Forwarded from ✺ مرکز اہلسنت لائبریری ✺
👈 📗 "سلسلہ:#02___قسط دوم (ب)" 📗
موضوع:
📝 " ماتم اور تعزیہ بازی کا رد "
👈 مذکورہ موضوع سے متعلق مفت علمی و تحقیقی کتب ورسائل کے لیےسامنے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:
🔵━═━═━🔵
⚪️ کتب شیعہ سے مروجہ ماتم کی ممانعت
✍ از پیر مفتی محمد اشرف القادري
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1747
🔵━═━═━🔵
⚪️ ماتم کے ناجائز ہونیکا ثبوت شیعہ کتب سے بجواب شیعہ پمفلٹ
✍ علامہ مولانا محمد اسماعیل نقشبندی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1744
🔵━═━═━🔵
⚪️ سبیل ہدایت ماتم کی شرعی حیثیت
✍احمد حسین قاسم الحیدری
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1189
🔵━═━═━🔵
⚪️ محرم میں کیا جائز کیا نا جائز؟ اردو اور ہندی میں
✍ علامہ مولانا تطهیر احمد رضوی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8068
🔵━═━═━🔵
⚪️ شرح صحیح مسلم جلد اول
صفحہ نمبر 490 تا 522 تعزیہ و ماتم کی حرمت
✍علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/6950
🔵━═━═━🔵
⚪️ رسالہ تعزیہ داری اردو اور ہندی میں
✍ از اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/6954
🔵━═━═━🔵
⚪️ تحفۂ نجات حصہ ۱۱، گُجراتی زبان میں
تعزیہ داری اور شہدائے کربلا کی حقیقت
✍ از قلم : علامہ و مولانا یونس مصباحی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8071
🔵━═━═━🔵
⚪️ تعزیہ داری علمائے اہلسنت کی نظر میں
ماخوذ خطبات محرم، اردو اور ہندی زبان میں
✍ : علامه مولانا الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8075
🔵━═━═━🔵
⚪️ تعزجہ بازی
✍ از مولانا قاری سہیل احمد رضوی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1742
🔵━═━═━🔵
⚪️ رسالہ تعزیہ داری
✍ از اعلیحضرت امام احمد رضا خان قادري علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1738
🔵━═━═━🔵
⚪️ اعالی الافادة فی تعزیة الھند و بیان شھادة
ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام
سے متعلق بلند پایہ فوائد
✍ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8083
🔵━═━═━🔵
⚪️ رسومات محرم اور تعزیہ
✍ از قلم علامہ سید محمد ہاشمی اشرفی جیلانی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1274
🔵━═━═━🔵
⚪️ اس پیغام کو خوب عام کیجیے اور جوائن کیجئے کتب اہلسنت کا مستند مرکز (⬇️)
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary
موضوع:
📝 " ماتم اور تعزیہ بازی کا رد "
👈 مذکورہ موضوع سے متعلق مفت علمی و تحقیقی کتب ورسائل کے لیےسامنے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:
🔵━═━═━🔵
⚪️ کتب شیعہ سے مروجہ ماتم کی ممانعت
✍ از پیر مفتی محمد اشرف القادري
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1747
🔵━═━═━🔵
⚪️ ماتم کے ناجائز ہونیکا ثبوت شیعہ کتب سے بجواب شیعہ پمفلٹ
✍ علامہ مولانا محمد اسماعیل نقشبندی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1744
🔵━═━═━🔵
⚪️ سبیل ہدایت ماتم کی شرعی حیثیت
✍احمد حسین قاسم الحیدری
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1189
🔵━═━═━🔵
⚪️ محرم میں کیا جائز کیا نا جائز؟ اردو اور ہندی میں
✍ علامہ مولانا تطهیر احمد رضوی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8068
🔵━═━═━🔵
⚪️ شرح صحیح مسلم جلد اول
صفحہ نمبر 490 تا 522 تعزیہ و ماتم کی حرمت
✍علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/6950
🔵━═━═━🔵
⚪️ رسالہ تعزیہ داری اردو اور ہندی میں
✍ از اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/6954
🔵━═━═━🔵
⚪️ تحفۂ نجات حصہ ۱۱، گُجراتی زبان میں
تعزیہ داری اور شہدائے کربلا کی حقیقت
✍ از قلم : علامہ و مولانا یونس مصباحی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8071
🔵━═━═━🔵
⚪️ تعزیہ داری علمائے اہلسنت کی نظر میں
ماخوذ خطبات محرم، اردو اور ہندی زبان میں
✍ : علامه مولانا الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8075
🔵━═━═━🔵
⚪️ تعزجہ بازی
✍ از مولانا قاری سہیل احمد رضوی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1742
🔵━═━═━🔵
⚪️ رسالہ تعزیہ داری
✍ از اعلیحضرت امام احمد رضا خان قادري علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1738
🔵━═━═━🔵
⚪️ اعالی الافادة فی تعزیة الھند و بیان شھادة
ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام
سے متعلق بلند پایہ فوائد
✍ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8083
🔵━═━═━🔵
⚪️ رسومات محرم اور تعزیہ
✍ از قلم علامہ سید محمد ہاشمی اشرفی جیلانی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1274
🔵━═━═━🔵
⚪️ اس پیغام کو خوب عام کیجیے اور جوائن کیجئے کتب اہلسنت کا مستند مرکز (⬇️)
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary
Telegram
✺ مرکز اہلسنت لائبریری ✺
کتب شیعہ سے مروجہ ماتم کی ممانعت
از پیر مفتی محمد اشرف القادري
👈جوائن کیجیے کتب اہلسنت کا مرکز (⬇️)
👉 @IslamicPDFLibrary
از پیر مفتی محمد اشرف القادري
👈جوائن کیجیے کتب اہلسنت کا مرکز (⬇️)
👉 @IslamicPDFLibrary
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ماہ محرم میں رونا دھونا
مجھے رونا نہیں آتا تو کیا کوئی زبردستی ہے؟
جی جی بالکل آپ کو رونا ہی پڑے گا، اگر نہیں روئے تو اس کا مطلب آپ کو اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ آپ نہیں رو سکتے تو ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسے قصے سنائیں گے جنھیں سننے کے بعد آپ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائیں گے اور نہیں تو کچھ بھی کریں لیکن روئیں۔
ماہ محرم کو کچھ لوگوں نے ماہ ماتم سمجھ لیا ہے۔ رونا ضروری ہے، شادی نہیں کر سکتے، مبارک باد نہیں دینی ہے، گوشت نہیں کھانا ہے، فلاں نہیں جانا ہے اور فلاں نہیں چھونا ہے........، یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟
یہ زبردستی رونے دھونے کا ڈرامہ کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی پیارے کی وفات پر قطعی طور پر رونا آ جانا محبت اور رحم کے جذبے کا نتیجہ ہے اور یہ بالکل درست اور جائز ہے لیکن ہر سال رونے رلانے کے لیے بیٹھ جانا ایک عجیب حرکت ہے۔
اس دنیا میں ہر کسی کے بہن بھائی، ماں باپ، اولاد اور رشتہ دار فوت ہوتے رہتے ہیں، مرشد و استاد فوت ہوتے رہتے ہیں، ان سب کے لیے ایصال ثواب کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے مگر سال کے سال رونے کا دھندا نہیں کیا جاتا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رمضان میں شہید کیے گئے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی دنوں تک ان کے گھر میں محصور کر کے اور ان کا پانی بند کر کے پیاس کی حالت میں شہید کر دیا گیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھتے ہوئے چھرا مار کر شہید کردیا گیا.....، ظلم کی یہ داستانیں ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے موقعے پر ہم سال کے سال نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ روتے ہیں۔
چلیں سب کچھ چھوڑ دیں، احادیث میں آتا ہے کہ دنیا کا سب سے تاریک دن وہ تھا جس دن رحمت عالم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے؛ اگر ہر سال غم منانا اور رونا رلانا جائز ہوتا تو اللہ کی عظمت کی قسم ربیع الاول کے مہینے میں ہر سال پوری دنیا میں کہرام برپا ہو جایا کرتا۔ اب ہم ہر سال میلاد مصطفی کی خوشی تو ضرور مناتے ہیں مگر وصال کی وجہ سے نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ تو صرف روتے ہیں۔
جو لوگ اہل سنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ امام حسین سے محبت نہیں کرتے، انھیں غور کرنا چاہیے کہ اہل سنت کی حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کو تو کوئی مائی کا لال چیلنج نہیں کر سکتا، آخر حضور کے وصال کے موقعے پر ہم کیوں نہیں روتے؟
یہاں سے بات نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ ہر سال رونے دھونے بیٹھ جانا ایک غیر شرعی حرکت ہے اور جو لوگ سنی کہلانے کے باوجود ہر سال یہ دھندا کرتے ہیں انھیں روافض کا ٹیکا لگ چکا ہے۔
اللہ کے پیاروں کا طریقہ تو یہ ہے کہ پیاروں کی عین وفات کے دن بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں اور آنسوؤں پر بھی کنٹرول رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ہاں البتہ بے اختیار آنسو نکل آنا ایک الگ بات ہے۔
اگر کسی کو اتفاقیہ رونا آ جائے تو ایسے رونے میں کوئی قباحت نہیں لیکن تکلف کے ساتھ جان بوجھ کر رونے دھونے بیٹھ جانا اور اسے غم حسین میں رونا سمجھ کر ثواب کی امید رکھنا بالکل غلط ہے۔
(انظر: سانحۂ کربلا، علامہ غلام رسول قاسمی نقشبندی)
عبد مصطفی
مجھے رونا نہیں آتا تو کیا کوئی زبردستی ہے؟
جی جی بالکل آپ کو رونا ہی پڑے گا، اگر نہیں روئے تو اس کا مطلب آپ کو اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ آپ نہیں رو سکتے تو ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسے قصے سنائیں گے جنھیں سننے کے بعد آپ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائیں گے اور نہیں تو کچھ بھی کریں لیکن روئیں۔
ماہ محرم کو کچھ لوگوں نے ماہ ماتم سمجھ لیا ہے۔ رونا ضروری ہے، شادی نہیں کر سکتے، مبارک باد نہیں دینی ہے، گوشت نہیں کھانا ہے، فلاں نہیں جانا ہے اور فلاں نہیں چھونا ہے........، یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟
یہ زبردستی رونے دھونے کا ڈرامہ کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی پیارے کی وفات پر قطعی طور پر رونا آ جانا محبت اور رحم کے جذبے کا نتیجہ ہے اور یہ بالکل درست اور جائز ہے لیکن ہر سال رونے رلانے کے لیے بیٹھ جانا ایک عجیب حرکت ہے۔
اس دنیا میں ہر کسی کے بہن بھائی، ماں باپ، اولاد اور رشتہ دار فوت ہوتے رہتے ہیں، مرشد و استاد فوت ہوتے رہتے ہیں، ان سب کے لیے ایصال ثواب کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے مگر سال کے سال رونے کا دھندا نہیں کیا جاتا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رمضان میں شہید کیے گئے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی دنوں تک ان کے گھر میں محصور کر کے اور ان کا پانی بند کر کے پیاس کی حالت میں شہید کر دیا گیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھتے ہوئے چھرا مار کر شہید کردیا گیا.....، ظلم کی یہ داستانیں ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے موقعے پر ہم سال کے سال نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ روتے ہیں۔
چلیں سب کچھ چھوڑ دیں، احادیث میں آتا ہے کہ دنیا کا سب سے تاریک دن وہ تھا جس دن رحمت عالم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے؛ اگر ہر سال غم منانا اور رونا رلانا جائز ہوتا تو اللہ کی عظمت کی قسم ربیع الاول کے مہینے میں ہر سال پوری دنیا میں کہرام برپا ہو جایا کرتا۔ اب ہم ہر سال میلاد مصطفی کی خوشی تو ضرور مناتے ہیں مگر وصال کی وجہ سے نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ تو صرف روتے ہیں۔
جو لوگ اہل سنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ امام حسین سے محبت نہیں کرتے، انھیں غور کرنا چاہیے کہ اہل سنت کی حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کو تو کوئی مائی کا لال چیلنج نہیں کر سکتا، آخر حضور کے وصال کے موقعے پر ہم کیوں نہیں روتے؟
یہاں سے بات نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ ہر سال رونے دھونے بیٹھ جانا ایک غیر شرعی حرکت ہے اور جو لوگ سنی کہلانے کے باوجود ہر سال یہ دھندا کرتے ہیں انھیں روافض کا ٹیکا لگ چکا ہے۔
اللہ کے پیاروں کا طریقہ تو یہ ہے کہ پیاروں کی عین وفات کے دن بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں اور آنسوؤں پر بھی کنٹرول رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ہاں البتہ بے اختیار آنسو نکل آنا ایک الگ بات ہے۔
اگر کسی کو اتفاقیہ رونا آ جائے تو ایسے رونے میں کوئی قباحت نہیں لیکن تکلف کے ساتھ جان بوجھ کر رونے دھونے بیٹھ جانا اور اسے غم حسین میں رونا سمجھ کر ثواب کی امید رکھنا بالکل غلط ہے۔
(انظر: سانحۂ کربلا، علامہ غلام رسول قاسمی نقشبندی)
عبد مصطفی