🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اسے بھی ہضم کیجیے (1) ۔ ایک مزے دار قصہ
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)

جو لوگ امام مسلم بن عقیل کے بچوں کے جھوٹے قصے کو صرف "روضۃ الشھداء" نامی کتاب میں ہونے کی وجہ سے قبول کر لیتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اس قصے کو بھی ہضم کر کے دکھائیں:

روضۃ الشھداء مترجم کی دوسری جلد میں عنوان "غم اہل بیت کی ایک تصویر" کے تحت یہ قصہ درج ہے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ ایک بار میں حرم کی حاضری کے لیے اکیلا ہی صحرا سے گزر رہا تھا کہ اچانک میں نے بارہ تیرہ سال کے ایک شہزادے کو دیکھا کہ وہ تنہا چلا جا رہا ہے۔ اس شہزادے کے گیسو سیاہ اور چہرہ چاند کی طرح تھا۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! اس صحرا میں یہ کون شخص ہے۔

میں نے آگے بڑھ کر سلام عرض کیا تو انھوں نے جواب عطا فرمایا۔ میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟
فرمایا: میں عبداللہ یعنی خدا کا بندہ ہوں۔
میں نے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟
فرمایا: من اللہ یعنی اللہ کی طرف سے آیا ہوں۔
میں نے کہا: آپ کو کہاں جانا ہے؟
فرمایا: الی اللہ یعنی خدا کی طرف جانا ہے۔
میں نے کہا: آپ کیا چاہتے ہیں؟
فرمایا: اللہ تعالی کی خوشنودی چاہتا ہوں۔
میں نے کہا: آپ کا زاد راہ اور سواری کہاں ہیں؟
فرمایا: میرا زاد راہ توشۂ تقوی ہے اور میری سواری میرے دونوں پاؤں ہیں۔
میں نے کہا: یہ خونخوار بیابان ہے اور آپ چھوٹی عمر کے ہیں، آپ کیا کریں گے؟
فرمایا: تو نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو کسی کی زیارت کی طرف متوجہ ہو اور وہ شخص اسے بے بہرہ اور محروم کر دے؟
میں نے کہا: اگرچہ آپ کی عمر چھوٹی ہے مگر بات بہت بڑی کی ہے۔ آپ کا نام کیا ہے؟
فرمایا: اے ابن مبارک! مصیبت زدگانِ رُوزگار کا کیا پوچھتے ہو اور ان کے نام سے کیا تلاش کرو گے؟
میں نے کہا: اگر آپ نام نہیں بتانا چاہتے تو خدا کے لیے یہی بتا دیں کہ آپ کس قوم اور کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں؟
انھوں نے دل پر درد سے آہ سرد کھینچی اور فرمایا: ہم مظلوم قوم سے ہیں، ہم بے وطن اور غریب الدیار قوم سے ہیں اور ہم اس قوم سے ہیں جس پر قہر و غضب توڑا گیا ہے۔
میں نے کہا: میں کچھ نہیں جان سکا، آپ اپنے بیان میں اضافہ فرمائیے۔
انھوں نے چند اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ ہے:
ہم آنے والوں کو حوض کوثر سے پانی پلانے والے ہیں اور نجات پانے والا شخص ہمارے وسیلے کے بغیر مراد کو نہیں پہنچے گا۔ جو شخص ہم سے دوستی رکھے گا ہرگز بے بہرہ نہیں رہے گا اور جو ہمارا حق غصب کرے گا قیامت کے دن ہمارے لیے اور اس کے لیے محکمہ جزا کی وعدہ گاہ ہوگی۔

انھوں نے یہ بات کی اور میری نگاہوں سے غائب ہو گئے۔ میں نے بہت کوشش کی لیکن نہ جان سکا کہ وہ کون تھے۔ جب میں مکہ پہنچا تو ایک دن طواف میں لوگوں کا ایک گروہ دیکھا جس نے ایک شخص کو حلقے میں لے رکھا تھا اور بہت سے لوگ اس کے قدموں میں کھڑے تھے۔ میں جب سامنے گیا تو دیکھا کہ یہ وہی شہزادے ہیں جن سے میری ملاقات صحرا میں ہوئی تھی۔ لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو کر حلال و حرام کے مسائل پوچھ رہے تھے اور وہ فصیح زبان میں سب کو جواب دے رہے تھے۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟
لوگوں نے کہا: افسوس کہ تو انھیں نہیں جانتا! یہ علی بن حسین، امام زین العابدین ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن مبارک نے آگے بڑھ کر امام کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا اور روتے ہوئے کہا: اے رسول اللہ کے بیٹے! آپ نے مظلومی اہل بیت کے بارے میں جو فرمایا وہ درست ہے۔ اس امت میں کسی جماعت کو وہ مصیبت نہیں پہنچی جو اہل بیت کو پہنچی ہے۔

(روضۃ الشھداء اردو، ج2، ص64 تا 68)

قصہ آپ نے پڑھ لیا، اب ذرا دیکھیں کہ اس میں کیا مزے دار ہے۔ امام زین العابدین کی ولادت 38ھ میں ہوئی اور وصال 95ھ میں ہوا اور حضرت عبداللہ بن مبارک کی پیدائش 118ھ میں اور انتقال 181ھ میں ہوا۔ اب حساب لگایا جائے تو امام زین العابدین کی وفات کے 23 سال بعد حضرت عبداللہ بن مبارک کی پیدائش ہوتی ہے اور جب امام زین العابدین کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی تو اس وقت ابھی عبداللہ بن مبارک کی پیدائش کو 68 سال پڑے تھے۔ اس قصے میں امام زین العابدین کی ملاقات ایک ایسے شخص سے زبردستی کروائی جا رہی ہے جو 68 سال کے بعد پیدا ہوگا! مزے دار ہے یا نہیں؟

(انظر: میزان الکتب، ص221 تا 230)

چاہے یہ قصہ ہو یا امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا قصہ، سب جھوٹ ہے۔ یہ واقعات گھڑے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو سنا کر انھیں رونے دھونے پر مجبور کیا جائے اور اہل بیت پر ہوئے مظالم کو یاد کر کے لوگ ماتم کریں۔

ملا حسین واعظ کاشفی کوئی سنی نہیں تھا اور اس کی یہ کتاب روضۃ الشھداء ایک غیر معتبر کتاب ہے جس میں اہل بیت کی طرف جھوٹے قصے کہانیوں کو منسوب کیا گیا ہے۔ اگر پھر بھی کوئی ہضم کرنا چاہے تو ہمیں کوئی دقت نہیں ہے۔

عبد مصطفی
👈 📗 "سلسلہ:#02___قسط دوم (ب)" 📗
موضوع:
📝 " ماتم اور تعزیہ بازی کا رد "
👈 مذکورہ موضوع سے متعلق مفت علمی و تحقیقی کتب ورسائل کے لیےسامنے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

🔵━═━═━🔵
⚪️ کتب شیعہ سے مروجہ ماتم کی ممانعت
از پیر مفتی محمد اشرف القادري
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1747

🔵━═━═━🔵
⚪️ ماتم کے ناجائز ہونیکا ثبوت شیعہ کتب سے بجواب شیعہ پمفلٹ
علامہ مولانا محمد اسماعیل نقشبندی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1744

🔵━═━═━🔵
⚪️ سبیل ہدایت ماتم کی شرعی حیثیت
احمد حسین قاسم الحیدری
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1189

🔵━═━═━🔵
⚪️ محرم میں کیا جائز کیا نا جائز؟ اردو اور ہندی میں
علامہ مولانا تطهیر احمد رضوی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8068

🔵━═━═━🔵
⚪️ شرح صحیح مسلم جلد اول
صفحہ نمبر 490 تا 522 تعزیہ و ماتم کی حرمت
علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/6950

🔵━═━═━🔵
⚪️ رسالہ تعزیہ داری اردو اور ہندی میں
از اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/6954

🔵━═━═━🔵
⚪️ تحفۂ نجات حصہ ۱۱، گُجراتی زبان میں
تعزیہ داری اور شہدائے کربلا کی حقیقت
از قلم : علامہ و مولانا یونس مصباحی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8071

🔵━═━═━🔵
⚪️ تعزیہ داری علمائے اہلسنت کی نظر میں
ماخوذ خطبات محرم، اردو اور ہندی زبان میں
: علامه مولانا الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8075

🔵━═━═━🔵
⚪️ تعزجہ بازی
از مولانا قاری سہیل احمد رضوی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1742

🔵━═━═━🔵
⚪️ رسالہ تعزیہ داری
از اعلیحضرت امام احمد رضا خان قادري علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1738

🔵━═━═━🔵
⚪️ اعالی الافادة فی تعزیة الھند و بیان شھادة
ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام
سے متعلق بلند پایہ فوائد
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/8083

🔵━═━═━🔵
⚪️ رسومات محرم اور تعزیہ
از قلم علامہ سید محمد ہاشمی اشرفی جیلانی
⬇️
https://t.me/IslamicPDFLibrary/1274

🔵━═━═━🔵
⚪️ اس پیغام کو خوب عام کیجیے اور جوائن کیجئے کتب اہلسنت کا مستند مرکز (⬇️)
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary
ماہ محرم میں رونا دھونا

مجھے رونا نہیں آتا تو کیا کوئی زبردستی ہے؟
جی جی بالکل آپ کو رونا ہی پڑے گا، اگر نہیں روئے تو اس کا مطلب آپ کو اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ آپ نہیں رو سکتے تو ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسے قصے سنائیں گے جنھیں سننے کے بعد آپ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائیں گے اور نہیں تو کچھ بھی کریں لیکن روئیں۔

ماہ محرم کو کچھ لوگوں نے ماہ ماتم سمجھ لیا ہے۔ رونا ضروری ہے، شادی نہیں کر سکتے، مبارک باد نہیں دینی ہے، گوشت نہیں کھانا ہے، فلاں نہیں جانا ہے اور فلاں نہیں چھونا ہے........، یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟

یہ زبردستی رونے دھونے کا ڈرامہ کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی پیارے کی وفات پر قطعی طور پر رونا آ جانا محبت اور رحم کے جذبے کا نتیجہ ہے اور یہ بالکل درست اور جائز ہے لیکن ہر سال رونے رلانے کے لیے بیٹھ جانا ایک عجیب حرکت ہے۔

اس دنیا میں ہر کسی کے بہن بھائی، ماں باپ، اولاد اور رشتہ دار فوت ہوتے رہتے ہیں، مرشد و استاد فوت ہوتے رہتے ہیں، ان سب کے لیے ایصال ثواب کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے مگر سال کے سال رونے کا دھندا نہیں کیا جاتا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رمضان میں شہید کیے گئے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی دنوں تک ان کے گھر میں محصور کر کے اور ان کا پانی بند کر کے پیاس کی حالت میں شہید کر دیا گیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھتے ہوئے چھرا مار کر شہید کردیا گیا.....، ظلم کی یہ داستانیں ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے موقعے پر ہم سال کے سال نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ روتے ہیں۔

چلیں سب کچھ چھوڑ دیں، احادیث میں آتا ہے کہ دنیا کا سب سے تاریک دن وہ تھا جس دن رحمت عالم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے؛ اگر ہر سال غم منانا اور رونا رلانا جائز ہوتا تو اللہ کی عظمت کی قسم ربیع الاول کے مہینے میں ہر سال پوری دنیا میں کہرام برپا ہو جایا کرتا۔ اب ہم ہر سال میلاد مصطفی کی خوشی تو ضرور مناتے ہیں مگر وصال کی وجہ سے نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ تو صرف روتے ہیں۔

جو لوگ اہل سنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ امام حسین سے محبت نہیں کرتے، انھیں غور کرنا چاہیے کہ اہل سنت کی حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کو تو کوئی مائی کا لال چیلنج نہیں کر سکتا، آخر حضور کے وصال کے موقعے پر ہم کیوں نہیں روتے؟
یہاں سے بات نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ ہر سال رونے دھونے بیٹھ جانا ایک غیر شرعی حرکت ہے اور جو لوگ سنی کہلانے کے باوجود ہر سال یہ دھندا کرتے ہیں انھیں روافض کا ٹیکا لگ چکا ہے۔

اللہ کے پیاروں کا طریقہ تو یہ ہے کہ پیاروں کی عین وفات کے دن بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں اور آنسوؤں پر بھی کنٹرول رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ہاں البتہ بے اختیار آنسو نکل آنا ایک الگ بات ہے۔

اگر کسی کو اتفاقیہ رونا آ جائے تو ایسے رونے میں کوئی قباحت نہیں لیکن تکلف کے ساتھ جان بوجھ کر رونے دھونے بیٹھ جانا اور اسے غم حسین میں رونا سمجھ کر ثواب کی امید رکھنا بالکل غلط ہے۔

(انظر: سانحۂ کربلا، علامہ غلام رسول قاسمی نقشبندی)

عبد مصطفی