🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ग़ौसे पाक और ह़ज़रत उवैस क़रनी
एक वाक़िआ़

एक वाक़िआ़ कुछ इस तरह बयान किया जाता है कि जब हज़रते उ़मर फ़ारूक़ और हज़रते अली ह़ज़रत रदीअल्लाहु तआ़ला अ़न्हुमा उवैस करनी से मुलाक़ात करने के लिये तशरीफ ले गए तो उनसे फरमाया कि हमारी मग़फिरत के लिए दुआ़ फरमाएं और इस उम्मत की बख़्शिश के लिये भी दुआ फरमा दें। हज़रते उवैस क़रनी ने दुआ़ फरमाई कि या अल्लाह इस उम्मत को बख़्श दे, आसमान से निदा आई कि मैंने आधी उम्मत को बख़्श दिया इस पर ह़ज़रत उवैस क़रनी ने अ़र्ज़ किया कि या अल्लाह आधी को ही क्यों? पूरी उम्मत को बख़्श दे निदा आई कि आधी उम्मत को मैंने तेरी दुआ से बख्श दिया है आधी उम्मत को अ़ब्दुल क़ादिर की दुआ़ से बख़्श दूँगा। अ़र्ज़ की कि यह अ़ब्दुल क़ादिर कौन है फरमाया कि मेरा वली है और इस उम्मत में पैदा होगा, उसका क़दम तमाम वलियों की गर्दनों पर होगा। यह सुनकर ह़ज़रते उवैस क़रनी ने कहा कि मेरी येह गर्दन आज ही उनके लिये ह़ाज़िर है, मैं अभी अपना सर उनके लिये झुकाता हूँ।

अल्लाह तआ़ला हमारे मुक़र्रिरीन के ह़ाल पर रह़म फरमाए। ये मुक़र्रिरीन बे लगाम हो चुके हैं। जो चाहते हैं बयान करते हैं। जो लिखा है वो भी और जो नहीं लिखा है वो भी, दोनों को मिला जुला कर बयान करते हैं। अब ये रिवायत ना जाने इन्हें किस किताब में मिल गई। अगर किसी किताब में है भी तो उस किताब की ह़ैसियत क्या है, पता नहीं। इन सब बातों से उन्हें मतलब ही नहीं है। उन्हें तो बस ऐसी रिवायत चाहिये कि जिसमें कुछ नया हो। ये रिवायत तो जिसने बयान की, दलील देना उस पर लाज़िम है अलबत्ता हमारे अकाबिर उ़लमा के दरमियान तो ये इख़्तिलाफ़ तक मौजूद है कि ह़ज़रत उवैस करनी का वुजूद था या नहीं, बाज़ अकाबिरीन ने इसका इन्कार किया है (अल्लाहु अकबर) बताने का मक़्सद ये है कि एक त़रफ़ इ़ल्मी इख़्तिलाफ़ात में ये बातें मौजूद हैं और दूसरी त़रफ़ हमारे मुक़र्रिरीन हैं कि कुछ भी बयान कर देते हैं, इ़ल्मी बारीकियों से उनका दूर का वास्ता नहीं है। एक वजह ये भी है कि हमारे नौजवान बद मज़हब फ़िरक़ों से मुतास्सिर हो रहे हैं। एक पढ़ा-लिखा तबक़ा इन सब चीजों से नफ़रत करने लगा है। अब ज़रूरत है कि इ़ल्मी बयानात दिए जाएँ और ऐसे क़िस्से कहानियों को बयान करने से तौबा की जाए। काश कि हमारे मुक़र्रिरीन इस बात को समझें।

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
मुह़म्मद साबिर क़ादरी
1👍1
Ghause Paak Aur Hazrate Owais Qarni - Ek Waaqiya

Ek Waaqiya Kuch Is Tarah Bayan Kiya Jaata Hai Ke Jab Hazrate Umar Farooq Aur Hazrate Ali Radi Allahu Ta'ala Anhuma Owais Qarni Se Mulaqat Karne Ke Liye Tashreef Le Gaye To Unse Farmaya Ke Humari Maghfirat Ke Liye Dua Farmayein Aur Is Ummat Ki Bakhshish Ke Liye Bhi Dua Farma Dein. Hazrate Owais Qarni Ne Dua Farmayi Ke Ya Allaah Is Ummat Ko Bakhsh De, Aasman Se Nida Aayi Ke Maine Aadhi Ummat Ko Bakhsh Diya Is Par Hazrate Owais Qarni Ne Arz Kiya Ke Ya Allaah Aadhi Hi Kyon? Poori Ummat Ko Bakhsh De Nida Aayi Ke Aadhi Ummat Ko Maine Teri Dua Se Bakhsh Diya Hai Aadhi Ummat Ko Abdul Qadir Ki Dua Se Bakhsh Doonga. Arz Ki Ke Yeh Andul Qadir Kaun Hai? Farmaya Ke Mera Wali Hai Aur Is Ummat Mein Paida Hoga, Uska Qadam Tamam Waliyo Ki Gardano Par Hoga. Yeh Sunkar Hazrate Owais Qarni Ne Kaha Ke Meri Yeh Gardan Aaj Hi Unke Liye Haazir Hai, Main Abhi Apna Sar Unke Liye Jhukata Hoon.

Allaah Ta'ala Humare Muqarrireen Ke Haal Par Reham Farmaye. Ye Muqarrireen Be Lagam Ho Chuke Hain. Jo Chahte Hain Bayan Karte Hain. Jo Likha Hai Wo Bhi Aur Jo Nahi Likha Hai Wo Bhi, Dono Ko Mila Jula Kar Bayan Karte Hain. Ab Ye Riwayat Na Jaane Inhein Kis Kitab Mein Mil Gayi. Agar Kisi Kitab Mein Hai Bhi To Us Kitab Ki Haisiyyat Kya Hai, Pata Nahi. In Sab Baato Se Unhein Matlab Hi Nahi Hai. Inhein To Bas Aisi Riwaayat Chahiye Ke Jis Mein Kuch Naya Ho. Ye Riwaayat To Jis Ne Bayan Ki, Daleel Dena Us Par Laazim Hai Albatta Humare Akabir Ulama Ke Darmiyan To Ye Ikhtilaf Tak Maujood Hai Ke Hazrate Owais Qarni Ka Wujood Tha Ya Nahi, Baaz Akabireen Ne Is Ka Inkar Kiya Hai (Allahu Akbar) Batane Ka Maqsad Ye Hai Ke Ek Taraf Ilmi Ikhtilafat Mein Ye Baatein Maujood Hain Aur Doosri Taraf Humare Muqarrireen Hain Ke Kuch Bhi Bayan Kar Dete Hain, Ilmi Bareekiyo Se Unka Door Ka Wasta Nahi Hai. Ek Wajah Ye Bhi Hai Ke Humare Naujawan Bad Mazhab Firqo Se Mutassir Ho Rahe Hain. Ek Padha Likha Tabqa In Sab Cheezon Se Nafrat Karne Laga Hai. Ab Zaroorat Hai Ke Ilmi Bayanat Diye Jaayein Aur Aise Qisse Kahaniyo Ko Bayan Karne Se Tauba Ki Jaaye. Kaash Ki Humare Muqarrireen Is Baat Ko Samjhein.

Abde Mustafa
Muhammad Sabir Qadri
1
غوث پاک اور حضرت اویس قرنی ۔ ایک واقعہ

ایک واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق اور حضرت علی رضی اللہ عنھما، حضرت اویس قرنی سے ملاقات کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو ان سے فرمایا کہ ہماری مغفرت کے لیے دعا فرمائیں اور اس امت کی بخشش کے لیے بھی دعا فرما دیں۔ حضرت اویس قرنی نے دعا فرمائی کہ یا اللہ اس امت کو بخش دے؛ آسمان سے ندا آئی کہ میں نے آدھی امت کو بخش دیا۔ اس پر حضرت اویس قرنی نے عرض کیا کہ یا اللہ آدھی کو ہی کیوں؟ پوری امت کو بخش دے۔ ندا آئی کہ آدھی امت کو میں نے تیری دعا سے بخش دیا ہے اور آدھی امت کو عبد القادر کی دعا سے بخش دوں گا۔ عرض کی کہ یہ عبد القادر کون ہے؟ فرمایا کہ میرا ولی ہے اور اس امت میں پیدا ہوگا، اس کا قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہوگا۔ یہ سن کر حضرت اویس قرنی نے کہا کہ میری یہ گردن آج ہی ان کے لیے حاضر ہے، میں ابھی اپنا سر ان کے لیے جھکاتا ہوں۔

اللہ تعالی ہمارے مقررین کے حال پر رحم فرمائے۔ یہ مقررین بے لگام ہو چکے ہیں۔ جو چاہتے ہیں بیان کرتے ہیں۔ جو لکھا ہے وہ بھی اور جو نہیں لکھا ہے وہ بھی، دونوں کو ملا جلا کر بیان کرتے ہیں۔ اب یہ روایت نہ جانے انھیں کس کتاب میں مل گئی۔ اگر کسی کتاب میں ہے بھی تو اس کتاب کی حیثیت کیا ہے، پتا نہیں۔ ان سب باتوں سے انھیں مطلب ہی نہیں ہے۔ انھیں تو بس ایسی روایت چاہیے کہ جس میں کچھ نیا ہو۔ یہ روایت تو جس نے بیان کی، دلیل دینا اس پر لازم ہے البتہ ہمارے اکابر علما کے درمیان تو یہ اختلاف تک موجود ہے کہ حضرت اویس قرنی کا وجود تھا یا نہیں، بعض اکابرین نے اس کا انکار کیا ہے (اللہ اکبر) بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف علمی اختلافات میں یہ باتیں موجود ہیں اور دوسری طرف ہمارے مقررین ہیں کہ کچھ بھی بیان کر دیتے ہیں، علمی باریکیوں سے ان کا دور کا واسطہ نہیں ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوان بدمذہب فرقوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک پڑھا لکھا طبقہ ان سب چیزوں سے نفرت کرنے لگا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ علمی بیانات دیے جائیں اور ایسے قصے کہانیوں کو بیان کرنے سے توبہ کی جائے۔ کاش کہ ہمارے مقررین اس بات کو سمجھیں۔

عبد مصطفی
محمد صابر قادری
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
یوم عرس: شیخ اکبر محی الدین
ابن عربی رضی الله تعالیٰ عنه🌹

پیدائش: 17 رمضان المبارک 560
وصال: 28 ربيع الآخر 638ھ

نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر، والکبریت الاحمر ،ابو عبد اللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اور لقب محی الدین ہے۔

آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں ۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا ۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا ۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔

ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔



بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِ شیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے ۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا ۔ (کتاب خزینۃ الاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ، ص: ۴۷۲)

وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰ کو وفات پائی اور جبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل

ولادت:
۱۵محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے،

تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سےپائی،ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل وتکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ

حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہوکر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی ـ

۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا، اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ وارشاد میں بسر فرمائی،نہایت پختہ مشق مدرس تھے، حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ

وفات:
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸؍ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی ـ

مدفن:
مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق وباطن، رد شہاب ثابق آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1444 ᴴ | 23-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1444 ᴴ | 24-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1