🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
کنیت:
ابو الجناب ـ اسم گرامی: مبارک احمد ۔ لقب: نجم الدین کبٰری ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
احمد بن عمر بن محمد (علیہم الرحمہ)

تاریخ ولادت:
540 ھ ۔ بمطابق 1451ء کو " خیوق " خوارزم، موجودہ (ازبکستان) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی اور محی السنہ اور حضرت شیخ روز بہاں بقلی سے بھی استفادہ کیا، اور بعد میں مختلف شیوخ تصوف اور اپنے وقت کے جید علماء کرام سے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی اور زمانہ طالب علمی میں جس سے مناظرہ کرتے غالب آجاتے اسی وجہ سے طامۃ الکبری اور الشیخ الکبریٰ کے خطاب سے مشہور ہو گئے ۔ آپ نے تحصیل علم کے لئے عراق، شام، خراسان، مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کے اسفار کیے ۔

بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ حضرت عمار یاسر سہروردی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، سند العرفاء، مجاہدِ اسلام، شہیدِ اسلام حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے سب سے بڑے شیخِ طریقت و شریعت تھے ۔ بڑے اولیاء کرام آپ کی بارگا میں حاضر ہوتے تھے ۔ آپ کی کرامات اور خوارق سارے عالم اسلام میں مشہور تھیں ۔

اہل اسلام آپ کو " ولی تراش " کے لقب سے پکارتے تھے ۔ آپ عالم وجد میں جس کسی پر نگاہ ڈالتے اسے مرتبہ ولایت تک پہنچا دیتے ۔

ایک دن ایک سودا گر آپ کی خانقاہ پر حاضر ہوا آپ اس وقت خوش تھے ۔ ایک نگاہ کیمیا اثر ڈالی تو سودا گر کو رتبۂ ولایت عطا فرما دیا ۔

ایک مرتبہ حضرت شیخ نجم الدین نے ایک شخص سے پوچھا کہ کس ملک کے رہنے والے ہو ۔ اس نے بتایا کہ فلاں ملک سے آیا ہوں آپ نے اسے اجازت نامہ لکھ کر دے دیا، اور اسے اس کے ملک کا قطب الارشاد مقرر کر دیا ۔

ایک دن ایک چڑی باز ایک کمزور سی چڑیا کا پیچھا کر رہا تھا ۔ حضرت نجم الدین کبٰری کی ایک نگاہ چڑیا پر پڑی، تو چڑیا میں اتنی قوت پیدا ہو گئی کہ وہ پیچھے پلٹی اور باز کا شکار کرکے شیخ نجم الدین کبرٰی کے قدموں میں حاضر کر دیا ۔ (نفحات الانس، ص: 369) ـ

مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ایک دن اصحابِ کہف کے بارے میں تقریر ہو رہی تھی کہ شیخ سعد الدین حموی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ شیخ کے مریدوں میں سے تھے ۔ دل میں خیال کرنے لگے کہ آیا اس امت میں بھی کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی صحبت کتے میں اثر کر دے ۔ حضرت شیخ نے ولایت کے نور سے یہ بات معلوم کر لی ۔ آپ اٹھے اور خانقاہ کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ اتفاقاً ایک کتا وہاں پر آ گیا اور کھڑا ہو گیا ۔ اپنی دم ہلاتا تھا ۔ شیخ کی نظریں اس پر پڑ گئی ۔ اس وقت اس پر مہربانی ہوئی ۔ وہ متحیرو بے خود ہو گیا ۔ شہر سے منہ پھیر کر قبرستان چلا گیا ۔ زمین پر سر ملتا تھا ۔ یہاں تک کہ جدھر وہ جاتا تھا پچاس ساٹھ کتے اکھٹے ہو جاتے اور اس کے گرد حلقہ لگا لیتے ۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا کرتے اور آواز سے نہ بولتے، اور نہ کچھ کھاتے بلکہ عزت کے ساتھ کھڑے رہتے ۔ آخر تھوڑے دنوں میں وہ کتا مر گیا ۔ (ایضاً)
1
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے:
جب تاتاریوں کا فتنہ شروع ہوا ۔ اس وقت حضرت اپنی خانقاہ میں موجود تھے ۔ آپ نے اپنے مریدین سے فرمایا مشرق سے ایسا فتنہ آ رہا ہے، کہ اس سے پہلے امت کے لئے کبھی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا ۔ مریدین نے عرض کیا آپ دعاء فرمائیں کہ وہ فتنہ ٹل جائے ۔ آپ نے فرمایا یہ ایک قضاء مبرم (قطعی) ہے ۔ دعا اس کو دفع نہیں کر سکتی ۔ پھر فرمایا تم میں سے جو اپنے علاقوں کی طرف جانا چاہے چلا جائے، مریدین نے عرض کیا قیمتی گھوڑے موجود ہیں، آپ بھی محفوظ علاقے کی طرف تشریف لے جائیں ۔

آپ نے فرمایا: ہمارے لئے ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ، اور شہادت ۔ جب  تاتاری کفار شہر میں داخل ہوئے ۔ شیخ نے مریدوں کو بلایا اور کہا: قو موا باِسم  اللہ، نقاتل فی سبیل اللہ۔ آپ گھر میں آئے اور اپنا خرقہ پہنا، کمر کو مضبوط باندھ لیا ،اس خرقہ کا اگلا حصہ کھلا تھا ۔ تاتاریوں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔

آپ نے اپنے خلفاء کی ایسی تربیت  فرمائی کہ وہ منگول قوم جو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھی، اور اسلام کو مٹانے نکلی تھی ۔ تاتاریوں کے فتنے کو کون نہیں جانتا ۔ جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا، مسجدوں، مدرسوں، اور لائبریریوں کو آگ لگادی ۔ لیکن آپ کے خلفاء نے انہیں منگولوں میں تبلیغِ دین کا ایسا کام کیا کہ وہ گروہ در گروہ مسلمان ہوتے چلے گئے، اور اسلام کو دنیا سے ختم کرنے والے اسلام کے محافظ بَن گئے ۔ اللہ اکبر ۔تبھی تو شاعرِ مشرق کا قلم پکارتا ہے ۔

؏:
ہے عیاں فتنۂِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئےکعبےکوصنم خانےسے

تاریخِ شہادت:
آپ 10 جمادی الاوّل 618ھ میں تاتاری لشکروں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ اس  وقت حضرت شیخ کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی ۔ شہادت کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک تاتاری سپاہی کے بال آ گئے تھے ۔ آپ نے انہیں اتنے زور سے پکڑا ہوا تھا کہ شہادت کے بعد بھی دس کافر آپ کے ہاتھ سے بال نہ چُھڑا سکے، بالآخِر وہ بال کاٹنے پڑے ـ

ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najmuddin-kubra
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-05-1444 ᴴ | 04-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-05-1444 ᴴ | 05-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-05-1444 ᴴ | 05-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-05-1444 ᴴ | 05-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1