🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-05-1444 ᴴ | 03-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-05-1444 ᴴ | 03-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-05-1444 ᴴ | 03-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-05-1444 ᴴ | 03-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
پیر عبد الرحمن بھرچونڈوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: مجاہد اسلام ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
پیر عبدالرحمٰن بن پیر حافظ محمد عبداللہ بن قاضی خدا بخش بن میاں ملوک ۔ (علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1310 ھ ،1892ءمیں "خانقاہِ قادریہ" بھر چونڈی شریف، ضلع سکھر کی روح پر ورفضا میں ہوئی۔

تحصیل علم:
قرآنِ مجید پڑھنے کے بعد سراج العلماء مولانا سراج احمد خانپوری قدس سرہ سے نحو اور فقہ کی کتابیں پڑھیں اور بقیہ تعلیم مولانا عبد الکریم ساکن میانوالی سے مکمل کی ۔ چونکہ آپ کو بچپن ہی سے ایسا ماحول میسر تھا جو شریعت و معرفت اورذکروفکرکی برکات سےمعمورتھا اور پھر ولی کامل والدِ ماجدکی کیمیاءاثرصحبت سےآپ پوری طرح مستفیض ہوئےتھے۔ اس لئے آپ کے کمالات و درجات کا اندزہ لگانا نظر ظاہر ین کے بس کی بات نہیں ہے ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی حافظ محمد عبد اللہ علیہ الرحمۃ سے بیعت وخلافت حاصل تھی، 1928 ء میں والد گرامی کی رحلت پر قل خوانی کے موقع پر سجادہ نشین ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
ولی ابنِ ولی، شیخِ کامل، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، پیشوائے اہلسنت، عاشقِ رسولﷺ، حضرت علامہ مولانا پیر عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ ولیِ کامل تھے۔ حددرجہ پابندِ شریعت تھے۔نماز با جمات کے ایسے پابند تھے کہ عمر بھر میں شاید ہی کوئی نماز بغیر جماعت کے پڑھی ہو ، ظاہری کرو فر سے کوئی سرو کارنہ رکھتے تھے، ان کے ہر کام میں للٰہیت جلوہ گر ہوتی ، ان کی نظر میں دنیا اور اہل دنیا کی کچھ وقعت نہ تھی۔اہلسنت اور تحریک پاکستان میں آپ کی گر انقر ر خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے مسلم لیگ کی بھر پور اعانت کی اور قائداعظم کا عملی طور پر ساتھ دیا ۔آل انڈیا سنی کانفرنس میں مشائخ سندھ کی نمائندگی فرمائی۔ کا نگریس سے سخت متنفر تھے ۔کانگریسیوں ،وہابیوں ، دیوبندیوں ،اوربد مذہبوں سے سخت نفرت کرتے تھے اور اپنے مریدین کو بھی ان کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ مسلمانوں کی بے حسی اور اسلام سے بینگانگی ہمیشہ آپ کو بے چین رکھتی تھی۔ ربیع الاول شرف کا پورا مہینہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منایا کرتے تھے ، کھانے سے پہلے اور بعد خود تمام لوگوں کے ہاتھ دھلاتے اگر چہ حاضرین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ۔ علم کی بڑی قدر منزلت فرماتے تھے یہی وجہ ہے کہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ،نےفتاویٰ رضویہ جلد اول اور بہار شریعت کی اشاعت آپ ہی کی تحریک پر کی تھی۔

کانگریسیوں سے نفرت:
ایک مرتبہ سکھر میں کانگریس کا جلسہ ہوا۔سندھ میں ابھی تک مسلم لیگ کا تعارف نہیں ہوا تھا ۔آپ کو جلسے میں مدعو کیا گیا۔آپ تشریف لےگئے ۔دوپہر کو خصوصی میٹنگ میں پہنچے تو مجلس کا نقشہ یہ تھا کہ مولوی عطا اللہ شاہ احراری وسط مجلس میں بول رہے تھے اور مولوی حبیب الرحمٰن لد ھیانوی کعبے کی طرف پاؤں دراز کئے لیٹے ہوئے تھے ۔آپ مجلس میں بیٹھتےہی فرمایا: مولانا اس سمت مسلمانوں کا کعبہ ہے، اس طرف پاؤں دراز کرنا نہ صرف منع بلکہ شقاوت اورمحرومی کا باعث ہے ۔مولوی صاحب کھسیانے ہوکر اٹھے اور کہا آپ جیسےتنگ نظرصوفیوں اور پیروں نےدین کو تنگ کردیاہے۔آپ تھوڑی دیر بعد مجلس سے اٹھ کر چلے آئے اور فرمایا : یہ لوگ جب خدا کے گھر کی بے اد بی سے نہیں رکتےتو حضور سید عالم ﷺ کی بے اد بی سے کب چوکتے ہوں گے ۔اس کے بعد زندگی بھر کا نگر یس کے جلسے میں تشریف نہ لے گئے۔ایک دفعہ آپ کے خلیفہ خاص سید محمد مغفور القادری رحمتہ اللہ علیہ نے اکبر الہ آبادی کا یہ شعر سنایا تو بہت خوش ہوئے۔

؏:کانگریس کے مولوی کی کیا پوچھتے ہو کیا ہے۔۔۔۔گاندھی کی پالیسی کا عربی میں ترجمہ ہے

تحریکِ پاکستان میں کردار:
سندھ میں کانگریس کا زور توڑنے اور مسلمانوں کی تنظیم کیلئے آپ نے سندھ کے درمند اصحاب کی میٹنگ بلا کر " جماعت احیاء الاسلا م " کی بنیاد رکھی۔دستور کو مستقل قومی حیثیت دیکر اسلامی ریاست کے حصول پر ساری مساعی کا دارومدار رکھا گیا ۔ جماعت کے پروگرام اور تعارف کیلئے دھڑادھڑ لٹر یچر چھاپ دیا گیا۔اسی سلسلے میں سندھی پریس خریدا گیا اور جماعت کا اخبار "الجماعت" کے نام سے مولوی صدرالدین شاہ کی زیر صدارت شکار پور سندھ سے جاری کیا گیا ۔جس میں نہایت حکیمانہ انداز میں مضامین لکھ کر رائے عامہ کو اندرونی طور پر مسلم لیگ کے حق میں ہموار شروع کردیا1938ء تک صوبہ سندھ میں کانگریس کا زور تھا ۔مسلم لیگ پوری طرح صوبہ کے عوام میں متعارف نہیں ہوتی تھی۔چنانچہ مسلم لیگ کو متعارف اور مستحکم بنانے کیلئے آپ نے خاصا کام کیا۔

1943ء میں "آل انڈیا مسلم لیگ" کا سالانہ اجلاس کراچی میں منقعد ہوا ۔جس میں قائدعظم ،نواب بہادر یار جنگ ،نوابزادہ لیاقت علی خان ،مولانا عبدالحامد بد ایونی ،محمد ایوب کھوڑو،حاجی عبداللہ ہارون اور نواب محمد اسمعیل خاں کے علاوہ بہت سے اکابرین ملت شریک ہوئے ۔
1