🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-05-1444 ᴴ | 29-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-05-1444 ᴴ | 29-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-05-1444 ᴴ | 29-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-05-1444 ᴴ | 29-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضور بدر ملت کی جلسے جلوس سے کنارہ کشی
از: مولانا عبدالصمد قادری رضوی اورنگ آبادی عفی عنہ
حضور بدر ملت مفتی بدر الدین احمد قادری رحمۃ الله تعالیٰ علیه ـ صاحبِ سوانح اعلیٰ حضرت، تعمیرِ ادب و فتاویٰ بدر العلماء ...
آپ اپنی حیات کے اخیر میں جلسے جلوس میں عام طور پر شریک ہونے سے اپنے آپ کو الگ کر رکھا تھا ۔ پھر بھی آپ کے معتقدین و محبین جلسے وغیرہ میں دعوت دینے کے ساتھ ہی ساتھ زادِ راہ بھی روانہ کر دیا کرتے تھے ۔ مگر حضرت قبلہ دعوت دینے والوں سے معذرت چاہ کر کرایہ وغیرہ کی رقم واپس کر دیا کرتے تھے ۔
راقم نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں جب آپ کو کرایہ واپس کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایک مرتبہ عرض کیا کہ حضور آخِر دعوت قبول فرمانے کے بجائے رد کر کے زادِ راہ واپس کیوں کر دیا جاتاہے ؟
اس پر حضرت علیہ الرحمہ نے کچھ اس طرح فرمایا ۔ آپ نہیں سمجھتے ہیں زمانہ کے حالات کس قدر بدل چکے ہیں ناظمِ جلسہ غیر ذمہ دار پیشہ ور خطباء و مقررین اور شعراء کی بہتات اور کثرت ہے ۔
آج لوگوں کے عام حالات یہ ہوتے جا رہے ہیں کہ بغیر کسی معتبر ذمہ دار عالِمِ دین سے سَمجھے بُوجھے ہُوئے جِسے چاہتے ہیں جلسے وغیرہ میں مدعو کر لیتے ہیں ۔ اب ایسی مجلس میں ان کے ساتھ ممبر پر میں بھی شریک رہوں اور جب وہ نا اہل حضرات خلافِ شرع بولی بولیں یا خلافِ شریعت اشعار پڑھیں اور میں ان کی اصلاح کے لئے ٹوک دوں اور توبہ و رجوع کی جانب توجہ دلاؤں تو اس وقت نفسانیت اور شیطانیت کا اتنا غلبہ ہے کہ حق قبول کرنے کے بجائے بحث و مباحثہ پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ اور ان میں بعض تو کفریات تک بَک جاتے ہیں ۔ اور تنبیہ کرنے پر آنکھیں دِکھاتے اور گردن چڑھاتے ہیں اور اصلاح کرنے والے کے خلاف محاذ آرائی اور بکھیڑا کھڑا کر دتیے ہیں ۔
اور اگر مَیں ایسے جلسہ وغیرہ میں شریک رہوں اور ان کی خلافِ شرع باتوں کو سُن کر خاموش بیٹھا رہ جاؤں اور حق ظاہر نہ کروں تو پھر بارگاہِ اِلٰہی میں کوڑا کھانے کے لیے اپنی پِیٹھ کو تیار رکھنا ہوگا ۔ انہیں وجوہ کے بنا پر میں کنارہ کشی اختیار کرنے ہی میں سلامتی اور سکون محسوس کرتا ہوں ۔
رہی مدعو کرنے والے معتقدوں کی بات تو اُنہیں صورتِ حال سے آگاہ کرکے اُن سے معذرت چاہ لیتا ہوں کہ اُن کی دل شکنی نہ ہونے پائے ۔
واعظ و مقرر کیسا ہونا چاہیے؟
جب یہ مسئلہ سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه سے دریافت کیا گیا تو آپ نے اِرشاد فرمایا:
سوال و جواب بغور پڑھیں:
س: واعظ یعنی پند و نصیحت کرنے والا اور مقرر کا عالم ہونا ضروری ہے ؟
ج: غیرِ عالم کو وعظ کہنا حرام ہے ۔
س: عالم کی تعریف کیاہے ؟
ج: عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پُورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتابوں سے نِکال سکے بِغیر کسی کے مدد کے ۔
(الملفوظ شریف، حِصہ: اوّل، صفحہ: ۵)
https://www.facebook.com/100004016020698/posts/pfbid0oVZhFYFT3cQNP2haj4A6E9YuJSbg9BMFuHuUP5kJFbVr5vL3cvHDX3M1SCFfHKfBl/?mibextid=Nif5oz
از: مولانا عبدالصمد قادری رضوی اورنگ آبادی عفی عنہ
حضور بدر ملت مفتی بدر الدین احمد قادری رحمۃ الله تعالیٰ علیه ـ صاحبِ سوانح اعلیٰ حضرت، تعمیرِ ادب و فتاویٰ بدر العلماء ...
آپ اپنی حیات کے اخیر میں جلسے جلوس میں عام طور پر شریک ہونے سے اپنے آپ کو الگ کر رکھا تھا ۔ پھر بھی آپ کے معتقدین و محبین جلسے وغیرہ میں دعوت دینے کے ساتھ ہی ساتھ زادِ راہ بھی روانہ کر دیا کرتے تھے ۔ مگر حضرت قبلہ دعوت دینے والوں سے معذرت چاہ کر کرایہ وغیرہ کی رقم واپس کر دیا کرتے تھے ۔
راقم نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں جب آپ کو کرایہ واپس کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایک مرتبہ عرض کیا کہ حضور آخِر دعوت قبول فرمانے کے بجائے رد کر کے زادِ راہ واپس کیوں کر دیا جاتاہے ؟
اس پر حضرت علیہ الرحمہ نے کچھ اس طرح فرمایا ۔ آپ نہیں سمجھتے ہیں زمانہ کے حالات کس قدر بدل چکے ہیں ناظمِ جلسہ غیر ذمہ دار پیشہ ور خطباء و مقررین اور شعراء کی بہتات اور کثرت ہے ۔
آج لوگوں کے عام حالات یہ ہوتے جا رہے ہیں کہ بغیر کسی معتبر ذمہ دار عالِمِ دین سے سَمجھے بُوجھے ہُوئے جِسے چاہتے ہیں جلسے وغیرہ میں مدعو کر لیتے ہیں ۔ اب ایسی مجلس میں ان کے ساتھ ممبر پر میں بھی شریک رہوں اور جب وہ نا اہل حضرات خلافِ شرع بولی بولیں یا خلافِ شریعت اشعار پڑھیں اور میں ان کی اصلاح کے لئے ٹوک دوں اور توبہ و رجوع کی جانب توجہ دلاؤں تو اس وقت نفسانیت اور شیطانیت کا اتنا غلبہ ہے کہ حق قبول کرنے کے بجائے بحث و مباحثہ پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ اور ان میں بعض تو کفریات تک بَک جاتے ہیں ۔ اور تنبیہ کرنے پر آنکھیں دِکھاتے اور گردن چڑھاتے ہیں اور اصلاح کرنے والے کے خلاف محاذ آرائی اور بکھیڑا کھڑا کر دتیے ہیں ۔
اور اگر مَیں ایسے جلسہ وغیرہ میں شریک رہوں اور ان کی خلافِ شرع باتوں کو سُن کر خاموش بیٹھا رہ جاؤں اور حق ظاہر نہ کروں تو پھر بارگاہِ اِلٰہی میں کوڑا کھانے کے لیے اپنی پِیٹھ کو تیار رکھنا ہوگا ۔ انہیں وجوہ کے بنا پر میں کنارہ کشی اختیار کرنے ہی میں سلامتی اور سکون محسوس کرتا ہوں ۔
رہی مدعو کرنے والے معتقدوں کی بات تو اُنہیں صورتِ حال سے آگاہ کرکے اُن سے معذرت چاہ لیتا ہوں کہ اُن کی دل شکنی نہ ہونے پائے ۔
واعظ و مقرر کیسا ہونا چاہیے؟
جب یہ مسئلہ سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه سے دریافت کیا گیا تو آپ نے اِرشاد فرمایا:
سوال و جواب بغور پڑھیں:
س: واعظ یعنی پند و نصیحت کرنے والا اور مقرر کا عالم ہونا ضروری ہے ؟
ج: غیرِ عالم کو وعظ کہنا حرام ہے ۔
س: عالم کی تعریف کیاہے ؟
ج: عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پُورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتابوں سے نِکال سکے بِغیر کسی کے مدد کے ۔
(الملفوظ شریف، حِصہ: اوّل، صفحہ: ۵)
https://www.facebook.com/100004016020698/posts/pfbid0oVZhFYFT3cQNP2haj4A6E9YuJSbg9BMFuHuUP5kJFbVr5vL3cvHDX3M1SCFfHKfBl/?mibextid=Nif5oz
❤1