#خلیفۂ_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
حضرت عـلامـہ مفتی الشاہ الحاج
سید شاہ تراب الحق قادری نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Marde Momin Marde Haq
Turaabul Haq Turabul Haq
یومِ ولادت = 27 رمضان ۶۶۳۱ ھ
یومِ وفات = 4 محرم الحرام ۸۳۴۱
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت عـلامـہ مفتی الشاہ الحاج
سید شاہ تراب الحق قادری نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Marde Momin Marde Haq
Turaabul Haq Turabul Haq
یومِ ولادت = 27 رمضان ۶۶۳۱ ھ
یومِ وفات = 4 محرم الحرام ۸۳۴۱
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سید_تراب_الحق_قادری_کی_50_سالہ_خدمات.pdf
4.1 MB
#خلیفۂ_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
حضرت عـلامـہ مفتی الشاہ الحاج
سید شاہ تراب الحق قادری نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت = 27 رمضان ۶۶۳۱ ھ
یومِ وفات = 4 محرم الحرام ۸۳۴۱
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت عـلامـہ مفتی الشاہ الحاج
سید شاہ تراب الحق قادری نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت = 27 رمضان ۶۶۳۱ ھ
یومِ وفات = 4 محرم الحرام ۸۳۴۱
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 پیرِ طریقت , رہبرِ راہِ شریعت
فخر السادات, مردِ مومِن, مردِ حق
#خلیفۂ_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
حضرت عـلامـہ مفتی الشاہ الحاج
سید شاہ تراب الحق قادری نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت = 27 رمضان ۶۶۳۱ ھ
یومِ وفات = 4 محرم الحرام ۸۳۴۱
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسمِ گرامی :
شاہ تراب الحق آپ کا نام ایک عظیم بزرگ حضرت ’’شاہ تراب الحق‘‘ علیہ الرحمہ کے نام پر رکھا گیا، جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سلسلۂ نسب اس طرح ہے :
حضرت سیّد شاہ تراب الحق قادری بِن حضرت سیّد شاہ حسین قادری بِن سیّد شاہ محی الدین قادری بِن سیّد شاہ عبداللہ قادری بِن سیّد شاہ میراں قادری اور والدۂ ماجد کی طرف سے اس طرح ...
Read More At :
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=1&day=27&month=09&year=&user-submit=
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
فخر السادات, مردِ مومِن, مردِ حق
#خلیفۂ_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
حضرت عـلامـہ مفتی الشاہ الحاج
سید شاہ تراب الحق قادری نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت = 27 رمضان ۶۶۳۱ ھ
یومِ وفات = 4 محرم الحرام ۸۳۴۱
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسمِ گرامی :
شاہ تراب الحق آپ کا نام ایک عظیم بزرگ حضرت ’’شاہ تراب الحق‘‘ علیہ الرحمہ کے نام پر رکھا گیا، جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سلسلۂ نسب اس طرح ہے :
حضرت سیّد شاہ تراب الحق قادری بِن حضرت سیّد شاہ حسین قادری بِن سیّد شاہ محی الدین قادری بِن سیّد شاہ عبداللہ قادری بِن سیّد شاہ میراں قادری اور والدۂ ماجد کی طرف سے اس طرح ...
Read More At :
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=1&day=27&month=09&year=&user-submit=
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اسے بھی ہضم کیجیے (2) - میدان کربلا میں شادی
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ملا حسین واعظ کاشفی سنی نہیں ہے اور اس کی کتاب روضۃ الشھداء جھوٹے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے۔ امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا واقعہ، حضرت عبداللہ بن مبارک اور امام زین العابدین کا قصہ وغیرہ سب جھوٹ ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ ان واقعات کو ہضم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ ساتھ ہی ساتھ اس قصے کو بھی ہضم کریں جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔
ملا حسین واعظ کاشفی لکھتا ہے کہ حضرت قاسم نے امام حسن کا وصیت نامہ امام حسین کو دیا۔ امام حسین دیکھ کر رونے لگے پھر فرمایا کہ اے قاسم یہ تیرے لیے تیرے ابا جان کی وصیت ہے اور میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں۔ امام حسین خیمے کے اندر گئے اور اپنے بھائیوں حضرت عباس اور حضرت عون کو بلا کر جناب قاسم کی والدہ سے فرمایا کہ وہ قاسم کو نئے کپڑے پہنائیں اور اپنی بہن حضرت زینب کو فرمایا کہ میرے بھائی حسن کے کپڑوں کا صندوق لاؤ۔ صندوق پیش کیا گیا تو آپ نے اسے کھولا اور اس میں سے امام حسن کی زرہ نکالی اور اپنا ایک قیمتی لباس نکال کر امام قاسم کو پہنایا اور خوب صورت دستار نکال کر اپنے ہاتھ سے ان کے سر پر باندھی اور اپنی صاحب زادی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے قاسم! یہ تیرے باپ کی امانت ہے جس نے تیرے لیے وصیت کی ہے۔ امام حسین نے اپنی صاحب زادی کا نکاح حضرت قاسم سے کر دیا۔
اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے صائم چشتی نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر یہ نکاح ہوا تھا تو امام حسین نے اپنے بھائی کی وصیت پر عمل کیا ہوگا ورنہ ان حالات میں نکاح وغیرہ کا معاملہ انتہائی نامناسب اور غیر موزوں ہے۔
(روضۃ الشھداء، اردو، ج2، ص297)
اسی قصے کے بارے میں امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ حضرت قاسم کی شادی کا میدان کربلا میں ہونا جس بنا پر مہندی نکالی جاتی ہے، اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں؟
امام اہل سنت نے فرمایا کہ نہ یہ شادی ثابت ہے نہ یہ مہندی سوا اختراع اختراعی کے کوئی چیز (یعنی یہ بنائی ہوئی باتیں ہیں)
(انظر: فتاوی رضویہ، ج24، ص502)
حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ تمام باتیں من گھڑت اور اہل بیت پر بہتان عظیم ہے۔ امام حسین کی دو صاحب زادیاں تھیں اور واقعۂ کربلا سے پہلے دونوں کی شادی ہو چکی تھی۔
(میزان الکتب، ص246)
اس کتاب میں ایسے کئی جھوٹے قصے موجود ہیں جنھیں ہضم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر اب بھی کسی کو یقین نہیں ہے تو وہ اپنے ہاضمے کو آزما سکتا ہے۔
عبد مصطفی
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ملا حسین واعظ کاشفی سنی نہیں ہے اور اس کی کتاب روضۃ الشھداء جھوٹے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے۔ امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا واقعہ، حضرت عبداللہ بن مبارک اور امام زین العابدین کا قصہ وغیرہ سب جھوٹ ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ ان واقعات کو ہضم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ ساتھ ہی ساتھ اس قصے کو بھی ہضم کریں جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔
ملا حسین واعظ کاشفی لکھتا ہے کہ حضرت قاسم نے امام حسن کا وصیت نامہ امام حسین کو دیا۔ امام حسین دیکھ کر رونے لگے پھر فرمایا کہ اے قاسم یہ تیرے لیے تیرے ابا جان کی وصیت ہے اور میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں۔ امام حسین خیمے کے اندر گئے اور اپنے بھائیوں حضرت عباس اور حضرت عون کو بلا کر جناب قاسم کی والدہ سے فرمایا کہ وہ قاسم کو نئے کپڑے پہنائیں اور اپنی بہن حضرت زینب کو فرمایا کہ میرے بھائی حسن کے کپڑوں کا صندوق لاؤ۔ صندوق پیش کیا گیا تو آپ نے اسے کھولا اور اس میں سے امام حسن کی زرہ نکالی اور اپنا ایک قیمتی لباس نکال کر امام قاسم کو پہنایا اور خوب صورت دستار نکال کر اپنے ہاتھ سے ان کے سر پر باندھی اور اپنی صاحب زادی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے قاسم! یہ تیرے باپ کی امانت ہے جس نے تیرے لیے وصیت کی ہے۔ امام حسین نے اپنی صاحب زادی کا نکاح حضرت قاسم سے کر دیا۔
اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے صائم چشتی نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر یہ نکاح ہوا تھا تو امام حسین نے اپنے بھائی کی وصیت پر عمل کیا ہوگا ورنہ ان حالات میں نکاح وغیرہ کا معاملہ انتہائی نامناسب اور غیر موزوں ہے۔
(روضۃ الشھداء، اردو، ج2، ص297)
اسی قصے کے بارے میں امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ حضرت قاسم کی شادی کا میدان کربلا میں ہونا جس بنا پر مہندی نکالی جاتی ہے، اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں؟
امام اہل سنت نے فرمایا کہ نہ یہ شادی ثابت ہے نہ یہ مہندی سوا اختراع اختراعی کے کوئی چیز (یعنی یہ بنائی ہوئی باتیں ہیں)
(انظر: فتاوی رضویہ، ج24، ص502)
حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ تمام باتیں من گھڑت اور اہل بیت پر بہتان عظیم ہے۔ امام حسین کی دو صاحب زادیاں تھیں اور واقعۂ کربلا سے پہلے دونوں کی شادی ہو چکی تھی۔
(میزان الکتب، ص246)
اس کتاب میں ایسے کئی جھوٹے قصے موجود ہیں جنھیں ہضم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر اب بھی کسی کو یقین نہیں ہے تو وہ اپنے ہاضمے کو آزما سکتا ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*چند غیر معتبر کتابوں کی نشاندہی*
-------------پارٹ-20-----------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
--------------------------------------------
قارئین کرام :: جہاں فی زماننا عوام الناس میں بہت سے غلط مسائل اور بے بنیاد واقعات کی بھر مار ہے وہیں بے شمار غیر معتبر و مستند لٹریچر اور رسائل بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں عوام تو عوام بعض پڑھے لکھے بھی ان بے اصل کتابوں کو فروغ دے رہے ہیں
بزرگان دین کی جانب من گھڑت واقعات کو منسوب کردینا فیشن سا ہوگیا ہے
حتی کہ بعض تو اتنے جری و بیباک ہوگئے ہیں کہ سید المعصومین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بھی واقعات کو منسوب کرنے میں باک محسوس نہیں کرتے
اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے
_ان کتابوں سے بچیں اور لوگوں کو بچائیں_
1) *دس بیویوں کی کہانی*
عوام الناس میں انتہائی مقبول ترین کہانی کی کتاب ہے حتی کہ چند عورتیں منت مان کر اسے پڑھتی ہیں
جبکہ یہ کتاب بے اصل اور من گھڑت واقعات پر مشتمل ہے جن کی شرع شریف میں کوئی اصل نہیں
2) *جنگ نامہ حضرت علی رضی اللہ عنہ*
یہ کتاب اشعار پر مشتمل ہے
اس میں موجود واقعات بالکل بے اصل اور شیعوں کے تراشیدہ ہیں لہذا اس کتاب سے بھی خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی آگاہ فرمائیں
3) *رسالہ غلام امام شہید*
یہ کتاب بھی عوام میں مقبول ہے مگر یہ بھی من گھڑت اور بیہودہ واقعات کا مجموعہ ہے امام اہلسنت سیدی اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے اس کتاب کا رد فرمایا ہے اور پڑھنے سے منع بھی فرمایا ہے
4) *نور نامہ ہندی*
یہ کتاب بھی عوام میں اپنا اثر جما چکی ہے جبکہ اہل علم پر خوب واضح ہے کہ اس کتاب کے واقعات موضوع من گھڑت ہیں امام اہلسنت سیدی سرکار اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے فتاوی رضویہ شریف میں اس کتاب کو بے اصل قرار دیا ہے
5) *تذکرہ غوثیہ منصف سید گل حسن قادری*
یہ کتاب گمراہیوں کا مجموعہ ہے بلکہ صریح کفریات موجود ہیں امام اہلسنت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا دیکھنا پڑھنا سب حرام ہے جس کے پاس ہو جلا دے
6) *داستان عجیب*
یہ وہ کتاب ہے جسے بعض جگہ سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے کونڈے کے موقع پر پڑھاتے ہیں صدر الشریعہ فرماتے ہیں اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں
7) *جنگ نامہ بیر الم*
یہ کتاب بھی موضوعات کا مجموعہ ہے علامہ بحر العلوم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب بے اصل اور شیعوں کی تراشیدہ ہے
*لہذا ہم تمامی احباب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان بے اصل اور موضوع من گھڑت کتابوں سے خود بچیں اور سارے احباب کو آگاہ بھی فرمائیں*
جاری--------
----------28/01/2017----------------
*وہابیہ کے مکروفریب جاننے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں*
وہابی مذھب کی حقیقت '' عقائد وہابیہ '' وہابیت کا پوسٹ مارٹم '' قہرخداوندی بر فرقہ دیوبندی '' وہابیت اپنے جال میں '' شیشے کا گھر''وہابیت کے بطلان کا انلشاف''بدعات وہابیہ کا علمی محاسبہ '' نظریات وہابیہ کا علمی محاسبہ وغیرہ''
*نوٹ*:: مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز روا نہیں
--------------------------------------------
رد وہابیہ و دیابنہ و عقائد اہلسنت مع دفاع اہلسنت کے لیے ہمارا بلاگ وژٹ کریں
بنام *اصلاح عقائد*http://islaheaqaid786.blogspot.in
اسی طرح فیس بک یوزر لائک کریں ہمارا فیس بک پیج بنام صدائے حق
https://www.facebook.com/SADAEHAQE786/
اوراب آپ گوگل پلس پہ بھی ہمارا گروپ بنام صدائے حق جوائن کریں
https://plus.google.com/communities/104075053886964143571
اپکا خادم حسن نوری
-----
-------------پارٹ-20-----------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
--------------------------------------------
قارئین کرام :: جہاں فی زماننا عوام الناس میں بہت سے غلط مسائل اور بے بنیاد واقعات کی بھر مار ہے وہیں بے شمار غیر معتبر و مستند لٹریچر اور رسائل بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں عوام تو عوام بعض پڑھے لکھے بھی ان بے اصل کتابوں کو فروغ دے رہے ہیں
بزرگان دین کی جانب من گھڑت واقعات کو منسوب کردینا فیشن سا ہوگیا ہے
حتی کہ بعض تو اتنے جری و بیباک ہوگئے ہیں کہ سید المعصومین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بھی واقعات کو منسوب کرنے میں باک محسوس نہیں کرتے
اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے
_ان کتابوں سے بچیں اور لوگوں کو بچائیں_
1) *دس بیویوں کی کہانی*
عوام الناس میں انتہائی مقبول ترین کہانی کی کتاب ہے حتی کہ چند عورتیں منت مان کر اسے پڑھتی ہیں
جبکہ یہ کتاب بے اصل اور من گھڑت واقعات پر مشتمل ہے جن کی شرع شریف میں کوئی اصل نہیں
2) *جنگ نامہ حضرت علی رضی اللہ عنہ*
یہ کتاب اشعار پر مشتمل ہے
اس میں موجود واقعات بالکل بے اصل اور شیعوں کے تراشیدہ ہیں لہذا اس کتاب سے بھی خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی آگاہ فرمائیں
3) *رسالہ غلام امام شہید*
یہ کتاب بھی عوام میں مقبول ہے مگر یہ بھی من گھڑت اور بیہودہ واقعات کا مجموعہ ہے امام اہلسنت سیدی اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے اس کتاب کا رد فرمایا ہے اور پڑھنے سے منع بھی فرمایا ہے
4) *نور نامہ ہندی*
یہ کتاب بھی عوام میں اپنا اثر جما چکی ہے جبکہ اہل علم پر خوب واضح ہے کہ اس کتاب کے واقعات موضوع من گھڑت ہیں امام اہلسنت سیدی سرکار اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے فتاوی رضویہ شریف میں اس کتاب کو بے اصل قرار دیا ہے
5) *تذکرہ غوثیہ منصف سید گل حسن قادری*
یہ کتاب گمراہیوں کا مجموعہ ہے بلکہ صریح کفریات موجود ہیں امام اہلسنت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا دیکھنا پڑھنا سب حرام ہے جس کے پاس ہو جلا دے
6) *داستان عجیب*
یہ وہ کتاب ہے جسے بعض جگہ سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے کونڈے کے موقع پر پڑھاتے ہیں صدر الشریعہ فرماتے ہیں اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں
7) *جنگ نامہ بیر الم*
یہ کتاب بھی موضوعات کا مجموعہ ہے علامہ بحر العلوم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب بے اصل اور شیعوں کی تراشیدہ ہے
*لہذا ہم تمامی احباب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان بے اصل اور موضوع من گھڑت کتابوں سے خود بچیں اور سارے احباب کو آگاہ بھی فرمائیں*
جاری--------
----------28/01/2017----------------
*وہابیہ کے مکروفریب جاننے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں*
وہابی مذھب کی حقیقت '' عقائد وہابیہ '' وہابیت کا پوسٹ مارٹم '' قہرخداوندی بر فرقہ دیوبندی '' وہابیت اپنے جال میں '' شیشے کا گھر''وہابیت کے بطلان کا انلشاف''بدعات وہابیہ کا علمی محاسبہ '' نظریات وہابیہ کا علمی محاسبہ وغیرہ''
*نوٹ*:: مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز روا نہیں
--------------------------------------------
رد وہابیہ و دیابنہ و عقائد اہلسنت مع دفاع اہلسنت کے لیے ہمارا بلاگ وژٹ کریں
بنام *اصلاح عقائد*http://islaheaqaid786.blogspot.in
اسی طرح فیس بک یوزر لائک کریں ہمارا فیس بک پیج بنام صدائے حق
https://www.facebook.com/SADAEHAQE786/
اوراب آپ گوگل پلس پہ بھی ہمارا گروپ بنام صدائے حق جوائن کریں
https://plus.google.com/communities/104075053886964143571
اپکا خادم حسن نوری
-----