Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
*🌹 ”اَلحمدُ لِلّٰه رَبّ العٰلَمِین“ 🌹*
*ڪے سترہ ١٧ حروف ڪی نسبت سے چھینک ڪے متعلق 17 سُنّتیں اور آداب*
*💚دو فرامینِ مُصطفٰیﷺ💚*
*۱ ≽* اللّٰه پاک کو چھینک پسند ہے اور جماہی ناپسند
*۲ ≽* جب کسی کو چِھینک آئے اور وہ *اَلحَمدُلِلّٰهِ* کہے تو فِرِشتے کہتے ہیں: *رَبّ العٰلَمِین* اور اگر وہ *رَبّ العٰلَمِین* کہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں *یَرحَمُكَ اللّٰه* یعنی اللّٰه تجھ پر رَحم فرمائے
*۳ ≽* چِھینک کے وَقت سَر جھکائیے، منہ چھپائیے اور آواز آہستہ نکالئے، چِھینک کی آواز بُلند کرنا حَماقت ہے
*٤ ≽* چِھینک آنے پر *اَلحَمدُلِلّٰه* کہنا چاہئے (خزائن العرفان ص۳ طحطاوی کے حوالے سے چِھینک آنے پر حمدِ الہٰی کو سُنَّتِ مُؤکَّدہ لکھا ہے) بہتر یہ ہے کہ *اَلحَمدُلِلّٰهِ رَبّ العٰلَمِین* یا *اَلحَمدُلِلّٰهِ عَلٰی کُلّ ِ حَال* کہے
*٥ ≽* سننے والے پر واجِب ہے کہ فوراً *یَرحَمُكَ اللّٰه* (یعنی اللّٰه تجھ پر رَحم فرمائے) کہے اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والا خود سُن لے
*٦ ≽* جواب سن کر چھینکنے والا کہے *یَغفِراللّٰهُ لَنَاوَلَکُم* (یعنی اللّٰه پاک ہماری اور تمھاری مغفرت فرمائے) یا یہ کہے *یَھدِیکُمُ اللّٰهُ وَیُصلِحُ بَالَکُم* (یعنی اللّٰه پاک تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال دُرُست کرے)
*٧ ≽* جو کوئی چھینک آنے پر *اَلحَمدُلِلّٰهِ عَلٰی کُلّ ِ حَال* کہے اور اپنی زَبَان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے تو *اِن شاءَاللّٰهُ الکریم* دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا
*٨ ≽ حضرت مولائے کائنات، علی المُرتَضٰی رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں:* جو کوئی چھینک آنے پر *اَلحَمدُلِلّٰهِ عَلٰی کُلّ ِ حَال* کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مُبتلا نہیں ہوگا
*٩ ≽* چھینکنے والے کو چاہئے کہ زور سے *حَمَد* کہے تاکہ کوئی سُنے اور جواب دے
*١٠ ≽* چھینک کا جواب ایک بار واجِب ہے دوسری بار چھینک آئے اور وہ *اَلحَمدُلِلّٰه* کہے تو دو بارہ جواب واجِب نہیں بلکہ مُستَحب ہے
*١١ ≽* جواب اس صورت میں واجِب ہوگا جب چھینکنے والا *اَلحَمدُلِلّٰه* کہے اور حمد نا کرے تو جواب نہیں
*١٢ ≽* خطبے کے وقت کسی کو چھینک آئی تو سننے والا اُس کو جواب نا دے
*١٣ ≽* کئی اسلامی بھائی ماجود ہوں تو بعض حاضرین نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہوگیا مگر بہتر یہی ہے سب جواب دیں
*١٤ ≽* دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اُس نے *اَلحَمدُلِلّٰه* کہا تو سننے والا اُس کا جواب دے
*١٥ ≽* نماز میں چھینک آئے تو سکوت کرے (یعنی خاموش رہے) اور *اَلحَمدُلِلّٰه* کہہ لیا تو بھی حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارِغ ہوکر کہے
*١٦ ≽* آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب کی نیت سے *اَلحَمدُلِلّٰه* کہا تو آپ کی نماز ٹوٹ گئی
*١٧ ≽* کافر کو چھینک آئی اور اس نے *اَلحَمدُلِلّٰه* کہا تو جواب میں *یَھدِیکُمُ اللّٰهُ* (یعنی اللّٰه تجھے ہدایت کرے) کہا جائے
✪کتاب الصمت مع موسوعۃ الامام ابن الدنیا ٢٠٤/٧،رقم:۳۲۵
✪احیاءالعلوم ۱۵۱/۳
✪ بخاری ١٦٣/٤ حدیث: ٦٢٢٦
✪ معجم کبیر ٣٥٨/١١ حدیث: ١٢٢٨٤
✪ ردالمحتار ٦٨٤/٩
✪ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ص۷
✪ بہارِ شریعت ٤٧٦.٤٧٧/٣ ملحضاً
✪ عالمگیری ٣٢٦/٥
✪ مراٰۃ المناجیح ٣٩٦/٦
✪ مرقاۃ المفاتیح ٤٩٩/٨ تحت الحدیث:٤٧٣٩
✪ ردالمحتار ٦٨٤/٩
✪ عالمگیری ٣٢٦/٥ - بہارِ شریعت ٤٧٦/٣
✪ بہارِ شریعت ٤٧٧/٣
✪ فتاویٰ قاضی خان ٣٧٧/٣
✪ ردالمحتار ٦٨٤/٩
✪ عالمگیری ٩٨/١
✪ ١٢٦ سُنَّتیں اور آداب ص ٧/٨
*صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب ✿✿✿ صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد*
*صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وٙآلہِ وَسَلَّم*
╰━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━╯
*خود بھی عمل کیجئے اور یہ اہم تحریر زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کریں۔*
*ڪے سترہ ١٧ حروف ڪی نسبت سے چھینک ڪے متعلق 17 سُنّتیں اور آداب*
*💚دو فرامینِ مُصطفٰیﷺ💚*
*۱ ≽* اللّٰه پاک کو چھینک پسند ہے اور جماہی ناپسند
*۲ ≽* جب کسی کو چِھینک آئے اور وہ *اَلحَمدُلِلّٰهِ* کہے تو فِرِشتے کہتے ہیں: *رَبّ العٰلَمِین* اور اگر وہ *رَبّ العٰلَمِین* کہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں *یَرحَمُكَ اللّٰه* یعنی اللّٰه تجھ پر رَحم فرمائے
*۳ ≽* چِھینک کے وَقت سَر جھکائیے، منہ چھپائیے اور آواز آہستہ نکالئے، چِھینک کی آواز بُلند کرنا حَماقت ہے
*٤ ≽* چِھینک آنے پر *اَلحَمدُلِلّٰه* کہنا چاہئے (خزائن العرفان ص۳ طحطاوی کے حوالے سے چِھینک آنے پر حمدِ الہٰی کو سُنَّتِ مُؤکَّدہ لکھا ہے) بہتر یہ ہے کہ *اَلحَمدُلِلّٰهِ رَبّ العٰلَمِین* یا *اَلحَمدُلِلّٰهِ عَلٰی کُلّ ِ حَال* کہے
*٥ ≽* سننے والے پر واجِب ہے کہ فوراً *یَرحَمُكَ اللّٰه* (یعنی اللّٰه تجھ پر رَحم فرمائے) کہے اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والا خود سُن لے
*٦ ≽* جواب سن کر چھینکنے والا کہے *یَغفِراللّٰهُ لَنَاوَلَکُم* (یعنی اللّٰه پاک ہماری اور تمھاری مغفرت فرمائے) یا یہ کہے *یَھدِیکُمُ اللّٰهُ وَیُصلِحُ بَالَکُم* (یعنی اللّٰه پاک تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال دُرُست کرے)
*٧ ≽* جو کوئی چھینک آنے پر *اَلحَمدُلِلّٰهِ عَلٰی کُلّ ِ حَال* کہے اور اپنی زَبَان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے تو *اِن شاءَاللّٰهُ الکریم* دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا
*٨ ≽ حضرت مولائے کائنات، علی المُرتَضٰی رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں:* جو کوئی چھینک آنے پر *اَلحَمدُلِلّٰهِ عَلٰی کُلّ ِ حَال* کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مُبتلا نہیں ہوگا
*٩ ≽* چھینکنے والے کو چاہئے کہ زور سے *حَمَد* کہے تاکہ کوئی سُنے اور جواب دے
*١٠ ≽* چھینک کا جواب ایک بار واجِب ہے دوسری بار چھینک آئے اور وہ *اَلحَمدُلِلّٰه* کہے تو دو بارہ جواب واجِب نہیں بلکہ مُستَحب ہے
*١١ ≽* جواب اس صورت میں واجِب ہوگا جب چھینکنے والا *اَلحَمدُلِلّٰه* کہے اور حمد نا کرے تو جواب نہیں
*١٢ ≽* خطبے کے وقت کسی کو چھینک آئی تو سننے والا اُس کو جواب نا دے
*١٣ ≽* کئی اسلامی بھائی ماجود ہوں تو بعض حاضرین نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہوگیا مگر بہتر یہی ہے سب جواب دیں
*١٤ ≽* دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اُس نے *اَلحَمدُلِلّٰه* کہا تو سننے والا اُس کا جواب دے
*١٥ ≽* نماز میں چھینک آئے تو سکوت کرے (یعنی خاموش رہے) اور *اَلحَمدُلِلّٰه* کہہ لیا تو بھی حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارِغ ہوکر کہے
*١٦ ≽* آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب کی نیت سے *اَلحَمدُلِلّٰه* کہا تو آپ کی نماز ٹوٹ گئی
*١٧ ≽* کافر کو چھینک آئی اور اس نے *اَلحَمدُلِلّٰه* کہا تو جواب میں *یَھدِیکُمُ اللّٰهُ* (یعنی اللّٰه تجھے ہدایت کرے) کہا جائے
✪کتاب الصمت مع موسوعۃ الامام ابن الدنیا ٢٠٤/٧،رقم:۳۲۵
✪احیاءالعلوم ۱۵۱/۳
✪ بخاری ١٦٣/٤ حدیث: ٦٢٢٦
✪ معجم کبیر ٣٥٨/١١ حدیث: ١٢٢٨٤
✪ ردالمحتار ٦٨٤/٩
✪ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ص۷
✪ بہارِ شریعت ٤٧٦.٤٧٧/٣ ملحضاً
✪ عالمگیری ٣٢٦/٥
✪ مراٰۃ المناجیح ٣٩٦/٦
✪ مرقاۃ المفاتیح ٤٩٩/٨ تحت الحدیث:٤٧٣٩
✪ ردالمحتار ٦٨٤/٩
✪ عالمگیری ٣٢٦/٥ - بہارِ شریعت ٤٧٦/٣
✪ بہارِ شریعت ٤٧٧/٣
✪ فتاویٰ قاضی خان ٣٧٧/٣
✪ ردالمحتار ٦٨٤/٩
✪ عالمگیری ٩٨/١
✪ ١٢٦ سُنَّتیں اور آداب ص ٧/٨
*صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب ✿✿✿ صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد*
*صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وٙآلہِ وَسَلَّم*
╰━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━╯
*خود بھی عمل کیجئے اور یہ اہم تحریر زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کریں۔*
❤1
کثیر کتابیں لکھنے والے علمائے کرام
پیشکش: شب و روز دعوتِ اسلامی
حافظِ ملّت حضرت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی " علم و علماء " میں تصنیف کی فضیلت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان مما یلحق المؤمن من عملہ و حسناتہ بعد موتہ علما علمہ و نشرہ وولدا صالحا ترکہ او مصحفا ورثہ او مسجدا بناہ او بیتا لابن السبیل او نھرا اجراہ او صدقۃ اخرجہ من مالہ فی صحتہ و حیاتہ تلحقہ من بعد موتہ رواہ ابن ماجہ و البیہقی
جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ، اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ،یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا،یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ،یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا، کہ یہ چیزیں اسے مرنے کے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں۔ (ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان)
فائدہ: ان تمام چیزوں کا اور اسی طرح دینی کتابیں وراثت میں چھوڑنے، ان کو وقف کرنے اور مدرسہ و خانقاہیں بنوانے کا ثواب بھی مؤمن کو قبر میں ملتا رہے گا جب تک کہ وہ دنیا میں باقی رہیں گی۔ ان میں تعلیم دینے کا ثواب زیادہ دنوں تک ملتا رہے گا بشرطیکہ شاگردوں کو قابل بنائے اور ان سے درس و تدریس کا سلسلہ چل پڑے اور سب سے زیادہ ثواب بہترین دینی کتابوں کی تصنیفات کا ملے گا کہ وہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی جن سے مسلمان اپنے ایمان و عمل سنوارتے رہیں گے ۔ ( فضائلِ علم و عُلماء ص 88 )
٭ حضرت امام عبد الرحمن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے ابو الوفاء بن عقیل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے " الفنون " نامی ایک کتاب لکھی جو آٹھ سو (800) جلدوں میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے۔ ( المنتظم ج 9 ص 96 )
٭ خود امام ابن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے دینی علوم و فنون میں سے تقریبا ہر فن پر کوئی نہ کوئی تصنیف چھوڑی ہے ۔
مشہور ہے کہ ان کےآخری غسل کے واسطے پانی گرم کرنے کے لئے قلم کا وہ تراشہ کافی ہوگیا جو صرف احادیث لکھتے ہوئے قلم کے تراشنے میں جمع ہوگیا تھا ۔( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭ امام جوزی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانے کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار (6000) کتابیں تھیں اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب خانہ الحنفیہ، کتب خانہ حمیدی ،کتب خانہ عبد الوھاب، کتب خانہ ابو محمد وغیرھا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے، سب کا مطالعہ کرڈالا۔ ایک دفعہ برسر منبر فرمایا میں نے اپنے ہاتھ سے دو ہزار ( 2000 ) جلدیں تحریر کی ہیں۔ ( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭حافظ الحدیث حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نے چھ سو ( 600 ) سے زائد کتب تصنیف فرمائیں۔ جن میں تفسیر دُرِّ منثور، البدور السافرة اور شرح الصدور مشہور ہیں۔
٭ استاذ المحدثین حضرت یحییٰ بن مَعِیْن رحمۃ الله علیہ کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ (1000000) احادیث مبارکہ تحریر کیں۔ ( سیر اعلام النبلاء ج 11 ص 85 )
٭ عظیم صوفی بزرگ حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله علیہ نے اٹھتر (78) اصلاحی ، علمی اور تحقیقی کتابیں لکھیں جن میں صرف ”یاقوت التاویل “ چالیس (40) جلدوں میں ہے ۔( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ معروف محدث حضرت امام ابن شاہین رحمۃ الله علیہ نے صرف روشنائی اتنی استعمال کی کہ اس کی قیمت سات سو درھم بنتی تھی ۔ ( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ فقہ حنفی کے امام حضرت امام محمد رحمۃ الله علیہ کی تالیفات ایک ہزار (1000) کے قریب ہیں۔ ( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ حضرت ابن جریر طبری رحمۃ الله علیہ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار (358000) اوراق لکھے جس میں تین ہزار (3000) اوراق تو آپ کی کتاب " تفسیر طبری " کی ہیں جو تیس (30) جلدوں پر ہے مزید آپ کی ایک کتاب " تاریخ الامم و الملوك " ہے جو اکیس (21 ) جلدوں پر ہے۔ ( تاریخ بغداد ج 2 ص 163 )
٭ حضرت علامہ باقلانی رحمۃ الله علیہ نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار (70000) اوراق لکھے ۔( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ الله علیہ نے
”فتح الباری “چودہ (14) جلدوں میں
”تہذیب التہذیب “ چار ( 4 )جلدوں میں
" الاصابہ فی تمییز الصحابہ " نو (9) جلدوں میں
" لسان المیزان " آٹھ( 8 ) جلدوں میں
" تغلیق التغلیق " پانچ ( 5 )جلدوں میں اور دیگر کتب ورسائل کی تعداد ڈیڑھ سو( 150 ) سے زائد ہیں ۔ ( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ حافظ الحدیث حضرت امام عساکر رحمۃ الله علیہ نے " تاریخ دمشق " اَسِّی ( 80 ) جلدوں میں لکھی۔
٭ حضرت امام شمس الدین ذھبی رحمۃ الله علیہ نے " تاریخ اسلام " پچاس (50) جلدوں اور " سیر اعلام النبلاء " تئیس (23) جلدوں " تذکرۃ الحفاظ " چار ( 4 ) جلدوں میں لکھیں۔
پیشکش: شب و روز دعوتِ اسلامی
حافظِ ملّت حضرت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی " علم و علماء " میں تصنیف کی فضیلت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان مما یلحق المؤمن من عملہ و حسناتہ بعد موتہ علما علمہ و نشرہ وولدا صالحا ترکہ او مصحفا ورثہ او مسجدا بناہ او بیتا لابن السبیل او نھرا اجراہ او صدقۃ اخرجہ من مالہ فی صحتہ و حیاتہ تلحقہ من بعد موتہ رواہ ابن ماجہ و البیہقی
جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ، اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ،یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا،یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ،یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا، کہ یہ چیزیں اسے مرنے کے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں۔ (ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان)
فائدہ: ان تمام چیزوں کا اور اسی طرح دینی کتابیں وراثت میں چھوڑنے، ان کو وقف کرنے اور مدرسہ و خانقاہیں بنوانے کا ثواب بھی مؤمن کو قبر میں ملتا رہے گا جب تک کہ وہ دنیا میں باقی رہیں گی۔ ان میں تعلیم دینے کا ثواب زیادہ دنوں تک ملتا رہے گا بشرطیکہ شاگردوں کو قابل بنائے اور ان سے درس و تدریس کا سلسلہ چل پڑے اور سب سے زیادہ ثواب بہترین دینی کتابوں کی تصنیفات کا ملے گا کہ وہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی جن سے مسلمان اپنے ایمان و عمل سنوارتے رہیں گے ۔ ( فضائلِ علم و عُلماء ص 88 )
٭ حضرت امام عبد الرحمن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے ابو الوفاء بن عقیل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے " الفنون " نامی ایک کتاب لکھی جو آٹھ سو (800) جلدوں میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے۔ ( المنتظم ج 9 ص 96 )
٭ خود امام ابن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے دینی علوم و فنون میں سے تقریبا ہر فن پر کوئی نہ کوئی تصنیف چھوڑی ہے ۔
مشہور ہے کہ ان کےآخری غسل کے واسطے پانی گرم کرنے کے لئے قلم کا وہ تراشہ کافی ہوگیا جو صرف احادیث لکھتے ہوئے قلم کے تراشنے میں جمع ہوگیا تھا ۔( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭ امام جوزی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانے کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار (6000) کتابیں تھیں اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب خانہ الحنفیہ، کتب خانہ حمیدی ،کتب خانہ عبد الوھاب، کتب خانہ ابو محمد وغیرھا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے، سب کا مطالعہ کرڈالا۔ ایک دفعہ برسر منبر فرمایا میں نے اپنے ہاتھ سے دو ہزار ( 2000 ) جلدیں تحریر کی ہیں۔ ( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭حافظ الحدیث حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نے چھ سو ( 600 ) سے زائد کتب تصنیف فرمائیں۔ جن میں تفسیر دُرِّ منثور، البدور السافرة اور شرح الصدور مشہور ہیں۔
٭ استاذ المحدثین حضرت یحییٰ بن مَعِیْن رحمۃ الله علیہ کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ (1000000) احادیث مبارکہ تحریر کیں۔ ( سیر اعلام النبلاء ج 11 ص 85 )
٭ عظیم صوفی بزرگ حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله علیہ نے اٹھتر (78) اصلاحی ، علمی اور تحقیقی کتابیں لکھیں جن میں صرف ”یاقوت التاویل “ چالیس (40) جلدوں میں ہے ۔( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ معروف محدث حضرت امام ابن شاہین رحمۃ الله علیہ نے صرف روشنائی اتنی استعمال کی کہ اس کی قیمت سات سو درھم بنتی تھی ۔ ( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ فقہ حنفی کے امام حضرت امام محمد رحمۃ الله علیہ کی تالیفات ایک ہزار (1000) کے قریب ہیں۔ ( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ حضرت ابن جریر طبری رحمۃ الله علیہ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار (358000) اوراق لکھے جس میں تین ہزار (3000) اوراق تو آپ کی کتاب " تفسیر طبری " کی ہیں جو تیس (30) جلدوں پر ہے مزید آپ کی ایک کتاب " تاریخ الامم و الملوك " ہے جو اکیس (21 ) جلدوں پر ہے۔ ( تاریخ بغداد ج 2 ص 163 )
٭ حضرت علامہ باقلانی رحمۃ الله علیہ نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار (70000) اوراق لکھے ۔( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ الله علیہ نے
”فتح الباری “چودہ (14) جلدوں میں
”تہذیب التہذیب “ چار ( 4 )جلدوں میں
" الاصابہ فی تمییز الصحابہ " نو (9) جلدوں میں
" لسان المیزان " آٹھ( 8 ) جلدوں میں
" تغلیق التغلیق " پانچ ( 5 )جلدوں میں اور دیگر کتب ورسائل کی تعداد ڈیڑھ سو( 150 ) سے زائد ہیں ۔ ( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ حافظ الحدیث حضرت امام عساکر رحمۃ الله علیہ نے " تاریخ دمشق " اَسِّی ( 80 ) جلدوں میں لکھی۔
٭ حضرت امام شمس الدین ذھبی رحمۃ الله علیہ نے " تاریخ اسلام " پچاس (50) جلدوں اور " سیر اعلام النبلاء " تئیس (23) جلدوں " تذکرۃ الحفاظ " چار ( 4 ) جلدوں میں لکھیں۔
❤1👍1
٭حافظ الحدیث امام سید محمد مرتضیٰ بلگرامی زبیدی رحمۃ اللہ علیہ نے 100 سے زائد کتب لکھیں ،جن میں مشہور و معروف تاج العروس ( 40 مجلد ) اور اتحاف سعادۃ المتقین شرحِ احیاء علوم الدین ہے۔( حدائق الحنفیۃ ص 477 )
٭ معروف محدث فرات بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا وصال ہوا تو ان کے گھر سے اٹھارہ ( 18 ) صندوق کتب سے بھرے ہوئے دستیاب ہوئے ان کتب میں اکثر ان کی خود نوشتہ تھیں۔(فضائل علم و علماء ص 196 )
٭️قطب شام حضرت امام عبد الغنی نابلسی رحمة اللّٰہ علیہ نے 250 سے زائد کتب تحریر کیں ۔ ( اصلاح اعمال مترجم ، مقدمہ ، ج 1 ص 70 )
٭مفتی الثقلین ،امام اصول و فروع شمس الدین ابنِ کمال پاشا رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ 300 سے زائد کتب لکھیں جن میں مشہور کتاب " مجموعہ رسائل ابن کمال پاشا "۔( ماہ نامہ فیضان مدینہ ، اپنے بزرگوں کو یاد رکھئیے ، عرس ذیقعدہ )
٭ محدث شہیر حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے 50 کتب تحریر کیں جن میں مشہور معروف حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء ہے۔( حلیۃ الاولیاء مقدمہ ج 1 ص 15 )
٭سلطان اولیاء حضرت شیخ عبد القادر الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی تعداد 72 ہے حالانکہ آپ مدرس بھی تھے اور تبلیغ بھی فرماتے تھے ۔
٭امام اہلسنت امام احمدرضا خان رحمۃ الله علیہ نے مختلف عنوانات پر کم و بیش ایک ہزار(1000) کتابیں لکھی ہیں ۔ ( تذکرہ امام احمد رضا ص 16 )
٭یوں تو اعلیٰ حضرت رحمۃ الله علیہ نے 1286ھ سے 1340ھ تک لاکھوں فتوے دیئے ہوں گے لیکن افسوس کہ ! ! سب نقل نہ کئے جاسکے جو نقل کرلیے گئے تھے وہ “ العطایا النبویہ فی الفتوی الرضویہ “ کے نام سے موسوم ہیں۔ فتاوی رضویہ کی 30 ( تیس ) جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 21656 ( اکیس ہزار چھ سو چھپن )،اس میں کل سوالات و جوابات 6847 ( چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس ) جبکہ 206 رسائل بھی اس میں موجود ہیں ۔( تذکرہ امام احمد رضا ص 16 )
٭حضرت علامہ مولانا مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ الله علیہ کی کتب ورسائل کی تعداد کم و بیش تین ہزار (3000) سے زائد ہے۔آپ کی کتب کی فہرست پر ایک مستقل رسالہ بنام " علم کے موتی " موجود ہے ۔
٭ قطب شام ڈاکٹر عبد العزیز الخطیب دامت برکاتہم العالیہ کی سات 7 موسوعات حدیث ،فقہ ، تصوف ، عقائد ، خطبات ، تاریخ السلامیہ ، دروس کے موضوعات پر ہیں ۔
موسوعة الحدیث الشریف ( 4 مجلد )
موسوعة الفقة الشافعی ( 20 مجلد )
موسوعة التصوف ( 9 مجلد )
موسوعة العقائد ( 5 مجلد )
موسوعة خطب المنبریه ( 12 مجلد )
موسوعة الشخصیات الاسلامیه ( 7 مجلد )
موسوعة الدورس البدریه ( 5 مجلد )
یوں یہ باسٹھ ( 62 ) جلدیں ہوگئیں ۔
ان کے علاوہ آپ کی کتب و رسائل کی تعداد پچپن ( 55 ) سے زائد ہے۔
٭ پیر و مرشد امیراہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری اطال اللہ عمرہ کی کتب و رسائل کی تعداد تقریبا ڈیڑھ سو ( 150 ) ہے۔
یہ تو وہ کتب ہیں جن کا تذکرہ کہیں نہ کہیں ملتا ہے ۔ یہاں بغداد کا المناک سانحہ بھلایا نہیں جاسکتا کہ تاتاریوں نے جب بغداد میں عظیم طوفان برپا کیا ، علماء کا قتل عام کیا اور بغداد کی لائبریریاں جلاکر ان کی راکھ دریائے دجلہ کے سپرد کردی تو تین دن تک اس راکھ سے اس دریا کا پانی سیاہ ہوکر بہتا رہا۔ اسی فتنے میں کئی ہزار یا لاکھوں کتب جن کی تعداد کا علم آج تک نہ ہوسکا ، ضائع کردی گئیں
مقصد تحریر اور سابقہ سطور سے حاصل ہونے والا نتیجہ :
ان تمام سطور کو پڑھنے سے یہ بات بلکل سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے اسلاف کا تحریر سے کتنا لگاؤ تھا جبکہ آج کل حالیہ دور میں دیکھا یہ گیا ہے کہ نام نہاد خطیبوں اور نعت خوانوں کی وجہ سے ہمارے طلباء کے ازھان خط و کتابت سے ہٹ گئے ہیں اور انہوں نے اپنا مقصد صرف تقریر و خطابت کو بنانا شروع کر دیا اور وہ بھی اپنی محنت اور عربی کتب کی مدد سے نہیں بلکہ محض کسی جوشیلے مقرر کی تقریر سن کر اور اردو میں بیانات پر لکھی جانے والی کتب سے پڑھ کر بنا تحقیق کے آگے بیان کر دینا ہی مقصد سمجھ بیٹھے اور اسی پر اپنی صلاحیوں کو محدود کرتے نظر آتے ہیں لہذا ایسے طلباء سے عرض ہے اپنے مقاصد میں تحریر و کتابت کو بھی شامل کریں اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں۔ ان خطیبوں اور مقررین کے پیچھے چل کر اپنی صلاحیتوں کو محدود مت کیجیے اور اگر بیان و تقریر کرنی پڑے تو اپنی تقریر خود عربی کتب سے تیار کیجیے یا کسی صحیح العقیدہ سنی محققین علماء کرام کی کتب سے تیار کیجیے۔ ساتھ ساتھ تحریر لکھنے کی طرف بھی قدم بڑھائیے ،چاہے کسی ایک کتاب پر یا کسی موضوع پر۔اس سے آپ کی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔
شرف ملت حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ الله علیہ اپنی کتاب " تذکرہ اکابر اہلسنت " میں لکھتے ہیں کہ محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد قادری رحمۃ الله علیہ طلبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کرتے تھے :” مولانا ! درسی کتب پر حواشی لکھنے کی طرف توجہ ضرور دیجیے کچھ نہیں تو ہر روز ایک دو سطریں لکھ لیا کریں ان شاءاللہ ایک وقت
٭ معروف محدث فرات بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا وصال ہوا تو ان کے گھر سے اٹھارہ ( 18 ) صندوق کتب سے بھرے ہوئے دستیاب ہوئے ان کتب میں اکثر ان کی خود نوشتہ تھیں۔(فضائل علم و علماء ص 196 )
٭️قطب شام حضرت امام عبد الغنی نابلسی رحمة اللّٰہ علیہ نے 250 سے زائد کتب تحریر کیں ۔ ( اصلاح اعمال مترجم ، مقدمہ ، ج 1 ص 70 )
٭مفتی الثقلین ،امام اصول و فروع شمس الدین ابنِ کمال پاشا رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ 300 سے زائد کتب لکھیں جن میں مشہور کتاب " مجموعہ رسائل ابن کمال پاشا "۔( ماہ نامہ فیضان مدینہ ، اپنے بزرگوں کو یاد رکھئیے ، عرس ذیقعدہ )
٭ محدث شہیر حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے 50 کتب تحریر کیں جن میں مشہور معروف حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء ہے۔( حلیۃ الاولیاء مقدمہ ج 1 ص 15 )
٭سلطان اولیاء حضرت شیخ عبد القادر الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی تعداد 72 ہے حالانکہ آپ مدرس بھی تھے اور تبلیغ بھی فرماتے تھے ۔
٭امام اہلسنت امام احمدرضا خان رحمۃ الله علیہ نے مختلف عنوانات پر کم و بیش ایک ہزار(1000) کتابیں لکھی ہیں ۔ ( تذکرہ امام احمد رضا ص 16 )
٭یوں تو اعلیٰ حضرت رحمۃ الله علیہ نے 1286ھ سے 1340ھ تک لاکھوں فتوے دیئے ہوں گے لیکن افسوس کہ ! ! سب نقل نہ کئے جاسکے جو نقل کرلیے گئے تھے وہ “ العطایا النبویہ فی الفتوی الرضویہ “ کے نام سے موسوم ہیں۔ فتاوی رضویہ کی 30 ( تیس ) جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 21656 ( اکیس ہزار چھ سو چھپن )،اس میں کل سوالات و جوابات 6847 ( چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس ) جبکہ 206 رسائل بھی اس میں موجود ہیں ۔( تذکرہ امام احمد رضا ص 16 )
٭حضرت علامہ مولانا مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ الله علیہ کی کتب ورسائل کی تعداد کم و بیش تین ہزار (3000) سے زائد ہے۔آپ کی کتب کی فہرست پر ایک مستقل رسالہ بنام " علم کے موتی " موجود ہے ۔
٭ قطب شام ڈاکٹر عبد العزیز الخطیب دامت برکاتہم العالیہ کی سات 7 موسوعات حدیث ،فقہ ، تصوف ، عقائد ، خطبات ، تاریخ السلامیہ ، دروس کے موضوعات پر ہیں ۔
موسوعة الحدیث الشریف ( 4 مجلد )
موسوعة الفقة الشافعی ( 20 مجلد )
موسوعة التصوف ( 9 مجلد )
موسوعة العقائد ( 5 مجلد )
موسوعة خطب المنبریه ( 12 مجلد )
موسوعة الشخصیات الاسلامیه ( 7 مجلد )
موسوعة الدورس البدریه ( 5 مجلد )
یوں یہ باسٹھ ( 62 ) جلدیں ہوگئیں ۔
ان کے علاوہ آپ کی کتب و رسائل کی تعداد پچپن ( 55 ) سے زائد ہے۔
٭ پیر و مرشد امیراہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری اطال اللہ عمرہ کی کتب و رسائل کی تعداد تقریبا ڈیڑھ سو ( 150 ) ہے۔
یہ تو وہ کتب ہیں جن کا تذکرہ کہیں نہ کہیں ملتا ہے ۔ یہاں بغداد کا المناک سانحہ بھلایا نہیں جاسکتا کہ تاتاریوں نے جب بغداد میں عظیم طوفان برپا کیا ، علماء کا قتل عام کیا اور بغداد کی لائبریریاں جلاکر ان کی راکھ دریائے دجلہ کے سپرد کردی تو تین دن تک اس راکھ سے اس دریا کا پانی سیاہ ہوکر بہتا رہا۔ اسی فتنے میں کئی ہزار یا لاکھوں کتب جن کی تعداد کا علم آج تک نہ ہوسکا ، ضائع کردی گئیں
مقصد تحریر اور سابقہ سطور سے حاصل ہونے والا نتیجہ :
ان تمام سطور کو پڑھنے سے یہ بات بلکل سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے اسلاف کا تحریر سے کتنا لگاؤ تھا جبکہ آج کل حالیہ دور میں دیکھا یہ گیا ہے کہ نام نہاد خطیبوں اور نعت خوانوں کی وجہ سے ہمارے طلباء کے ازھان خط و کتابت سے ہٹ گئے ہیں اور انہوں نے اپنا مقصد صرف تقریر و خطابت کو بنانا شروع کر دیا اور وہ بھی اپنی محنت اور عربی کتب کی مدد سے نہیں بلکہ محض کسی جوشیلے مقرر کی تقریر سن کر اور اردو میں بیانات پر لکھی جانے والی کتب سے پڑھ کر بنا تحقیق کے آگے بیان کر دینا ہی مقصد سمجھ بیٹھے اور اسی پر اپنی صلاحیوں کو محدود کرتے نظر آتے ہیں لہذا ایسے طلباء سے عرض ہے اپنے مقاصد میں تحریر و کتابت کو بھی شامل کریں اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں۔ ان خطیبوں اور مقررین کے پیچھے چل کر اپنی صلاحیتوں کو محدود مت کیجیے اور اگر بیان و تقریر کرنی پڑے تو اپنی تقریر خود عربی کتب سے تیار کیجیے یا کسی صحیح العقیدہ سنی محققین علماء کرام کی کتب سے تیار کیجیے۔ ساتھ ساتھ تحریر لکھنے کی طرف بھی قدم بڑھائیے ،چاہے کسی ایک کتاب پر یا کسی موضوع پر۔اس سے آپ کی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔
شرف ملت حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ الله علیہ اپنی کتاب " تذکرہ اکابر اہلسنت " میں لکھتے ہیں کہ محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد قادری رحمۃ الله علیہ طلبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کرتے تھے :” مولانا ! درسی کتب پر حواشی لکھنے کی طرف توجہ ضرور دیجیے کچھ نہیں تو ہر روز ایک دو سطریں لکھ لیا کریں ان شاءاللہ ایک وقت
❤2👍1
ایسا آئے گا کہ مکمل کتاب بن جائے گی ۔“ ( تذکرہ اکابرِ اہل سنت ص 78 )
ازقلم: احمد رضا مغل
بتاریخ : 10 اپریل 2022 بمطابق 8 رمضان المبارک 1443بروز اتوار
ازقلم: احمد رضا مغل
بتاریخ : 10 اپریل 2022 بمطابق 8 رمضان المبارک 1443بروز اتوار
❤2
عبد اللہ بن محمد ابو بکر المعروف ابنِ ابی الدنیا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان ابن ابی الدنيا قرشی اموی ۔ کنیت: ابو بکر ۔ اور آپ ابنِ ابی الدنیا کے نام سے مشہور ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 208 ھ میں بغداد میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کے مشائخ میں احمد دورقی، علی بن جعد جوہری، زُہیر بن حرب، ابوعبید قاسم بن سلام، داود بن رشید خورازمی، محمد بن سعد کاتبِ واقدی، امام بخاری اور امام ابوداؤد وغیرہ ہیں جن سے فنِ حدیث کی تعلیم پائی۔
سیرت و خصائص:
شیخ الوقت، امام الائمہ، فقیہ العصر، شیخ الحدیث، حافظ الحدیث ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا مشہور حفاظِ احادیث میں سے تھے۔
ابن ابی الدنیا شہزادگانِ خلفائے عباسیہ کے اَتالیق رہے ۔ خلیفہ معتضد باللہ کی تربیت بھی ان ہی کی اَتالیقی میں ہوئی۔
حافظ ذہبی نے "تذکرۃ الحفاظ" میں ان کا ترجمہ ان لفظوں میں شروع کیا ہے:
ابن أبي الدنیا المحدث العالم الصدوق۔یعنی : ابنِ ابی الدنیا محدث، عالم اور سچے راویوں سے ہیں۔
اورحافظ جمال الدین مزّی کے "تہذیب الکمال" میں یہ الفاظ ہیں: أبو بکر بن أبي الدنیا البغدادي الحافظ صاحب التصانیف المشہورۃ ومؤدب أولاد الخلفاء ۔ یعنی: ابنِ ابی الدنیا احادیث کے حافظ، کتبِ مشہورہ کے مصنف اور خلفاء کے اولاد کی تربیت فرماتے تھے۔
ابنِ ابی حاتم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کی معیت میں ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور والد نے ان کو صدوق کہا ہے۔ آپ ایسی صلاحیت کے حامل شخص تھے ایک بندے کو آپ جب چاہیں رولا دیں اور جب چاہیں ہنسا دیں ۔ اسی ادا سے متاثر ہوکر خلیفہ نے آپ کو اپنی بیٹوں کی تربیت کے لئے رکھا۔
تاریخِ وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 10 جمادی الاول 281 ھ / بمطابق جولائی 894 ء میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/imam-abu-bakr-abdullah-bin-muhammad-ibn-abi-dunya
نام و نسب:
آپ کا نام عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان ابن ابی الدنيا قرشی اموی ۔ کنیت: ابو بکر ۔ اور آپ ابنِ ابی الدنیا کے نام سے مشہور ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 208 ھ میں بغداد میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کے مشائخ میں احمد دورقی، علی بن جعد جوہری، زُہیر بن حرب، ابوعبید قاسم بن سلام، داود بن رشید خورازمی، محمد بن سعد کاتبِ واقدی، امام بخاری اور امام ابوداؤد وغیرہ ہیں جن سے فنِ حدیث کی تعلیم پائی۔
سیرت و خصائص:
شیخ الوقت، امام الائمہ، فقیہ العصر، شیخ الحدیث، حافظ الحدیث ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا مشہور حفاظِ احادیث میں سے تھے۔
ابن ابی الدنیا شہزادگانِ خلفائے عباسیہ کے اَتالیق رہے ۔ خلیفہ معتضد باللہ کی تربیت بھی ان ہی کی اَتالیقی میں ہوئی۔
حافظ ذہبی نے "تذکرۃ الحفاظ" میں ان کا ترجمہ ان لفظوں میں شروع کیا ہے:
ابن أبي الدنیا المحدث العالم الصدوق۔یعنی : ابنِ ابی الدنیا محدث، عالم اور سچے راویوں سے ہیں۔
اورحافظ جمال الدین مزّی کے "تہذیب الکمال" میں یہ الفاظ ہیں: أبو بکر بن أبي الدنیا البغدادي الحافظ صاحب التصانیف المشہورۃ ومؤدب أولاد الخلفاء ۔ یعنی: ابنِ ابی الدنیا احادیث کے حافظ، کتبِ مشہورہ کے مصنف اور خلفاء کے اولاد کی تربیت فرماتے تھے۔
ابنِ ابی حاتم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کی معیت میں ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور والد نے ان کو صدوق کہا ہے۔ آپ ایسی صلاحیت کے حامل شخص تھے ایک بندے کو آپ جب چاہیں رولا دیں اور جب چاہیں ہنسا دیں ۔ اسی ادا سے متاثر ہوکر خلیفہ نے آپ کو اپنی بیٹوں کی تربیت کے لئے رکھا۔
تاریخِ وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 10 جمادی الاول 281 ھ / بمطابق جولائی 894 ء میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/imam-abu-bakr-abdullah-bin-muhammad-ibn-abi-dunya
scholars.pk
Imam Abu Bakr Abdullah Bin Muhammad Ibn Abi Dunya
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام بیہقی صاحب سنن کبریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبداللہ بن موسیٰ نیشاپوری، خسروجردی، بیہقی۔ رحمۃ اللہ علیہ
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ شعبان 384 ھ میں بیہق کے علاقہ "خسرو جرد"جونیشاپور کا نواحی علاقہ ہے، میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کثیر اساتذہ کے سامنے زانؤ ےتلمذ طے کرکے مختلف علوم وفنون پر عبور حاصل کیا۔آپ کے اساتذہ کرام میں انتہائی شہرت کے حامل یہ حضرات ہیں: ابو الحسن محمد بن حسین العلوی، امام ابو عبداللہ الحاکم، ابو اسحاق، اسفرائینی، عبداللہ بن یوسف اصبھانی، ابو علی الروزباری، امام بزاز، ابو بکر ابن فورک وغیرہ۔آپ کے اساتذہ کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔
سیرت و خصائص:
امام ابوبکر احمد بن الحسین بیہقی تمام اصنافِ علم کے امام، حدیث کے حافظ، بہت بڑے فقیہ اور اُصولی تھے۔ پھر متدین اور خدا سے ڈرنے والے بھی تھے۔ اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظِ حدیث، اور معاصرین میں ضبط و اتقان میں انفرادیت کے حامل تھے۔ امام ابو عبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ سے کثرت سے روایت کرنے والے کبار اصحاب میں آپ کا شمار ہوتا تھا اور پھر اس پر اُنھوں نے اپنی محنت و کاوش سے دیگر علوم میں بھی مہارت پیدا کی۔ کتابت اور حفظِ حدیث بچپن سے شروع کیا اور اسی میں ہی پلے بڑھے اور تفقہ فی الدین کی منازل طے کرتے ہوئے ان میں نکھار پیدا کیا اور اُصولِ دین میں مہارت حاصل کی۔سلف و صالحین کا خصوصی امتیاز یہ تھا کہ جس قدر ان کے پاس دولت علم ہوتی تھی اسی قدر ان کی زندگی عمل صالح سے بھی معمور ہوتی تھی اور عالم باعمل کی حقیقی تصویر ہوا کرتے تھے، بالکل ایسا ہی کچھ جناب امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا طرزِ زندگی تھا کہ آپ بڑے زاہد عن الدنیا، انتہائی قانع، بہت بڑے متقی اور پارسا شخص تھے۔ آپ کے ان اوصاف کی گواہی اہل تاریخ نے دی ہے۔ امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ رقم فرماتے ہیں:"مجھے شیخ ابو الحسن الفارسی نے جنابِ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی بابت لکھا کہ آپ سیرتِ علماء کا عملی نمونہ تھے، انتہائی تھوڑے پر قناعت فرمانے والے اور زہد و ورع کے اعلیٰ اوصاف سے مزین تھے اور حدیہ ہے کہ تادمِ زیست اسی طرزِ حیات پر کاربند رہے"۔آپ زاہد عن الدنیا، بہت تھوڑے پر راضی ہونے والے اور عبادت و ورع میں بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔آپ حفظ و اتقان میں اپنے زمانہ کے نادرہ روز گار تھے۔ ثقہ اور بااعتماد امام تھے اور پورے خراسان کے بالاتفاق شیخ تھے۔
تاریخِ وصال:
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے سلسلے میں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آخر عمر میں وہ نیشاپور اُٹھ گئے تھے اور وہاں اپنی کتب کے درس میں مشغول ہو گئے، لیکن جلد ہی وقتِ رحلت آن پہنچا اور10 جمادی الاولیٰ 458ھ/بمطابق اپریل 1066 میں نیشاپور میں ہی داعیٔ اجل کو لبیک کہا .اور بیہقی میں لاکر آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔ رحمہ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۃ الحفاظ ۔ طبقات الحفاظ ودیگر
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-bakr-ahmad-bin-hussain-baihaqi
نام و نسب:
امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبداللہ بن موسیٰ نیشاپوری، خسروجردی، بیہقی۔ رحمۃ اللہ علیہ
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ شعبان 384 ھ میں بیہق کے علاقہ "خسرو جرد"جونیشاپور کا نواحی علاقہ ہے، میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کثیر اساتذہ کے سامنے زانؤ ےتلمذ طے کرکے مختلف علوم وفنون پر عبور حاصل کیا۔آپ کے اساتذہ کرام میں انتہائی شہرت کے حامل یہ حضرات ہیں: ابو الحسن محمد بن حسین العلوی، امام ابو عبداللہ الحاکم، ابو اسحاق، اسفرائینی، عبداللہ بن یوسف اصبھانی، ابو علی الروزباری، امام بزاز، ابو بکر ابن فورک وغیرہ۔آپ کے اساتذہ کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔
سیرت و خصائص:
امام ابوبکر احمد بن الحسین بیہقی تمام اصنافِ علم کے امام، حدیث کے حافظ، بہت بڑے فقیہ اور اُصولی تھے۔ پھر متدین اور خدا سے ڈرنے والے بھی تھے۔ اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظِ حدیث، اور معاصرین میں ضبط و اتقان میں انفرادیت کے حامل تھے۔ امام ابو عبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ سے کثرت سے روایت کرنے والے کبار اصحاب میں آپ کا شمار ہوتا تھا اور پھر اس پر اُنھوں نے اپنی محنت و کاوش سے دیگر علوم میں بھی مہارت پیدا کی۔ کتابت اور حفظِ حدیث بچپن سے شروع کیا اور اسی میں ہی پلے بڑھے اور تفقہ فی الدین کی منازل طے کرتے ہوئے ان میں نکھار پیدا کیا اور اُصولِ دین میں مہارت حاصل کی۔سلف و صالحین کا خصوصی امتیاز یہ تھا کہ جس قدر ان کے پاس دولت علم ہوتی تھی اسی قدر ان کی زندگی عمل صالح سے بھی معمور ہوتی تھی اور عالم باعمل کی حقیقی تصویر ہوا کرتے تھے، بالکل ایسا ہی کچھ جناب امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا طرزِ زندگی تھا کہ آپ بڑے زاہد عن الدنیا، انتہائی قانع، بہت بڑے متقی اور پارسا شخص تھے۔ آپ کے ان اوصاف کی گواہی اہل تاریخ نے دی ہے۔ امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ رقم فرماتے ہیں:"مجھے شیخ ابو الحسن الفارسی نے جنابِ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی بابت لکھا کہ آپ سیرتِ علماء کا عملی نمونہ تھے، انتہائی تھوڑے پر قناعت فرمانے والے اور زہد و ورع کے اعلیٰ اوصاف سے مزین تھے اور حدیہ ہے کہ تادمِ زیست اسی طرزِ حیات پر کاربند رہے"۔آپ زاہد عن الدنیا، بہت تھوڑے پر راضی ہونے والے اور عبادت و ورع میں بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔آپ حفظ و اتقان میں اپنے زمانہ کے نادرہ روز گار تھے۔ ثقہ اور بااعتماد امام تھے اور پورے خراسان کے بالاتفاق شیخ تھے۔
تاریخِ وصال:
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے سلسلے میں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آخر عمر میں وہ نیشاپور اُٹھ گئے تھے اور وہاں اپنی کتب کے درس میں مشغول ہو گئے، لیکن جلد ہی وقتِ رحلت آن پہنچا اور10 جمادی الاولیٰ 458ھ/بمطابق اپریل 1066 میں نیشاپور میں ہی داعیٔ اجل کو لبیک کہا .اور بیہقی میں لاکر آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔ رحمہ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۃ الحفاظ ۔ طبقات الحفاظ ودیگر
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-bakr-ahmad-bin-hussain-baihaqi
scholars.pk
Hazrat Imam Abu Bakr Ahmad Bin Hussain Baihaqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
صاحب سنن الکبری و شعب الایمان، تلمیذ امام حاکم، استاذ المحدثین، حضرت علامہ امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی شافعی رضی الله عنہ شعبان 384ھ میں نیشاپور سے تیس کوس دور ’’بیہق‘‘ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے اسی لیے ’’بیہقی‘‘ کہلاتے ہیں۔ آپ زہد و تقویٰ اور دیانت و عبادت میں علمائے ربانیین کی تمام خصائل حمیدہ کے جامع، امام حاکم کے بلند مرتبہ شاگرد، فن حدیث و فقہ اور تصانیف میں یکتائے روزگار ہوئے ہیں۔ السنن الکبری، شعب الایمان اور دلائل النبوۃ آپ کی مشہور کتب ہیں۔ آپ کی کل تصنیفات کی ضخامت ایک ہزار اجزاء تک پہنچتی ہے جو ایک اندازے کے مطابق جہازی سائز کے سولہ ہزار صفحات کے قریب ہے۔ 10 جمادی الاولیٰ 458ھ بروز ہفتہ نیشاپور میں وصال فرمایا اور مقام خسروجرد نزد بیہق، نیشاپور، ایران میں آرام فرما ہوئے۔ (تذکرۃ الحفاظ، بستان المحدثین، الاکمال، وفیات الاعیان)
The compiler of Sunan al-Kubra and Shu’ab al-Iman, student of Imam Hakim, teacher of Hadith Masters, Imam Abu Bakr Ahmad bin Husayn Bayhaqi Shafi’i (RadiyAllahu Anhu) was born in Sha’ban 384 AH in a village called ""Bayhaq"", sixty miles away from Neyshapur, that is why he is called Bayhaqi. He was a beloved student of Imam Hakim, an expert in Hadith and Jurisprudence, and a prolific author. He held all the praiseworthy attributes in his personality, including piety, sincerity, honesty, and devotion. Sunan al-Kubra, Shu’ab al-Iman, and Dala’il an-Nubuwwah are his renowned books. The magnitude of his works reaches a thousand volumes, which are estimated to be around sixteen thousand pages of large paper size. He passed away on Saturday, the 10th of Jumada al-Awwal 458 AH, in Neyshapur and was laid to rest at Khusrojard near Bayhaq, Neyshapur, Iran. [Tazikrat al-Huffaz, Bustan al-Muhadithin, al-Ikmal, Wafiyat al-A’yaan]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=691334869232827&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
The compiler of Sunan al-Kubra and Shu’ab al-Iman, student of Imam Hakim, teacher of Hadith Masters, Imam Abu Bakr Ahmad bin Husayn Bayhaqi Shafi’i (RadiyAllahu Anhu) was born in Sha’ban 384 AH in a village called ""Bayhaq"", sixty miles away from Neyshapur, that is why he is called Bayhaqi. He was a beloved student of Imam Hakim, an expert in Hadith and Jurisprudence, and a prolific author. He held all the praiseworthy attributes in his personality, including piety, sincerity, honesty, and devotion. Sunan al-Kubra, Shu’ab al-Iman, and Dala’il an-Nubuwwah are his renowned books. The magnitude of his works reaches a thousand volumes, which are estimated to be around sixteen thousand pages of large paper size. He passed away on Saturday, the 10th of Jumada al-Awwal 458 AH, in Neyshapur and was laid to rest at Khusrojard near Bayhaq, Neyshapur, Iran. [Tazikrat al-Huffaz, Bustan al-Muhadithin, al-Ikmal, Wafiyat al-A’yaan]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=691334869232827&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
❤1
حضرت نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
کنیت: ابو الجناب ـ اسم گرامی: مبارک احمد ۔ لقب: نجم الدین کبٰری ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
احمد بن عمر بن محمد (علیہم الرحمہ)
تاریخ ولادت:
540 ھ ۔ بمطابق 1451ء کو " خیوق " خوارزم، موجودہ (ازبکستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی اور محی السنہ اور حضرت شیخ روز بہاں بقلی سے بھی استفادہ کیا، اور بعد میں مختلف شیوخ تصوف اور اپنے وقت کے جید علماء کرام سے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی اور زمانہ طالب علمی میں جس سے مناظرہ کرتے غالب آجاتے اسی وجہ سے طامۃ الکبری اور الشیخ الکبریٰ کے خطاب سے مشہور ہو گئے ۔ آپ نے تحصیل علم کے لئے عراق، شام، خراسان، مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کے اسفار کیے ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ حضرت عمار یاسر سہروردی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، سند العرفاء، مجاہدِ اسلام، شہیدِ اسلام حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے سب سے بڑے شیخِ طریقت و شریعت تھے ۔ بڑے اولیاء کرام آپ کی بارگا میں حاضر ہوتے تھے ۔ آپ کی کرامات اور خوارق سارے عالم اسلام میں مشہور تھیں ۔
اہل اسلام آپ کو " ولی تراش " کے لقب سے پکارتے تھے ۔ آپ عالم وجد میں جس کسی پر نگاہ ڈالتے اسے مرتبہ ولایت تک پہنچا دیتے ۔
ایک دن ایک سودا گر آپ کی خانقاہ پر حاضر ہوا آپ اس وقت خوش تھے ۔ ایک نگاہ کیمیا اثر ڈالی تو سودا گر کو رتبۂ ولایت عطا فرما دیا ۔
ایک مرتبہ حضرت شیخ نجم الدین نے ایک شخص سے پوچھا کہ کس ملک کے رہنے والے ہو ۔ اس نے بتایا کہ فلاں ملک سے آیا ہوں آپ نے اسے اجازت نامہ لکھ کر دے دیا، اور اسے اس کے ملک کا قطب الارشاد مقرر کر دیا ۔
ایک دن ایک چڑی باز ایک کمزور سی چڑیا کا پیچھا کر رہا تھا ۔ حضرت نجم الدین کبٰری کی ایک نگاہ چڑیا پر پڑی، تو چڑیا میں اتنی قوت پیدا ہو گئی کہ وہ پیچھے پلٹی اور باز کا شکار کرکے شیخ نجم الدین کبرٰی کے قدموں میں حاضر کر دیا ۔ (نفحات الانس، ص: 369) ـ
مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ایک دن اصحابِ کہف کے بارے میں تقریر ہو رہی تھی کہ شیخ سعد الدین حموی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ شیخ کے مریدوں میں سے تھے ۔ دل میں خیال کرنے لگے کہ آیا اس امت میں بھی کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی صحبت کتے میں اثر کر دے ۔ حضرت شیخ نے ولایت کے نور سے یہ بات معلوم کر لی ۔ آپ اٹھے اور خانقاہ کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ اتفاقاً ایک کتا وہاں پر آ گیا اور کھڑا ہو گیا ۔ اپنی دم ہلاتا تھا ۔ شیخ کی نظریں اس پر پڑ گئی ۔ اس وقت اس پر مہربانی ہوئی ۔ وہ متحیرو بے خود ہو گیا ۔ شہر سے منہ پھیر کر قبرستان چلا گیا ۔ زمین پر سر ملتا تھا ۔ یہاں تک کہ جدھر وہ جاتا تھا پچاس ساٹھ کتے اکھٹے ہو جاتے اور اس کے گرد حلقہ لگا لیتے ۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا کرتے اور آواز سے نہ بولتے، اور نہ کچھ کھاتے بلکہ عزت کے ساتھ کھڑے رہتے ۔ آخر تھوڑے دنوں میں وہ کتا مر گیا ۔ (ایضاً)
نام و نسب:
کنیت: ابو الجناب ـ اسم گرامی: مبارک احمد ۔ لقب: نجم الدین کبٰری ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
احمد بن عمر بن محمد (علیہم الرحمہ)
تاریخ ولادت:
540 ھ ۔ بمطابق 1451ء کو " خیوق " خوارزم، موجودہ (ازبکستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی اور محی السنہ اور حضرت شیخ روز بہاں بقلی سے بھی استفادہ کیا، اور بعد میں مختلف شیوخ تصوف اور اپنے وقت کے جید علماء کرام سے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی اور زمانہ طالب علمی میں جس سے مناظرہ کرتے غالب آجاتے اسی وجہ سے طامۃ الکبری اور الشیخ الکبریٰ کے خطاب سے مشہور ہو گئے ۔ آپ نے تحصیل علم کے لئے عراق، شام، خراسان، مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کے اسفار کیے ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ حضرت عمار یاسر سہروردی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، سند العرفاء، مجاہدِ اسلام، شہیدِ اسلام حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے سب سے بڑے شیخِ طریقت و شریعت تھے ۔ بڑے اولیاء کرام آپ کی بارگا میں حاضر ہوتے تھے ۔ آپ کی کرامات اور خوارق سارے عالم اسلام میں مشہور تھیں ۔
اہل اسلام آپ کو " ولی تراش " کے لقب سے پکارتے تھے ۔ آپ عالم وجد میں جس کسی پر نگاہ ڈالتے اسے مرتبہ ولایت تک پہنچا دیتے ۔
ایک دن ایک سودا گر آپ کی خانقاہ پر حاضر ہوا آپ اس وقت خوش تھے ۔ ایک نگاہ کیمیا اثر ڈالی تو سودا گر کو رتبۂ ولایت عطا فرما دیا ۔
ایک مرتبہ حضرت شیخ نجم الدین نے ایک شخص سے پوچھا کہ کس ملک کے رہنے والے ہو ۔ اس نے بتایا کہ فلاں ملک سے آیا ہوں آپ نے اسے اجازت نامہ لکھ کر دے دیا، اور اسے اس کے ملک کا قطب الارشاد مقرر کر دیا ۔
ایک دن ایک چڑی باز ایک کمزور سی چڑیا کا پیچھا کر رہا تھا ۔ حضرت نجم الدین کبٰری کی ایک نگاہ چڑیا پر پڑی، تو چڑیا میں اتنی قوت پیدا ہو گئی کہ وہ پیچھے پلٹی اور باز کا شکار کرکے شیخ نجم الدین کبرٰی کے قدموں میں حاضر کر دیا ۔ (نفحات الانس، ص: 369) ـ
مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ایک دن اصحابِ کہف کے بارے میں تقریر ہو رہی تھی کہ شیخ سعد الدین حموی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ شیخ کے مریدوں میں سے تھے ۔ دل میں خیال کرنے لگے کہ آیا اس امت میں بھی کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی صحبت کتے میں اثر کر دے ۔ حضرت شیخ نے ولایت کے نور سے یہ بات معلوم کر لی ۔ آپ اٹھے اور خانقاہ کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ اتفاقاً ایک کتا وہاں پر آ گیا اور کھڑا ہو گیا ۔ اپنی دم ہلاتا تھا ۔ شیخ کی نظریں اس پر پڑ گئی ۔ اس وقت اس پر مہربانی ہوئی ۔ وہ متحیرو بے خود ہو گیا ۔ شہر سے منہ پھیر کر قبرستان چلا گیا ۔ زمین پر سر ملتا تھا ۔ یہاں تک کہ جدھر وہ جاتا تھا پچاس ساٹھ کتے اکھٹے ہو جاتے اور اس کے گرد حلقہ لگا لیتے ۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا کرتے اور آواز سے نہ بولتے، اور نہ کچھ کھاتے بلکہ عزت کے ساتھ کھڑے رہتے ۔ آخر تھوڑے دنوں میں وہ کتا مر گیا ۔ (ایضاً)
❤1
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے:
جب تاتاریوں کا فتنہ شروع ہوا ۔ اس وقت حضرت اپنی خانقاہ میں موجود تھے ۔ آپ نے اپنے مریدین سے فرمایا مشرق سے ایسا فتنہ آ رہا ہے، کہ اس سے پہلے امت کے لئے کبھی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا ۔ مریدین نے عرض کیا آپ دعاء فرمائیں کہ وہ فتنہ ٹل جائے ۔ آپ نے فرمایا یہ ایک قضاء مبرم (قطعی) ہے ۔ دعا اس کو دفع نہیں کر سکتی ۔ پھر فرمایا تم میں سے جو اپنے علاقوں کی طرف جانا چاہے چلا جائے، مریدین نے عرض کیا قیمتی گھوڑے موجود ہیں، آپ بھی محفوظ علاقے کی طرف تشریف لے جائیں ۔
آپ نے فرمایا: ہمارے لئے ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ، اور شہادت ۔ جب تاتاری کفار شہر میں داخل ہوئے ۔ شیخ نے مریدوں کو بلایا اور کہا: قو موا باِسم اللہ، نقاتل فی سبیل اللہ۔ آپ گھر میں آئے اور اپنا خرقہ پہنا، کمر کو مضبوط باندھ لیا ،اس خرقہ کا اگلا حصہ کھلا تھا ۔ تاتاریوں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
آپ نے اپنے خلفاء کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ منگول قوم جو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھی، اور اسلام کو مٹانے نکلی تھی ۔ تاتاریوں کے فتنے کو کون نہیں جانتا ۔ جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا، مسجدوں، مدرسوں، اور لائبریریوں کو آگ لگادی ۔ لیکن آپ کے خلفاء نے انہیں منگولوں میں تبلیغِ دین کا ایسا کام کیا کہ وہ گروہ در گروہ مسلمان ہوتے چلے گئے، اور اسلام کو دنیا سے ختم کرنے والے اسلام کے محافظ بَن گئے ۔ اللہ اکبر ۔تبھی تو شاعرِ مشرق کا قلم پکارتا ہے ۔
؏:
ہے عیاں فتنۂِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئےکعبےکوصنم خانےسے
تاریخِ شہادت:
آپ 10 جمادی الاوّل 618ھ میں تاتاری لشکروں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ اس وقت حضرت شیخ کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی ۔ شہادت کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک تاتاری سپاہی کے بال آ گئے تھے ۔ آپ نے انہیں اتنے زور سے پکڑا ہوا تھا کہ شہادت کے بعد بھی دس کافر آپ کے ہاتھ سے بال نہ چُھڑا سکے، بالآخِر وہ بال کاٹنے پڑے ـ
ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najmuddin-kubra
جب تاتاریوں کا فتنہ شروع ہوا ۔ اس وقت حضرت اپنی خانقاہ میں موجود تھے ۔ آپ نے اپنے مریدین سے فرمایا مشرق سے ایسا فتنہ آ رہا ہے، کہ اس سے پہلے امت کے لئے کبھی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا ۔ مریدین نے عرض کیا آپ دعاء فرمائیں کہ وہ فتنہ ٹل جائے ۔ آپ نے فرمایا یہ ایک قضاء مبرم (قطعی) ہے ۔ دعا اس کو دفع نہیں کر سکتی ۔ پھر فرمایا تم میں سے جو اپنے علاقوں کی طرف جانا چاہے چلا جائے، مریدین نے عرض کیا قیمتی گھوڑے موجود ہیں، آپ بھی محفوظ علاقے کی طرف تشریف لے جائیں ۔
آپ نے فرمایا: ہمارے لئے ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ، اور شہادت ۔ جب تاتاری کفار شہر میں داخل ہوئے ۔ شیخ نے مریدوں کو بلایا اور کہا: قو موا باِسم اللہ، نقاتل فی سبیل اللہ۔ آپ گھر میں آئے اور اپنا خرقہ پہنا، کمر کو مضبوط باندھ لیا ،اس خرقہ کا اگلا حصہ کھلا تھا ۔ تاتاریوں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
آپ نے اپنے خلفاء کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ منگول قوم جو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھی، اور اسلام کو مٹانے نکلی تھی ۔ تاتاریوں کے فتنے کو کون نہیں جانتا ۔ جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا، مسجدوں، مدرسوں، اور لائبریریوں کو آگ لگادی ۔ لیکن آپ کے خلفاء نے انہیں منگولوں میں تبلیغِ دین کا ایسا کام کیا کہ وہ گروہ در گروہ مسلمان ہوتے چلے گئے، اور اسلام کو دنیا سے ختم کرنے والے اسلام کے محافظ بَن گئے ۔ اللہ اکبر ۔تبھی تو شاعرِ مشرق کا قلم پکارتا ہے ۔
؏:
ہے عیاں فتنۂِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئےکعبےکوصنم خانےسے
تاریخِ شہادت:
آپ 10 جمادی الاوّل 618ھ میں تاتاری لشکروں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ اس وقت حضرت شیخ کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی ۔ شہادت کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک تاتاری سپاہی کے بال آ گئے تھے ۔ آپ نے انہیں اتنے زور سے پکڑا ہوا تھا کہ شہادت کے بعد بھی دس کافر آپ کے ہاتھ سے بال نہ چُھڑا سکے، بالآخِر وہ بال کاٹنے پڑے ـ
ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najmuddin-kubra
scholars.pk
Hazrat Sheikh Najmuddin Kubra
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-05-1444 ᴴ | 04-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-05-1444 ᴴ | 05-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1