حضور بدر ملت کی جلسے جلوس سے کنارہ کشی
از: مولانا عبدالصمد قادری رضوی اورنگ آبادی عفی عنہ
حضور بدر ملت مفتی بدر الدین احمد قادری رحمۃ الله تعالیٰ علیه ـ صاحبِ سوانح اعلیٰ حضرت، تعمیرِ ادب و فتاویٰ بدر العلماء ...
آپ اپنی حیات کے اخیر میں جلسے جلوس میں عام طور پر شریک ہونے سے اپنے آپ کو الگ کر رکھا تھا ۔ پھر بھی آپ کے معتقدین و محبین جلسے وغیرہ میں دعوت دینے کے ساتھ ہی ساتھ زادِ راہ بھی روانہ کر دیا کرتے تھے ۔ مگر حضرت قبلہ دعوت دینے والوں سے معذرت چاہ کر کرایہ وغیرہ کی رقم واپس کر دیا کرتے تھے ۔
راقم نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں جب آپ کو کرایہ واپس کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایک مرتبہ عرض کیا کہ حضور آخِر دعوت قبول فرمانے کے بجائے رد کر کے زادِ راہ واپس کیوں کر دیا جاتاہے ؟
اس پر حضرت علیہ الرحمہ نے کچھ اس طرح فرمایا ۔ آپ نہیں سمجھتے ہیں زمانہ کے حالات کس قدر بدل چکے ہیں ناظمِ جلسہ غیر ذمہ دار پیشہ ور خطباء و مقررین اور شعراء کی بہتات اور کثرت ہے ۔
آج لوگوں کے عام حالات یہ ہوتے جا رہے ہیں کہ بغیر کسی معتبر ذمہ دار عالِمِ دین سے سَمجھے بُوجھے ہُوئے جِسے چاہتے ہیں جلسے وغیرہ میں مدعو کر لیتے ہیں ۔ اب ایسی مجلس میں ان کے ساتھ ممبر پر میں بھی شریک رہوں اور جب وہ نا اہل حضرات خلافِ شرع بولی بولیں یا خلافِ شریعت اشعار پڑھیں اور میں ان کی اصلاح کے لئے ٹوک دوں اور توبہ و رجوع کی جانب توجہ دلاؤں تو اس وقت نفسانیت اور شیطانیت کا اتنا غلبہ ہے کہ حق قبول کرنے کے بجائے بحث و مباحثہ پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ اور ان میں بعض تو کفریات تک بَک جاتے ہیں ۔ اور تنبیہ کرنے پر آنکھیں دِکھاتے اور گردن چڑھاتے ہیں اور اصلاح کرنے والے کے خلاف محاذ آرائی اور بکھیڑا کھڑا کر دتیے ہیں ۔
اور اگر مَیں ایسے جلسہ وغیرہ میں شریک رہوں اور ان کی خلافِ شرع باتوں کو سُن کر خاموش بیٹھا رہ جاؤں اور حق ظاہر نہ کروں تو پھر بارگاہِ اِلٰہی میں کوڑا کھانے کے لیے اپنی پِیٹھ کو تیار رکھنا ہوگا ۔ انہیں وجوہ کے بنا پر میں کنارہ کشی اختیار کرنے ہی میں سلامتی اور سکون محسوس کرتا ہوں ۔
رہی مدعو کرنے والے معتقدوں کی بات تو اُنہیں صورتِ حال سے آگاہ کرکے اُن سے معذرت چاہ لیتا ہوں کہ اُن کی دل شکنی نہ ہونے پائے ۔
واعظ و مقرر کیسا ہونا چاہیے؟
جب یہ مسئلہ سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه سے دریافت کیا گیا تو آپ نے اِرشاد فرمایا:
سوال و جواب بغور پڑھیں:
س: واعظ یعنی پند و نصیحت کرنے والا اور مقرر کا عالم ہونا ضروری ہے ؟
ج: غیرِ عالم کو وعظ کہنا حرام ہے ۔
س: عالم کی تعریف کیاہے ؟
ج: عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پُورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتابوں سے نِکال سکے بِغیر کسی کے مدد کے ۔
(الملفوظ شریف، حِصہ: اوّل، صفحہ: ۵)
https://www.facebook.com/100004016020698/posts/pfbid0oVZhFYFT3cQNP2haj4A6E9YuJSbg9BMFuHuUP5kJFbVr5vL3cvHDX3M1SCFfHKfBl/?mibextid=Nif5oz
از: مولانا عبدالصمد قادری رضوی اورنگ آبادی عفی عنہ
حضور بدر ملت مفتی بدر الدین احمد قادری رحمۃ الله تعالیٰ علیه ـ صاحبِ سوانح اعلیٰ حضرت، تعمیرِ ادب و فتاویٰ بدر العلماء ...
آپ اپنی حیات کے اخیر میں جلسے جلوس میں عام طور پر شریک ہونے سے اپنے آپ کو الگ کر رکھا تھا ۔ پھر بھی آپ کے معتقدین و محبین جلسے وغیرہ میں دعوت دینے کے ساتھ ہی ساتھ زادِ راہ بھی روانہ کر دیا کرتے تھے ۔ مگر حضرت قبلہ دعوت دینے والوں سے معذرت چاہ کر کرایہ وغیرہ کی رقم واپس کر دیا کرتے تھے ۔
راقم نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں جب آپ کو کرایہ واپس کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایک مرتبہ عرض کیا کہ حضور آخِر دعوت قبول فرمانے کے بجائے رد کر کے زادِ راہ واپس کیوں کر دیا جاتاہے ؟
اس پر حضرت علیہ الرحمہ نے کچھ اس طرح فرمایا ۔ آپ نہیں سمجھتے ہیں زمانہ کے حالات کس قدر بدل چکے ہیں ناظمِ جلسہ غیر ذمہ دار پیشہ ور خطباء و مقررین اور شعراء کی بہتات اور کثرت ہے ۔
آج لوگوں کے عام حالات یہ ہوتے جا رہے ہیں کہ بغیر کسی معتبر ذمہ دار عالِمِ دین سے سَمجھے بُوجھے ہُوئے جِسے چاہتے ہیں جلسے وغیرہ میں مدعو کر لیتے ہیں ۔ اب ایسی مجلس میں ان کے ساتھ ممبر پر میں بھی شریک رہوں اور جب وہ نا اہل حضرات خلافِ شرع بولی بولیں یا خلافِ شریعت اشعار پڑھیں اور میں ان کی اصلاح کے لئے ٹوک دوں اور توبہ و رجوع کی جانب توجہ دلاؤں تو اس وقت نفسانیت اور شیطانیت کا اتنا غلبہ ہے کہ حق قبول کرنے کے بجائے بحث و مباحثہ پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ اور ان میں بعض تو کفریات تک بَک جاتے ہیں ۔ اور تنبیہ کرنے پر آنکھیں دِکھاتے اور گردن چڑھاتے ہیں اور اصلاح کرنے والے کے خلاف محاذ آرائی اور بکھیڑا کھڑا کر دتیے ہیں ۔
اور اگر مَیں ایسے جلسہ وغیرہ میں شریک رہوں اور ان کی خلافِ شرع باتوں کو سُن کر خاموش بیٹھا رہ جاؤں اور حق ظاہر نہ کروں تو پھر بارگاہِ اِلٰہی میں کوڑا کھانے کے لیے اپنی پِیٹھ کو تیار رکھنا ہوگا ۔ انہیں وجوہ کے بنا پر میں کنارہ کشی اختیار کرنے ہی میں سلامتی اور سکون محسوس کرتا ہوں ۔
رہی مدعو کرنے والے معتقدوں کی بات تو اُنہیں صورتِ حال سے آگاہ کرکے اُن سے معذرت چاہ لیتا ہوں کہ اُن کی دل شکنی نہ ہونے پائے ۔
واعظ و مقرر کیسا ہونا چاہیے؟
جب یہ مسئلہ سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه سے دریافت کیا گیا تو آپ نے اِرشاد فرمایا:
سوال و جواب بغور پڑھیں:
س: واعظ یعنی پند و نصیحت کرنے والا اور مقرر کا عالم ہونا ضروری ہے ؟
ج: غیرِ عالم کو وعظ کہنا حرام ہے ۔
س: عالم کی تعریف کیاہے ؟
ج: عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پُورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتابوں سے نِکال سکے بِغیر کسی کے مدد کے ۔
(الملفوظ شریف، حِصہ: اوّل، صفحہ: ۵)
https://www.facebook.com/100004016020698/posts/pfbid0oVZhFYFT3cQNP2haj4A6E9YuJSbg9BMFuHuUP5kJFbVr5vL3cvHDX3M1SCFfHKfBl/?mibextid=Nif5oz
❤1
#گھرگھر_جا_کر_ٹیوشن_پڑھانے_والے
👇👇👇
خلیفہ ہارون رشید رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے عالم دار الہجرۃ سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے یہاں جاکر خلیفہ زادوں کو پڑھا دیا کریں،
فرمایا:
میں علم کو ذلیل نہ کروں گا انھیں پڑھنا ہے تو خود حاضر ہوا کریں،
عرض کی: وہی حاضر ہونگے مگر اور طلباء پر ان کو تقدیم دی جائے،
فرمایا: یہ بھی نہ ہوگا سب یکساں رکھے جائیں گے آخر خلیفہ کو یہی منظور کرناپڑا____
یونہی امام شریک نخعی سے خلیفہ وقت نے چاہا تھا کہ ان کے گھر جاکر شہزادوں کو پڑھا دیا کریں، انکار کیا ۔ کہا: آپ امیر المومنین کا حکم ماننا نہیں چاہتے۔ فرمایا: یہ نہیں بلکہ علم کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا۔
فتاوی رضویہ شریف
آج ہمارے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ عوام علم اور عالم دین کا ادب نہیں کرتی علم کی قدر و قیمت نہیں سمجھتی، علم کی اہمیت سے غافل ہے، میں کہتا ہوں علم کو رسوا کس نے کیا؟ ، علم کا قدر کس نے نکالا؟ علم کو بازوں میں کس نے بیچا؟، علم کی اہمیت کس نے گھٹائی؟
✍ حسن نوری گونڈوی
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/pfbid02Gm33eNZpmHKx1eqvVKDfjhmRFjiQEF9bRpZ7DwpgKVjY9TrHyxadyWGoJiyjbvd6l/?mibextid=Nif5oz
👇👇👇
خلیفہ ہارون رشید رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے عالم دار الہجرۃ سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے یہاں جاکر خلیفہ زادوں کو پڑھا دیا کریں،
فرمایا:
میں علم کو ذلیل نہ کروں گا انھیں پڑھنا ہے تو خود حاضر ہوا کریں،
عرض کی: وہی حاضر ہونگے مگر اور طلباء پر ان کو تقدیم دی جائے،
فرمایا: یہ بھی نہ ہوگا سب یکساں رکھے جائیں گے آخر خلیفہ کو یہی منظور کرناپڑا____
یونہی امام شریک نخعی سے خلیفہ وقت نے چاہا تھا کہ ان کے گھر جاکر شہزادوں کو پڑھا دیا کریں، انکار کیا ۔ کہا: آپ امیر المومنین کا حکم ماننا نہیں چاہتے۔ فرمایا: یہ نہیں بلکہ علم کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا۔
فتاوی رضویہ شریف
آج ہمارے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ عوام علم اور عالم دین کا ادب نہیں کرتی علم کی قدر و قیمت نہیں سمجھتی، علم کی اہمیت سے غافل ہے، میں کہتا ہوں علم کو رسوا کس نے کیا؟ ، علم کا قدر کس نے نکالا؟ علم کو بازوں میں کس نے بیچا؟، علم کی اہمیت کس نے گھٹائی؟
✍ حسن نوری گونڈوی
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/pfbid02Gm33eNZpmHKx1eqvVKDfjhmRFjiQEF9bRpZ7DwpgKVjY9TrHyxadyWGoJiyjbvd6l/?mibextid=Nif5oz
❤1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
किताबों में झूटी रिवायतें
किसी भी रिवायत को सहीह क़रार देने के लिये सिर्फ ये काफी नहीं है कि किसी किताब का हवाला पेश कर दिया जाए।
हमारे मुक़र्रिरीन और अवाम का यही तरीक़ा है कि जब किसी रिवायत के बारे में कुछ कहा जाए तो बस किसी किताब का हवाला पेश कर देते हैं और उसके सामने बाक़ी सारी तहक़ीक़ी बातों को नज़र अंदाज़ कर देते हैं, ये तरीक़ा बिलकुल ग़लत है।
ये जान लीजिये कि जितनी भी झूटी रिवायतें हैं वो आपको किसी ना किसी किताब में ज़रूर मिलेंगी तो अगर सिर्फ किताब में होना ही सहीह होने के लिये काफी है तो फिर कोई रिवायत झूटी नहीं बचेगी, हर रिवायत को सहीह मानना पड़ेगा।
अगर कोई किताब मो'तबर भी है तो भी उस में किसी रिवायत का होना उसके सहीह होने के लिये काफी नहीं हैं, ये भी होता है कि किताब और मुसन्निफ़ दोनों मो'तबर होते हैं पर उस किताब में बाज़ बातें क़ाबिले ऐतबार नहीं होती और उन्हें तस्लीम नहीं किया जा सकता।
कुछ रिवायतें ऐसी होती हैं कि उनके अल्फ़ाज़ ही बता रहे होते हैं कि वो झूटी हैं लेकिन ये समझने के लिये किताबों पर गहरी नज़र होना ज़रूरी है और साथ ही तहक़ीक़ी ज़हन भी होना चाहिये वरना हर वाक़िआ सहीह नज़र आएगा।
अवामे अहले सुन्नत और ख़ास कर मुक़र्रिरीन को अपनी इस आदत से बाज़ आना चाहिये कि बस एक किताब का नाम पकड़ के बैठ जाते हैं और फिर कुछ भी सुनना नहीं चाहते , ऐसे आप हक़ीक़त को कभी देख नहीं पाएँगे।
अब्दे मुस्तफ़ा
मुह़म्मद साबिर क़ादरी
किसी भी रिवायत को सहीह क़रार देने के लिये सिर्फ ये काफी नहीं है कि किसी किताब का हवाला पेश कर दिया जाए।
हमारे मुक़र्रिरीन और अवाम का यही तरीक़ा है कि जब किसी रिवायत के बारे में कुछ कहा जाए तो बस किसी किताब का हवाला पेश कर देते हैं और उसके सामने बाक़ी सारी तहक़ीक़ी बातों को नज़र अंदाज़ कर देते हैं, ये तरीक़ा बिलकुल ग़लत है।
ये जान लीजिये कि जितनी भी झूटी रिवायतें हैं वो आपको किसी ना किसी किताब में ज़रूर मिलेंगी तो अगर सिर्फ किताब में होना ही सहीह होने के लिये काफी है तो फिर कोई रिवायत झूटी नहीं बचेगी, हर रिवायत को सहीह मानना पड़ेगा।
अगर कोई किताब मो'तबर भी है तो भी उस में किसी रिवायत का होना उसके सहीह होने के लिये काफी नहीं हैं, ये भी होता है कि किताब और मुसन्निफ़ दोनों मो'तबर होते हैं पर उस किताब में बाज़ बातें क़ाबिले ऐतबार नहीं होती और उन्हें तस्लीम नहीं किया जा सकता।
कुछ रिवायतें ऐसी होती हैं कि उनके अल्फ़ाज़ ही बता रहे होते हैं कि वो झूटी हैं लेकिन ये समझने के लिये किताबों पर गहरी नज़र होना ज़रूरी है और साथ ही तहक़ीक़ी ज़हन भी होना चाहिये वरना हर वाक़िआ सहीह नज़र आएगा।
अवामे अहले सुन्नत और ख़ास कर मुक़र्रिरीन को अपनी इस आदत से बाज़ आना चाहिये कि बस एक किताब का नाम पकड़ के बैठ जाते हैं और फिर कुछ भी सुनना नहीं चाहते , ऐसे आप हक़ीक़त को कभी देख नहीं पाएँगे।
अब्दे मुस्तफ़ा
मुह़म्मद साबिर क़ादरी
❤1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Kitabo Mein Jhooti Riwayatein
Kisi Bhi Riwayat Ko Sahih Qaraar Dene Ke Liye Sirf Ye Kaafi Nahin Hai Ke Kisi Kitab Ka Hawala Pesh Kar Diya Jaaye
Humare Muqarrireen Aur Awaam Ka Yahi Tariqa Hai Ke Jab Kisi Riwayat Ke Baare Mein Kuchh Kaha Jaaye To Bas Kisi Kitab Ka Hawala Pesh Kar Dete Hain Aur Uske Samne Baaqi Saari Tehqeeqi Baato Ko Nazar Andaaz Kar Dete Hain, Ye Tariqa Bilkul Ghalat Hai
Ye Jaan Lijiye Ke Jitni Bhi Jhooti Riwayatein Hain Wo Aapko Kisi Na Kisi Kitab Mein Zaroor Milegi To Agar Sirf Kitab Mein Hona Hi Sahih Hone Ke Liye Kaafi Hai To Phir Koi Riwayat Jhooti Nahin Bachegi, Har Riwayat Ko Sahih Manna Padega
Agar Koi Kitab Motabar Bhi Hai To Bhi Us Mein Kisi Riwayat Ka Hona Uske Sahih Hone Ke Liye Kaafi Nahin Hai, Ye Bhi Hota Hai Ke Kitab Aur Musannif Dono Motabar Hote Hain Par Us Kitab Mein Baaz Baatein Qabile Aitbar Nahin Hoti Aur Unhein Tasleem Nahin Kiya Ja Sakta
Kuchh Riwayatein Aisi Hoti Hain Ke Unke Alfaaz Hi Bata Rahe Hote Hain Ke Wo Jhooti Hain Lekin Ye Samajhne Ke Liye Kitabo Par Gehri Nazar Hona Zaroori Hai Aur Saath Hi Tehqeeqi Zehan Bhi Hona Chahiye Warna Har Waqiya Sahih Nazar Aayega
Awaame Ahle Sunnat Aur Khaas Kar Muqarrireen Ko Apni Is Aadat Se Baaz Aana Chahiye Ke Bas Ek Kitab Ka Naam Pakad Ke Baith Jaate Hain Aur Phir Kuchh Bhi Sunna Nahin Chahte, Aise Aap Haqeeqat Ko Kabhi Dekh Nahin Payenge
Abde Mustafa
Muhammad Sabir Qadri
Kisi Bhi Riwayat Ko Sahih Qaraar Dene Ke Liye Sirf Ye Kaafi Nahin Hai Ke Kisi Kitab Ka Hawala Pesh Kar Diya Jaaye
Humare Muqarrireen Aur Awaam Ka Yahi Tariqa Hai Ke Jab Kisi Riwayat Ke Baare Mein Kuchh Kaha Jaaye To Bas Kisi Kitab Ka Hawala Pesh Kar Dete Hain Aur Uske Samne Baaqi Saari Tehqeeqi Baato Ko Nazar Andaaz Kar Dete Hain, Ye Tariqa Bilkul Ghalat Hai
Ye Jaan Lijiye Ke Jitni Bhi Jhooti Riwayatein Hain Wo Aapko Kisi Na Kisi Kitab Mein Zaroor Milegi To Agar Sirf Kitab Mein Hona Hi Sahih Hone Ke Liye Kaafi Hai To Phir Koi Riwayat Jhooti Nahin Bachegi, Har Riwayat Ko Sahih Manna Padega
Agar Koi Kitab Motabar Bhi Hai To Bhi Us Mein Kisi Riwayat Ka Hona Uske Sahih Hone Ke Liye Kaafi Nahin Hai, Ye Bhi Hota Hai Ke Kitab Aur Musannif Dono Motabar Hote Hain Par Us Kitab Mein Baaz Baatein Qabile Aitbar Nahin Hoti Aur Unhein Tasleem Nahin Kiya Ja Sakta
Kuchh Riwayatein Aisi Hoti Hain Ke Unke Alfaaz Hi Bata Rahe Hote Hain Ke Wo Jhooti Hain Lekin Ye Samajhne Ke Liye Kitabo Par Gehri Nazar Hona Zaroori Hai Aur Saath Hi Tehqeeqi Zehan Bhi Hona Chahiye Warna Har Waqiya Sahih Nazar Aayega
Awaame Ahle Sunnat Aur Khaas Kar Muqarrireen Ko Apni Is Aadat Se Baaz Aana Chahiye Ke Bas Ek Kitab Ka Naam Pakad Ke Baith Jaate Hain Aur Phir Kuchh Bhi Sunna Nahin Chahte, Aise Aap Haqeeqat Ko Kabhi Dekh Nahin Payenge
Abde Mustafa
Muhammad Sabir Qadri
❤1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کتابوں میں جھوٹی روایتیں
کسی بھی روایت کو صحیح قرار دینے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ کسی کتاب کا حوالہ پیش کر دیا جائے۔ ہمارے مقررین اور عوام کا یہی طریقہ ہے کہ جب کسی روایت کے بارے میں کچھ کہا جائے تو بس کسی کتاب کا حوالہ پیش کر دیتے ہیں اور اس کے سامنے باقی ساری تحقیقی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔
یہ جان لیجیے کہ جتنی بھی جھوٹی روایتیں ہیں وہ آپ کو کسی نہ کسی کتاب میں ضرور ملے گی تو اگر کتاب میں ہونا ہی صحیح ہونے کے لیے کافی ہے تو پھر کوئی روایت جھوٹی نہیں بچے گی، ہر روایت کو صحیح ماننا پڑے گا۔
اگر کوئی کتاب معتبر بھی ہے تو بھی اس میں کسی روایت کا ہونا اس کے صحیح ہونے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ بھی ہوتا ہے کہ کتاب اور مصنف دونوں معتبر ہوتے ہیں پر اس کتاب میں بعض باتیں قابلِ اعتبار نہیں ہوتی اور انھیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
کچھ روایتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے الفاظ ہی بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ جھوٹی ہیں لیکن یہ سمجھنے کے لیے کتابوں پر گہری نظر ہونا ضروری ہے اور ساتھ ہی تحقیقی ذہن بھی ہونا چاہیے ورنہ ہر واقعہ صحیح نظر آئے گا۔
عوام اہل سنت اور خاص کر مقررین کو اپنی اس عادت سے باز آنا چاہیے کہ بس ایک کتاب کا نام پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر کچھ بھی سننا نہیں چاہتے، ایسے آپ حقیقت کو کبھی دیکھ نہیں پائیں گے۔
عبد مصطفی
محمد صابر قادری
کسی بھی روایت کو صحیح قرار دینے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ کسی کتاب کا حوالہ پیش کر دیا جائے۔ ہمارے مقررین اور عوام کا یہی طریقہ ہے کہ جب کسی روایت کے بارے میں کچھ کہا جائے تو بس کسی کتاب کا حوالہ پیش کر دیتے ہیں اور اس کے سامنے باقی ساری تحقیقی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔
یہ جان لیجیے کہ جتنی بھی جھوٹی روایتیں ہیں وہ آپ کو کسی نہ کسی کتاب میں ضرور ملے گی تو اگر کتاب میں ہونا ہی صحیح ہونے کے لیے کافی ہے تو پھر کوئی روایت جھوٹی نہیں بچے گی، ہر روایت کو صحیح ماننا پڑے گا۔
اگر کوئی کتاب معتبر بھی ہے تو بھی اس میں کسی روایت کا ہونا اس کے صحیح ہونے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ بھی ہوتا ہے کہ کتاب اور مصنف دونوں معتبر ہوتے ہیں پر اس کتاب میں بعض باتیں قابلِ اعتبار نہیں ہوتی اور انھیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
کچھ روایتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے الفاظ ہی بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ جھوٹی ہیں لیکن یہ سمجھنے کے لیے کتابوں پر گہری نظر ہونا ضروری ہے اور ساتھ ہی تحقیقی ذہن بھی ہونا چاہیے ورنہ ہر واقعہ صحیح نظر آئے گا۔
عوام اہل سنت اور خاص کر مقررین کو اپنی اس عادت سے باز آنا چاہیے کہ بس ایک کتاب کا نام پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر کچھ بھی سننا نہیں چاہتے، ایسے آپ حقیقت کو کبھی دیکھ نہیں پائیں گے۔
عبد مصطفی
محمد صابر قادری
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-05-1444 ᴴ | 29-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-05-1444 ᴴ | 30-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-05-1444 ᴴ | 30-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-05-1444 ᴴ | 30-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1