Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-05-1444 ᴴ | 01-12-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-05-1444 ᴴ | 01-12-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
::::::بیوی کا حق مہر ایک کتاب کی تصنیف::::::
_خاوند کو حیران کرنے والی فقیہ و عالمہ بیوی____
#تاریخِ_اسلامی قسط نمبر 38
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 1
مالک الجزائر کے بہترین مفکر و محقق تھے عرب دنیا کے مشہور ادیب و مصلح تھے
انکی شادی کا سبب بڑا باکمال ہے
وہ ایک کتب خانے میں جاتے اور کسی کتاب کا پوچھتے تو عموما انکو بتایا جاتا یہ کتاب تو فلاں خاتون لے گئی ہیں
جب بار بار مالک نے اس خاتون کا نام سنا اور اسکا علمی شغف اور مطالعے کا ذوق دیکھا تو اس سے ملاقات کا ارادہ کیا
اور پھر ملاقات کے بعد ان دونوں نے باھم رضا مندی سے شادی کر لی
کیا ہی بہترین جوڑی ہوتی ہے جب میاں بیوی دونوں محقق ہوں دونوں صاحب مطالعہ ہوں دونوں علم سے متعلق ہوں
ایسے ہی مثال فقہ حنفی کے بہت بڑے عالم فقیہ امام کاسانی کی ملتی ہے
علامہ محمد بن احمد سمرقندی (متوفی 540 ھجری) کی دختر فاطمہ فقیہ عالمہ تھیں جو اپنے والد کے فتاوی جات کی تصحیح کیا کرتی تھیں
بڑے بڑے امراء حتی کہ بادشاہوں نے بھی انکے نکاح کا پیغام بھیجا
مگر علامہ سمرقندی نے کچھ جواب نہ دیا
امام سمرقندی نے فقہ حنفی پہ ایک کتاب تحفۃ الفقہاء لکھی
ان کے شاگرد امام علاء الدین کاسانی (متوفی 587 ھجری) نے اپنے استاذ کی کتاب تحفہ کی بڑی باکمال شرح لکھ دی جس کا نام بدائع صنائع رکھا
جس کو دیکھ کر کر امام سمرقندی اتنے خوش ہوئے کہ اپنی فقیہ عالمہ بیٹی کا نکاح امام کاسانی سے کر دیا
اس پر علماء نے کہا
شرح تحفتہ وزوجہ ابنتہ
کہ شاگرد نے انکی کتاب کی شرح کی اور باپ نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا
اور یہی کتاب انکا حق مہر بنی
اللہ اللہ کیسے علم والے میاں بیوی تھے باپ بھی امام خاوند بھی امام اور زوجہ بھی فقیہ عالمہ
بعض اوقات یہ فقیہ امام کاسانی کی درستی کرتیں اور امام کاسانی اپنے فتوے سے انکے قول کی طرف رجوع کرتے تھے
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو!!!
جب خواتین اعلی و ارفع ہوں تو ملک و قوم انتہائی بلندی پر جا پہنچتے ہیں!
امام کاسانی پاؤں کے ایک مرض میں مبتلاء ہو گئے جس سے آپ کا پاوں سوج گیا
مگر آپ نے ایک دن بھی سبق پڑھانے میں ناغہ نہیں کیا وقتِ سبق لوگ آپ کو اٹھا کر لے جاتے اور آپ سبق پڑھاتے تھے
اور اسی مرض میں سلطان اجل نور الدین زنگی جو کہ امام کاسانی سے محبت ان کی تکریم کرتے آپ کی عیادت کرنے آئے تھے!
اللہ اللہ کیسی اعلی سوچ کہ انتہائی مشقت کیساتھ طلبہ کرام کے پاس خود چل کر جانا
اور استغناء ایسا کہ بادشاہِ وقت کو خود چل کر آنا پڑتا اور بادشاہ ایسا کہ علماء کے پاس چل کر جانے میں عار محسوس نہیں کرتا تھا!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02afdERT1q5UjEg7w98AjEXF1eCv6mb66pNgR9489ZNifNoaEr59viXhHXNYQPhZnql&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
_خاوند کو حیران کرنے والی فقیہ و عالمہ بیوی____
#تاریخِ_اسلامی قسط نمبر 38
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 1
مالک الجزائر کے بہترین مفکر و محقق تھے عرب دنیا کے مشہور ادیب و مصلح تھے
انکی شادی کا سبب بڑا باکمال ہے
وہ ایک کتب خانے میں جاتے اور کسی کتاب کا پوچھتے تو عموما انکو بتایا جاتا یہ کتاب تو فلاں خاتون لے گئی ہیں
جب بار بار مالک نے اس خاتون کا نام سنا اور اسکا علمی شغف اور مطالعے کا ذوق دیکھا تو اس سے ملاقات کا ارادہ کیا
اور پھر ملاقات کے بعد ان دونوں نے باھم رضا مندی سے شادی کر لی
کیا ہی بہترین جوڑی ہوتی ہے جب میاں بیوی دونوں محقق ہوں دونوں صاحب مطالعہ ہوں دونوں علم سے متعلق ہوں
ایسے ہی مثال فقہ حنفی کے بہت بڑے عالم فقیہ امام کاسانی کی ملتی ہے
علامہ محمد بن احمد سمرقندی (متوفی 540 ھجری) کی دختر فاطمہ فقیہ عالمہ تھیں جو اپنے والد کے فتاوی جات کی تصحیح کیا کرتی تھیں
بڑے بڑے امراء حتی کہ بادشاہوں نے بھی انکے نکاح کا پیغام بھیجا
مگر علامہ سمرقندی نے کچھ جواب نہ دیا
امام سمرقندی نے فقہ حنفی پہ ایک کتاب تحفۃ الفقہاء لکھی
ان کے شاگرد امام علاء الدین کاسانی (متوفی 587 ھجری) نے اپنے استاذ کی کتاب تحفہ کی بڑی باکمال شرح لکھ دی جس کا نام بدائع صنائع رکھا
جس کو دیکھ کر کر امام سمرقندی اتنے خوش ہوئے کہ اپنی فقیہ عالمہ بیٹی کا نکاح امام کاسانی سے کر دیا
اس پر علماء نے کہا
شرح تحفتہ وزوجہ ابنتہ
کہ شاگرد نے انکی کتاب کی شرح کی اور باپ نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا
اور یہی کتاب انکا حق مہر بنی
اللہ اللہ کیسے علم والے میاں بیوی تھے باپ بھی امام خاوند بھی امام اور زوجہ بھی فقیہ عالمہ
بعض اوقات یہ فقیہ امام کاسانی کی درستی کرتیں اور امام کاسانی اپنے فتوے سے انکے قول کی طرف رجوع کرتے تھے
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو!!!
جب خواتین اعلی و ارفع ہوں تو ملک و قوم انتہائی بلندی پر جا پہنچتے ہیں!
امام کاسانی پاؤں کے ایک مرض میں مبتلاء ہو گئے جس سے آپ کا پاوں سوج گیا
مگر آپ نے ایک دن بھی سبق پڑھانے میں ناغہ نہیں کیا وقتِ سبق لوگ آپ کو اٹھا کر لے جاتے اور آپ سبق پڑھاتے تھے
اور اسی مرض میں سلطان اجل نور الدین زنگی جو کہ امام کاسانی سے محبت ان کی تکریم کرتے آپ کی عیادت کرنے آئے تھے!
اللہ اللہ کیسی اعلی سوچ کہ انتہائی مشقت کیساتھ طلبہ کرام کے پاس خود چل کر جانا
اور استغناء ایسا کہ بادشاہِ وقت کو خود چل کر آنا پڑتا اور بادشاہ ایسا کہ علماء کے پاس چل کر جانے میں عار محسوس نہیں کرتا تھا!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02afdERT1q5UjEg7w98AjEXF1eCv6mb66pNgR9489ZNifNoaEr59viXhHXNYQPhZnql&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
❤2👍2
::::::بیس سال کی محنت کو آگ لگا دینے والی بیوی::::::::
__سقراط کی بیوی_
#تصوف_و_صوفیاء قسط نمبر 6
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 2
انیس منصور مصر کے ادیب تھے
انہوں نے الحب معان کتاب میں لکھا
میرا ایک دوست جو مدینہ منورہ کے علماء میں سے تھا جس کا نام ابراھیم العیاشی تھا
اس نے بیس سال مسلسل محنت کیساتھ امہات المومنین کے حجروں پر ایک تحقیقی کتاب لکھی
جس میں زمانہ نبوی میں امہات المومنین میں سے کس کا حجرہ کہاں واقع تھا تفصیلا لکھا,
مگر اس کی بیوی سقراط کی بیوی جیسی تھی جو اپنے خاوند کو دنیا کا سب نکما اور پرانی کتابوں میں گم رہنے والا جانتی تھی,
بیوی کے مطابق پانچ بچے اور ایک بیوی کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے تھے,
ایک دن اس خاتون خانہ نے شیخ ابراہیم کی وہ بیس سالہ محنت پر مشتمل کتاب اٹھائی اور جلا ڈالی,
جب شیخ کو معلوم ہوا تو بیس سالہ محنت ضائع ہونے کے صدمے سے فالج کے حملے آکر مفلوج ہوگئے!
بے شمار مفکرین کو ایسی بیویوں کیساتھ زندگی گزارنی پڑی ہے!
اب ذرا سقراط کی بیوی کا قصہ بھی سن لیں,
ایک بار سقراط کی بیوی سقراط پر زور زور سے چلانے لگی سقراط کے پاس آئے طلباء پریشان ہوگئے!
سقراط کی بیوی نے اس پر بس نہ کیا بلکہ ٹھنڈے پانی کا پیالہ بھر لائی اور سقراط پر ڈال دیا!
سقراط نے مسکرا کر کہا گرج کے بعد بارش تو ہوتی ہے نا,
علماء بیویوں سے ویسے کی توقع نہ رکھیں جیسے وہ اپنے طلباء سے اطاعت کی رکھتے ہیں!
ایک بذرگ کی بیوی ان سے متاثر نہیں تھی حالانکہ انکی کرامات کا شہرہ دور دور تک تھا
ایک دن کہنے لگی آپ خوامخواہ میں ولی بنے پھرتے ہیں ولی تو میں نے کل دیکھا ہے جو ہوا میں اڑ رہا تھا!
بزرگ مسکرا کر فرمانے لگے اللہ کی بندی وہ میں ہی تو تھا
بیوی جھٹ سے بولی تبھی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے 😀
یعنی بیوی شوہر سے کم ہی راضی ہوتی ہے!
بخاری کی حدیث پاک میں ہے
بندہ ایک عرصہ اپنی بیوی سے بھلائی کرتا ہے
پھر بیوی شوہر سے کچھ کمی دیکھتی ہے تو کہ دیتی ہے میں نے کبھی بھی تم سے بھلائی نہیں دیکھی!
یعنی سالوں کی بھلائی ایک بار کمی کوتاہی سے بھلا دیتی ہے!
امام عبد الوہاب شعرانی طبقات الکبری میں نقل فرماتے ہیں کہ
سیدنا محمد بن حمزہ نے ارشاد فرمایا کہ تین طرح کے لوگ اکثر کامیاب نہیں ہوتے
اول!! شیخ یعنی اللہ کے ولی کا بیٹا
بیٹا اس لیئے کہ اس نے جب سے ہوش سنبھالا لوگوں کو دیکھا اس کے ہاتھ چومتے ہیں
اسکی ہر بات مانتے ہیں اس سے پیر کا بیٹا ہونے کی وجہ سے تبرک حاصل کرتے ہیں
یوں وہ پیر کا بیٹا تکبر میں پڑ جاتا ہے اس میں حب جاہ غالب آجاتی ہے اس پر ظالموں کی صفات کا سایہ پڑتا رہتا ہے
پھر وہ کسی واعظ کی نصیحت قبول نہیں کرتا اور پھر اکابر اولیاء و مشائخ کا انکار کر دیتا ہے
اور اگر بیٹا نیک ہو تو اکثر باپ سے بڑھ جاتا ہے
دوم بیوی
یہ بھی ولی کے فیوض سے فائدہ نہیں اٹھاتی کیونکہ ولی کو بطور خاوند دیکھتی ہے
ولایت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی
بیوی سمجھتی ہے کہ خاوند قضاء شہوت میں اس کا محتاج ہے
اور اگر اللہ تعالی اس عورت کی نگاہ کو نور بخشے اور وہ خاوند کو ولایت کی نگاہ سے دیکھے تو ساری دنیا سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے
کیونکہ دن رات اسی کے بالکل ساتھ ساتھ رہتی ہے
سوم! خادم
خادم بھی ولی کے فیض سے فائدہ نہیں اٹھاتا اکثر کیونکہ
وہ شیخ کے کھانے پینے اور سونے سے واقف ہوتا ہے جسکی وجہ سے شیخ کو ہلکا جاننے لگتا ہے
اس لیئے صوفیاء نے فرمایا کہ
پیر کے لیئے درست نہیں کہ وہ مرید کے ساتھ کھانا کھائے اور اس کے ساتھ بغیر ضرورت کے نہ بیٹھے
کیونکہ اس سے مرید کے دل شیخ کی حرمت کم ہوتی جاتی ہے
اگر مرید عزت سے پیش آئے تو بہت فائدہ اٹھائے!
اسی لیئے کہا جاتا ہے پیر کا بیٹا پیر نہیں ہوتا
کیونکہ تکبر و غرور کی وجہ سے باپ کے فیض سے محروم رہتا ہے
اور دوسرے مشائخ کو ہلکا جاننے کی وجہ سے اندر سے کورا رہتا ہے!
✍ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0NNhiwf1E7QVFeej49erdCti2xXW5tXoCnD6GNgTn8XXj4PQrbXwvCGpJ3YT4uChLl&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
__سقراط کی بیوی_
#تصوف_و_صوفیاء قسط نمبر 6
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 2
انیس منصور مصر کے ادیب تھے
انہوں نے الحب معان کتاب میں لکھا
میرا ایک دوست جو مدینہ منورہ کے علماء میں سے تھا جس کا نام ابراھیم العیاشی تھا
اس نے بیس سال مسلسل محنت کیساتھ امہات المومنین کے حجروں پر ایک تحقیقی کتاب لکھی
جس میں زمانہ نبوی میں امہات المومنین میں سے کس کا حجرہ کہاں واقع تھا تفصیلا لکھا,
مگر اس کی بیوی سقراط کی بیوی جیسی تھی جو اپنے خاوند کو دنیا کا سب نکما اور پرانی کتابوں میں گم رہنے والا جانتی تھی,
بیوی کے مطابق پانچ بچے اور ایک بیوی کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے تھے,
ایک دن اس خاتون خانہ نے شیخ ابراہیم کی وہ بیس سالہ محنت پر مشتمل کتاب اٹھائی اور جلا ڈالی,
جب شیخ کو معلوم ہوا تو بیس سالہ محنت ضائع ہونے کے صدمے سے فالج کے حملے آکر مفلوج ہوگئے!
بے شمار مفکرین کو ایسی بیویوں کیساتھ زندگی گزارنی پڑی ہے!
اب ذرا سقراط کی بیوی کا قصہ بھی سن لیں,
ایک بار سقراط کی بیوی سقراط پر زور زور سے چلانے لگی سقراط کے پاس آئے طلباء پریشان ہوگئے!
سقراط کی بیوی نے اس پر بس نہ کیا بلکہ ٹھنڈے پانی کا پیالہ بھر لائی اور سقراط پر ڈال دیا!
سقراط نے مسکرا کر کہا گرج کے بعد بارش تو ہوتی ہے نا,
علماء بیویوں سے ویسے کی توقع نہ رکھیں جیسے وہ اپنے طلباء سے اطاعت کی رکھتے ہیں!
ایک بذرگ کی بیوی ان سے متاثر نہیں تھی حالانکہ انکی کرامات کا شہرہ دور دور تک تھا
ایک دن کہنے لگی آپ خوامخواہ میں ولی بنے پھرتے ہیں ولی تو میں نے کل دیکھا ہے جو ہوا میں اڑ رہا تھا!
بزرگ مسکرا کر فرمانے لگے اللہ کی بندی وہ میں ہی تو تھا
بیوی جھٹ سے بولی تبھی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے 😀
یعنی بیوی شوہر سے کم ہی راضی ہوتی ہے!
بخاری کی حدیث پاک میں ہے
بندہ ایک عرصہ اپنی بیوی سے بھلائی کرتا ہے
پھر بیوی شوہر سے کچھ کمی دیکھتی ہے تو کہ دیتی ہے میں نے کبھی بھی تم سے بھلائی نہیں دیکھی!
یعنی سالوں کی بھلائی ایک بار کمی کوتاہی سے بھلا دیتی ہے!
امام عبد الوہاب شعرانی طبقات الکبری میں نقل فرماتے ہیں کہ
سیدنا محمد بن حمزہ نے ارشاد فرمایا کہ تین طرح کے لوگ اکثر کامیاب نہیں ہوتے
اول!! شیخ یعنی اللہ کے ولی کا بیٹا
بیٹا اس لیئے کہ اس نے جب سے ہوش سنبھالا لوگوں کو دیکھا اس کے ہاتھ چومتے ہیں
اسکی ہر بات مانتے ہیں اس سے پیر کا بیٹا ہونے کی وجہ سے تبرک حاصل کرتے ہیں
یوں وہ پیر کا بیٹا تکبر میں پڑ جاتا ہے اس میں حب جاہ غالب آجاتی ہے اس پر ظالموں کی صفات کا سایہ پڑتا رہتا ہے
پھر وہ کسی واعظ کی نصیحت قبول نہیں کرتا اور پھر اکابر اولیاء و مشائخ کا انکار کر دیتا ہے
اور اگر بیٹا نیک ہو تو اکثر باپ سے بڑھ جاتا ہے
دوم بیوی
یہ بھی ولی کے فیوض سے فائدہ نہیں اٹھاتی کیونکہ ولی کو بطور خاوند دیکھتی ہے
ولایت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی
بیوی سمجھتی ہے کہ خاوند قضاء شہوت میں اس کا محتاج ہے
اور اگر اللہ تعالی اس عورت کی نگاہ کو نور بخشے اور وہ خاوند کو ولایت کی نگاہ سے دیکھے تو ساری دنیا سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے
کیونکہ دن رات اسی کے بالکل ساتھ ساتھ رہتی ہے
سوم! خادم
خادم بھی ولی کے فیض سے فائدہ نہیں اٹھاتا اکثر کیونکہ
وہ شیخ کے کھانے پینے اور سونے سے واقف ہوتا ہے جسکی وجہ سے شیخ کو ہلکا جاننے لگتا ہے
اس لیئے صوفیاء نے فرمایا کہ
پیر کے لیئے درست نہیں کہ وہ مرید کے ساتھ کھانا کھائے اور اس کے ساتھ بغیر ضرورت کے نہ بیٹھے
کیونکہ اس سے مرید کے دل شیخ کی حرمت کم ہوتی جاتی ہے
اگر مرید عزت سے پیش آئے تو بہت فائدہ اٹھائے!
اسی لیئے کہا جاتا ہے پیر کا بیٹا پیر نہیں ہوتا
کیونکہ تکبر و غرور کی وجہ سے باپ کے فیض سے محروم رہتا ہے
اور دوسرے مشائخ کو ہلکا جاننے کی وجہ سے اندر سے کورا رہتا ہے!
✍ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0NNhiwf1E7QVFeej49erdCti2xXW5tXoCnD6GNgTn8XXj4PQrbXwvCGpJ3YT4uChLl&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
:::::بیوی کا اثر کہاں تک جاتا ہے::::
__خواتین آخری سطور لازمی پڑھیں__
#اسلامی_طرزِ_تربیت قسط نمبر 45
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 3
مرد کے تقوے پرہیز گاری اور حلال و حرام کمائی ہونے میں عورت کا بہت عمل دخل ہے
ایک بزرگ پانچ وقت کی نماز اشراق و چاشت و تہجد باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے
ایک دن زوجہ محترمہ کو کہنے لگے کہ تم صرف پانچ نمازیں پڑھتی ہو کبھی تہجد بھی پڑھ لیا کرو
بیوی صاحبہ نے بات سنی اور خاموشی اختیار کر لی
دوسرے دن بابا جی بمشکل فجر کی نماز وہ بھی آخری وقت میں پڑھ سکے آنکھ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
بیگم صاحبہ کو کہتے ہیں
آج پتا نہیں کیا ہوا فجر کی نماز مشکل سے پڑھ سکا ہوں
بیگم صاحبہ مسکرا کر کہنے لگی میرے سر تاج پہلے میں با وضوء کھانا بناتی تھی جس کی برکت سے آپکی تہجد میں آسانی سے آنکھ کھل جاتی تھی
کل آپ نے مجھے طعنہ لگایا تو میں نے رات کا کھانا بے وضوء بنایا جس کی وجہ سے آپکی تہجد تو گئی آپ کے لیئے فجر کی نماز پڑھنا بھی مشکل ہوگیا
اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ جو خواتین با وضوء کھانا بناتی ہیں اور پاکی کا خاص خیال رکھتی ہیں اس گھر کے مردوں پہ تقوی و پرہیز گاری کے اثرات نظر آتے ہیں
بیوی حسین ہو تو صرف دنیاوی حور ہوگی اور اگر متقیہ اور علم والی ہو تو آخرت میں سینکڑوں حوروں کے ملنے کا سب بن جاتی ہے
حبیب عجمی کی بیوی ان کو رات کے آخری پہر اٹھاتی اور بلند آواز سے کہتی
اے بندہِ خدا اٹھ اور دیکھ رات گزر گئی اور تیرا راستہ طویل اور تیرے پاس زادِ راہ قلیل ہے صالحین کے قافلے ہمارے سامنے سے گزر گئے ہیں اور ھم یہاں تنہاء رہ گئے ہیں
جن نفوسِ قدسیہ کی ازواج ایسی ہوں تو انکی زندگی پاک و صاف اور یہیں جنت کا عکس ہوتی ہے
خواتین مردوں کی بازو نیکی و عبادت میں بنیں مردوں سے آخرت کے انعامات کا تقاضا کریں نہ کہ فانی مال کی طلب میں حرام کمانے پر مجبور کریں
خواتین کی نیکی و بدی کا اثر نسلوں میں جاتا ہے لہذا عارضی آسائش کے لیئے نسلوں کا بیڑہ غرق مت کریں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid035jijYSNJB3KUAxurnmS3rZhWthxPfxsiipDXtnedCZCHjVbcxBSrAYffKTpNDxUxl&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
__خواتین آخری سطور لازمی پڑھیں__
#اسلامی_طرزِ_تربیت قسط نمبر 45
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 3
مرد کے تقوے پرہیز گاری اور حلال و حرام کمائی ہونے میں عورت کا بہت عمل دخل ہے
ایک بزرگ پانچ وقت کی نماز اشراق و چاشت و تہجد باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے
ایک دن زوجہ محترمہ کو کہنے لگے کہ تم صرف پانچ نمازیں پڑھتی ہو کبھی تہجد بھی پڑھ لیا کرو
بیوی صاحبہ نے بات سنی اور خاموشی اختیار کر لی
دوسرے دن بابا جی بمشکل فجر کی نماز وہ بھی آخری وقت میں پڑھ سکے آنکھ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
بیگم صاحبہ کو کہتے ہیں
آج پتا نہیں کیا ہوا فجر کی نماز مشکل سے پڑھ سکا ہوں
بیگم صاحبہ مسکرا کر کہنے لگی میرے سر تاج پہلے میں با وضوء کھانا بناتی تھی جس کی برکت سے آپکی تہجد میں آسانی سے آنکھ کھل جاتی تھی
کل آپ نے مجھے طعنہ لگایا تو میں نے رات کا کھانا بے وضوء بنایا جس کی وجہ سے آپکی تہجد تو گئی آپ کے لیئے فجر کی نماز پڑھنا بھی مشکل ہوگیا
اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ جو خواتین با وضوء کھانا بناتی ہیں اور پاکی کا خاص خیال رکھتی ہیں اس گھر کے مردوں پہ تقوی و پرہیز گاری کے اثرات نظر آتے ہیں
بیوی حسین ہو تو صرف دنیاوی حور ہوگی اور اگر متقیہ اور علم والی ہو تو آخرت میں سینکڑوں حوروں کے ملنے کا سب بن جاتی ہے
حبیب عجمی کی بیوی ان کو رات کے آخری پہر اٹھاتی اور بلند آواز سے کہتی
اے بندہِ خدا اٹھ اور دیکھ رات گزر گئی اور تیرا راستہ طویل اور تیرے پاس زادِ راہ قلیل ہے صالحین کے قافلے ہمارے سامنے سے گزر گئے ہیں اور ھم یہاں تنہاء رہ گئے ہیں
جن نفوسِ قدسیہ کی ازواج ایسی ہوں تو انکی زندگی پاک و صاف اور یہیں جنت کا عکس ہوتی ہے
خواتین مردوں کی بازو نیکی و عبادت میں بنیں مردوں سے آخرت کے انعامات کا تقاضا کریں نہ کہ فانی مال کی طلب میں حرام کمانے پر مجبور کریں
خواتین کی نیکی و بدی کا اثر نسلوں میں جاتا ہے لہذا عارضی آسائش کے لیئے نسلوں کا بیڑہ غرق مت کریں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid035jijYSNJB3KUAxurnmS3rZhWthxPfxsiipDXtnedCZCHjVbcxBSrAYffKTpNDxUxl&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
::::::::::امت کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا:::::::::::::
_مسلمان خواتین کی خوبیاں____
#اسلامی_طرزِ_تربیت قسط نمبر 3
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 4
لیبیا کے عظیم مجاہد عمر مختار رحمة الله علیه جب اپنے خیمے میں داخل ہوتے تو ان کی بیوی خیمے کا پردہ اوپر کی طرف کھینچ دیتی تھیں
بار بار یہ عمل دیکھ کر کسی نے سبب پوچھا!
کہنے لگیں کہ میں گوارا نہیں کرتی خیمے میں داخل ہونگے وقت میرے سر کا تاج اپنا سر جھکا کر داخل ہو!
ایسی بیوی ہوتی ہے جو مرد کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے
پیٹھ پیچھے گھر کی عزت کی محافظ اور شوہر سامنے ہو تو اس کی قدر و منزلت کا لحاظ!
مہشور تابعی سعید بن مسیب کی بیوی فرماتی کہ ہم اپنے شوہروں کے سامنے یوں حاضر ہوا کرتی تھیں جیسے تم لوگ بادشاہ کے سامنے حاضر ہوتے ہو!
یعنی انتہائی ادب و احترام سے غلامانہ ہاتھ باندھ کر شوہر کے پاس جانا ہوتا!
کیونکہ کامل ایمان والی شوہر کے حقوق جاننے والی بیوی بخوبی جانتی ہے کہ اللہ رب العزت نے شوہر کو اس کا حاکم بنایا ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
الرجال قوامون علی النساء
مرد عورتوں پر حاکم ہیں
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے
کہ
عورت مرد کا قبلہ ہوگی عورت مرد پر حاکم ہوگی!
حدیث پاک میں ہے اس قوم میں بھلائی نہیں جس میں عورت کو حاکم بنایا جائے
یقین کریں آج بھی کروروں مسلمان عورتیں ایسی ہیں جو مرد پر حاکم رہنا پسند ہی نہیں کرتیں
بلکہ محکوم رہنے میں اپنی عزت و جان کا تحفظ محسوس کرتی ہیں
ٹی وی پر سوشل میڈیا پر چند طوائفات اگر کارڑد و بینر اٹھا کر نعرے لگاتی ہیں تو یہ ان کا غیر اسلامی غیر انسانی انداز ہے
ان کے نعروں سے مرد کی حاکمیت ختم نہیں ہوتی اور نہ یہ چند فاحشات ایمان والی خواتین کی نمائندہ ہیں
لہذا ان سے دھوکہ نہ کھائیں
خاص طور پر مسلمان خواتین و بچیاں ان کے مکر و فریب سے بچیں
ایمان سب سے مقدم ہے قرآنی احکام سب سے بڑھ کر ہیں
ہاں عمل میں کمزوری ہو تو یہ الگ بات ہے
اگر کوئی مسلمان خاتون مرد کی دو تین یا چار شادیوں کی مخالف ہے تو وہ اسلام سے خارج ہے
ہاں اگر غیرت کی بناء پر شادی سے منع کرتی ہے تو کچھ مضائقہ نہیں ہے
اور اگر مرد کی دو چار شادیوں کو ظلم و ستم سے تعبیر کرتے اور خواتین کے حقوق پر ڈاکہ کہے تو وہ ایمان سے نکل گئی
اللہ رب العزت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اس نے حکمتِ خدا کی نفی اور حکمِ خدا پر اعتراض کیا ہے جو کہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے
حدیث پاک میں یہ امت اسی چیز سے ٹھیک ہوگی جس چیز سے امت کا پہلا حصہ یعنی صحابہ ٹھیک ہوئے!
یعنی صحابہ کرام و صحابیات رضی اللہ عنھم کے نقوش قدم پر چلنا ہی امت کو ٹھیک کرے گا
تو جیسا مزاج صحابیات کا تھا اس جیسا مزاج جب تک آج کل کی خواتین کا نہیں ہوگا امت کا نظام درست نہیں ہوگا!
👈 تحریر سے نام حذف کرنا شرعاً اخلاقاً جرم ہے اور آپ اس کے جوابدہ ہوں گے!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0exqt1vabCzEXiUB4Gwc5sqPxWmaXH2speZpYTaL2mBZLdpErb4CwEFey5TzFiSRgl&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
_مسلمان خواتین کی خوبیاں____
#اسلامی_طرزِ_تربیت قسط نمبر 3
#کامیاب_خواتین قسط نمبر 4
لیبیا کے عظیم مجاہد عمر مختار رحمة الله علیه جب اپنے خیمے میں داخل ہوتے تو ان کی بیوی خیمے کا پردہ اوپر کی طرف کھینچ دیتی تھیں
بار بار یہ عمل دیکھ کر کسی نے سبب پوچھا!
کہنے لگیں کہ میں گوارا نہیں کرتی خیمے میں داخل ہونگے وقت میرے سر کا تاج اپنا سر جھکا کر داخل ہو!
ایسی بیوی ہوتی ہے جو مرد کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے
پیٹھ پیچھے گھر کی عزت کی محافظ اور شوہر سامنے ہو تو اس کی قدر و منزلت کا لحاظ!
مہشور تابعی سعید بن مسیب کی بیوی فرماتی کہ ہم اپنے شوہروں کے سامنے یوں حاضر ہوا کرتی تھیں جیسے تم لوگ بادشاہ کے سامنے حاضر ہوتے ہو!
یعنی انتہائی ادب و احترام سے غلامانہ ہاتھ باندھ کر شوہر کے پاس جانا ہوتا!
کیونکہ کامل ایمان والی شوہر کے حقوق جاننے والی بیوی بخوبی جانتی ہے کہ اللہ رب العزت نے شوہر کو اس کا حاکم بنایا ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
الرجال قوامون علی النساء
مرد عورتوں پر حاکم ہیں
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے
کہ
عورت مرد کا قبلہ ہوگی عورت مرد پر حاکم ہوگی!
حدیث پاک میں ہے اس قوم میں بھلائی نہیں جس میں عورت کو حاکم بنایا جائے
یقین کریں آج بھی کروروں مسلمان عورتیں ایسی ہیں جو مرد پر حاکم رہنا پسند ہی نہیں کرتیں
بلکہ محکوم رہنے میں اپنی عزت و جان کا تحفظ محسوس کرتی ہیں
ٹی وی پر سوشل میڈیا پر چند طوائفات اگر کارڑد و بینر اٹھا کر نعرے لگاتی ہیں تو یہ ان کا غیر اسلامی غیر انسانی انداز ہے
ان کے نعروں سے مرد کی حاکمیت ختم نہیں ہوتی اور نہ یہ چند فاحشات ایمان والی خواتین کی نمائندہ ہیں
لہذا ان سے دھوکہ نہ کھائیں
خاص طور پر مسلمان خواتین و بچیاں ان کے مکر و فریب سے بچیں
ایمان سب سے مقدم ہے قرآنی احکام سب سے بڑھ کر ہیں
ہاں عمل میں کمزوری ہو تو یہ الگ بات ہے
اگر کوئی مسلمان خاتون مرد کی دو تین یا چار شادیوں کی مخالف ہے تو وہ اسلام سے خارج ہے
ہاں اگر غیرت کی بناء پر شادی سے منع کرتی ہے تو کچھ مضائقہ نہیں ہے
اور اگر مرد کی دو چار شادیوں کو ظلم و ستم سے تعبیر کرتے اور خواتین کے حقوق پر ڈاکہ کہے تو وہ ایمان سے نکل گئی
اللہ رب العزت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اس نے حکمتِ خدا کی نفی اور حکمِ خدا پر اعتراض کیا ہے جو کہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے
حدیث پاک میں یہ امت اسی چیز سے ٹھیک ہوگی جس چیز سے امت کا پہلا حصہ یعنی صحابہ ٹھیک ہوئے!
یعنی صحابہ کرام و صحابیات رضی اللہ عنھم کے نقوش قدم پر چلنا ہی امت کو ٹھیک کرے گا
تو جیسا مزاج صحابیات کا تھا اس جیسا مزاج جب تک آج کل کی خواتین کا نہیں ہوگا امت کا نظام درست نہیں ہوگا!
👈 تحریر سے نام حذف کرنا شرعاً اخلاقاً جرم ہے اور آپ اس کے جوابدہ ہوں گے!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0exqt1vabCzEXiUB4Gwc5sqPxWmaXH2speZpYTaL2mBZLdpErb4CwEFey5TzFiSRgl&id=100077572107332&mibextid=Nif5oz
👍3❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1