🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-05-1444 ᴴ | 28-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-05-1444 ᴴ | 28-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-05-1444 ᴴ | 28-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-05-1444 ᴴ | 28-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مفسر قرآن حکیم الامت حضرت علامہ
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہالرحمہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: مفتی احمد یار خان ۔ لقب: حکیم الامت ۔ تخلص: سالک ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا مفتی احمد یار خان بن مولانا محمد یار خان بدایونی بن مولانا منور خان علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
4 جمادی الاوّل 1324ھ، بمطابق جون 1906ء بروز جمعرات بوقتِ فجر ’’ قصبہ اوجھیانی ‘‘ ضلع بدایوں (انڈیا) کے ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، پھر مدرسۂ شمس العلوم (بدایوں) میں داخل ہو کر تین سال تک (1916ء تا 1919ء) مولانا قدیر بخش بدایونی اور دیگر اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا ۔ اسی عرصے میں بریلی شریف جاکر مجددِ اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔
پھر مدرسہ اسلامیہ ، میڈھو (ضلع علی گڑھ) میں داخل ہوئے اور کچھ عرصہ پڑھا ، چوں کہ اس مدرسے کا تعلق دار العلوم دیوبند سے تھا اس لئے وہاں سے تعلیم ترک کر کے مراد آباد چلے گئے ـ
جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے ، حضرت صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی قُدِّسَ سِرُّہٗ کی مردم شناس نگاہوں نے جوہرِ قابل کو پہچان لیا اور خود پڑھانا شروع کیا ۔ پھر بے پناہ مصروفیات کی بنا پر حضرت علامہ مشتاق احمد کانپوری کو مراد آباد بُلا کر مفتی صاحب کی تعلیم ان کے سپرد کر دی ۔
1344ھ / 1925ء میں درس نظامی سے فراغت حاصل کر لی ، اس وقت آپ کی عمر بیس (20) سال تھی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام، شارحِ مشکوٰۃ، صاحبِ تصنیفاتِ کثیرہ، محسنِ اہلِ سنّت، حکیم الامّت، عارفِ بدایوں، سالکِ راہِ حق، حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
آپ ان شہسوارانِ اسلام میں سے ہیں جن پر قومِ مسلم کو ہمیشہ فخر رہا ہے ۔ آپ کا تعلق ان نفوسِ قدسیہ سے ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ملّت کی نگہبانی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ آپ عقلِ عرفانی، علمِ ایمانی اور معرفتِ روحانی کے امام تھے۔ آپ نے ساری زندگی اپنے قلم و زبان، فکر و تدبر سے دینِ اسلام کی ایسی خدمت فرمائی کہ رہتی دنیا تک عام و خاص ان شآء اللہ آپ کے فیض سے مستفید ہوتے رہیں گے ۔
شرفِ ملّت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت خوش اخلاق اور خندہ رو شخصیت تھے، سلام میں ہمیشہ پہل کرتے ، معمولات اور وقت کے اتنے پابند تھے کہ جب آپ جمعہ کے روز مبنر پر بیٹھتے تو لوگ اپنی گھڑیوں کا ٹائم ٹھیک کر لیتے تھے، پانچ دفعہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے تھے ۔ حضرت مفتی صاحب نے تقریباً 46 سال کا عرصہ خدمتِ دین میں صرف کیا ۔ سیکڑوں علماء کو فیض یاب فرمانے کے ساتھ ساتھ تصانیف کا معتدبہ حصّہ یاد گار چھوڑا جس سے مسلک اہلِ سنّت و جماعت کو نہایت تقویت ملی۔
اسی طرح تحریکِ پاکستان میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے ۔ تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی نے قرار دادِ پاکستان کی تائید کے لیے جو کوششیں کیں، مفتی صاحب ان میں شریک رہے۔ مفتی صاحب محض مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے کے لیے گجرات (پنجاب) سے سفر کرکے اوجھیانی (بدایوں) پہنچے تھے، چنانچہ بصورت ِجلوس آپ کو گھر لایا گیا، اور اس علاقے میں آپ کی کوششوں سے مسلم لیگ کو کامیابی حاصل ہوئی۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، صفحہ 55)
وصال:
آپ کا وصال 3 رمضان المبارک 1391ھ / 24 اکتوبر 1971ء ) بروز اتوار 77 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ گجرات (پنجاب، پاکستان) میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-ahmed-yaar-khan-naeemi
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہالرحمہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: مفتی احمد یار خان ۔ لقب: حکیم الامت ۔ تخلص: سالک ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا مفتی احمد یار خان بن مولانا محمد یار خان بدایونی بن مولانا منور خان علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
4 جمادی الاوّل 1324ھ، بمطابق جون 1906ء بروز جمعرات بوقتِ فجر ’’ قصبہ اوجھیانی ‘‘ ضلع بدایوں (انڈیا) کے ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، پھر مدرسۂ شمس العلوم (بدایوں) میں داخل ہو کر تین سال تک (1916ء تا 1919ء) مولانا قدیر بخش بدایونی اور دیگر اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا ۔ اسی عرصے میں بریلی شریف جاکر مجددِ اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔
پھر مدرسہ اسلامیہ ، میڈھو (ضلع علی گڑھ) میں داخل ہوئے اور کچھ عرصہ پڑھا ، چوں کہ اس مدرسے کا تعلق دار العلوم دیوبند سے تھا اس لئے وہاں سے تعلیم ترک کر کے مراد آباد چلے گئے ـ
جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے ، حضرت صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی قُدِّسَ سِرُّہٗ کی مردم شناس نگاہوں نے جوہرِ قابل کو پہچان لیا اور خود پڑھانا شروع کیا ۔ پھر بے پناہ مصروفیات کی بنا پر حضرت علامہ مشتاق احمد کانپوری کو مراد آباد بُلا کر مفتی صاحب کی تعلیم ان کے سپرد کر دی ۔
1344ھ / 1925ء میں درس نظامی سے فراغت حاصل کر لی ، اس وقت آپ کی عمر بیس (20) سال تھی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام، شارحِ مشکوٰۃ، صاحبِ تصنیفاتِ کثیرہ، محسنِ اہلِ سنّت، حکیم الامّت، عارفِ بدایوں، سالکِ راہِ حق، حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
آپ ان شہسوارانِ اسلام میں سے ہیں جن پر قومِ مسلم کو ہمیشہ فخر رہا ہے ۔ آپ کا تعلق ان نفوسِ قدسیہ سے ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ملّت کی نگہبانی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ آپ عقلِ عرفانی، علمِ ایمانی اور معرفتِ روحانی کے امام تھے۔ آپ نے ساری زندگی اپنے قلم و زبان، فکر و تدبر سے دینِ اسلام کی ایسی خدمت فرمائی کہ رہتی دنیا تک عام و خاص ان شآء اللہ آپ کے فیض سے مستفید ہوتے رہیں گے ۔
شرفِ ملّت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت خوش اخلاق اور خندہ رو شخصیت تھے، سلام میں ہمیشہ پہل کرتے ، معمولات اور وقت کے اتنے پابند تھے کہ جب آپ جمعہ کے روز مبنر پر بیٹھتے تو لوگ اپنی گھڑیوں کا ٹائم ٹھیک کر لیتے تھے، پانچ دفعہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے تھے ۔ حضرت مفتی صاحب نے تقریباً 46 سال کا عرصہ خدمتِ دین میں صرف کیا ۔ سیکڑوں علماء کو فیض یاب فرمانے کے ساتھ ساتھ تصانیف کا معتدبہ حصّہ یاد گار چھوڑا جس سے مسلک اہلِ سنّت و جماعت کو نہایت تقویت ملی۔
اسی طرح تحریکِ پاکستان میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے ۔ تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی نے قرار دادِ پاکستان کی تائید کے لیے جو کوششیں کیں، مفتی صاحب ان میں شریک رہے۔ مفتی صاحب محض مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے کے لیے گجرات (پنجاب) سے سفر کرکے اوجھیانی (بدایوں) پہنچے تھے، چنانچہ بصورت ِجلوس آپ کو گھر لایا گیا، اور اس علاقے میں آپ کی کوششوں سے مسلم لیگ کو کامیابی حاصل ہوئی۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، صفحہ 55)
وصال:
آپ کا وصال 3 رمضان المبارک 1391ھ / 24 اکتوبر 1971ء ) بروز اتوار 77 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ گجرات (پنجاب، پاکستان) میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-ahmed-yaar-khan-naeemi
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Ahmed Yaar Khan Naeemi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2