🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آج فاطمہ چادر ہٹا دے گی ۔ ایک روایت

ایک لمبی روایت ہے جس کا نام میں نے "بیس منٹ والی روایت" رکھا ہے کیوں کہ اسے بیان کرنے والے ہمارے مقررین تقریباً اتنا وقت تو لے ہی لیتے ہیں۔ اگر جمعہ کے دن اس روایت کو شروع کر دیا تو پورا وقت گزر جاتا ہے۔ ہمارے ہندستان کے بیشتر علاقوں میں ایک بجے سے تقریر شروع ہوتی ہے اور دیڑھ بجے جماعت کا وقت رکھا جاتا ہے تو اس روایت کو بیان کرنے کا مطلب ہے کہ بیس پچیس منٹ تک روایت کو بیان کرنے میں لگا دو باقی چندہ اور اعلانات وغیرہ ملا کر پورا جمعہ ختم...!
اب میں اسے مختصر کر کے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ واقعہ کچھ یوں بتایا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام ہمارے نبی ﷺ کو جنت اور جہنم کے بارے میں بتا رہے تھے کہ انھوں نے کہا میں نے فلاں فلاں نبی کی امت کو جہنم میں دیکھا، اس پر ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے جبرئیل! کیا تو نے میری امت کو بھی جہنم میں دیکھا؟ حضرت جبرئیل خاموش ہو گئے پھر دو تین بار ارشاد ہونے پر عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! میں نے آپ کی امت کو بھی جہنم میں دیکھا! یہ سن کر ہمارے نبی بے قرار ہو گئے اور جنگل کی طرف تشریف لے گئے۔ مسجد میں نماز کے وقت بھی واپس نہیں آئے تو صحابۂ کرام نے تلاش شروع کی، پورے تین دن تک آپ نہیں ملے! اس کے بعد معلوم کرتے کرتے ایک چرواہے سے پتا چلا کہ وہ کسی غار میں ہیں۔ یہاں اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ چرواہے سے پوچھا گیا کہ کیا تو نے ہمارے نبی کو دیکھا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تو نہیں جانتا کہ تمھارا نبی کون ہے لیکن فلاں غار میں کوئی رو رہا ہے کہ جس کے رونے کی آواز سن کر میری بکریوں نے کھانا چھوڑ دیا ہے۔ یہ سن کر صحابۂ کرام غار کے پاس گئے اور نبی کریم ﷺ سے گزارش کی لیکن آپ ﷺ نے باہر آنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ تم لوگ چلے جاؤ، میں اس وقت تک رو رو کر دعائیں کرتا رہوں گا جب تک اللہ تعالی مجھ سے میری امت کو بخشنے کا وعدہ نہیں کر لیتا۔ صحابۂ کرام نے مشورہ کیا کہ حضرت فاطمہ کو یہاں پر بلایا جائے، ان کے کہنے سے آپ ﷺ باہر آ جائیں گے چنانچہ حضرت فاطمہ کو بلایا گیا، آپ نے آ کر کہا کہ بابا جان اگر آپ آج باہر نہیں آئیں گے تو فاطمہ اپنی چادر سر سے ہٹا دے گی اور آج آسمان وہ دیکھے گا جو اس نے آج تک نہیں دیکھا۔ یہ جملہ جیسے ہی ادا ہوا تو اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل کو حکم دیا کہ فوراً جاؤ اور میرے نبی سے کَہ دو کہ ان کی امت کو بخش دیا گیا ہے اور وہ باہر آ جائیں ورنہ اگر فاطمہ نے چادر ہٹا دی تو غضب ہو جائے گا۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل نے آ کر خوش خبری دی پھر ہمارے نبی ﷺ باہر تشریف لائے۔
اس میں اور بھی کئی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ ہر مقرر کا اپنا اپنا انداز ہے رنگین بنانے کا۔
یہ روایت کسی معتبر کتاب میں نہیں ملتی۔ یہ روایت خود بتا رہی ہے کہ ایسی کوئی روایت ہے ہی نہیں۔

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:
یہ باطل اور بے اصل ہے، کسی معتبر کتاب میں اس کا نام نشان نہیں (ملخصاً)

(دیکھیں: فتاوی رضویہ، ج29، ص329 تا 333، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور)

حضرت فاطمہ کے بارے میں مذکورہ جملے بھلا کیسے تسلیم کیے جا سکتے ہیں؟ پھر یہ کہ مسلسل تین دنوں تک غائب رہنا اور کسی کو پتا نہ چلنا بہت بعید ہے۔ جو ایسی روایات بیان کرتے ہیں انھیں خوف کھانا چاہیے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ اس کا ثبوت دے سکتے ہیں، نہیں سے سکتے؛ پھر کیوں ایسی بے اصل روایات کو بیان کرتے ہیں! ہم عوام اہل سنت سے اب گزارش کرتے ہیں کہ ایسے مقررین سے سوال کریں اور دلیل طلب کریں۔ ہمارے مقابلے میں بدمذہب بخاری مسلم کر کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور ہمارے منبروں سے ایسی روایات بیان کی جا رہی ہیں، کتنے افسوس کی بات ہے۔ اب ہمیں چاہیے کہ ایسی روایات کی نشان دہی کریں اور بیان کرنے والوں کو پکڑنا شروع کریں۔

عبد مصطفی
محمد صابر قادری
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
صاحب تذکرۃ الاولیاء، مشہور صوفی بزرگ، حضرت شیخ فرید الدین محمد عطار نیشاپوری رضی اللہ عنہ کی ولادت شعبان 513ھ میں نیشاپور کے قصبۂ کدکن، خراسان، ایران میں ہوئی۔ آپ ماہر طبی ادویات، صاحب دیوان فارسی شاعر، بہترین ادیب و مصنف اور عارف ربانی تھے۔ بے شمار اکابر و مشائخ کی صحبت پائی اور اہل طریقت کی چار سو کتابوں کا مطالعہ فرمایا اور سترہ سال تک اہل اللہ کے حالات جمع کرتے رہے۔ آپ کی تصانیف میں سے تذکرۃ الاولیاء، اسرار نامہ اور منطق الطیر یادگار ہیں جبکہ مختلف کتب و رسائل میں آپ کے اشعار کی مجموعی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔ 29 ربیع الآخر 627ھ بروز جمعرات 114 برس کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔ مزار مبارک محلہ شادباغ، نیشاپور، خراسان، ایران میں مرجع خواص و عوام ہے۔ (مرآۃ الاسرار، نفحات الانس، وفیات الاخیار)

Author of Tazkirat al-Awliya, Famous Sufi Gnostic, Sayyiduna Shaykh Fareeduddin Muhammad Attar Neyshapuri (RadiyAllahu Anhu) was born in Sha’ban 513 AH in Kadkan Village of Neyshapur, Khorasan, Iran. He was an expert in medicine, a great literary author of Persian poetry, an eminent writer, and a paramount Sufi gnostic. He was blessed with the company of numerous gnostics and studied 400 books of Ahl al-Tariqah and continued collecting the biographies of the men of Allah for 17 years. Out of all his literary pieces of work, Tazkirat al-Awliya, Asraar Naamah, and Mantiq at-Tayr are well-known books, while the total number of his poetic verses in various books and magazines is about 100,000. He embraced martyrdom on Thursday, 29th Rabi al-Aakhir 627 AH at the age of 114 years. His magnificent mausoleum in Mohallah Shadbagh, Neyshapur, Khorasan, Iran, is frequently visited by people from all walks of life. [Miraat al-Asrar, Nafhat al-Uns, Wafiyat al-Akhyar]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0GT89iwrLuTKSdmZVioAKt1mLF8Ra3UKywwMp2s6GsCCXR43nPKoKYXZ8JKEKmaoUl&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-04-1444 ᴴ | 24-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-04-1444 ᴴ | 25-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-04-1444 ᴴ | 25-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-04-1444 ᴴ | 25-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1