصوص فرد کے نام جاری کردہ نوٹس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔
گھر کا معاملہ گھر میں سلجھائیں___!!
____اس معاملے کو ادارے سے نکال کر تھانے اور ایس پی تک پہنچانے والے صاحب، سربراہ مدرسہ کے حقیقی بھائی ہیں۔اگر یہ شکایات اپنے بھائی جان ہی سے کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔سربراہ اعلی ہونے کے ناطے وہ از خود مفتی صاحب سے استفسار کر لیتے لیکن گھر کی بات کو تھانے لیکر جانا کہاں کی سمجھ داری ہے؟
ہمیں نہیں معلوم کہ اندرونی طور پر ادارے میں کیا چل رہا ہے لیکن مدرسے کے مسائل اندرون مدرسہ ہی سلجھائے جائیں یہی ادارے کے حق میں اچھا ہے۔سوشل میڈیا پر ادارہ جاتی کاروائی کا وائرل ہونا اصول رازداری کے خلاف تو ہے ہی، اغیار کی نگاہوں میں علما/مدارس/نصاب تعلیم اور شرعی احکام میں دخل اندازی کا راستہ کھولنا بھی ہے۔
اپنے معاملات میں شعوری وغیر شعوری طور پر اغیار کو داخل ہونے کا موقع دینا ایک خطرناک روایت کی بنیاد ڈالنا ہے۔جس کے نتائج ملی اعتبار سے انتہائی مضر ہوں گے۔مستقبل میں اس کا خمیازہ ہر مشہور ومعروف عالم اور مشائخین خانقاہ کو بھگتنا پڑے گا۔ابھی ہماری جذباتیت اور غیر سنجیدگی سے اُنہیں موقع مل رہا ہے کل یہ تنظیمیں از خود آگے بڑھ کر کئی گنا تیزی کے ساتھ یہ کام کریں گی تب ہمارا رونا یا شکایت کرنا بے سود ہوگا کہ جانے انجانے انہیں یہ موقع فراہم کرنے والے ہم خود ہوں گے۔
اکابرین جماعت اور سربراہ ادارہ کو چاہیے اولین فرصت میں اس معاملے کو حل کریں۔مسائل کو خود سلجھائیں۔پولیس اور انتظامیہ کو داخل ہونے کا موقع نہ دیں۔نادان دوستوں کی سرزنش کریں تاکہ آئندہ ایسی حرکات سرزد نہ ہوں اگر وقت رہتے اس روش کا سد باب نہ ہوا تو ممکن ہے وقتی طور پر فرد واحد کا کچھ نقصان ہوجائے لیکن اس کا بڑا نقصان پوری جماعت اور مدارس اسلامیہ کو اٹھانا پڑے گا۔
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
١٢ جمادی الاولی ١٤٤٤ھ
7 دسمبر 2022 بروز بدھ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی پچھلے کافی وقت سے تنازعات کے حوالے سے سرخیوں میں ہے۔لیکن حالیہ تنازع میں اختلاف کی جو روش سامنے آئی ہے وہ انتہائی سنگین ہے۔اگر وقت رہتے اس روش کا سد باب نہ کیا گیا تو کسی ادارے کا اسلامی کردار باقی رہے گا نہ کسی عالم دین کی پگڑی سلامت رہ پائے گی!
____اصل معاملہ کیا ہے؟
چند دن پہلے جمدا شاہی کے ایک رہائشی نے ادارے کے سینئر استاذ ومفتی اور جماعت کے نام ور فقیہ وعالم،حضرت مفتی اختر حسین علیمی حفظہ اللہ کے خلاف مقامی تھانے میں ایک شکایت نامہ دیا۔شکایت نامہ میں آف دی ریکارڈ آڈیو کو بنیاد بنا کر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے ہیں۔سارے الزامات تقریباً اُسی نوعیت کے ہیں جو آئے دن شدت پسند عناصر مدراس اور علما پر لگاتے رہتے ہیں۔اس شکایت کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ شدت پسند تنظیم وِشْو ہندو پریشد اور ہندو یُوا وَاہِنی نے بھی مفتی اختر حسین علیمی کے خلاف ضلع بستی اور خلیل آباد میں ڈی ایم کو ایک ایک میمورنڈم سونپا۔اس میمورنڈم میں بھی لگ بھگ وہی الزامات ہیں جو پہلے شکایت نامے میں درج تھے،ہاں جس بات کو پہلے شکایت نامے میں ذرا دبے لفظوں میں لکھا گیا تھا اسے وشو ہندو پریشد اور ہندو یُوا واہنی نے کھل کر لکھ دیا ہے۔ مسلم دشمن تنظیموں کا اچانک سے اس معاملے میں دخیل ہونا مدارس وعلما کے لحاظ سے ہرگز اچھا نہیں ہے۔اب شدت پسند عناصر خود سے اس معاملے میں دخیل ہوئے یا کسی نادان دوست کی کرتوت ہے، کچھ کہنا مشکل ہے۔لیکن جو بھی ہوا اور ہورہا ہے اچھا نہیں ہو رہا ہے۔ان تنظیموں کا تو پہلا اور آخری نشانہ مسلمان/مدارس اور علما ہیں۔لیکن حالیہ تنازع کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ خود ایک مسلمان نے مفتی صاحب کے خلاف مقامی تھانے اور ایس پی(S. P) کو شکایت نامہ دیا ہے۔یہاں یہ بات مزید افسوس ناک ہے کہ شکایت کنندہ کوئی غیر نہیں بل کہ ادارے کے سربراہ اعلیٰ، مولانا شفیق الرحمن صاحب (مفتی اعظم ہالینڈ) کے سگے بھائی ہیں۔
کہتے ہیں جب آندھیاں چلتی ہیں تو ہر چہار جانب سے بگولے اٹھتے ہیں، ایسا ہی ایک بگولہ علیمیہ کے لیٹر ہیڈ پر "وجہ بتاؤ نوٹس" کے روپ میں ظاہر ہوا۔جو صدر مدرسہ کی جانب سے مفتی اختر حسین کے نام لکھا گیا ہے۔مذکورہ نوٹس میں بھی وہی الزامات ہیں جو ماقبل کے شکایت نامے میں درج تھے۔ویسے تو ادارہ جاتی اصول کے مطابق نوٹس متعلقہ بندے ہی کو دیا جاتا ہے عوامی سطح پر پھیلایا نہیں جاتا لیکن اللہ بہتر جانے منتظمین علیمیہ کے سامنے کیا عوامل تھے کہ اصول وقواعد کے برعکس مخصوص فرد کے نام جاری کردہ نوٹس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔
گھر کا معاملہ گھر میں سلجھائیں___!!
____اس معاملے کو ادارے سے نکال کر تھانے اور ایس پی تک پہنچانے والے صاحب، سربراہ مدرسہ کے حقیقی بھائی ہیں۔اگر یہ شکایات اپنے بھائی جان ہی سے کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔سربراہ اعلی ہونے کے ناطے وہ از خود مفتی صاحب سے استفسار کر لیتے لیکن گھر کی بات کو تھانے لیکر جانا کہاں کی سمجھ داری ہے؟
ہمیں نہیں معلوم کہ اندرونی طور پر ادارے میں کیا چل رہا ہے لیکن مدرسے کے مسائل اندرون مدرسہ ہی سلجھائے جائیں یہی ادارے کے حق میں اچھا ہے۔سوشل میڈیا پر ادارہ جاتی کاروائی کا وائرل ہونا اصول رازداری کے خلاف تو ہے ہی، اغیار کی نگاہوں میں علما/مدارس/نصاب تعلیم اور شرعی احکام میں دخل اندازی کا راستہ کھولنا بھی ہے۔
اپنے معاملات میں شعوری وغیر شعوری طور پر اغیار کو داخل ہونے کا موقع دینا ایک خطرناک روایت کی بنیاد ڈالنا ہے۔جس کے نتائج ملی اعتبار سے انتہائی مضر ہوں گے۔مستقبل میں اس کا خمیازہ ہر مشہور ومعروف عالم اور مشائخین خانقاہ کو بھگتنا پڑے گا۔ابھی ہماری جذباتیت اور غیر سنجیدگی سے اُنہیں موقع مل رہا ہے کل یہ تنظیمیں از خود آگے بڑھ کر کئی گنا تیزی کے ساتھ یہ کام کریں گی تب ہمارا رونا یا شکایت کرنا بے سود ہوگا کہ جانے انجانے انہیں یہ موقع فراہم کرنے والے ہم خود ہوں گے۔
اکابرین جماعت اور سربراہ ادارہ کو چاہیے اولین فرصت میں اس معاملے کو حل کریں۔مسائل کو خود سلجھائیں۔پولیس اور انتظامیہ کو داخل ہونے کا موقع نہ دیں۔نادان دوستوں کی سرزنش کریں تاکہ آئندہ ایسی حرکات سرزد نہ ہوں اگر وقت رہتے اس روش کا سد باب نہ ہوا تو ممکن ہے وقتی طور پر فرد واحد کا کچھ نقصان ہوجائے لیکن اس کا بڑا نقصان پوری جماعت اور مدارس اسلامیہ کو اٹھانا پڑے گا۔
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
١٢ جمادی الاولی ١٤٤٤ھ
7 دسمبر 2022 بروز بدھ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد نور بخش ۔ لقب: حضرت توکل شاہ انبالوی علیہ الرحمہ کی نسبت سے " توکلی" کہلاتے ہیں ۔
والد کا اسمِ گرامی:
آپ کے والدِ گرامی میاں شادی شاہ صاحب علیہ الرحمہ ایک صوفی منش، زراعت پیشہ انسان تھے، اور حضرت خواجہ عبد الخالق جہاں خیلاں نقشبندی علیہ الرحمۃ کے مریدِ خاص تھے۔
تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی علیہ الرحمۃ 12 ربیع الاوّل 1288ھ ، مطابق 2 جون 1871ء، بروز جمعۃ المبارک "چک قاضیاں" ضلع لدھیانہ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت علامہ توکلی علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے مقامی سکول و مدرسہ میں حاصل کی۔ سکول میں اپنی خداداد صلاحیت و ذہانت، محنت اور شرافت کی وجہ سے مقبول تھے ۔ مقامی سکول و کالج اور مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخل ہوئے اور ایم اے عربی میں نمایاں اور امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کی ۔
حضرت توکلی علیہ الرحمۃ علی گڑھ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل بھی رہے اور آپ ضلع لدھیانہ میں پہلے مسلمان تھے جنہوں نے ایم اے پاس کیا تھا ۔ علوم دینیہ سے والہانہ محبت کا عالم یہ تھا کہ میونسپل بورڈ کالج کے پروفیسر ہونے کے باوجود مولانا غلام رسول امر تسری کے پاس حاضر ہوتے اور طلباء کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر تفسیر و حدیث اور فقہ کا درس لیتے۔
بیعت و خلافت:
آپ آستانہ توکلیہ پرحاضر ہوئے تو حضرت شیخ توکل شاہ علیہ الرحمہ نے پوچھا کہ آپ کے والد کس آستانہ سے عقیدت وارادت رکھتے ہیں؟ آپ نے بتایا کہ حضرت خواجہ عبد الخالق جہاں خیلاں نقشبندی علیہ الرحمۃ کے مرید ہیں، تو شیخ نے فرمایا: آ جاؤ! یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے اور مجھے فوراً بیعت کر لیا۔ اس طرح آپ پر نورو عرفان اور فیوض و برکات کے دروازے کھل گئے۔ شیخِ طریقت نے کچھ عرصہ بعد سندِ خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ ان کے وصال کے بعد مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ صابریہ میں فیض یاب ہوئے۔
سیرت و خصائص:
عالمِ باعمل، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، عاشقِ خیرالانام، حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک عالمِ باعمل اور اپنے وقت کی قدر کرنے والے، اس کا صحیح استعمال جاننے اور کرنے والوں میں سے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کی جو سب سے بڑی خوبی و فضیلت ہے، وہ ہے عشقِ مصطفیٰ ﷺ، اور عشق کے بغیر اتباع کے کامل نہیں ہوتا ہے۔ حضرت مولانا توکلی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی اتباعِ رسول ﷺ میں گزری، اور لوگوں میں اتباع و عشق کا جذبہ زندہ کرتے رہے۔
آپ بے حد ذہین تھے ۔ ہمیشہ اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی ۔ بڑی ٹھوس صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، لیکن اپنی تمام تر صلاحیتیں دینِ اسلام کی خدمت و اشاعت، کے لئے وقف کر دی تھیں۔ آپ نے دینِ اسلام کی تعلیم عام کرنے کے لئے "آستانے" کی بجائے ایک مدرسہ بنام "مدرسہ اسلامیہ توکلیہ" قائم کیا ۔ جس سے کثیر طلباء مستفید ہوئے، اور عوامِ اہلسنت کے عقائد محفوظ ہوئے۔ کیونکہ جس علاقے میں اہلسنت کی درسگاہ ہوگی وہاں بد عقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے ۔
اسی طرح علامہ توکلی تصنیف وتالیف کی ضرورت و اہمیت، اور افادیت سے پوری طرح باخبر تھے ۔ اس لئے آپ نے اس طرف خصوصی توجہ فرمائی،اور اس میدان میں خاصاکام کیا۔قدرت نے انہیں وسیع معلومات،قوتِ استدلال اورعام فہم اندازِ تحریر کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔
ان کی تصانیف کے مطالعے سے پتہ چلتاہے کہ آپ کامطالعہ بہت وسیع اورعلومِ دینیہ پربہت گہری نظرتھی۔اس دعوےپران کی تمام تصانیف شاہد ہیں۔آپ کی تمام تصانیف بہت مفید اورنافع ہیں۔ان میں سے ج وقبولِ عام و محبوبیت " سیرتِ رسولِ عربی ﷺ " کو ملی، وہ اسی کاخاصہ ہے،اور ایسا کیوں نہ ہوتا! کہ یہ کتاب تو محبوبِ رب العالمین ﷺ کی شان وتوصیف میں ہے۔
جس چیز کی نسبت رب کے حبیب ﷺ سے ہوگی، وہ بھی ان کے صدقے میں محبوبیت کے درجے پر فائز ہو جائےگی ۔ آپ کی دینی خدمات میں یہ ایک نہایت اہم کام ہے کہ آپ نے گورنمنٹ گزٹ اور سرکاری کاغذات میں "بارہ وفات" کی غلط العوامی اصطلاح کو "عید میلاد النبی ﷺ" کے نام سے تبدیل کرنے کی سعیِ جمیل فرمائی، اور اس میں یہاں تک کامیاب ہوئے، کہ اس دن کو بطورِ مقدس دن منانے اور عام تعطیل منظور کروائی ۔ (تقدیم تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد نور بخش ۔ لقب: حضرت توکل شاہ انبالوی علیہ الرحمہ کی نسبت سے " توکلی" کہلاتے ہیں ۔
والد کا اسمِ گرامی:
آپ کے والدِ گرامی میاں شادی شاہ صاحب علیہ الرحمہ ایک صوفی منش، زراعت پیشہ انسان تھے، اور حضرت خواجہ عبد الخالق جہاں خیلاں نقشبندی علیہ الرحمۃ کے مریدِ خاص تھے۔
تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی علیہ الرحمۃ 12 ربیع الاوّل 1288ھ ، مطابق 2 جون 1871ء، بروز جمعۃ المبارک "چک قاضیاں" ضلع لدھیانہ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت علامہ توکلی علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے مقامی سکول و مدرسہ میں حاصل کی۔ سکول میں اپنی خداداد صلاحیت و ذہانت، محنت اور شرافت کی وجہ سے مقبول تھے ۔ مقامی سکول و کالج اور مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخل ہوئے اور ایم اے عربی میں نمایاں اور امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کی ۔
حضرت توکلی علیہ الرحمۃ علی گڑھ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل بھی رہے اور آپ ضلع لدھیانہ میں پہلے مسلمان تھے جنہوں نے ایم اے پاس کیا تھا ۔ علوم دینیہ سے والہانہ محبت کا عالم یہ تھا کہ میونسپل بورڈ کالج کے پروفیسر ہونے کے باوجود مولانا غلام رسول امر تسری کے پاس حاضر ہوتے اور طلباء کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر تفسیر و حدیث اور فقہ کا درس لیتے۔
بیعت و خلافت:
آپ آستانہ توکلیہ پرحاضر ہوئے تو حضرت شیخ توکل شاہ علیہ الرحمہ نے پوچھا کہ آپ کے والد کس آستانہ سے عقیدت وارادت رکھتے ہیں؟ آپ نے بتایا کہ حضرت خواجہ عبد الخالق جہاں خیلاں نقشبندی علیہ الرحمۃ کے مرید ہیں، تو شیخ نے فرمایا: آ جاؤ! یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے اور مجھے فوراً بیعت کر لیا۔ اس طرح آپ پر نورو عرفان اور فیوض و برکات کے دروازے کھل گئے۔ شیخِ طریقت نے کچھ عرصہ بعد سندِ خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ ان کے وصال کے بعد مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ صابریہ میں فیض یاب ہوئے۔
سیرت و خصائص:
عالمِ باعمل، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، عاشقِ خیرالانام، حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک عالمِ باعمل اور اپنے وقت کی قدر کرنے والے، اس کا صحیح استعمال جاننے اور کرنے والوں میں سے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کی جو سب سے بڑی خوبی و فضیلت ہے، وہ ہے عشقِ مصطفیٰ ﷺ، اور عشق کے بغیر اتباع کے کامل نہیں ہوتا ہے۔ حضرت مولانا توکلی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی اتباعِ رسول ﷺ میں گزری، اور لوگوں میں اتباع و عشق کا جذبہ زندہ کرتے رہے۔
آپ بے حد ذہین تھے ۔ ہمیشہ اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی ۔ بڑی ٹھوس صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، لیکن اپنی تمام تر صلاحیتیں دینِ اسلام کی خدمت و اشاعت، کے لئے وقف کر دی تھیں۔ آپ نے دینِ اسلام کی تعلیم عام کرنے کے لئے "آستانے" کی بجائے ایک مدرسہ بنام "مدرسہ اسلامیہ توکلیہ" قائم کیا ۔ جس سے کثیر طلباء مستفید ہوئے، اور عوامِ اہلسنت کے عقائد محفوظ ہوئے۔ کیونکہ جس علاقے میں اہلسنت کی درسگاہ ہوگی وہاں بد عقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے ۔
اسی طرح علامہ توکلی تصنیف وتالیف کی ضرورت و اہمیت، اور افادیت سے پوری طرح باخبر تھے ۔ اس لئے آپ نے اس طرف خصوصی توجہ فرمائی،اور اس میدان میں خاصاکام کیا۔قدرت نے انہیں وسیع معلومات،قوتِ استدلال اورعام فہم اندازِ تحریر کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔
ان کی تصانیف کے مطالعے سے پتہ چلتاہے کہ آپ کامطالعہ بہت وسیع اورعلومِ دینیہ پربہت گہری نظرتھی۔اس دعوےپران کی تمام تصانیف شاہد ہیں۔آپ کی تمام تصانیف بہت مفید اورنافع ہیں۔ان میں سے ج وقبولِ عام و محبوبیت " سیرتِ رسولِ عربی ﷺ " کو ملی، وہ اسی کاخاصہ ہے،اور ایسا کیوں نہ ہوتا! کہ یہ کتاب تو محبوبِ رب العالمین ﷺ کی شان وتوصیف میں ہے۔
جس چیز کی نسبت رب کے حبیب ﷺ سے ہوگی، وہ بھی ان کے صدقے میں محبوبیت کے درجے پر فائز ہو جائےگی ۔ آپ کی دینی خدمات میں یہ ایک نہایت اہم کام ہے کہ آپ نے گورنمنٹ گزٹ اور سرکاری کاغذات میں "بارہ وفات" کی غلط العوامی اصطلاح کو "عید میلاد النبی ﷺ" کے نام سے تبدیل کرنے کی سعیِ جمیل فرمائی، اور اس میں یہاں تک کامیاب ہوئے، کہ اس دن کو بطورِ مقدس دن منانے اور عام تعطیل منظور کروائی ۔ (تقدیم تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ)
❤1
انعامِ خداوندی:
محترم جناب مفتی عبد الحمید صاحب نقشبندی مجددی، جوایک متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے ۔ ملتان شریف میں رہائش رکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں: میں نےحضرت توکلی صاحب کوتقریباً وصال کے ایک ماہ بعد ، ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مولانا ایک خوبصورت معطرباغ میں ایک سنہری تخت پرجلوہ افروز ہیں۔
میں نے دریافت کیا کہ مولانا صاحب! یہ سرفرازی کیسے نصیب ہوئی؟ فرمانے لگے:" کہ مفتی صاحب! یہ انعام سیرتِ رسولِ عربی ﷺ کی وجہ سے نصیب ہوا ہے"۔
تاریخِ وصال:
سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے بعد سورۃ البقرہ کی تفسیر کے چند رکوع ہی لکھے تھے کہ 13 جمادی الاولیٰ 1367ھ، مطابق 24 مارچ 1948ء کو آپ کا وصال ہو گیا ۔
مدفن:
آپ کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں حضرت نور شاہ ولی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار شریف کے احاطہ میں آپ کو دفن کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ سیرت رسول عربی ﷺ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-noor-bakhsh-tawakkali
محترم جناب مفتی عبد الحمید صاحب نقشبندی مجددی، جوایک متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے ۔ ملتان شریف میں رہائش رکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں: میں نےحضرت توکلی صاحب کوتقریباً وصال کے ایک ماہ بعد ، ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مولانا ایک خوبصورت معطرباغ میں ایک سنہری تخت پرجلوہ افروز ہیں۔
میں نے دریافت کیا کہ مولانا صاحب! یہ سرفرازی کیسے نصیب ہوئی؟ فرمانے لگے:" کہ مفتی صاحب! یہ انعام سیرتِ رسولِ عربی ﷺ کی وجہ سے نصیب ہوا ہے"۔
تاریخِ وصال:
سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے بعد سورۃ البقرہ کی تفسیر کے چند رکوع ہی لکھے تھے کہ 13 جمادی الاولیٰ 1367ھ، مطابق 24 مارچ 1948ء کو آپ کا وصال ہو گیا ۔
مدفن:
آپ کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں حضرت نور شاہ ولی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار شریف کے احاطہ میں آپ کو دفن کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ سیرت رسول عربی ﷺ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-noor-bakhsh-tawakkali
scholars.pk
Hazrat Allama Noor Bakhsh Tawakkali
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1