🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت شیخ علی متقی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:اسمِ گرامی:شیخ علی۔لقب:علاؤالدین،محدثِ کبیر۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے:محدثِ کبیر شیخ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین بن عبدالملک بن قاضی خان۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کا آبائی وطن "جونپور"تھا۔ شیخ حسام الدین علیہ الرحمہ نے ترکِ وطن کر کے "برہان پور"میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 888ھ،مطابق 1483ء کو برہان پور (انڈیا)میں پیدہوئے۔

تحصیلِ علم:آپ نے ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی۔مروجہ علوم کی تحصیل کے بعد شاہی ملازمت اختیار کرلی،اورصاحبِ جاہ وحشمت ہوگئے۔مگر آپ نے سب چھوڑ کر مزید کسبِ علم کے لئے شیخ حسام الدین ملتانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں ملتان حاضر ہوئے۔ان سے تفسیرِ بیضاوی وغیرہ کا درس لیا۔ملتان میں دیگر علماء سے بھی علمی استفادہ کرتے رہتے تھے۔مزید علمی پیاس بجھانے کےلئے حرمین طیبین کا قصد کیا۔مکۃ المکرمہ میں آپ نے شیخ الحرم شیخ ابوالحسن بکری علیہ الرحمہ سے فقہ وحدیث میں مہارت حاصل کی۔اسی طرح فقیہِ اعظم مکۃ المکرمہ حضرت شیخ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔شیخ کی عظمت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ جب آپ حرمِ محترم میں درس دینے لگے،تو شیخ ابنِ حجر علیہ الرحمہ، آپ کے استاذِمحترم بھی شریکِ درس ہوتے تھے۔اللہ اکبر !یہ تھی علم کی سچی جستجو۔تحصیلِ علم میں نہ عار وشرم اور نہ ہی عمر ومرتبے کی قید۔جہاں کچھ کمال نظر آیا چلے گئے۔آج یہ با تیں معدوم ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج علم کی فراوانی کے باوجود جہالت کاغلبہ ہے۔چھوٹے موٹے کورسز کرنے کے بعد اپنے آپ کو ہی علامۃ الدہرسمجھنا شروع ہوجاتے ہیں،اور علم کادروازہ بند ہوجاتا ہے۔

بیعت وخلافت:آٹھ سال کی عمر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ باجن چشتی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،اور ان کے صاحبزادے شیخ عبدالحکیم چشتی سے سلسلہ عالیہ چشتیہ میں مجاز ہوئے۔سلسلہ چشتیہ میں شیخ حسام الدین ملتانی علیہ الرحمہ سے بھی مستفید ہوئے۔عارف باللہ شیخ ابوالحسن بکری علیہ الرحمہ سےسلسلہ عالیہ قادریہ،شاذلیہ میں مجاز ہوئے۔شیخ محمد بن محمد سخاوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں مجاز ہوئےہوئے۔

سیرت وخصائص:محدثِ کبیر،عالمِ جلیل،امام الوقت،شیخ الحرم،ماہرِشریعت،شیخِ طریقت،عارفِ حقیقت،صاحبِ تصانیفِ کثیرہ،مجمع البحرین،امام الفریقین،مخدومِ امت ،مصلحِ ملت،شیخ علاؤالدین علی بن حسام الدین متقی چشتی قادری شاذلی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ ان شخصیاتِ اسلام میں سے ہیں جن پر ملتِ اسلامیہ کو فخر ہے۔ساری زندگی احادیثِ رسولﷺ کی بےلوث خدمت فرمائی۔مولانا غلام علی آزاد بلگرامی لکھتے ہیں: شیخ علی متقی کی ذات ظاہری و باطنی علوم کا سر چشمہ تھی۔ (ماثر الکرام ص 193) شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: انہوں نے دینی علوم اور یقین و معرفت سے ایک عالم کو منور و فیض یاب کیا۔ (اخبار الاخیار، ص 524)

شیخ علی متقی علیہ الرحمہ نابغۂ روز گار علما ءاور شیخ طریقت تھے۔ اصول و فروع، معقولات و منقولات میں یدطولیٰ رکھتے تھے ۔لوگ ان کے فضل و کمال کے حدد درجہ معترف تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ان کے دور کے تمام اکابر و مشائخ کو ان کے فضل و کامل کا اعتراف تھا۔ (اخبار الاخیار) علامہ عید روسی لکھتے ہیں: علما میں جوان سے ملتا اور جس سے یہ خود ملتے وہ ان کی مدح و توصیف میں رطب اللسان رہتا تھا۔ علم ظاہر کے ساتھ باطنی کمالات میں بھی وہ ممتاز تھے۔ ریاضت و مجاہدہ، زہد و اتقاء، دنیا ومافیہا سے بے رغبتی ،سلاطین و امراء سے بے نیازی آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ خودداری:آپ حالتِ سفر میں دو تھیلے اپنے پاس رکھتے تھے۔ ایک میں کھانے پینے کا سامان جیسے چاول، آٹا، گھی، دال، تیل، نمک وغیرہ اور کھانے پکانے کے برتن اور جنگل سے اپنے ہاتھوں کاٹی ہوئی لکڑیاں بقدر ضرورت رکھا کرتے تھے۔ دو دن کے سامان کو چار دن تک استعمال کرتے کبھی مسجد میں نہ ٹھہرتے بلکہ کرایہ کے مکان میں ٹھہرا کرتے تھے۔ چقماق جلا کر آگ سلگاتے تھے اور ایک لوٹا جس میں ایک مشک پانی آتا تھا جو کھانے پکانے وضو اور بشرط ضرورت غسل کے لیے کافی ہوتا۔ اپنی پیٹھ پر لادے رکھتے تھے۔ خود ہی کھانا پکاتے کسی سے اپنی کوئی خدمت نہ لیتے تھے۔(ایضاً)

شیخ عبدالوہاب شعرانی تحریر فرماتے ہیں:"947ھ میں مکہ مکرمہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا۔ میں آپ کے پاس اور آپ میرے پاس آتے رہے۔ آپ عالم، پرہیزگار، زاہد اور کمزور بدن کے تھے۔ قریب نہ تھا کہ بھوک کی کثرت کی وجہ سے ان پر تھوڑا گوشت بھی پائے۔ اکثر خاموش اور تنہا رہتے۔ اپنے گھر سے صرف حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے ہی نکلتے۔ صفوں کےکنارے میں نماز ادا کرتے پھر جلدی سے لوٹ آتے۔ آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا میں نے دیکھا کہ آپ کے گھر کی چہار دیواری کی اطراف میں فقراء ِصادقین کی ایک جماعت ہے ہرفقیر کے لیے چھپر ہے جس میں وہ متوجہ الی اللہ ہے کوئی تلاوت کر رہا ہے ک
1
وئی ذکر کر رہا ہے کوئی مراقبہ میں ہے اور کوئی علم کا مطالعہ کر رہا ہے۔ مجھے مکہ شریف میں اس کی مثل کہیں خوشی نہیں ہوئی۔ (طبقات شعرانی: ص740)

شغف بالحدیث: شیخ علی متقی نے اپنے زمانہ کے اکابر علماء حدیث سے کسب ِفیض کیا تھا اور اس علم کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلند پایہ محدثین کی جماعت میں شامل ہوگئے تھے فن ِحدیث پر ان کی نظر کافی وسیع اور گہری تھی اس علم کے نکتوں اور باریکیوں سے کامل آشنا تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:وہ سنن و احادیث نبوی کے تتبع میں آخر عمر تک مشغول رہے ایام پیری میں جب کہ بتقا ضائے عمر جنبش کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا وہ شب و روز کتب احادیث کی تالیف و تصحیح اور مقابلہ کے کام میں منہمک رہا کرتے لوگ بیان کرتے ہیں کہ دقائق کے فہم و معرفت اور معانی و نکات کے استنباط و استخراج میں ایسے بلند درجہ پر فائز تھے کہ ماہرین اور علما ءفن بھی حیرت و تحسین ظاہر کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ ان کی تصانیف دیکھ کر عقل حیران اور ششدر رہ جاتی ہے اور اس بات پر یقین محکم ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی خاص برکت اور توفیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا ان کی بعض کتابیں سالکانِ طریقت اور طالبانِ آخرت کے لیے بیش قیمت سرمایہ اور ان کے حال کے لیے معین و مددگار ہیں۔(اخبار الاخیار، ص ۵۳۰)

تمام کتب میں سب سے زیادہ مقبول "کنزالعمال "ہے۔اس کتاب کی اہمیت و افادیت کا اعتراف علماءِ فن نے اس طرح کیا ہے کہ شیخ ابو الحسن بکری فرماتے ہیں:"السیوطی منۃ علی العلمین والمتقی منۃ علیہ"۔یعنی امام سیوطی نے جامع کبیر مرتب کر کے دنیا والوں پر احسان کیا تھا اور شیخ علی متقی نے کنزالعمال ترتیب دے کر خود سیوطی پر احسان کیا ہے۔ (مأثر الکرام ص 193)

وصال: 2/جمادی الاولیٰ 975ھ ،مطابق نومبر/1567ء، بہ وقت طلوعِ سحر مکۃ المکرمہ میں وفات پائی اور حضرت فضیل بن عیاض کی قبر کے سامنے دفن ہوئے۔

محمدﷺ کے غلاموں کاکفن میلا نہیں ہوتا:شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ شیخ علی متقی کی وفات کے بارہ یا چودہ سال بعداتفاقاًقبرکھل گئی تو آپ کا جسدِ اقدس بالکل تروتازہ تھا۔حالانکہ مکۃ المکرمہ زمین کی یہ خاصیت ہے کہ تین چار دن میں مردہ خاک میں مل جاتا ہے۔لیکن اولیاءاللہ کےجسد سلامت رہتے ہیں۔(اخبارالاخیارفارسی:266)

ماخذ و مراجع:
اخبارالاخیار ۔ مآثرالکرام ۔حدائق الحنفیہ ۔ حیات محدثینِ عظام ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shaikh-ali-muttaqi-hassamuddin-shazli
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حکیم عابدعلی کوثر خیر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1271ھ،میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت گھر پر ہوئی،اورختمِ قرآن کےموقع پر فاتحۂ فراغ حضرت مولانا عبد الحئی فرنگی محلی سے پڑھا۔ابتدائی دینیات کی کتب پڑھنے کے بعدعلمِ طب کاشوق ہواتو اس وقت کے حاذق طبیب حکیم محمد رشید گوپاموی، اور حکیم رضا حسین لکھنوی سے طب پڑھی۔

بیعت و خلافت:
حضرت سید حاجی وارث علی شاہ قدس سرہ کے مرید تھے۔

سیرت و خصائص:
طبیبِ حاذق،حکیمِ اعلیٰ حضرت،حضرت مولانا حکیم عابدعلی کوثرخیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ اپنے وقت کے جیداور ممتاز حکماء میں سے ایک تھے۔ آپ کی حذاقت مسلم تھی۔نبض دیکھتے ہی فوراًتشخیص کرلیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کےہاتھ میں شفاء رکھی تھی، صرف چند ادویہ سے علاج کرتے تھے،مریض شفاء یاب ہوجاتا تھا۔آپ مسلمہ حذاقت ومہارت کی بدولت ریاست ٹونک میں شاہی طبیب بھی رہے۔

حکمت کےعلاوہ شاعری کا ذوق بھی رکھتے تھے۔شاعری میں "کوثر"تخلص تھا۔حضرت امیرمینائی سےخاص تعلق تھا۔انہی سے اصلاح لیاکرتے تھے۔آپ صحیح العقیدہ ،صاحب التقوٰی سنی مسلمان تھے۔علماء سے بہت محبت کرتے تھے۔یہی وجہ ہےکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کی علالت میں بحیثیت صحیح العقیدہ طبیب آپ کومنتخب کیاگیاتھا۔نامورعلماءِکرام کوعلاج معالجہ کےلئےکسی ماہراورسنی معالج کاانتخاب کرنا چاہئے۔یہاں اس حوالے ایک واقعہ نقل کرناچاہتاہوں۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ میں امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ کاواقعہ نقل فرمایا ہے۔فرماتے ہیں:"کافرطبیب سے علاج کرانا بالخصوص علمائے وعظمائے دین کے لئے زیادہ خطرے کا مؤیدہے۔ امام مارزی رحمہ اللہ تعالٰی کا واقعہ ہے علیل ہوئے ایک یہودی معالج تھا۔اس کی دوائی سےاچھے ہوجاتے ،پھرمرض عود کرتا (لوَٹ آتا)کئی بار یوہیں ہوا۔ آخر اسے تنہائی میں بلاکر دریافت فرمایا ۔(کیا وجہ ہے کہ صحیح ہوجاتاہوں ،پھراچانک بیماری لوٹ آتی ہے)اس نے کہا: اگر آپ سچ پوچھتے ہیں، تو ہمارے نزدیک اس سے زیادہ کوئی کارِ ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھو دوں۔امام رزای نے اسے دفع فرمایا۔ مولی تعالٰی نے آپ کوشفا بخشی۔ پھر امام نے طب کی طرف متوجہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا اور مسلمانوں کو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیں۔یہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایک ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا اورفرمایا"لایألونکم خبالا "(وہ کافر تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔) یہ تو عام کفار کے لئے فرمایا۔یہودی وعیسائی وغیرہ تو نص کی روسے سخت دشمن ہیں"۔

تاریخِ وصال:
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال کے دوماہ بعدبروزپیر،2/جمادی الاول1340ھ،کوآپ بھی راہی ِ ملک بقاء ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ فتاویٰ رضویہ ، جلد 21 ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abid-ali-kausar-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ رضا علی خاں رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا رضا علی خان ۔ لقب: امام العلماء ، قدوۃ الصلحاء ۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے:
امام العلماء حضرت مولانا رضا علی خان بن حافظ محمد کاظم علی خان بن جناب محمد اعظم خان بن جناب محمد سعادت یارخان بن جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان بن داؤد خان۔(علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت: آپ 1224ھ کوپیداہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ نے مولانا خلیل الرحمن علیہ الرحمہ سے "ٹونک" (راجستھان ،ہند) تمام علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔

آپ علیہ الرحمہ 1245 ھ کو سندِ فراغ حاصل فرمائی۔آپ تمام علوم کے جامع تھے۔بالخصوص فقہ وتصوف میں مرجعِ خاص وعام تھے۔

سیرت و خصائص:
قدوۃالواصلین، زبدۃ الکاملین، رئیس المتوکلین و متصوفین، قطب الوقت، امام العلماء، سندالاتقیاء حضرت علامہ مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ۔

خصوصاً نسبت کلام، سبقت سلام، زہد و قناعت، علم و تواضع، تجرید و تفرید آپ کی خصوصیات سے تھے۔ آپ کے اوصاف وکمالات شمارسےباہر ہیں۔آپ جیدعالمِ دین اور ولیِ کامل کےساتھ ساتھ پرتاثیر خطیب بھی تھے۔ آپ کےبیان سے متأثرہوکر بہت سے فساق وفجار تائب ہوکر لوٹتے تھے۔

کمالات:
حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، حضرت مولانا رضا علی خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے کمالات و کرامات میں بیان فرماتے تھے :کہ حضرت کا گزر ایک روز"کوچۂ سیتارام "کی طرف سے ہوا۔ ہنود کے تہوار" ہولی "کا زمانہ تھا۔ ایک ہندوانی بازاری طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑ دیا۔ یہ کیفیت شارع عام(سڑک) پر ایک جوشیلے مسلمان نے دیکھتے ہی، بالا خانہ پر جا کر تشدد کرنا چاہا، مگر حضور نے اُسے روکا اور فرمایا۔ بھائی! کیوں اس پر تشدد کرتے ہو؟ اس نے مجھ پر رنگ ڈالا ہے خدا اسے رنگ دے گا۔ یہ فرمانا تھا کہ وہ طوائف بے تابا نہ قدموں پر آکر گر پڑی، اور معافی مانگی، اور اسی وقت مشرف با اسلام ہوگئی۔ حضرت نے وہیں اس نوجوان کے ساتھ اس کا عقد (نکاح) کر دیا۔

اسی طرح 1857 انگریز کے غدر کے زمانہ میں ان کے ظلم وستم سے بچنے کیلئےبہت سے مسلمان شہر چھوڑکر دیہاتوں کی طرف چلے گئے،اور بہت سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔لیکن حضرت کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔باجماعت نماز اداکرتے تھے۔ایک دن حضرت مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ادھر سے گوروں (انگریزوں) کا گزر ہوا۔ خیال ہوا کہ شاید مسجد میں کوئی شخص ہو تو اس کو پکڑ کرماریں پیٹیں۔(اس وقت مسلمانوں پر ایسے ظلم ہواکرتے تھے) انگریز مسجد میں گھسے، ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ کہنے لگے کہ مسجد میں کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ حضرت مسجد میں ہی تشریف فرماتھے۔اللہ تعالیٰ نے گوروں کو اندھاکردیا تھا کہ حضرت کو دیکھنے سے معذور رہے۔یہ کرامت حضرت کی اس معجزۂ صادقہ نبویہ ﷺ کی تصدیق ہے کہ شب ہجرت کفار کے درمیان میں سے حضور ﷺ تشریف لے گئے۔لیکن کفار کونظر نہ آئے۔

مجاہدِ جنگ آزدی:
آپ اپنے وقت جید عالمِ دین ومفتی وصوفیِ باصفاء کےساتھ ساتھ "جلیل القدرمجاہد"بھی تھے۔ آپ جنگِ آزدی کے عظیم راہنماء تھے۔آپ تمام عمر انگریز سامراجیت کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔"لارڈہسٹنگ"آپ کےنام سے کانپتاتھا۔"جنرل ہڈسن"نے آپ کے سرکی قیمت "پانچ سو روپے"مقرر کررکھی تھی۔لیکن گیدڑ انگریز رسول اللہ ﷺ کے شیر کاکچھ نہ بگاڑسکا۔انگریز نے آپ کی جائیداد ضبط کرلی،لیکن دنیا کے کتوں کوکیا معلوم؟ان نفوسِ قدسیہ کےہاں تودنیاکی حیثیت مردارکی سی ہے۔

حضرت علامہ مولانا محمد حسن صاحب علمیؔ (مصنف خطبہ"علمیہ") جن کا خطبہ پاک و ہند میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ شہر تو شہر، دیہات تک مساجد میں وہی خطبہ پڑھا جاتا ہے۔ وہ حضرت ہی کے شاگرد و مرید تھے، اور یہ خطبہ آپ کی نظر انور سےگزرا ہوا ہے۔

اور آج تک جو" خطبۂ علمی " چھپتا ہے اس کے اخیر مصنف کی یہ عبارت ضرور ہوتی ہے۔"اس مؤلف عاصی محمد حسن علمیؔ کو امیدواری جناب باری عَزَّاِسْمُہٗ سے یہ ہے کہ اپنے فضل عمیم اور طفیل رسول کریم ملقب بہ "اِنَّکَ عَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ" کے ہم سب مومنین کو بعفو جرائم و عصیان اور فیضان تو توفیق و احسان کے عزت بخشے۔ اور ہمارے مرشد و مولیٰ، عالم علم ربانی، مقبول بارگاہ سبحانی، مخزن اسرار معقول و منقول، کاشف استار فروع و اصول، مطلع العلوم، مجمع الفہوم، عالم باعمل، فاضل بے بدل، منبع الاخلاق، منھل الاشفاق، مصدر احسان، مظہر امتنان، مولانا و مخدومنا، لوذعیِ زمان، مولوی رضا علی خان کو بیچ دونوں جہان کے رحمت خاصہ میں اپنے رکھ کر اقصیٰ مراتب قبولیت کو پہنچائے۔ آمین یارب العلمین

وصال:
آپ کاوصال 2 / جمادی الاول 1286ھ ، مطابق اگست 1869ءکو ہوا ۔ آپ کامزار بریلی شریف میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
حیاتِ اعلیٰ حضرت ۔ حیات مولانا نقی علی خان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-raza-ali-khan-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-05-1444 ᴴ | 26-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-05-1444 ᴴ | 27-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1