یوم عرس: شیخ اکبر محی الدین
ابن عربی رضی الله تعالیٰ عنه🌹
پیدائش: 17 رمضان المبارک 560
وصال: 28 ربيع الآخر 638ھ
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر، والکبریت الاحمر ،ابو عبد اللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اور لقب محی الدین ہے۔
آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں ۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا ۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا ۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِ شیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے ۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا ۔ (کتاب خزینۃ الاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ، ص: ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰ کو وفات پائی اور جبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
ابن عربی رضی الله تعالیٰ عنه🌹
پیدائش: 17 رمضان المبارک 560
وصال: 28 ربيع الآخر 638ھ
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر، والکبریت الاحمر ،ابو عبد اللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اور لقب محی الدین ہے۔
آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں ۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا ۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا ۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِ شیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے ۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا ۔ (کتاب خزینۃ الاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ، ص: ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰ کو وفات پائی اور جبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
scholars.pk
Hazrat Mohiuddin Ibne Arabi Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل
ولادت:
۱۵محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے،
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سےپائی،ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل وتکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہوکر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی ـ
۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا، اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ وارشاد میں بسر فرمائی،نہایت پختہ مشق مدرس تھے، حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
وفات:
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸؍ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی ـ
مدفن:
مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق وباطن، رد شہاب ثابق آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل
ولادت:
۱۵محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے،
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سےپائی،ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل وتکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہوکر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی ـ
۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا، اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ وارشاد میں بسر فرمائی،نہایت پختہ مشق مدرس تھے، حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
وفات:
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸؍ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی ـ
مدفن:
مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق وباطن، رد شہاب ثابق آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1444 ᴴ | 23-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1444 ᴴ | 24-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-04-1444 ᴴ | 24-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1444 ᴴ | 24-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1